تحفظ عورت، خاندان اور مارکیٹ ۔۔۔۔ ایک اھم شبے کا ازالہ

اس عنوان کی پچھلی پوسٹ میں بتایا گیا کہ مارکیٹ معاشرت کیونکر عورت کی کفالت کا بوجھ اسکے کاندھوں پر ڈال کر اس پر ظلم کرتی نیز اسے غیر محفوظ کرتی ھے۔ اس پر ایک شبہ یہ وارد کیا جاتا ھے کہ موجودہ خاندانی نظم کے اندر بھی عورت پر طرح طرح کے مظالم ھوتے…

تحفظ عورت، خاندان اور مارکیٹ ۔۔۔۔ حقیقت اور افسانوں کا فرق

تصور کریں اس عورت کے بارے میں جسکا خاوند، باپ، بھائی یا بیٹا (یا کوئی دوسرا قریبی رشتہ دار) اسکی معاشی کفالت کا پورا ذمہ اٹھائے ھوئے ھے، گھر سے باہر آتے جاتے وقت اسکے تحفظ کی خاطر اسکے ساتھ ھونے کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ھے، اسکی ضرورت کی ہر شے اسے گھر کی…

تصور ‘یونیورسل اخلاقیات’ کے خوفناک ابہامات ۔۔۔

خیر کا تعلق پروسیجر سے نہیں بلکہ شرع سے ھے عام طور پر اخلاقی اقدار کو ‘انسانی شے’ سمجھ کر انہیں ‘یونیورسل’ تصور سمجھ لیا جاتا ھے، مگر یہ صرف ایک فکری خلجان (کنفیوژن) ھے۔ اس تصور کے تحت خیر کے چند تصورات (مثلا سچ بولنے) کو ‘بنیادی انسانی اقدار’ فرض کرکے انہیں انسانیت کا…

جمہوریت: عوامی حاکمیت کا فریب

جدید تہذیب کی دلکش مگر پرفریب ترین اشیاء میں سے سب سے بڑی جمہوریت ھے جو عوام کو یہ سراب دکھاتی ھے کہ ”تمہارے ارد گرد جو کچھ ھورھا ھے یہ سب تمہاری ہی خواہشات اور مرضی کا اظہار و عکس ھے”۔ مگر فی الحقیقت ایسا کچھ بھی نہیں کیونکہ سرمایہ داری ایک نظام زندگی…

”جمہوری سیکولر ریاست فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرتی” (2) ۔۔۔۔۔۔ سیکولروں کی مغالطہ انگیزیاں

ابتداء یہ واضح کیا گیا کہ جمہوری سیکولر ریاستیں انسانی تاریخ کی بدترین جابرانہ ریاستوں کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔ یہاں جمہوری سیکولر ریاست کی فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرنے کی علمی بنیادوں کی وضاحت کی جاتی ھے۔ ھیومن رائٹس (آزادی کے) فریم ورک میں ‘اخلاق’ (قدر) کا سوال ہی غیر متعلقہ ھوجاتا…

سرمایہ داری کے مظالم اور این جی اوز (پروفیشنل خیراتی اداروں) کا باہمی تعلق (2)

۔ سرمایہ دارانہ نظام سے جنم لینے والے مظالم کے شکار طبقات کیلئے دوسرا دروازہ این جی اوز اور پروفیشنل خیراتی اداروں کا ھے۔ جوں جوں مارکیٹ (لبرل سرمایہ دارانہ) نظم پختہ ھوتا چلا جاتا ھے، بے یارومددگار اور نادار افراد کی تعداد میں اضافہ ھوتا چلا جاتا ھے۔ ان مظالم کا مداوا کرنے کیلئے…

سرمایہ داری کے مظالم اور این جی اوز (پروفیشنل خیراتی اداروں) کا باہمی تعلق (1)

موجودہ دور میں نظر آنے والے بے شمار پروفیشنل خیراتی اداروں اور این جی اوز کا مارکیٹ (لبرل سرمایہ دارانہ) نظم سے جنم لینے والے مظالم کے ساتھ نہایت گہرا تعلق ھے۔ مارکیٹ یا سول سوسائٹی (جیسا کہ پہلے وضاحت کی گئی) اغراض پر مبنی تعلقات کے تانے بانے کا نام ھے، ھیومن رائٹس پر…

ماڈرنسٹوں کا ایک عذرلنگ

ہر ماڈرنسٹ کہتا ھے کہ میں اصل اسلام سمجھنے کی کوشش کررہا ھوں، میں قرآن کے الفاظ سے استدلال کرتا ھوں، میں مغرب سے متاثر نہیں ھوں، البتہ اگر میری فکر یا کسی بات سے مغرب کے کسی نظرئیے، قدر یا ادارتی صف بندی کی تائید ھوتی ھے تو یہ اتفاق ھے۔ مگر یہ عجیب…

”سیکولر ریاست کا کوئ اخلاقی ایجنڈہ نہیں ھوتا”.سیکولرز کی فریب کاریاں

سیکولر لوگ اکثر و بیشتر یہ راگ الاپتے بلکہ اس راگ کے ذریعے اہل مذھب پر ‘جھوٹی عقلیت’ کا رعب جمانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ”سیکولرازم کا مطلب محض مذھب اور ریاست کی جدائ ھے اور بس، سیکولر ریاست کا کوئ اخلاقی ایجنڈہ نہیں ھوتا یعنی یہ خیر و شر کے معاملے میں غیر…

احیائے نظام کی جدوجہد کرنے کی اہمیت

جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہمیں نظام کو پرابلماٹائز کرنے کی ضرورت نہیں (کہ شاید وہ خود بخود ٹھیک ھوجاۓ گا یا وہ کمتر اہمیت کا حامل ھے یا فی الحال اسے موخر کرکے کسی اور کام پر توجہ دینی چاھئے) یا یہ کہ ایک پیچیدہ نظام کا مقابلہ اکیلا فرد یا کوئ…

”اسلام دین ھے” کا درست معنی

”اسلام دین ھے” کا یہ معنی سمجھ لیا جاتا ھے کہ اسلام کے پاس چند ایسے ابدی اصول ہیں جنہیں کسی بھی ماورائے اسلام نظام زندگی میں برت کر اسے اسلامی بنایا جاسکتا ھے، نیز اسلام ہر دور کے تقاضوں کا ساتھ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ھے۔ اس معنی کے اعتبار سے اسلام کسی…

سرمایہ دارانہ (مارکیٹ) نظم اور جرائم کی کثرت

جدید دور کی ایک نمایاں خصوصیت جرائم میں بے تحاشا اضافہ بھی ھے۔ جرائم کے اس فروغ اور مارکیٹ نظم میں راست تناسب ھے۔ کیوں؟ تین وجوہات کی بنا پر: 1) مارکیٹ نظم لامحدود خواھشات کی تکمیل کیلئے ہر شخص کو ذاتی اغراض کا اسیر بنا کر حصول سرمایہ کی جدوجہد کو پروان چڑھاتا ھے…

امام کا علمی منہاج اور شکوک کا ازالہ

کچھ لوگوں کو امام غزالی پر یہ اعتراض رھا ھے کہ امام نے تہافت میں فلسفیوں کے ھتھیار سے فلسفیوں کے افکار کے پرخچے تو اڑا دئیے مگر اثبات الھیات کے باب میں انہوں نے مثبت کلامی دلائل نہ دئیے۔ اس سے بعضوں کو یہ بدگمانی ھوگئی کہ یا تو غزالی نے طلب شہرت کی…

سلسلہ تعلیمات غزالی ۔۔۔۔۔۔ مناظرے کا اصول

”ایہا الولد” میں امام نصیحت فرماتے ہیں: ”اول یہ کہ جہاں تک ھوسکے کسی سے مناظرہ نہ کر کیونکہ اس میں بہت سی آفتیں ہیں اور فائدے سے زیادہ نقصان ھے۔ مناظرہ و بحث بازی کا یہ کام برے خصائص مثلا ریاکاری، حسد، غرور، کینہ، دشمنی، فخر اور ناز وغیرہ کا سرچشمہ ھے۔ اگر تیرے…

سلسلہ تعلیمات غزالی ۔۔۔۔۔۔ کس سے بحث کریں اور کس سے نہیں؟

امام ”ایہا الولد” میں فرماتے ہیں: ”خوب جان لے (میرے بیٹے) کہ جاھل لوگ ایسے مریضوں کی مانند ھوتے ہیں جن کے دلوں میں خامی ھے اور عالم طبیبوں کی مانند ہیں…..لاعلاج بیماری کے علاج میں مشغول رھنا وقت کا ضیاع ھے۔ اب تو سمجھ کہ جاہل مریض چار قسم کے ھوتے ہیں، ان میں…