الحادی مغربی ڈسکورس کا خلاصہ اور چند غلط فہمیوں کا ازالہ

جدید مغربی (تنویری یعنی enlightenment) ڈسکورس خدا پرستی کو رد کرکے انسانیت (یا نفس) پرستی کی دعوت عام کرنے کا ڈسکورس ھے۔ اس علمی ڈسکورس نے انسان کو قائم بالذات اور آزاد ہستی مان کر پہلے خدا کو انسان سے اخذ کرنے کی کوشش کی (یعنی ترتیب حقائق بدل دی)، پھر خدا کو غیر متعلقہ…

”جمہوری سیکولر ریاست فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرتی” (1) ۔۔۔۔۔۔ سیکولروں کی مغالطہ انگیزیاں

سیکولر لوگوں کی پھیلائی ھوئی بہت سی مغالطہ انگیزیوں (جن کا جائزہ پہلی پوسٹس میں لیا جا چکا) میں سے ایک یہ بھی ھے کہ ”سیکولر ریاست مذہبی ریاست کی طرح فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرتی، لہذا یہ مذہبی ریاست کی طرح جابرانہ (coercive) نہیں ھوتی۔ پس ریاست کو مذہبی نہیں بلکہ…

سرمایہ داری کیا ھے؟

تنویری ڈسکورس نے جس نظام زندگی کو تعمیر کیا اور فروغ دیا اسے سرمایہ داری کہتے ہیں۔ سرمایہ داری انسان کو قائم بالذات اور اسکی آزادی کے فروغ کو عقل کے بدیہی مقصد کے طور پر مان لینے کا نام ھے۔ تنویری ڈسکورس کے مطابق انسان ‘اصولا آزاد’ ھے، ان معنی میں کہ وہ اپنے…

لبرل، سیکولر و متجددین کی دھری منطق

فرض کریں اگر روایتی خاندانی معاشرتی نظام کے اندر عورت پر ظلم ھوجائے تو سیکولر، لبرل اور متجددین اسے مولوی کے روایتی اسلام کا شاخسانہ قرار دینے میں ذرا بھر تامل نہیں کرتے اور تقاضا کرتے ہیں کہ تحفظ عورت کیلئے اسے آزادی ملنی چاھئے، مولوی کے اسلام نے اسے جکڑ رکھا ھے۔ اور اگر…

کیا اختلافات صرف مذہبی لوگوں کا شیوہ ہیں ۔ ۔ ۔

نظام کی تسخیری قوت اور سائنسی علمیت پر اندھے اعتماد پر مبنی تصورات ۔۔۔ عام بلکہ ‘جدید تعلیم یافتہ’ لوگوں کا خیال یہ ھوتا ھے کہ شاید اختلافات مذہبی لوگوں کا شیوا ھے، یہ سائنس دان تو گویا متفق الخیال ھی ھوتے ہیں اور سب کے منہ سے ایک ہی پالیسی کی بات نکلتی ھوگی…

علم معاشیات کا تصور Perfect Competition (مکمل مسابقت)

جدید دنیا کا “آئیڈئیل” (‘خیر القرون’) اور خیرالقرون کی طرف مراجعت کی اہمیت علم معاشیات میں مکمل مسابقت سے مراد ذاتی اغراض کی جستجو پر مبنی تعلقات سے وجود میں آنے والا ایک ایسا مسابقتی معاشرتی نظم ھے جسکے نتیجے میں سرمائے میں امکانی حد تک زیادہ سے زیادہ اضافہ ممکن ھوسکےگا۔ اس نظم کی…

تحفظ عورت، خاندان اور مارکیٹ ۔۔۔۔ ایک اھم شبے کا ازالہ

اس عنوان کی پچھلی پوسٹ میں بتایا گیا کہ مارکیٹ معاشرت کیونکر عورت کی کفالت کا بوجھ اسکے کاندھوں پر ڈال کر اس پر ظلم کرتی نیز اسے غیر محفوظ کرتی ھے۔ اس پر ایک شبہ یہ وارد کیا جاتا ھے کہ موجودہ خاندانی نظم کے اندر بھی عورت پر طرح طرح کے مظالم ھوتے…

تحفظ عورت، خاندان اور مارکیٹ ۔۔۔۔ حقیقت اور افسانوں کا فرق

تصور کریں اس عورت کے بارے میں جسکا خاوند، باپ، بھائی یا بیٹا (یا کوئی دوسرا قریبی رشتہ دار) اسکی معاشی کفالت کا پورا ذمہ اٹھائے ھوئے ھے، گھر سے باہر آتے جاتے وقت اسکے تحفظ کی خاطر اسکے ساتھ ھونے کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ھے، اسکی ضرورت کی ہر شے اسے گھر کی…

سرمایہ داری کے مظالم اور این جی اوز (پروفیشنل خیراتی اداروں) کا باہمی تعلق (2)

۔ سرمایہ دارانہ نظام سے جنم لینے والے مظالم کے شکار طبقات کیلئے دوسرا دروازہ این جی اوز اور پروفیشنل خیراتی اداروں کا ھے۔ جوں جوں مارکیٹ (لبرل سرمایہ دارانہ) نظم پختہ ھوتا چلا جاتا ھے، بے یارومددگار اور نادار افراد کی تعداد میں اضافہ ھوتا چلا جاتا ھے۔ ان مظالم کا مداوا کرنے کیلئے…

سرمایہ داری کے مظالم اور این جی اوز (پروفیشنل خیراتی اداروں) کا باہمی تعلق (1)

موجودہ دور میں نظر آنے والے بے شمار پروفیشنل خیراتی اداروں اور این جی اوز کا مارکیٹ (لبرل سرمایہ دارانہ) نظم سے جنم لینے والے مظالم کے ساتھ نہایت گہرا تعلق ھے۔ مارکیٹ یا سول سوسائٹی (جیسا کہ پہلے وضاحت کی گئی) اغراض پر مبنی تعلقات کے تانے بانے کا نام ھے، ھیومن رائٹس پر…

سرمایہ دارانہ (مارکیٹ) نظم اور جرائم کی کثرت

جدید دور کی ایک نمایاں خصوصیت جرائم میں بے تحاشا اضافہ بھی ھے۔ جرائم کے اس فروغ اور مارکیٹ نظم میں راست تناسب ھے۔ کیوں؟ تین وجوہات کی بنا پر: 1) مارکیٹ نظم لامحدود خواھشات کی تکمیل کیلئے ہر شخص کو ذاتی اغراض کا اسیر بنا کر حصول سرمایہ کی جدوجہد کو پروان چڑھاتا ھے…

سائنسدانوں کے حلوے مانڈے

  آپ نے لبرلز و سیکولروں کے منہ سے مولویوں کے حلوے مانڈوں کا ذکر تو اکثر سنا ھوگا، کہ ‘جناب یہ مولوی بس اپنی روزی روٹی کیلئے مسجد مدرسے چلاتے ہیں، اپنے پیٹ کیلئے ہی یہ اختلافات کو ھوا دے کر عوام کو بیوقوف بناتے ہیں، حلوے کا لالچ دیکر مولوی سے جو فتوی…