اخلاقیات اور جبر ۔۔۔۔۔۔ جدید ذہن کی قلابازیاں

موجودہ نظم کیلئے تو جائز مگر مذھب کیلئے ناجائز

موٹروے پر کار ڈرائیو کرتے وقت یہ بات باآسانی محسوس کی جا سکتی ھے کہ ہمارے یہاں 95 فیصد سے زیادہ ڈرائیور سپیڈ لمٹ اور ڈرائیونگ لائنز کا سختی سے دھیان رکھتے ہیں، یعنی 120 سے زیادہ رفتار اختیار نہیں کرتے نہ ہی بلا وجہ لائنز تبدیل کرتے ہیں، چاھے ان پڑھ بس ڈرائیور ھوں یا مرسڈیز چلانے والے بابو۔ مگر یہی لوگ جب عام شاہراھوں یا ہائی وے پر گاڑیاں چلاتے ہیں تو ان قوانین کا خیال نہیں رکھتے۔ آخر موٹروے پر اس محتاط اور بظاہر ‘اخلاقی’ رویہ اختیار کرنے کی وجہ کیا ھے؟

اسکی وجہ ھے نگرانی کا نظام (surveillance)، یعنی موٹروے پر جا بجا سپیڈ چیک کی جارہی ھے اور تیز رفتاری پر جرمانہ عائد ھورھا ھے۔ یہ اس نظام کا نتیجہ ھے کہ سب لوگ ایک ‘ایتھیکل’ رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں اور آہستہ آہستہ یہ جبر سب کی عادت بن کر (یعنی habitualize ھوکر) انہیں جائز معلوم ھونے لگتا ھے۔ اسکی ایک اور مثال شہر اسلام آباد میں بیلٹ باندھ کر ڈرائیو کرنے کا قانون بھی ھے، راقم جب کراچی سے یہاں آیا تو شروع شروع میں بہت مشکل پیش آئی، البتہ ایک عدد جرمانے کے بعد بیلٹ لگانے کی کچھ ایسی عادت پڑ گئی ھے کہ ”ہر شہر اور سڑک” پر ڈرائیو کرنے سے پہلے بیلٹ لگا لیتا ھوں اور جو نہ لگائے اسے بھی ”اخلاقی نصیحت” کرتا ھوں”۔

دیکئھے یہاں کوئی نہیں کہتا کہ ”لوگوں پر جبر کیوں کررھے ھو، انکی اخلاقی تربیت کرنی چاھئے تمہیں وغیرہ؟”۔ مگر جونہی خدا کے حکم کے مطابق تربیت اخلاق کیلئے ”جسم ڈھانپنے کا قانون” بنا دیا جائے تو بھانت بھانت کی بولیاں بولنے اور مکارم اخلاق کے عجیب و غریب فلسفے بکھیرنے والے میدان میں اتر آتے ہیں۔ اس موقع پر یہ لوگ یہ بات ثابت کرنے کیلئے کہ ‘قانون سے اخلاقی اصلاح نہیں ھوسکتی’ انوکھے دلائل کا ایک ایسا طومار اکٹھا کردیں گے جسے عقل و دانش سے دور کا بھی واسطہ نہیں ھوتا۔

آخر اس تضاد کی وجہ کیا ھے کہ جدید ذہن کو ‘مذھب کی بنیاد’ پر جبر ناجائز مگر ‘جدید طرز زندگی’ (جو درحقیقت سرمائے کی تنظیم کا نظام ھے) کے تقاضوں کی بنیاد پر جبر عین جائز معلوم ھوتا ھے؟ درحقیقت اس جدید ذہن کا المیہ یہ ھے کہ ہر وہ بات جسے ”خدا کے ساتھ نسبت ھے” اسے غیر عقلی معلوم ھوتی ھے، ہاں وہی بات جب ”جدید نظام کے تناظر میں” کہی جائے تو یہ اسے خود بخود ”عقلی” اور ”بھلی” معلوم ھونے لگتی ھے۔ پس مسئلہ عقل یا غیر عقل کا نہیں، بلکہ عقل کے ریفرنس پوائنٹ کا ھے۔ جدید ذھن کی عقل کا ریفرنس پوائنٹ ‘خواہشات’ ہیں جسکا نام اس بے وقوف نے ‘عقل’ ڈال رکھا ھے اور اپنی اس بیوقوفی سے یہ مذہبی لوگوں کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتا رھتا ھے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *