علت اور معلول ایک فرسودہ مغالطہ

10306461_1488362634733697_1071666328612492203_ne
یہ ایک بہت فرسودہ سوال ہوچکا ہے کہ اگر ہر چیز کی کوئی علت ہے تو خدا کی علت کیا ہے؟ یا ہر چیز کو پیدا کیا گیا ہے تو خدا کو کس نے پیدا کیا؟ پہلی تو بات یہ طے کی جائے گی کہ کائنات کے اصول کا اطلاق خدا پر بھی ہوتا ہے یا نہیں؟ تو جواب یہی ہے کہ ظاہر ہے جب کائنات کو بنانے والا خدا ہے تو خدا پر مادی کائنات کے اصولوں کا اطلاق ممکن نہیں۔ کیونکہ خدا پر نہ تو کوئی زمانے کی پابندی ہے نہ کوئی مکان (بشمول خود مکمل کائنات) خدا کو اپنے آپ میں سما سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی موجودگی کائنات کے اندر ہی نہیں بلکہ اسکی سرحدوں سے بہت ماورا ہے جس پر کائنات کے اصول کا اطلاق یقینی طور پر نہیں ہوگا۔ جبکہ علت و معلول کے رشتے کی پابندی کا ماخذ ضروری ہے۔ اسے ایک مثال سے سمجھیں۔

ہم جانتے ہیں کہ بائیولوجیکل سائنس میں مائٹوکونڈریل ایو (Mitochondrial Eve) کا جو وجود ہے وہ انسانیت کی پہلی ماں ہے۔ ہم یہاں علت و معلول کے رشتے کے مقابلے پر ماں اور اولاد کے رشتے کو بطورِ مفروضہ مانتے ہیں۔ لیکن جو اہم بات ہے وہ یہ کہ ایو (Eve) جب تک اکیلی تھی اس وقت تک نوعِ انسان میں ماں اور اولاد کے رشتے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ایو نے پہلے انسان کو جنم دیا تو اب وہ ماں بنی اور اس نے یہ اصول تخلیق کردیا کہ نوعِ انسان میں جو بھی عورت بچے کو جنے گی وہ انسان ہی ہوگا۔اب اگر آج کوئی یہ سوال کرے کہ جب انسان ماں ہمیشہ انسان بچے کو جنم دیتی ہے تو پہلا انسان بچہ کہاں سے آیا؟ تو اس کا معلوم جواب یہی ہے کہ پہلے انسان بچے کو کسی انسان ماں کی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ انسان ماں سے انسان بچے کا اصول تو اس ایو کے بعد تخلیق ہوا ہے۔ اس سے ایک اور بات بھی معلوم ہوئی کہ انسان اس وقت بھی تھا جب نوعِ انسان میں انسان ماں اور انسان اولاد کا اصول قائم نہیں ہوا تھا۔ جب یہ اصول ہی موجود نہیں تھا اس وقت ایو کو کہاں ضرورت تھی کہ وہ بھی اس اصول پر پوری اترے؟اسی مفروضے کا اگر علت و معلول کے رشتے پر اطلاق کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ:

1۔ علت و معلول کا رشتہ جہاں سے شروع ہوا ہے وہ ایک ایسی ہستی ہے جس سے قدیم کوئی ہے ہی نہیں۔

2۔ علت و معلول کا رشتہ اس قدیم ہستی کے پہلی بار کسی معلول کو وجود میں لانے سے وجود میں آیا۔

3۔ جب اس قدیم ہستی نے پہلی بار کسی معلول کو وجود دیا تو ہر شے علت و معلول کی ڈور میں بندھ گئی۔

مزمل شیخ بسمل

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *