”سیکولر ریاست کا کوئ اخلاقی ایجنڈہ نہیں ھوتا”.سیکولرز کی فریب کاریاں

سیکولر لوگ اکثر و بیشتر یہ راگ الاپتے بلکہ اس راگ کے ذریعے اہل مذھب پر ‘جھوٹی عقلیت’ کا رعب جمانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ”سیکولرازم کا مطلب محض مذھب اور ریاست کی جدائ ھے اور بس، سیکولر ریاست کا کوئ اخلاقی ایجنڈہ نہیں ھوتا یعنی یہ خیر و شر کے معاملے میں غیر جانبدار (نیوٹرل) ہوتی ھے”۔ اس دعوے کا مقصد یہ ثابت کرنا (بلکہ دھوکہ دینا) ھوتا ھے کہ
(1) چونکہ سیکولر ریاست ایک پوزیٹو (positive ،حقیقت جیسی کہ وہ ھے) ریاست ہوتی ھے نہ کہ نارمیٹو (normative، حقیقت جیسی کہ اسے ھونا چاہئے)،
(2) اسی وجہ سے سیکولر ریاست کسی بھی تصور خیر کی بیخ کنی نہیں کرتی
(3) بلکہ تمام تصورات خیر کے فروغ کے یکساں مواقع فراہم کرتی ھے
(4) لہذا ریاست کو پوزیٹو (سیکولر) بنیاد پر قائم ھونا چاھئے نہ کہ مذہبی بنیاد پر کیونکہ مذھب خیر کے معاملے میں جانبدار ھوتا ھے (آپ نے غور کیا کہ بظاہر ‘معصوم’ نظر آنے والے اس دعوے میں کیسی خطرناک واردات چھپی ہوئ ھے)۔
مگر سیکولر لوگوں کا یہ کہنا کہ ‘سیکولرازم کا مطلب محض ریاست اور مذھب کی علیحدگی ھے اور سیکولرریاست کا اپنا کوئ اخلاقی ایجنڈہ (ٹھیک اور غلط کا تصور وپیمانہ) نہیں ھوتا’ نہ صرف ایک مضحکہ خیز بلکہ اپنی ذات میں متناقض (self-contradictory) دعوی ھے۔ کیا بذات خود یہ تصور کہ ‘مذھب کو ریاست سے الگ ھونا ”چاہئے”’ (لفظ ‘چاہئیے’ پر غور کریں) ایک اخلاقی چوائس و ترجیح کا معاملہ نہیں؟ پھر یہ کہنا کہ ‘مذھب کو صرف ذاتی زندگی تک محدود رھنا ”چاھئے”’ (پھر لفظ ‘چاہئیے’ پر توجہ رھے) ٹھیک اور غلط کی ایک مخصوص چوائس و ترجیح نہیں؟ (ظاہر ھے سیکولرازم کے تمام نظرئیے اس اخلاقی ترجیح کے بھی قائل نہیں، مثلا مارکسزم اپنی اصل شکل میں مذھب کی انفرادی ازادی دینے کا بھی روا نہیں)۔ پھر یہ تصور کہ ‘اجتماعی نظم زندگی مذھب کے بجاۓ کسی دوسری بنیاد (مثلا ہیومن رائٹس) پر قائم ھونا ”چاہئے”’ (لفظ ‘چاہئیے’ پھر آگیا) صحیح اور غلط کا ایک مخصوص تصور نہیں؟ کیا ہیومن رائٹس سے نکلنے والے تصور خیر کو دیگر تمام تصورات خیر پر ”فوقیت دینا” ایک اخلاقی ترجیح نہیں، پھر کیا ‘دنیا کے تمام تصورات خیر کو ہیومن رائٹس کی کسوٹی پر ”جانچنا” اور اس ہی کسوٹی پر پرکھ کر انکے ”ٹھیک یا غلط ھونے کا فیصلہ صادر کرنا” بذاب خود خیر و شر کا ایک پیمانہ وضع کرلینا نہیں ھے؟ درحقیقت سیکولرازم کے بارے میں اس قسم کے بچکانہ دعوے وہی شخص کرسکتا ھے جسے سیکولرازم کے ڈسکورس کے بارے میں سرے سے خبر ہی نہ ھو۔ایسے شخص کی عقلی کیفیت پر صرف ماتم ہی کیا جا سکتا ھے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *