پرویزصاحب کی قرآنی فکر1/2

میرے افکار میں کوئی تضاد نہیں: پرویز صاحب کا دعوی ’’ میں نے جو کچھ ۱۹۳۸ء میں کہا تھا، ۱۹۸۰ء میں بھی وہی کچھ کہتا ہوں کیونکہ یہ قرآنی حقائق پر مبنی ہے اور قرآنی حقائق ابدی اور غیر متبدل ہیں۔۔۔ قرآن کو حجت اورسند ماننے والے کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ آج…

پرویز صاحب کی قرآنی فکر – خلاصہ

گذشتہ بحث (پرویزصاحب کی قرآنی فکر1،2) سے یہ واضح ہے کہ پرویز صاحب مختلف اوقات میں قرآن کی کتنی مختلف اور متضاد تعبیریں پیش کرتے رہے ۔ اس پر خود ‘مفکر ِقرآن’ کا یہ نادر شاہی مطالبہ بھی ملاحظہ فرمائیے کہ: ”جہاں تک عہد ِرسالت اور خلافت ِراشدہ کے دور کا تعلق ہے، ہمیں چاہئے…

نظام ربوبیت اورقرآنی انقلاب- کتنی حقیقت کتنافسانہ

پرویز صاحب کی کتاب سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے آٹھ مختلف سورتوں کی آیات کو کس طرح بھونڈے طریقے سے جوڑ کر قیامت کے مناظر سے ’’نظام ربوبیت کے یوم انقلاب‘‘ کو برآمد کررہے ہیں : ’’جس انقلابِ عظیم کے متعلق تمہیں کہا جا رہا ہے وہ آکر رہے گا [۲۲:۲۰۱] اس وقت یہ تمام…