تکفیری اور مرجئہ کون لوگ ہیں ؟

.

تکفیری کون لوگ ہیں ؟

ساٹھ کی دہائی کے دوران، مصر کی جیلوں میں ایک جماعت کی تشکیل ہوئی تھی(دیکھیے ہمارا مضمون جماعت التکفیر والہجرہ)۔ اُس نے اپنا ایک نام رکھا، مگر مسلم داعیوں اور عامۃ الناس کی جانب سے اُس کو ایک اور نام دیا گیا۔ اُس نے اپنا جو نام رکھا وہ تھا ’جماعۃ المسلمین‘۔ لوگوں کے ہاں اُس کا ذکر جس نام سے ہوتا رہا وہ تھا ’جماعۃ التکفیر والہِجرۃ‘۔’جماعتِ تکفیر‘ کا نام اُن کو اس لئے دیا گیا کہ معاشرے میں قریب قریب وہ ہر شخص کی تکفیر کر دیتے تھے۔’ہجرۃ‘ کا نام اس لئے دیا گیا کہ وہ موجودہ معاشروں کو، جنہیں وہ ’جاہلی معاشرے‘ کہتے تھے اور جن کا ایک عام فرد ان کی نظر میں ’کافر‘ کا حکم رکھتا تھا، چھوڑ جانے کی دعوت دیتے تھے۔ اِس چھوڑ دینے (ہجرۃ) کو وہ اپنی اصطلاح میں ’عُزلَۃ شُعُو ´رِیَّۃ‘ کا نام دیتے تھے، یعنی ’شعوری لحاظ سے، اپنے آپ کو اِن معاشروں کا حصہ نہ سمجھنا‘۔ مراد یہ کہ اِن معاشروں کے اندر جسمانی طور پر رہنا بھی ہے تو ذہنی اور شعوری طور پر اپنے آپ کو ان سے علیحدہ ملت سمجھنا اور ان سے کھلی کھلی مفارقت اختیار کر جانا، بعینہ اُسی طر ح جس طرح کسی عیسائی یا یہودی یا ہندو معاشرے میں رہا جاتا ہے۔
بے شک اُن کی جنگ ’نظام‘ (یعنی حکومتِ وقت) کے ساتھ شروع ہوئی تھی مگر بات یہ ہے کہ ’نظام‘ کے ساتھ اُن سے پہلے اوروں کی بھی جنگ رہی تھی، محض اِس وجہ سے کسی نے، کم از کم علمائے اہلسنت میں سے کسی نے، اُن کو ’تکفیری‘ نہیں کہا تھا۔ ’نظام‘ کے ساتھ اِس سے پہلے الاخوان المسلمون کی جنگ رہی تھی، مگر الاخوان کیلئے کسی نے ’تکفیری‘ کا لفظ نہیں بولا تھا۔ اِس نئی جماعت کو ’تکفیری‘ کہا گیا تو اِس لئے کہ اِس کی جنگ عامۃ المسلمین کے ساتھ تھی۔ عامۃ المسلمین اِن کی نظر میں ’مسلمان‘ کا حکم نہیں رکھتے تھے۔ معاشرے کے ایک عام فرد کے سلام تک کا جواب دینے کیلئے اُن کے ہاں جو شرط پائی جاتی تھی اُس کو وہ ’التَّوَقُّف وَالتَّیبَییُّن‘ کہتے تھے، یعنی: اُس شخص کی بابت ’توقف‘ یعنی ٹھہرا جائے گاجب تک کہ ’تبین‘ یعنی چھان بین نہ ہوجائے کہ یہ ’مسلم‘ ثابت ہوتا ہے یا نہیں، اور ’مسلم‘ وہ تب ہوتا جب وہ اُن کی ’جماعت المسلمین‘ کا فرد نکلتا!
عامۃ المسلمین کی تکفیر اور اُن سے ہجرت (علیحدگی) اور مفارقت کے اِس نظریے تک وہ ’من لم یُکَفّر الکافر فہو کافر‘ والے قاعدے کی ایک نہایت غلط اور بچگانہ تفسیرکے نتیجے میں پہنچتے تھے اور ان کا خیال تھا یہ علی الاطلاق لاگو ہونے والا کوئی اصول ہے! ہر شخص جو باطل نظام کا حصہ ہوتا وہ اُن کے نزدیک کافر ہوتا، حتیٰ کہ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کا عام سرکاری ملازم بھی، یہاں تک کہ سکول کا ایک چپڑاسی بھی۔ باقی لوگ اِس وجہ سے کافر ہوجاتے کہ وہ اول الذکر کو کافر نہیں کہتے! لہٰذا اُن کے اپنے سوا ہر شخص ہی کسی نہ کسی مرحلے میں کافر ہو جاتا!.’کافر‘ کے ساتھ دشمنی تو ایمان کا حصہ ٹھہرا، مگر اِس ’دشمنی‘ کا بڑا حصہ انہی طبقوں کے حصے میں آسکتا تھا جو اُن کی گمراہی کے آڑے آتے! اِس لحاظ سے نہ تو ’نظام‘ اُن کے آڑے آتا، کیونکہ بہت دیر تک اُن کی قوت اتنی نہیں بڑھی تھی کہ وہ ’نظام‘ کیلئے کوئی خطرہ بنتے۔ جب تک وہ ’نظام‘ کیلئے خطرہ نہیں، ’نظام‘ کو اُن کے پیچھے پڑنے کی کیا ضرورت ہو سکتی تھی؟ لہٰذا ’نظام‘ کے ساتھ ابتدا میں اُن کی مڈھ بھیڑ ہی نہ ہوئی۔ اور نہ عوام الناس ہی اُن کے آڑے آتے، کیونکہ عوام الناس کو بھی اُن کی کیا پڑی تھی؟ لہٰذا ’کافر‘ قرار پانے سے بڑھ کر عوام پر بھی کچھ اتنی ’کرم فرمائی‘ نہ ہوتی! البتہ علماءاور دینی جماعتیں ضرور ان کی گمراہی بیان کرنے کو موجود تھیں۔ لہٰذا ”علماء“ اور ”جماعتیں“ ہی ان کی دشمنی کا بڑا ہدف بنتیں۔
’نظام‘ کی تکفیر سے وہ بہت جلد فارغ ہوچکے تھے اب کل معرکے اسلام پسندوں کے ساتھ تھے! نتیجتاً۔۔ ’کافر ‘ گو اُن کے نزدیک ”علماء“ اور ”دینی جماعتوں وتحریکوں“ کے علاوہ اور بھی بہت تھے بلکہ پورا معاشرہ ہی ’کافر‘ تھا، مگر ’دشمنی اور مخاصمت‘ پر سب سے زیادہ حق اُن کے یہاں ”علمائے شریعت“ اور ”کارکنان وداعیانِ اسلام“ ہی کا رہا! اِنہی کے ساتھ الجھنا اور اِنہی کے ساتھ مناظرہ بازی، اِنہی سے براءت، اور اِنہی کے ’شر‘ سے خبردار کرنا تکفیریوں کا معمول بنا! اِس لحاظ سے جتنا کوئی اسلام سے قریب ہوتا اتنا اُسے تکفیریوں کی دشمنی سے زیادہ بڑا حصہ ملتا ۔۔۔۔ یوں اِس پہلو سے ان پر خوارج والا وہ وصف بہت بڑی حد تک صادق آتا کہ: یترکون اہل الاوثان، ویقتلون اہل ال اسلام یعنی ’ “وہ اہل اوثان (بت پرستوں) کو چھوڑ دیا کریں گے اور اہل اسلام کو قتل کیا کریں گے‘۔
چنانچہ ’التکفیر والہِجرۃ‘۔۔ سے اُن کی نسبت مسلم معاشروں پر حکم لگانے اور مسلم معاشروں کے ساتھ معاملہ کرنے کے حوالے سے بنی، اور یہ تسمیہ اُن کو ’معاشروں‘ کے شرعی احکام متعین کرنے کے حوالے سے دیا گیا۔ یہ بات نوٹ ہو جانا بے انتہا اہم ہے۔ ’تکفیری‘ کا لفظ ”معاشروں کی تکفیر“ کے حوالے سے وجود میں آیا ہے نہ کہ غیر اللہ کی شریعت چلانے والے نظام کی تکفیر کے حوالے سے۔مصر کے علمائے سنت نے اِس گمراہ جماعت کو ’تکفیری‘ کے نام سے موسوم کیا، حتیٰ کہ ’تکفیری‘ ایک گالی بن گئی اور واقعتاً گالی بن جانی چاہیے تھی، تو وہ اِس لئے کہ یہ ضال اور مضل جماعت آج کے مسلم معاشروں پر ’کفار‘ کے احکام لاگو کر رہی تھی۔ نہ صرف آج کے مسلم معاشروں پر ’کفار‘ کے احکام لاگو کر رہی تھی، بلکہ اعتقاد رکھتی تھی اور باقاعدہ یہ اعتقاد پھیلا رہی تھی کہ یہ معاشرے تاریخِ اسلام کی پہلی تین صدیوں کے بعد ہی مرتد ہو گئے تھے۔
جہالت کی انتہا دیکھئے، مصر کے علمائے اہلسنت نے اِس جماعت کو موجودہ معاشروں پر کفر کے احکام لاگو کرنے کی بنا پر گمراہ قرار دیا تھا مگر ہمارے کچھ مدعیانِ علم یہ سمجھتے ہیں کہ اِس جماعت کو موجودہ نظاموں پر کفر کے احکام لاگو کرنے کی بنا پر گمراہ قرار دیا گیا تھا۔ گویا اس ’گمراہی‘ سے نکل آنا اور اِس ’ضلالت‘ سے ’تائب‘ ہو جانا یہ ہوا کہ اِس نظام پر ’اسلامی نظام‘ کے احکام لاگو کر دیے جائیں، جس میں کہ اِس کی بیعت کرنا بھی آتا ہے! سبحان اللہ۔ علمائے سنت کو مسلم معاشروں کے دفاع کی فکر دامن گیر ہے اور وہ اِس وجہ سے اُن گمراہوں کا نام ’تکفیری‘ رکھتے ہیں جو اِن معاشروں کو کفر کے معاشرے سمجھتے ہیں، جبکہ اِن لوگوں کو آج کے اِن نظاموں کے دفاع کی پڑی ہے اور یہ اِن نظاموں کی دشمنی کو ہی ’تکفیری ہونا‘ سمجھتے ہیں اور اِن نظاموں کو کفر اور باطل کے نظام قرار دینا ہی گمراہی خیال کرتے ہیں!!!حالانکہ کون ہے، علمائے سنت میں سے، جو غیر اللہ کی شریعت چلانے والے نظام کو باطل نظام نہیں سمجھتا؟؟؟
تکفیری فرقہ جمہوری نظام کا رد کرنے کیوجہ سے تکفیری نہیں کہلاتا بلکہ اسکے ’تکفیری‘ کہلانے کی جو وجہ وہ ہے اِس فرقہ کا علمائے وقت کے خلاف فتوے دینا، کھلے کھلے باطل کی بجائے دینی جماعتوں اور تحریکوں ہی کے خلاف ہی سرگرم رہنا، مسلم داعیوں کے پیچھے پڑے رہنا، آج کے مسلم معاشروں کی تکفیر کرنا، عامۃ المسلمین کے ساتھ اِس کا بغض رکھنا، عامۃ المسلمین کو کفار کا سا حکم دینا، حتیٰ کہ ان کو سلام کہنے اور ان کے ذبیحہ کی حلت تک کو کالعدم جاننا اور عامۃ المسلمین سے الگ تھلگ رہنے اور اِن سے مفارقت کئے رہنے کی ذہنیت کو پروان چڑھانا اور نماز و جمعہ ودیگر اجتماعی عبادات میں عام مسلمانوں سے علیحدگی اختیار کئے رہنا۔ مسلم معاشروں کے اندر اپنے آپ کو ایک علیحدہ ملت جاننا،کفار کے خلاف ہونے والے جہاد کے اندر آڑے آنا، غرض دین کی اقامت اور دین کے نشر وتعلیم میں سرگرم دینی طبقوں کو ہی دشمنِ دین کے رنگ میں پیش کرنا اور ان کو کافر اور مرتد اور گمراہ ثابت کرنے پر زور لگانا، ۔ ۔

مرجئہ کون لوگ ہیں ؟

’مرجئہ‘ کا لفظ ’اِرجاء‘ سے ہے جس کا مطلب ہے: مؤخر کر دینا، پیچھے ہٹا دینا۔ اسلامی تاریخ میں علمائے سنت نے یہ لفظ یعنی ’مرجئہ‘ اُس فکری انحراف کے حاملین کیلئے بولا جو مسلمان ہونے کیلئے آدمی کے محض ’دعوائے ایمان‘ کو کافی جانتا ہے اور ’حقیقتِ ایمان‘ کو پیچھے رہنے دیتا ہے؛ نہ کبائر پہ اصرار کرنے والے کو فاسق مانتا ہے اور نہ افعالِ کفر پہ اصرار کرنے والے کو کافر۔غرض اسلام کی تاریخ میں ’مرجئہ‘ وہ گروہ ہے جس کا پورا زور اِس بات پر رہا ہے کہ عمل سے چاہے کوئی شخص خدائے رب العالمین کی کتنی ہی بڑی بغاوت کرے اور کیسا ہی وہ مالک الملک کے ساتھ شرک اور کفر کرے، زبان سے بس اگر وہ اسلام کا دعویٰ کرتا ہے تو لازماً اُس کو ایمان کا سرٹیفکیٹ دے رکھا جائے۔
دوسری انتہا پر ایک دوسرا گمراہ فرقہ رہا ہے جو خدا کے حق کی تعظیم میں افراط کرتے ہوئے یہ مسلک رکھتا تھا کہ جس شخص سے بھی کوئی کبیرہ گناہ سرزد ہو جائے بس وہ دائرۂ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے؛ اِس دوسری انتہا پر پائے جانے والے فرقہ کو ’خوارج‘ کہا گیا۔
مرجئہ اور خوارج کے بیچ، وسط اور اعتدال کی راہ پر، اہل سنت ہیں جن کا اعتقاد ہے کہ: ہر کبیرہ گناہ ہو جانے سے تو آدمی دائرۂ ایمان سے خارج نہیں ہوتا؛ صرف گناہگار ٹھہرتا ہے، البتہ ایسے کبائر جنہیں خود اللہ اور اُس کا رسول ہی کفر اور شرک قرار دیں اُن کے ارتکاب سے ضرور آدمی دائرۂ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے، بشرطیکہ: (1) آدمی کو اگر کوئی لا علمی تھی تواُس کی وہ لا علمی دور کر دی گئی ہو، (2) وہ اگر کسی فکری الجھن یا ذہنی پیچیدگی کا شکار تھا تو اہل علم کی جانب سے وہ الجھن یا پیچیدگی بھی بدرجۂ اتم زائل کر دی گئی ہو، اور (3) اِس بات کو بھی یقینی بنا لیا گیا ہو کہ کفر کے اُس فعل کا ارتکاب کرنے میں وہ کسی ظالم کے قہر و جبر کے زیر اثر نہ تھا۔۔ جبکہ خوارج تکفیر کی اِن شرطوں کو نہ مانتے تھے۔ علاوہ ازیں، خوارج بہت سے ایسے افعال کو بھی کفر قرار دیتے تھے جو کفر نہ بنتے تھے، مثلاً کبائر۔ مزید برآں، خوارج اجتہادی اختلاف کو بھی کفر پر محمول کرتے۔
آج فکرِ خوارج اور فکرِ ارجاءامت کا وقت برباد کرنے کیلئے پھر آمنے سامنے ہیں!!!مرجئہ ’تکفیریوں‘ کے منہج سے خبردار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’تکفیر‘ کسی کی ہو، اور خواہ کسی وجہ سے ہو، بس گمراہی ہے! اور یہ کہ جو بھی کسی کی تکفیر کرتا ہے، خواہ اس کی کوئی بھی دلیل ہو، بس وہ ’تکفیری‘ ہے! اِن کا کہنا ہے، سب فیصلے قیامت کو ہوں گے اور آج کسی کو کافر کہنا خدا کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لینا ہے! گویا ’کافر اور مسلم‘ کے حوالے سے دنیوی احکامات شریعت میں ہیں ہی نہیں!کافر اور مسلمان میں تمیز نہیں تو ہر دو کے معاملہ میں حقوق وواجبات پر مبنی شرعی احکام چہ معنی دارد؟

مرجئہ اور ردتکفیر کی آڑ میں عقائد میں نقب:
یقینا یہ برحق ہے کہ دنیوی احکام اخروی احکام کو لازم نہیں۔ یعنی یہ ممکن ہے کہ اِس جہان میں چونکہ ہم ظاہر پر ہی حکم لگانے کے پابند ہیں لہٰذا ایک شخص کو ظاہر کی بنیاد پر ہم مسلم قرار دیں مگر آخرت میں وہ مسلم ثابت نہ ہو۔ اسی طرح ایک شخص سے کفر ظاہر ہونے کے باعث اس کو ہم کافر جانیں مگر آخرت میں معاملہ اس کے برعکس نکلے۔ لیکن اِس کا مطلب کیا یہ لیا جائے کہ دنیا میں مسلم اور کافر کے احکام ہی وجود نہیں رکھتے؟ قیامت کو تو یہ بھی ممکن ہے کہ آج عدالت میں جس شخص کو، اس کے خلاف شہادت کے شرعی تقاضے پورے ہوجانے کے باعث، چور قرار دے دیا گیا ہے وہاں جا کر پردہ اٹھے کہ شہادت جھوٹی تھی اور وہ شخص چور ہی نہیں تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جو شخص شہادت کے تقاضے پورے نہ ہونے کے باعث آج عدالت سے بری کر دیا گیا ہے قیامت کو یہ کھلے کہ وہ شخص چوروں کا چور تھا۔ تو پھر کیا قیامت کے انتظار میں یہاں نہ چور کو چور کہا جائے، نہ جھوٹے کو جھوٹا، نہ ظالم کو ظالم، نہ گمراہ کو گمراہ اور نہ کافر کو کافر؟!
– یہاں وہ نکتہ ور ہیں جو اِس نظریہ کی باقاعدہ تشہیر کرتے ہیں کہ کسی شخص کو ’کافر‘ کہنا نبی کی زندگی زندگی جائز تھا، یا پھر اِس سے تھوڑا عرصہ بعد تک۔ ان کے بقول، اب مگر اِس بات کی میعاد ختم ہوچکی ہے۔ نہ اب کسی کے پاس معجزے ہیں اور نہ اِنکا کشید کردہ ’قانون اتمام حجت‘ اب کہیں پورا ہوتا ہے اور، اس وجہ سے، نہ اب کسی کو ’کافر‘ کہہ ڈالنے کا سوال ہی دنیا کے اندر کہیں باقی رہ گیا ہے۔(قادیانیوں کے متعلق محترم غامدی صاحب لکھتے ہیں ” اُن کے نظریات و عقائد میں کوئی چیز شرک ہے تو اُسے شرک اور کفر ہے تو اُسے کفر کہیں اور لوگوں کو بھی اُس پر متنبہ کریں، مگر اُن کے متعلق یہ فیصلہ کہ وہ مسلمان نہیں رہے یا اُنھیں مسلمانوں کی جماعت سے الگ کر دینا چاہیے، اس کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ “مسلم اور غیر مسلم ، المورد آرٹیکل)
’مشرک‘ کا لفظ بھی قطعیت کے ساتھ بول دینا اِنکے نزدیک بنی اسماعیل پر ہی جائز تھا، جن کی طرف نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتداءً مبعوث کیا گیا تھا۔ اِنکا کہنا ہے، اب نہ مشرک کا لفظ ہی سیدھا سیدھا کسی کیلئے بول دینا جائز ہے اور نہ کافر کا۔ لازم تھا کہ اِنکی اگلی نسل ایک قدم اور آگے بڑھتی اور اِنکے اِس فلسفے کو ’کتابوں‘ سے نکال کر ’وقائع‘ پر چسپاں کرنے لگتی۔ چنانچہ اِن انڈوں سے نکلے ہوئے چوزوں نے رفتہ رفتہ پر پھیلائے تو فتوے دینا شروع کئے کہ آج کسی ہندو تک کے لئے نہ تو ’کافر‘ کا لفظ بولنا جائز ہے اور نہ ’مشرک‘ کا لفظ۔ جی ہاں، کوئی اور نہیں۔۔ ہندو کے لئے! ’کلمہ گو‘ کی بحث سمجھئے کب کی ختم ہو چکی، یہودیوں اور عیسائیوں کی جان بھی کب کی چھوٹ چکی،۔۔۔۔ یہاں تو ’ہندو‘ کو مشرک کہنا جائز نہیں!!! آپ قرآن کی کچھ گرائمر’ضمیروں‘ کے، جنکے اشارے آج تک صرف اِنکی سمجھ میں آئے ہیں، منکر ہوسکتے ہیں اگر آپ نے ہندو کے لئے مشرک کا لفظ بول دیا! اِنکی ’قرآن فہمی‘ کی بدولت دنیا پر اب یہ عقدہ کھلنے جا رہا ہے کہ ’کافر‘ اور ’مشرک‘ ایسی ’مذہبی‘ species صدیاں پہلے دنیا میں ناپید ہوچکی ہیں لہٰذا اِنکے عجائب گھر سے باہر انکو ’ڈھونڈنا‘ اب فضول ہے اور ان لفظوں کا اطلاق آج کے دور میں کسی پر کر دینا تو ہے ہی قرآنی اصطلاحات سے سراسر ناواقفیت کی دلیل! پھر اِنکے کچھ بہکے ہوئے اور آگے بڑھے۔ ایک مسلمان خاتون کی جانب سے اِن مفتیوں سے دریافت کیا گیاکہ کیا وہ ایک ہندو مرد سے شادی کرسکتی ہے؟ اِنکے ویب سائٹوں پر ایک عرصہ یہ فتویٰ موجود رہا مگر شاید لعن طعن زیادہ ہوئی ہوگی یا کوئی اور سبب کہ یہ فتویٰ بعد ازاں ان ویب سائٹوں پر نظر نہ آیا۔ سائلہ کو جواب میں بتایا گیا تھا(٭) کہ بلاشبہ سورہ بقرہ (آیت 21) میں مشرک مرد سے مومن عورت کا بیاہ حرام کیا گیا ہے، مگر چونکہ آج ہندوؤں کو مشرک کہنے کی کوئی دلیل نہیں(!!!)، لہٰذا شرعاً تو ہندو مرد کے ساتھ بیاہ کو حرام نہیں کہا جاسکتا البتہ یہ سماجی طور پر معیوب ہوسکتا ہے اور اس میں کچھ مشکلات بھی آسکتی ہیں۔ لہٰذا اِسکو سماجی طور پر ہی ’نامناسب‘ کہا جائے گا اور اس وجہ سے اِس سے بچا رہنا بہتر ہے، مگر شریعت میں اسکو حرام کہہ دینے کی کوئی دلیل البتہ نہیں پائی جاتی! اس طرح کا ایک فتوی آج بھی اس لنک سے دیکھا جاسکتا ہے۔
گائے کو پوجنے والے ہندو کے گھر میں، اللہ واحد قہار کی عبادت کا دم بھرنے والی مسلمان عورت کا، بیوی بن کر رہنا‘۔۔۔۔ جی ہاں، اِس کے حرام ہونے پر شریعت میں کوئی دلیل نہیں! یہ رشتہ پندرھویں صدی کے اِن مفتیوں کے قول کی رو سے ایک شرعی رشتہ ہو گا!!!اذا لم تستحیِ، فاصنع ما شئت!!!۔۔۔۔ ( بخاری حدیث رقم 3296… ”جب تمہاری شرم چلی جائے تو پھر چاہے جو بھی کر لو!“)
اسلامی مسلمات کے بخئے ادھیڑتے چلے جانے کی اِس سے بدتر مثال کیا کوئی ہوسکتی ہے؟؟؟ گمراہی آگے سے آگے بڑھتی ہے۔ ابھی جو آئیں گے نہ جانے وہ اپنے ساتھ کیا لائیں گے! بسا اوقات ’زیادہ‘ آگے جانے سے ہی پتہ چل پاتا ہے کہ راستہ کتنا ٹیڑھا تھا. کیا آپ اس دن کا تصور کرسکتے ہیں جس دن ہر طرف اپنے یہاں یہی فصل پائی جائے؟! سیکولر گلوبلائزیشن‘ کا اپنے یہاں پیش مقدم کرنے کے لئے کیا اِس سے بڑھ کر بھی کوئی نذرانہ ہم اپنے پاس رکھتے ہیں؟
کلچرل گلوبلائزیشن کی ایک عالمی تحریک مسلمانوں کے یہاں پائے جانے والے ’’کافر و مسلم کے فرق‘‘ کو ملیامیٹ کروا دینے کےلیے حالیہ صورتحال کو بڑی چالاکی کے ساتھ استعمال کر رہی ہے۔ ایک صالح معنیٰ میں ’’تکفیر‘‘ اسلام کی ایک مضبوط فصیل بھی ہے جسے گرا کر یہ (کلچرل گلوبلائزیشن کی تحریک) سب معاملہ چوپٹ کر دینا چاہتی ہے: ہندو اور یہود و نصاریٰ کو کافر جاننا ہمارے دین کا حصہ ہے۔ اسی طرح قادیانیوں وغیرہ ایسے طبقوں کو دین سے خارج قرار دینا ہمارا ایک مسلّمہ قاعدہ ہے، جسے (تکفیریوں کی کچھ بےضابطگیوں کا فائدہ اٹھا کر) آج ہمارے یہاں سرے سے متروک کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اِس کی اصل غایت یہی ہے کہ وہ سب حدیں آخر کار روپوش ہو جائیں جو ’اسلام‘ اور ’غیر اسلام‘ کے مابین کسی وقت بہت گہری کر کے کھینچ دی گئی تھیں۔ اسلام کی وہ برتری جو اِسلام کو ہر باطل پر بے حدوحساب حاصل ہے اور جوکہ ہر مسلم قلب کے اندر جاگزیں ہے، طبعی بات ہے کہ اس ’فرق‘ کے روپوش ہونے کے ساتھ ہی جوکہ ’اسلام‘ اور ’غیر اسلام‘ کے مابین ہے اسلام کی یہ برتری خودبخود روپوش ہو جائے۔نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ ’اسلام‘ اور ’غیر اسلام‘ کا فرق ہی ملیامیٹ کرا دیا جائے گا، تو باطل کے مقابلے میں ’اسلام کی حقانیت‘ اور ’اسلام کی برتری‘ کا پھر کیا سوال؟! آج تک وہ اسلام کی حقانیت اور اسلام کی برتری سے مار کھا جاتے رہے ہیں تو یہ ’گلوبلائزیشن‘ آج اِسی مرض ہی کی تو دوا ہے کہ ’اسلام‘ اور ’غیر اسلام‘ کا فرق ہی ایک غیر متعلقہ سوال بنا دیا جائے!
چنانچہ آپ دیکھتے ہیں اِسی ’گلوبلائزیشن‘ کے جلو میں ایک اور تحریک بھی چپکے قدموں سے عالمی سرزمین پر پیش قدمی کرتی آرہی ہے، اور یہ ہے ’وحدتِ ادیان‘ جو اپنے یہاں باقاعدہ اب دستک دینے لگی ہے ۔ اس نئے مہمان __ وحدتِ اَدیان __ کی سب سے پہلی فرمائش یہ ہے کہ مسلمانوں کی لغت سے ’کافر‘ ایسا خوفناک لفظ نکال دیا جائے۔ وہ سب اَفکار، وہ سب اَدیان اور وہ سب عقائد جو دینِ اسلام سے متصادم ہیں اب باقی زمانے کیلئے ’کفر‘ کہلانے سے مستثنیٰ کر دیے جائیں!
یہ ایک عجیب بات ہے کہ جو تصویر یہ ’عالمی ثقافتی مہم‘ اِس عالمِ نو کی بنانا چاہ رہی ہیے، ہمارے یہاں پایا جانے والا ارجائی فکر کمال انداز سے اس ’تصویر‘ کو مکمل کرتا ہے! اصولِ ارجاءاسی لئے تو ہیں کہ ایمان اور کفر کے مابین جو ایک حدِ فاصل ہے اُس کو زیادہ سے زیادہ غیر مرئی بنا دیا جائے!’کافر‘ کا لفظ آج دنیا کی کسی بھی قوم اور کسی بھی گروہ کیلئے ’معیوب‘ ہے، خواہ وہ بت پرست کیوں نہ ہو، شیطان پرست (devil worshiper) کیوں نہ ہو(2)، آگ کا پجاری کیوں نہ ہو، حتیٰ کہ شرمگاہوں کے مجسمے بنا کر ان کو پوجنے کا مذہب کیوں نہ رکھتا ہو۔۔ کسی کو ’کافر‘ نہ کہا جائے، ہر ایک کا اپنا اپنا ’نکتہء نظر‘ ہے اور ’گلوبلائزیشن‘ کی نظر میں یکساں طور پر ’لائقِ احترام‘!
’گلوبلائزیشن‘ کو ہمارے یہاں اِس کے سوا اور کیا چاہیے؟! یہ اُس کے لئے نعمت، وہ اِس کے لئے غنیمت!اِن دونوں میں کیا خوب نبھ رہی ہے!
استفادہ تحریر حامد کمال الدین ، سہ ماہی ایقاظ

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *