‘تکفیری بیانیہ’ اور اسکا ‘جوابی بیانیہ ‘

’تکفیر‘ کا ’جوابی بیانیہ‘ جو ہمیں بی بی سی نے بہت بروقت پڑھانا شروع کر دیا تھا، اور اس کے ساتھ میں این جی اوز، پھر یہاں کے جدت پسند، نیز عرب ملکوں میں جملہ اسلامی تحریکوں کی شدیدترین مخالفت میں سامنے آنے والی اور ان میں سے ایک ایک کو ’تکفیری‘ ٹھہرانے والی ایک فکری رَو جو کہیں پر ’مدخلی‘ کے نام سے معروف رہی ہے تو کہیں پر ’جامی‘ کے نام سے، [اور یہ (مدخلی/جامی) واحد گروہ تھا جس نے جملہ اسلامی تحریکوں کے خلاف کچھ تحریری محنت کر رکھی اور ان میں سے ایک ایک کو ’تکفیری‘ کے خانے میں ڈالنے کے ’دلائل‘ تیار حالت میں مہیا کر رکھے تھے، تاکہ جس بھی ملک میں ’تکفیری بیانیہ‘ سے پریشان ہو کر لوگ بھاگیں تو آگے انہیں مدخلی/جامی بیانیہ دستیاب ملے (جہاں وہ ’تیار‘ دلائل سے استفادہ کریں!).
یہ مدخلی/جامی بیانیہ ایک بار امپورٹ ہو جائے تو اصل ’خرابی کی جڑ‘ خودبخود وہ اسلامی جماعتیں نظر آنے لگیں گی جن کا مدعا کسی نہ کسی انداز میں یہ ہے کہ یہاں اسلام نہیں اور وہ یہاں اسلام لانا چاہتی ہیں (’شدت پسندی‘ کے خلاف مہم میں آگے چل کر ان میں سے ایک ایک جماعت کی باری آنے والی تھی۔ یہ تھی ’جوابی بیانیہ‘ کی اصل غرض و غایت۔ ’تکفیری‘ تو اس میں سائڈ پر رہ جانے تھے۔ ’تکفیریوں‘ کو تو شروع کے کچھ سال محض اِس مسئلہ کا ’عنوان‘ بنایا جانا تھا البتہ میڈیا ٹرائل اپنےاپنے وقت پر بہت سوں کا ہونا تھا۔ غرض ’تکفیریوں‘ پر تھوڑا وقت لگا لینے کے بعد اصل رخ ان بھلی جماعتوں کی طرف ہونا تھا جو مغرب کے دیے ہوئے ’جدید ریاست‘ کے تصور پر دل سے ایمان لانے میں ابھی تک قاصر رہی ہیں)۔ اس مدخلی بیانیہ کی رُو سے (جو عرب سے امپورٹ ہوا) اخوان اور جماعتِ اسلامی مسلمانوں کی معاصر تاریخ میں ’’تکفیر‘‘ کی امام ہیں۔ ہر وہ جماعت جس نے اپنے ملک کے حکمران کی بیعت نہیں کر رکھی اور وہ حکمران پر سرعام تنقید بھی کر لیتی ہے، ان کی لغت میں ’تکفیری‘ ہے۔ یہی بات اس سے ایک زیادہ گھناؤنے انداز میں آپ کو غامدی بیانیہ میں نظر آتی ہےجس نے پاکستان کے دینی مدارس میں پڑھانے والے سب لوگوں کو بلااستثناء ’دہشتگردی‘ کی تعلیم دینے والا قرار دے رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے ہر وہ شخص جو ’نیشن سٹیٹ‘ کے تصور کو خلاف اسلام کہتا ہے، خواہ وہ کتنا ہی پرامن کیوں نہ ہو اور اسلام کے نام پر ہونے والی اس خونریز کا کتنا ہی بڑا مخالف کیوں نہ ہو، دہشتگردی کا پرورش کنندہ ہے۔ جبکہ اِس ٹیم کے تیسرے کھلاڑی لبرلز/این جی اوز کا ’تصورِ تکفیر‘ یہ کہتا ہے کہ اپنے کام سے کام رکھنے والی وہ دینی جماعتیں جو بڑی گرمجوشی کے ساتھ جمہوری عمل میں بھاگی دوڑی پھرتی دکھائی نہیں دیتیں اور جدید اصطلاحات کو پورے اخلاص کے ساتھ نہیں جَپ رہیں، پھر وضع قطع میں بھی ذرا ایک پرانا نقشہ پیش کرنے کے باعث ایک پرانے دور کی یاد دلاتی ہیں، ان سب کے ہاں ہی معاملہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے اور ان کو ’سیدھا‘ کرنا ضروری! یہ تینوں دھارے (مدخلی، غامدی اور لبرل) مل کر ایک جوابی بیانیہ کی تشکیل کرتے ہیں[۔
یہ واضح  ہے کہ یہ ’جوابی بیانیہ‘ (غامدی/لبرل) اس ’تکفیری بیانیہ‘ کے رد کےلیےنہیں آیا بلکہ ’تکفیری بیانیہ‘ کی پیداکردہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کےلیے آیا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ جو اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے گھر میں ایک بڑی واردات کرنے چلے آئے ، اور اس افراتفری میں ہمارے بہت سے مسلَّمات ہی ہمارے ہاتھ سے چھڑوانے کےلیے ایک ’جوابی بیانیہ‘ ہمارے منہ میں دے رہے ہیں. اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں ایک ایسا بیانیہ بیچا جا رہا ہے جس میں ہندو تک کو کافر اور مشرک کہنے کی گنجائش نہیں چھوڑی گئی اور جس کی نئی نسل باقاعدہ فتویٰ کی زبان میں یہ کہنے لگ گئی ہے کہ مسلمان عورت کے ہندو مرد سے نکاح کو حرام کہنے کی شریعت میں کوئی دلیل نہیں، کیونکہ مشرک آج کے زمانے میں ہندو تو کیا کسی بھی ابن آدم کو نہیں کہا جا سکتا! غرض ہندو تک کو کافر کہنا اس (غامدی) بیانیہ کے تحت عنقریب ’شدت پسندی‘ کے زمرے میں آنے والا ہے۔ نیز اِن کے پراپیگنڈا کی رو سے: ’تکفیری‘ وہ ہوتے ہیں جو آج کے اِن باطل نظاموں کی مخالفت کریں! یہ آج کے اِن موحدین کو جو اللہ مالک الملک کی اتاری ہوئی شریعت کی جگہ انگریز کے دیے ہوئے قانون کو عباد اور بلاد پر مسلط کر رکھنے والے حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، زمانہء اول کے اُن ’خوارج‘ سے جا ملاتے ہیں جنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسے خلفائے حق کے خلاف خروج کیا تھا۔!حالانکہ وہ بات جو ایک ادنیٰ دینی حمیت رکھنے والا شخص بھی شریعتِ خداوندی کی تعظیم میں بڑے آرام سے کہہ دے گا اور اس کے کہہ دینے میں کبھی کوئی رکاوٹ نہیں پائے گا، وہ اِن لوگوں کو ’گمراہی‘ نظر آنے لگ گئی ہے۔ جب سے انگریز سے مستعار لئے گئے نظام اور قانون اپنے یہاں چلنے لگے ہیں کسی غیرت مند مسلمان نے اِس نظام کو باطل کہنے میں کبھی تردد نہیں کیا۔
خوارج جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ ایسے خلیفہء راشد اور حاکمِ عادل کو ہدفِ تکفیر بنایا تھا اور جن کو زعم تھا کہ وہ صحابہ سے بڑھ کر قرآن سمجھتے ہیں۔۔ اُن خوارج کے نعرے میں آنے والے محض ایک لفظ کا ’اشتراک‘ دیکھ کر آج اُن موحدین کو بھی جو انگریز کے قانون کو تشریعِ عام بنا دینے پر معترض ہیں، خوارج کے ساتھ ملا دیا جائے؟! محض یہ دیکھ کر کہ اُن خوارج حروریہ کی زبان پر بھی ’حکم اللہ‘ کا لفظ آیا تھا، اِن نکتہ وروں نے یہ ’مماثلت‘ ڈھونڈی کہ ہو نہ ہو آج انگریز کے قانون پر معترض ہونے کا بھی یہی حکم ہوگا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ایسے صحابی کو ثالث مان لینے پر خوارج کے معترض ہونے کا تھا!!! آخر دونوں کے اعتراض میں ’حکمِ خداوندی‘ کے حوالے سے جو بات کی جاتی ہے!!!

٭”تکفیر” اور “عدم تیسیر” کا یہ ڈسکورس ظلم بھی ہے اور جہالت بھی
تکفیر کی بات ہے تو یہ ظالم قادیانیوں کی تکفیر تک سے لوگوں کو بِدکا کر رہیں گے۔ کیونکہ ان شدت پسند حرکتوں کے نتیجے میں،دین میں جو جائز تکفیر ہے اس پر ہی بطورِ اصول سوالیہ نشان اٹھ آئیں گے، اور وہ ’جوابی بیانیہ‘ بروقت آٹپکے گا جس سے قادیانی بھی خدانخواستہ ’مسلم مسالک‘ میں سے ایک مسلک گنا جائے گا۔
جہاد کی بات ہے تو یہ انگریز کے خلاف ہوتے رہنے والے جہاد سے بھی آپ کی توبہ کروائیں گے، روس کے خلاف ہوتے رہنے والے جہاد سے بھی، اور ہندو اور صیہونی کے خلاف ہوتے چلے آنے والے جہاد سے بھی۔ اور آئندہ کےلیے استعمار کا راستہ صاف!
اسلامی اصطلاحات کی بات ہے تو یہ ’’حاکمیتِ خداوندی‘‘، ’’شریعت‘‘، ’’خلافت‘‘ وغیرہ ایسے سب الفا ظ کو ’خودکُش بمبار‘ کا ہی ہم معنیٰ بنا کر چھوڑیں گے۔ یعنی ان لفظوں کا منہ پر آنا ہی خطرے کی علامت۔ واقعتاً ایسا کر بھی دیا گیا ہے۔ دیندارو! اس کے بغیر تم یہ الفاظ کب ترک کرنے والے تھے؟!
غرض وہ سب باتیں جو انگریز اور اس کے منظورِ نظر ٹولے کو عالم اسلام میں چُبھتی تھیں، مسلمانوں کو ان سے توبہ کروا دینے کا ایک نرالا طریقہ دریافت ہوا ہے: پہلے شدت پسند ’’سرپھرا بیانیہ‘‘… اور اس سے جب آپ ادھ موئے ہو چکیں تو پھر جدت پسند ’’جوابی بیانیہ‘‘۔ اور کلاسیکل اسلام کا دھڑن تختہ!
آپ غور فرمائیے تو تکفیر اور عدم تیسیر کی یہ شدت پسند تحریک بھی دراصل اسلام کے کلاسیکل علم و علماء کے خلاف ایک بغاوت ہےاور ’جوابی بیانیہ‘ والی یہ جدت پسند تحریک بھی۔ درحقیقت یہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اور اب تو مجھے یہ بھی بعید نظر نہیں آتا کہ ان دونوں کا ’مصدرِ الہام‘ بھی کوئی ایک ہی ڈیسک ہو۔
استفادہ تحریر حامد کمال الدین ، سہ ماہی ایقاظ

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *