پرویزصاحب کی قرآنی فکر1/2

میرے افکار میں کوئی تضاد نہیں: پرویز صاحب کا دعوی ’’ میں نے جو کچھ ۱۹۳۸ء میں کہا تھا، ۱۹۸۰ء میں بھی وہی کچھ کہتا ہوں کیونکہ یہ قرآنی حقائق پر مبنی ہے اور قرآنی حقائق ابدی اور غیر متبدل ہیں۔۔۔ قرآن کو حجت اورسند ماننے والے کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ آج…

قرآن کی موجودگی میں حدیث کی ضرورت ہی کیا ہے؟

کسی چیز کی ضرورت کا احساس اپنے موجود سرمائے کو سامنے رکھنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے،جب تک یہ معلوم نہ ہوکہ ہمارے پاس کیا کچھ ہے ہم کسی اورچیز کے ضرورت مند نہیں ہوسکتے،حدیث کی ضرورت اسی صورت میں محسوس ہوگی کہ علم کا موجود سرمایہ ہمارے سامنے واضح ہو اوروہ ہماری ضروریات پوری…