مستشرقین کا غلام احمد پرویزصاحب کو خراج تحسین

تہذیب ِمغرب کے سامنے’مفکر ِقرآن’ کی فکری اسیری اور ذہنی غلامی کا صرف یہی نتیجہ نہیں تھا کہ وہ محض نظریہ و اعتقاد کی حد تک ہی اس کے سامنے دیدہ و دل فرشِ راہ کئے ہوئے تھے،بلکہ وہ عملی دنیا میں مغربی معاشرت کے ان جملہ اجزا کو بھی قرآن کے نام پر اپنانے…

پرویزصاحب کے فہم قرآن کے اصول-ایک جائزہ

پرویز صاحب اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ وہ قرآن ہی سے سب کچھ لیتے ہیں اور جو کچھ کہتے ہیں قرآن ہی کی بنیاد پر کہتے ہیں۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ قرآن مجید کے فہم کے لیے یا قرآن مجید تک رسائی کے لیے انھوں نے جو اصول قائم کیے ہیں وہ…

پرویزصاحب کی قرآنی فکر1/2

میرے افکار میں کوئی تضاد نہیں: پرویز صاحب کا دعوی ’’ میں نے جو کچھ ۱۹۳۸ء میں کہا تھا، ۱۹۸۰ء میں بھی وہی کچھ کہتا ہوں کیونکہ یہ قرآنی حقائق پر مبنی ہے اور قرآنی حقائق ابدی اور غیر متبدل ہیں۔۔۔ قرآن کو حجت اورسند ماننے والے کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ آج…

پرویز صاحب کی قرآنی فکر – خلاصہ

گذشتہ بحث (پرویزصاحب کی قرآنی فکر1،2) سے یہ واضح ہے کہ پرویز صاحب مختلف اوقات میں قرآن کی کتنی مختلف اور متضاد تعبیریں پیش کرتے رہے ۔ اس پر خود ‘مفکر ِقرآن’ کا یہ نادر شاہی مطالبہ بھی ملاحظہ فرمائیے کہ: ”جہاں تک عہد ِرسالت اور خلافت ِراشدہ کے دور کا تعلق ہے، ہمیں چاہئے…