اتمام حجت، دنیوی غلبہ اور مخالفین کا استیصال

اتمامِ حجت جسے “قانون” کہا جاتا ہے اور اسکو قرآن کے سمجھنے کے لیے بنیادی اور مسلمہ حقیقت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ، غور کیا جائے تو وہ بہت سارے مفروضات پر قائم ہے اور اس کی وجہ سے آیات ،احادیث ، اسلامی قانون کے قواعد اور سیرت و تاریخ کی چند درچند تاویلات کرنی پڑتی ہیں ۔ اس کے بعد بھی سب کچھ اس “قانون” کے سانچے میں فٹ نہیں بیٹھتا اور نت نئے سوالات کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ مکتب ِ فراہی کی تحقیقات کے مطالعے کی مدد سے کچھ سنجیدہ نوعیت کے مسائل یہاں پیش کیے جاتے ہیں ۔
1۔ رسولوں کے قتل کے متعلق آیات کی تاویل
اب جب ایسی آیات پیش کی جاتی ہیں جن میں “رسولوں” کے قتل کا ذکر ہے (جیسے سورۃ المائدۃ کی آیت ہے : لقد اخذنا میثاق بنی اسرآئیل و ارسلنا الیھم رسلا ۔ کلما جآءھم رسول بما لا تھوی انفسھم فریقاً کذبوا و فریقاً یقتلون )، تو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ :
اس طرح کی آیات میں “رسول” سے مراد نبی ہیں ، اصطلاحی معنوں میں رسول نہیں ۔ دل چسپ بات یہ ہوتی ہے کہ جب مسیح علیہ السلام کے قتل یا مصلوبیت کی نفی کی آیت آتی ہے تو لہک کر کہتے ہیں ، دیکھیں یہاں رسول کا لفظ آیا ہے :
و قولھم انا قتلنا المسیح عیسی بن مریم رسول اللہ ۔
ٹھیک ہے لیکن وہ اوپر والی آیت میں بھی تو رسول اور رسل کے الفاظ ہی آئے تھے ۔
بہرحال آگے بڑھتے ہیں ۔

2 ۔ کیا نبی اتمام ِ حجت نہیں کرتے ؟
جب پوچھا جاتا ہے کہ کیا نبی اللہ کی حجت تمام نہیں کرتے تو یہ آیت پیش کردیتے ہیں کہ دیکھیں یہاں رسل کا لفظ آیا ہے :
رسلاً مبشرین و منذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل
لیکن جب پوچھا جاتا ہے کہ اس آیت سے پیچھے تو بہت سارے پیغمبروں کا ذکر ہے جن میں کئی پیغمبروں کو غلبہ نہیں دیا گیا اور نہ ہی ان کے مخالفین کا استیصال کیا گیا تو اس کے بعد ابھی تک جواب کا انتظار ہے :
انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح و النبیین من بعدہ۔ و اوحینا الی ابراھیم و اسمٰعیل و اسحٰق و یعقوب و الاسباط و عیسیٰ و ایوب و یونس و ھٰرون و سلیمٰن۔ و آتینا داود زبورا۔ و رسلاً قد قصصنٰھم علیک من قبل و رسلاً لم نقصصھم علیک۔ و کلم اللہ موسیٰ تکلیما۔ رسلاً مبشرین و منذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل۔ و کان اللہ عزیزاً حکیماً۔
کیا یہاں زیادہ مناسب یہ نہیں کہ ان آیات سے اللہ کے سامنے بروزِ آخرت حجت نہ ہونا مراد لیا جائے ؟ لیکن ظاہر ہے یہ مراد لینے سے تو اتمامِ حجت کے “قانون” کی ساری عمارت دھڑام سے گرجائے گی ۔

3 ۔ کیا رسولوں کے مکذبین کا استیصال کیا گیا ؟
بنی اسرائیل نے جتنے سنگین جرائم کیے اتنے شاید ہی کسی نے کیے ہوں ۔ ذرا سورۃ النسآء کی آیات 153-161 میں ان کی فردِ قراردادِ جرم تو ملاحظہ کریں ۔
جب یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اتنے سنگین جرائم کے باوجود ان کا استیصال کیوں نہیں کیا گیا تو ایک اور تاویل اختیار کی جاتی ہے کہ اگر قوم توحید پر قائم رہی ہو تو اس کا استیصال نہیں کیا جاتا ۔
اب پہلے تو وہ قطعی الدلالہ آیت پیش کیجیے جس میں اس قانون سے یہ استثنا دی گئی ہو ۔ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن شاہد ہے کہ بنی اسرائیل میں لوگوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں بچھڑے کی عبادت بھی کی اور انھیں اس کی سزا بھی دی گئی اور بعد میں بنی اسرائیل کی تاریخ بھی شاہد ہے ، بائبل بھی گواہی دیتا ہے کہ کئی بار بنی اسرائیل شرک میں مبتلا ہوئے ؛ بلکہ یہود کا عام طور پر یہ ماننا ہے کہ بابل جلاوطنی کے بعد ہی کہیں جاکر ، یعنی موسیٰ علیہ السلام سے لگ بھگ ایک ہزار سال بعد ، بنی اسرائیل توحید پر مطمئن ہوئے ورنہ اس سے قبل تو موقع ملتے ہی بت پرستی اور شرک میں مبتلا ہوجاتے تھے ۔
اگر اس کے جواب میں یہ کہا جائے کہ سب تو شرک میں مبتلا نہیں ہوتے تھے بلکہ کچھ توحید پر قائم بھی رہتے تھے تو سوچیے کہ توحید پر قائم لوگ تو ہر معاشرے میں ، یہاں تک کہ مشرکینِ عرب میں رسول اللہ ﷺ سے قبل فترت کے عہد میں بھی پائے جاتے تھے ۔
پھر یہ بھی تو دیکھیےکہ دو دفعہ تو قرآن شاہد ہے کہ بنی اسرائیل نے بڑا فساد کیا ہے اور انھیں دونوں دفعہ سخت ترین سزا دی گئی ہے ۔ اگر مولانا اصلاحی کی تاویل مانی جائے تو پہلی دفعہ کی سزا وہ تھی جب بخت نصر کو ان پر مسلط کیا گیا اور دوسری دفعہ وہ تھی جب رومیوں نے ان کا ہیکل تباہ کردیا ۔ دونوں دفعہ سیکڑوں ، بلکہ ہزاروں لوگ تہہ تیغ کیے گئے اور ان سے زیادہ تعداد میں غلام بنائے گئے۔ جلاوطنی کی سزا اس کے علاوہ ۔
مشرکینِ عرب کی سزا کے متعلق بھی مولانا اصلاحی اور جناب غامدی کا موقف یہ ہے کہ انھیں رسول کے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سزا دی گئی ۔
لیکن فوراً ہی لپک کر یہ نہ کہیے کہ دیکھا بنی اسرائیل کو بھی عذاب ملا !
میرا سوال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے توحید ماننے والوںکو وہی سزا دی گئی جو عرب کے مشرکین کو دی گئی تو پھر توحید کی بنا پر استثنا کی کیا حیثیت رہی؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ مشرکینِ عرب کو تو سزا رسول کے ساتھیوں کی تلوار سے ملی ، بنی اسرائیل کو عراقی و رومی بت پرستوں کی تلوار سے ۔ ایک جگہ رسول اور اس کے ساتھیوں کا غلبہ ہوا ۔ دوسری جگہ دونوں دفعہ مشرکین اور بت پرستوں کا ۔ پھر کیسے دونوں کو ایک ہی معاملہ سمجھا جاسکتا ہے ؟

4۔ بنی اسرائیل کو دو دفعہ فساد کی سزا تو ملی لیکن کیا ان پر رسول کو غلبہ دیا گیا ؟
آگے بڑھیے اور اس سوال پر غور کریں کہ اگر بنی اسرائیل کو دو دفعہ فساد کی سزا اس اتمامِ حجت کے “قانون” کے تحت ملی تو کیا دونوں دفعہ رسول کی دعوت میں وہ مراحل اسی طرح آئے جو غامدی صاحب ذکر کرتے ہیں : انذار ، انذار عام ، اتمامِ حجت ، ہجرت و براءت اور جزا وسزا ؟
یہ بھی دیکھیے کہ اگر یہ اسی اتمام ِ حجت کے “قانون” کا معاملہ تھا تو یہاں تو سزا بخت نصر اور روم کی افواج نے دی جو یقیناً اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہی بنی اسرائیل پر مسلط کی گئیں لیکن وہ رسول اور اس کے ساتھی تو نہیں تھے !
پھر اگرچہ دوسرے فساد کو آپ سیدنا مسیح علیہ السلام کی تکذیب کا نتیجہ قرار دے کر اتمامِ حجت کے قانون میں سمو دیتے ہیں لیکن پہلی دفعہ میں نہیں بتاتے کہ کون سے “رسول” تھے جن کی تکذیب پر ان پر بخت نصر کا عذاب مسلط کیا گیا ؟
اسی طرح دونوں صورتوں میں رسول اور اس کے ساتھیوں کو غلبہ نہیں ملا جو آپ کے اس اتمامِ حجت کے “قانون” کا لازمی نتیجہ ہے ۔
سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے عذاب اور “اتمامِ حجت” کے اس مزعومہ تصور کے درمیان کوئی CAUSAL LINK (رابطہ سببیہ) ہے ؟ بہ ایں طور کہ “رسول “کی جانب سے اتمام ِ حجت نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی نہ ہو اور “رسول” کی جانب سے اتمامِ حجت ہو تو اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی لازماً اور فوراً ہی آئے ؟ کیا قرآن میں مذکور تمام معذب قوموں پر عذاب اسی نوعیت کا آیا؟ (بالخصوص بنی اسرائیل کے دوفسادوں اور ان کی سزا پر غور کریں ۔ ) اور کیا اسی طرح “اتمامِ حجت” اور “رسول اور اس کے ساتھیوں کے مادی غلبے” اور “استخلاف” کا بھی آپس میں رابطہ سببیہ ہے ؟ (مسیح علیہ السلام کے ساتھ کیوں یہ استخلاف کا وعدہ نہیں کیا گیا )کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ :
ذرا سی بات تھی اندیشۂ عجم نے اسے
بڑھادیا ہے فقط زیبِ داستاں کے لیے !

5۔ سیدنا مسیح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو دنیوی غلبہ کیوں نہیں ملا ؟
غامدی صاحب کا حلقہ یہ کہتاہے کہ نصرانیوں کو یہودیوں پر غلبہ مل گیا ۔ جواباً عرض کیا کہ قرآن نے آل ِ عمران میں “نصرانیوں” کے “یہودیوں” پر غلبے کی بات نہیں کی بلکہ “الذین اتبعوک” کے “الذین کفروا” پر غلبے کی بات کی ہے۔اگر صرف کسی کے خود کو مسیح کے پیرو کہنے سے وہ اس بشارت کا مصداق بن سکتا ہے تو پھر اس آیت کے متعلق کیا کہیں گے جس میں ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں: فمن تبعنی فانہ منی۔ اس میں تو پھر سب بنی اسرائیل و بنی اسماعیل، یہود، نصاری بلکہ مشرکین تک کو شامل سمجھنا چاہیے۔اور اسی آل عمران میں یہ آیت بھی دیکھیے: ان اولی الناس بابراھیم للذین اتبعوہ و ھذا النبی و الذین آمنوا۔
بہرحال اگر نصرانیوں کے یہودپر غلبے کی تاویل بھی مان لی جائے تو یہ غلبہ تو چوتھی صدی عیسوی میں کہیں جاکر ملا جب رومی بادشاہ مسیحی بن گیا ورنہ تب تک تو روم میں مسیحی اور یہودی دونوں کا برا حال تھا ( اس کے بعد صرف یہودیوں کا برا حال رہا یا ان مسیحیوں کا جنھوں نے سرکاری مذہب کے خلاف مسیحی مذہب کی کوئی اور شکل اختیار کی ) ۔ اور بہر صورت “رسول” نے تو یہ غلبہ ہوتے نہیں دیکھا ۔
یقیناً قرآن نے سورۃ الصف میں مسیح علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کے ان کا کفر کرنے والوں پر غلبے کی بات کی ہے لیکن کیا یہاں واقعی غلبے سے مراد سیاسی غلبہ ہے یا اس سے مراد دلیل اور حجت کا غلبہ ہے ؟ کیا حواریین کے سیاسی غلبے کے لیے تاریخ سے ثبوت ملتا ہے؟ یا اس کے لیے تاریخ کا انکار کریں؟

6۔ کیا یہود کی تاقیامت سزا کی وجہ اتمامِ حجت ہے ؟
قرآن نے سورۃ آل عمران میں مسیح علیہ السلام کے “متبعین “( نہ کہ نصاری) کے ان کے منکرین پر تاقیامت غلبے کا اعلان کیا ہے لیکن کیا یہ غلبہ سیاسی غلبہ ہے ؟ اور کیا اس کی وجہ اتمامِ حجت کا “قانون “ہے ؟
سورۃ الاعراف میں بھی قیامت تک کی سزا کا ذکر ہے لیکن یہ ذکر نہیں کیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمھارے باپ دادا پر مسیح علیہ السلام نے اتمامِ حجت کیا تھا ۔ اگر مسیح علیہ السلام نے یہود پر اتمام ِ حجت کیا اور اس “قانون” کے تحت ان کے مخاطبین کو سزا ملی بھی تو ان سزا یافتہ یہود کی اولاد پر کس نے اور کب اتمامِ حجت کیا کہ وہ تاقیامت سزا بھگتتے رہیں؟

7۔ رسول اللہ ﷺ کے مکذبین کو ہجرت کے بعد بھی گیارہ سال تک “استیصال” کی سزا کیوں نہیں ملی ؟
وہ جو اتمامِ حجت کا “سادہ ترین قانون” تھا اس کے مطابق تو ادھر رسول نے ہجرت کی اور ادھر اس کی قوم کو سزا مل گئی ۔ نوح علیہ السلام کشتی میں آگئے اور طوفان آگیا ۔ یہاں مہلت کا اتنا طویل وقفہ کیوں ملا؟
مجھے معلوم ہے کہ اس کے جواب میں غامدی صاحب اور ان کے متبعین کیا تاویل ذکر کرتے ہیں لیکن وہ بھی تاویل ہی تو ہے صرف اس لیے کہ آیات و احادیث اور سیرت و تاریخ کو اس “قانون” کے سانچے میں فٹ کیا جاسکے۔
مولانا اصلاحی کی اختیار کردہ تاویل کے مطابق جب قوم ِ ثمود نے اونٹنی ہلاک کی اور انھیں تین دن کی مہلت ملی تو اس مہلت میں ہی انھوں نے صالح علیہ السلام کے قتل کی بعینہ وہی سازش کی جو قریش نے رسول اللہ ﷺ کے قتل کے لیے کی لیکن عجیب بات یہ ہے کہ پہلی صورت میں قومِ ثمود فوراً ہی ہلاک کردی گئی اور دوسری صورت میں قریش کو گیارہ سال کا وقفہ ملا۔

8۔ کیا مخالفین کی سزا سے قبل رسول کے قتل یا وفات پاجانے کا امکان ہے؟
رسول اللہ ﷺ کے قتل یا مخالفین کو سزا سے قبل ان کی وفات کا امکان تو قرآن نے مکی سورتوں میں بھی ذکر کیا ہے اور سورۃ آل عمران میں غزوۂ احد پر بحث کے ضمن میں بھی ۔
و اما نرینک بعض الذی نعدھم او نتوفینک فالینا مرجھم ثم اللہ شھید علی ما یفعلون (سورۃ یونس )
و ان ما نرینک بعض الذی نعدھم او نتوفینک فانما علیک البلاغ و علینا الحساب (سورۃ الرعد)
اس سے زیادہ تصریح سورۃ الزخرف میں کی گئی ہے :
فاما نذھبن بک فانا منھم منتقمون ۔ او نرینک الذی وعدنٰھم فانا علیھم مقتدرون ۔
و ما محمد الا رسول ۔ قد خلت من قبلہ الرسل ۔ افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم۔ و من ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیئا ۔ و سیجزی اللہ الشٰکرین۔ (آل عمران)
یہ بھی ملاحظہ کیجیے کہ اس سے ایک آیت بعد اسی سلسلۂ بیان میں رسول کی جگہ نبیوں کا ذکر آیا ہے اور کسی فرق کا اشارہ تک نہیں دیا گیا :
و کاین من نبی قٰتل معہ ربیون کثیر ۔ فما وھنوا لما اصابھم فی سبیل اللہ و ما ضعفوا و مااستکانوا ۔ واللہ یحب الصٰبرین۔

9۔ کیا رسول اللہ ﷺ کے اتمامِ حجت کا مشن صرف جزیرۂ عرب تک تھا ؟
کیوں کہ آپ کو زندگی میں غلبہ صرف جزیرۂ عرب کی حد تک ہی ملا ۔
یہ غلبہ بھی عارضی تھا اور آپ کی وفات کے ساتھ ہی عرب میں ارتداد کی لہر پھیل گئی جس پر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ہی قابو پاسکے تھے اور مولانا اصلاحی کی اختیار کردہ تاویل کے مطابق سورۃ التوبہ کی آیت فان تابوا و اقاموا الصلوۃ و آتوا الزکوۃ فخلوا سبیلھم اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان امرت ان اقاتل الناس کا عملاً نفاذ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارتداد کی جنگ کے موقع پر ہی کیا ۔ تو جب جزیرۂ عرب میں بھی رسول اللہ ﷺ کا غلبہ آپ کے بعد ہی مستحکم ہوا تو وہ اتمامِ حجت کے بعد رسول کے غلبے کی بات کیا ہوئی ؟

10۔ کیا قیصر و کسری اور دیگر اقوام پر بھی اتمامِ حجت کیا گیا ؟
اگر ہاں تو کیسے ؟ اور اگر نہیں تو پھر ان کے خلاف صحابۂ کرام کی جنگوں کو اتمامِ حجت کے “قانون” میں کیسے فٹ کیا جاسکتا ہے ؟
اگلی تحریر میں اس پر بھی تفصیلی بحث ہوگی جس سے یہ واضح ہوگا کہ کیسے ان جنگوں کو اتمامِ حجت کے “قانون” میں فٹ کرنے کے لیے یا تو “اتمامِ حجت”کے قانون کو MOULD کرنا پڑتا ہے یا تاریخ کو REWRITE کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ پھر اگر صحابۂ کرام کو بحیثیتِ مجموعی وہ منصبِ شہادت و اتمامِ حجت ملا جو رسول اللہ ﷺ کو اکیلے ملا تھا تو کیا یہ مقام صرف خلافتِ راشدہ تک تھا یا اس کا سلسلہ آخری صحابی کی وفات تک ، یا کم از کم آخری صحابی خلیفہ(سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ) تک جاری رہا ؟
تلک عشرۃ کاملۃ
جو سوالات اس تحریر میں پیش کیے گئے ، ان میں کچھ کا جواب دیا گیا ہے ، کچھ کا دیا جارہا ہے ، کچھ پر کام ہوا ہے ، کچھ پر ہوجائے گا لیکن جو مقصد ان پوسٹس کا تھا وہ صرف اور صرف یہ تھا کہ اتمامِ حجت کا یہ “نظریہ” محض “نظریہ” ہی ہے ۔اسے “قانون “کا درجہ نہ دیں ۔ اور قانون بھی اس درجے کا کہ قرآن کی آیات، رسول اللہ ﷺ کی احادیث ، آپ کی سیرت ، چودہ صدیوں کا قانونی و فقہی ذخیرہ ، سب کچھ اس “قانون” کی روشنی میں REINTERPRET کیا جائے!
تحریر ڈاکٹر مشتاق صاحب، چئیرمین شعبہ قانون، اسلامی یونیورسٹی ، اسلام آباد

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *