جدیددورکوقرون اولی سےبہترسمجھنےوالی ذہنیت کی درماندگی

آج دنیا میں جس پیمانے پر غربت، افلاس، عدم مساوات و استحصال پایا جاتا ھے اسکی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس قدر بڑے پیمانے پر پائے جانے والی غربت، افلاس و عدم مساوات کوئی حادثہ نہیں بلکہ غالب سرمایہ دارانہ (مارکیٹ) نظم کا منطقی نتیجہ ھے۔ مگر جدید انسان کا المیہ یہ ھے…

”جمہوری سیکولر ریاست فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرتی” (1) ۔۔۔۔۔۔ سیکولروں کی مغالطہ انگیزیاں

سیکولر لوگوں کی پھیلائی ھوئی بہت سی مغالطہ انگیزیوں (جن کا جائزہ پہلی پوسٹس میں لیا جا چکا) میں سے ایک یہ بھی ھے کہ ”سیکولر ریاست مذہبی ریاست کی طرح فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرتی، لہذا یہ مذہبی ریاست کی طرح جابرانہ (coercive) نہیں ھوتی۔ پس ریاست کو مذہبی نہیں بلکہ…

اخلاقیات اور جبر ۔۔۔۔۔۔ جدید ذہن کی قلابازیاں

موجودہ نظم کیلئے تو جائز مگر مذھب کیلئے ناجائز موٹروے پر کار ڈرائیو کرتے وقت یہ بات باآسانی محسوس کی جا سکتی ھے کہ ہمارے یہاں 95 فیصد سے زیادہ ڈرائیور سپیڈ لمٹ اور ڈرائیونگ لائنز کا سختی سے دھیان رکھتے ہیں، یعنی 120 سے زیادہ رفتار اختیار نہیں کرتے نہ ہی بلا وجہ لائنز…

تحفظ عورت، خاندان اور مارکیٹ ۔۔۔۔ ایک اھم شبے کا ازالہ

اس عنوان کی پچھلی پوسٹ میں بتایا گیا کہ مارکیٹ معاشرت کیونکر عورت کی کفالت کا بوجھ اسکے کاندھوں پر ڈال کر اس پر ظلم کرتی نیز اسے غیر محفوظ کرتی ھے۔ اس پر ایک شبہ یہ وارد کیا جاتا ھے کہ موجودہ خاندانی نظم کے اندر بھی عورت پر طرح طرح کے مظالم ھوتے…

تحفظ عورت، خاندان اور مارکیٹ ۔۔۔۔ حقیقت اور افسانوں کا فرق

تصور کریں اس عورت کے بارے میں جسکا خاوند، باپ، بھائی یا بیٹا (یا کوئی دوسرا قریبی رشتہ دار) اسکی معاشی کفالت کا پورا ذمہ اٹھائے ھوئے ھے، گھر سے باہر آتے جاتے وقت اسکے تحفظ کی خاطر اسکے ساتھ ھونے کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ھے، اسکی ضرورت کی ہر شے اسے گھر کی…

”جمہوری سیکولر ریاست فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرتی” (2) ۔۔۔۔۔۔ سیکولروں کی مغالطہ انگیزیاں

ابتداء یہ واضح کیا گیا کہ جمہوری سیکولر ریاستیں انسانی تاریخ کی بدترین جابرانہ ریاستوں کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔ یہاں جمہوری سیکولر ریاست کی فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرنے کی علمی بنیادوں کی وضاحت کی جاتی ھے۔ ھیومن رائٹس (آزادی کے) فریم ورک میں ‘اخلاق’ (قدر) کا سوال ہی غیر متعلقہ ھوجاتا…

سرمایہ داری کے مظالم اور این جی اوز (پروفیشنل خیراتی اداروں) کا باہمی تعلق (2)

۔ سرمایہ دارانہ نظام سے جنم لینے والے مظالم کے شکار طبقات کیلئے دوسرا دروازہ این جی اوز اور پروفیشنل خیراتی اداروں کا ھے۔ جوں جوں مارکیٹ (لبرل سرمایہ دارانہ) نظم پختہ ھوتا چلا جاتا ھے، بے یارومددگار اور نادار افراد کی تعداد میں اضافہ ھوتا چلا جاتا ھے۔ ان مظالم کا مداوا کرنے کیلئے…

سرمایہ دارانہ (مارکیٹ) نظم اور جرائم کی کثرت

جدید دور کی ایک نمایاں خصوصیت جرائم میں بے تحاشا اضافہ بھی ھے۔ جرائم کے اس فروغ اور مارکیٹ نظم میں راست تناسب ھے۔ کیوں؟ تین وجوہات کی بنا پر: 1) مارکیٹ نظم لامحدود خواھشات کی تکمیل کیلئے ہر شخص کو ذاتی اغراض کا اسیر بنا کر حصول سرمایہ کی جدوجہد کو پروان چڑھاتا ھے…

سائنسدانوں کے حلوے مانڈے

  آپ نے لبرلز و سیکولروں کے منہ سے مولویوں کے حلوے مانڈوں کا ذکر تو اکثر سنا ھوگا، کہ ‘جناب یہ مولوی بس اپنی روزی روٹی کیلئے مسجد مدرسے چلاتے ہیں، اپنے پیٹ کیلئے ہی یہ اختلافات کو ھوا دے کر عوام کو بیوقوف بناتے ہیں، حلوے کا لالچ دیکر مولوی سے جو فتوی…