جہاد-تعریف،اقسام اور نوعیت

جہاد جاھد یجاھد سے فعال کے وزن پر مصدر ہے۔ اس فعل کا دوسرا مصدر مفاعلۃ کے وزن ہر مجاھدۃ آتا ہے۔ بنیادی مادہ اس لفظ کا ج ھ د ہے۔ لغوی طور پر اس کے معنی انتہائی کوشش کے ہیں ۔ شرعی اصطلاح کے طور پر یہ دو مفاہیم میں مستعمل ہے۔ ایک اس کا وسیع مفہوم ہے جس کے تحت دین کی سربلندی اور حفاظت کے لیے کی جانے والی ہر کوشش جہاد شمار ہوتی ہے۔ دوسرا اس کا خاص مفہوم ہے جس کے تحت دین کی سربلندی اور حفاظت کے لیے کی جانے والی مسلح جدوجہد ہی جہاد کہلاتی ہے، جسے “قتال”لفظ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ گویا وسیع مفہوم میں قتال جدوجہد کی ایک قسم ہے، جبکہ بسا اوقات قتال اور جہاد مترادف کلمات کے طور پر بھی مستعمل ہوتے ہیں۔ دونوں مفاہیم میں اس کا استعمال قرآن و حدیث میں ہوا ہے۔
مکی سورتوں میں لفظ جہاد اپنے وسیع مفہوم میں استعمال ہوا ہے ۔ مثلا سورۃ الفرقان میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا﴿سورۃ الفرقان ، آیت 52﴾[سو آپ کافروں کا کہا نہ مانئے اور قرآن کے ذریعہ سے ان کا مقابلہ زور شور سے کیجئے۔]
مدنی سورتوںمیں بالعموم لفظ جہاد کا استعمال قتال ہی کے مفہوم میں ہوا ہے۔ مثلا سورۃ الحجرات میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ﴿سورۃ الحجرات، آیت 15﴾[مومن تو وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے لڑے یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں]
پس مسلم یا غیر مسلم معاشرے میں اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے کی جانے والی ہر کوشش جہاد کے وسیع مفہوم میں شامل ہے، اسی طرح دینیہ احکام پر عمل کے لیے اپنی اپنی ذات کی اصلاح کے لیے کوشش بھی جہاد کے وسیع مفہوم میں شامل ہے، تاہم ایسی کوششیں قتال [جو جہاد کا خاص مفہوم ہے] نہیں کہلائی جاسکتیں، نہ ہی یہ کوششیں قتال کا بدل ہوسکتی ہیں۔ گویاجہاں شریعت کے احکام کی روشنی میں قتال فرض ہوچکا ہو وہاں جہاد کی دوسری اقسام پر عمل پیرا ہونے سے قتال کا فریضہ ادا نہیں ہوگا۔ اپنی اصلاح کی کوشش، یا اصلاح معاشرہ کی جدوجہد مستقل فرائض ہیں اور قتال [جب اسکی فرضیت کے اسباب موجود ہوں] ایک مستقل فریضہ ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے نماز کی ادائیگی کسی ایسے شخص کو فریضہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے مبرا نہیں کرسکتی جس پر زکوٰۃ فرض ہوچکی ہو۔

٭جہاد نبوی ؐ اور دور جدید کے مفکرین:
عصر حاضر میں جہادکے موضوع پر کام کرنے والوں میں بہت سے اہل علم نے نے جہاد پر مغربی تنقید کے سامنے معذت خواہی کا رویہ اپنایا ہوا ہے ۔ ایک طبقے نے براہِ راست قرآن و حدیث سے استدلال کی راہ اختیار کرتے ہوئے یہ راے اختیار کی کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ (رضی اللہ عنہم) نے جس طرح جنگیں لڑیں وہ بعد میں نہیں لڑی جاسکتیں اور یہ مخصوص حکم تھا جو اب باقی نہیں رہا ، وہ اتمام حجت کے قانون کے تحت تھیں جہاں تک صحابہَ کرام کی جنگوں کا تعلق ہے انہوں نے بھی دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی تکمیل کی تھی ۔
ان جنگوں کے بارے میں ایک دوسری رائے ان لوگوں کی ہے جنھوں نے یہ کوشش کی ہے کہ کسی طرح ان جنگوں کو اس وقت کے سیاسی و اجتماعی حالات کا ناگزیر تقاضا ثابت کیا جائے اور دکھا یا جائے کہ مسلمانوں پر یہ جنگیں دوسرے فریق کی جانب سے مسلط کی گئی تھیں اور ان کی نوعیت گویا مدافعانہ تھی ۔ پہلےنظریے کی طرح یہ نظریہ بھی چند سوالات کے جواب تو دے دیتا ہے لیکن بہت سے نئے سوالات بھی پیدا کرلیتا ہے ۔
ان دونوں نظریات میں بظاہر کتنا ہی بعد نظر آتا ہو لیکن گہری نظر سے دیکھا جائے تو ان میں ایک مشترک عنصر دکھائی دیتا ہے ، اور وہ یہ کہ یہ دونوں نظریات اسلام کی اس حیثیت کو نظرانداز کردیتے ہیں کہ یہ تمام نوعِ انسانی کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے واحد صحیح دین ہے جس کا سب انسانوں تک پہنچانا اس دین کے پیروکاروں پر لازم ہے ۔ اس لیے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی ان جنگوں کو صرف دفاعی جنگیں نہیں کہا جاسکتا ،نہ ہی انھیں ایک خیالی اتمامِ حجت کے بعد اللہ کی جانب سے نافذ کی جانے والی سزا قرار دیا جاسکتا ہے ۔ ان جنگوں کی صحیح نوعیت یہ تھی کہ قیصر و کسریٰ کی حکومتیں اپنے تسلط میں رہنے والے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں ۔ اگر یہ حکومتیں صحابۂ کرام کو اللہ کے دین کا پیغام عام لوگوں تک پہنچانے دیتیں اور اس دعوت راہ میں رکاوٹ نہ بن جاتیں تو صحابۂ کرام ان سے کبھی جنگ نہ لڑتے۔
حیرت اس بات پر ہے کہ اسلام کے بارے میں یہ معذرت خواہانہ تعبیرات اس دور میں اور ان لوگوں کے سامنے پیش کی جاتی رہیں جنہوں نے دنیا بھر میں استعماری دھما چوکڑی مچا رکھی تھی اور آج بھی جمہوریت و انسانی حقوق جیسی اقدار کے فروغ کے لئے ہزاروں انسانوں کو موت کی نیند سلا دیتے ہیں۔

٭حضور ؐ کی جنگوں کی نوعیت: “دفاعی” یا “اقدامی”
بہت سے اہلِ علم نے رسول اللہﷺکی جنگوں کو دفاعی قراردیا ہے۔مثال کے طور پردیکھئے:مولانا چراغ علی،تحقیق الجہاد(لاہور؛دوست ایسوسی ایٹس،2003ء)،علامہ شبلی نعمانی، سیرت النّبیﷺ(کراچی؛دارالاشاعت،1985ء)ج 1 ص 328 تا353،مولانا ابوالکلام آزاد،ترجمان القرآن(لاہور؛اسلامی اکادمی،1976ء)ج2 ص52، 53 اور 121، 122۔) دیکھ جائے تو کئی وجوہ سے جہاد کے لیے “دفاعی” اور “اقدامی” کی تقسیم صحیح نہیں ہے۔ پہلے تو یہی بات متنازع فی ہے کہ کون سے حالات دفاع کے تحت آتے ہیں اور کس کاروائی کو اقدام کہا جائے گا۔ مثلا ایسی صورت میں جبکہ ایک دفعہ جنگ ہوچکی ہو اور کسی مستقل معاہدہَ امن کے بغیر فریقین اپنے اپنے مورچوں میں واپس چلے گئے ہوں اور پھر ایک فریق حملے میں پہل کرے تو اسے پچھلی جنگ کا تسلسل قرار دے کر دفاعی بھی کہا جا سکتا ہے، جبکہ اسے ایک نیا حملہ قرار دے کر اقدامی بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح کسی غیر مسلم ملک کا کسی دوسرے مسلم ملک میں مقیم مسلمانوں پر حملے کی صورت میں ان کی مدد کو دفاع بھی قرار دیا جاسکتا ہے اور اقدام بھی۔ نیز اقدامی جہاد کی ترکیب سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ یہ کوئی مستقل جنگ ہوگی، حالانکہ جہاد اس سے یقینا مختلف ہے۔ اسی طرح دفاعی جہاد کی ترکیب سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حملے میں پہل ناجائز ہے، جبکہ بعض حالات ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں پہل واجب ہوجاتی ہے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دفاعی کا حق ایک فطری حق ہے جس کے لیے خصوصی تشریح کی کوئِ ضرورت نہیں تھی۔ تشریح کی اگر ضرورت تھی تو اس سلسلے میں تھی کہ دفاع کے حدود متعین کیے جائیں، نیز وہ صورتیں بتائی جائیں جہاں حملے میں پہل یا اقدام جائز اور بعض اوقات واجب ہوجاتا ہے۔ مزید برآں جہاد کو دفاع تک محدود کرنے کی ضرورت بھی نہیں ، بین الاقوامی قانون کے تحت بھی “جائز جنگ” محض دفاع تک ہی محدود نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں کو محض دفاع تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔
اتنی بات تو واضح ہے کہ رسول اللہﷺ نے جتنی جنگیں لڑی ہیں،انہیں بھی محض دفاعی جنگیں نہیں قراردیا جاسکتا۔اگرچہ ان میں سے اکثر جنگیں یاتو دفاعی ضرورت کے تحت لڑی گئیں یا وہ دراصل پچھلی جنگوں کا تسلسل تھیں،تاہم یہ بھی حقیقت ہے بعض مواقع پررسول اللہﷺ نےحملے میں پہل کی ہے(مثلاََ غزوہء خیبر یا غزوہء تبوک )ان جنگوں کو تبھی دفاع کہا جاسکےگا کہ جب دفاع کا بہت وسیع مفہوم لیاجائے اور اس میں پیش بندی کے اقدام(Pre-Imptive Strike)کاحق بھی شامل سمجھاجائے۔اب یہ بھی حقیقت ہے کہ پیش بندی کے اقدام کو ایک جانب سے دفاع اور دوسرے جانب سے اقدام قراردیاجائےگا۔پھر مشرکین کے خلاف جس جنگ کا اعلان سورۃالتوبہ میں کیا گیا ہے اسے تو کسی صورت بھی دفاع قرار نہیں دیا جاسکتا ۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *