غامدی صاحب کا نظریہ اتمامِ حجت اور جہاد

عصرِ حاضر میں جہاد پر لکھنے والے کئی اہلِ علم نے فقہائے کرام کے کام کو ان کے زمانے اور حالات کا تجزیہ قراردےکر نظر انداز کیاہے اور براہِ راست قرآن و حدیث سے استدلال کی راہ اختیار کی ہے.مثال کے طور پردیکھئے؛جاوید احمد غامدی،”قانونِ جہاد”،میزان(لاہور؛دارالاشراق 2001ء) ص241، 279)۔
اس طریق کار کے اپنے کچھ فوائد ہونگے لیکن فقہاء کے کام کو نظراندازکردینا کسی طور مناسب نہیں ہے۔ایک تو اس وجہ سےکہ فقہاء امتِ مسلمہ کے گلِ سر سبد تھے۔یہ امت کے بہترین دماغ تھے۔صدیوں کی محنت کے بعد فقہِ اسلامی کا ذخیرہ وجود میں آیا ہے۔اس سارے علمی کام کو نظراندازکرکے پہیہ دوبارہ ایجادکرنے کی کوشش کیوں کی جائے؟فقہاء کے کام کی اہمیت کی دوسری وجہ یہ ہےکہ ان کا کام صرف علمی دائرے ہی تک محدود نہ تھا بلکہ عملاََ وہ مسلمانوں کی خارجہ پالیسی کی بنیاد بنا۔انہی کے کام کی بنیاد پراسلامی ریاست کے دیگرممالک کے ساتھ تعلقات کا انحصار ہوتا تھا۔ان کا کام بین الاقوامی قانون کی حیثیت اختیار کرگیاتھا اوراسی لحاظ سے وہ صدیوں نافذ رہا.یہی وجہ ہےکہ بین الاقوامی قانون کے بعض غیرمسلم ماہرین نے اس رائےکا اظہار کیا ہےکہ سیر کی کتابوں کو بین الاقوامی قانون کے اہم ماخذ” بین الاقوامی عرف” (International Custom) کی دلیل کے طور پر استعمال کیاجاسکتاہے۔مثال کے طور پردیکھئے بین الاقوامی عدالت انصاف کے سابق جج ویرامنتری کا مقالہ بعنوان
“The Revival Of Customary International Humanitarian Law”
Larry MaybeeBenerjiChakka (Ed.) Custom As Source Of International Humanitarian Law (New Dehli: ICRC,2006) Pp 25-40
مزید تفصیل کےلئے جسٹس ویرامنتری کی کتابIslamic Jurisprudence An International Perspectiveدیکھئے۔)

غامدی صاحب کا نظریہ اتمام حجت :
غامدی صاحب کے مطابق رسول اللہ ﷺ اور صحابہ (رضی اللہ عنہم) نے جس طرح جنگیں لڑیں وہ بعد میں نہیں لڑی جاسکتیں اور یہ مخصوص حکم تھا جو اب باقی نہیں رہا۔ رسول اللہ ﷺ کے جہاد میں آپﷺ کے مخالفین کےلئے عذابِ الٰہی کا پہلو بھی شامل تھا کیونکہ رسول اپنی قوم پر اللہ کی حجت تمام کرنے کےلئےآتے ہیں۔وہ قوم کےلئےحق اور باطل اس طرح واضح کردیتے ہیں کہ کسی کے پاس نہ انکار کرنے کے لئے کوئی بہانہ یا دلیل باقی نہیں رہ جاتی۔اسکے بعد بھی جو لوگ حق کے آگے سر جھکانے سے انکار کر دیتے ہیں انکے لیے اسی دن میں خدا کی عدالت قائم ہوجاتی ہے اور رسول کی زندگی ہی میں انھیں نیست و نابود کردیا جاتا ہے۔پچھلی اقوام کے لئے عذابِ الٰہی قدرتی آفتوں کی صورت میں نمودار ہوا، جبکہ خاتم النبیین ﷺ کے مخالفین کے لئے صحابہ کی تلواریں عذاب کا کوڑا بن گئی۔ (مولانا امین اصلاحی، تدبر قرآن،(لاہور: فاران فاؤنڈیشن 2002)،ج 3، ص 469، 473 اور 555۔)(جاوید احمد غامدی،”قانونِ جہاد”،ص241، 242 اور 266 ، 270)
جہاں تک صحابہَ کرام کی جنگوں کا تعلق ہے انہوں نے دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی تکمیل کی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آخری دنوں میں، جبکہ جزیرۃ العرب میں ان کا مشن پورا ہوچکا تھا، سورۃ التوبۃ میں یہ حکم نازل ہوا:”اے اہل ایمان! اپنے نزدیک کے (رہنے والے) کافروں سے جنگ کرو۔ اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی (یعنی محنت وقوت جنگ) معلوم کریں۔ اور جان رکھو کہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے ہیں۔﴿سورۃ التوبہ، آیت 123﴾اس حکم کی تعمیل میں انہوں نے ان قوموں کے ساتھ جنگیں لڑیں جن کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطوط کے ذریعے سے آگاہ کردیا تھا کہ اگر وہ اسلام قبول نہیں کریں گے تو ان کی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا اور پھر انہیں آخرت کی سزا بھی بھگتنی ہوگی۔ [ جانب جاوید احمد غامدی کی رائے یہ ہے کہ صحابہَ کرام نے انہی قوموں کے ساتھ جنگیں لڑیں جن کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتی خطوط بھیجے تھے۔ {قانون جہاد، ص269-270}
پس جہاد کا یہ مخصوص پہلو خلافت راشدہ میں اپنی تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ غلبہ دین کے لئے کیے جانے والے جہاد کا تعلق صرف نبی علیہ السلام (یا انکے ساتھیوں) تک محدود تھا، یعنی یہ جہاد درحقیقت نبی کے براہ راست منکرین پر عذاب الہی کی صورت تھی۔

ان کے اس دعوے پر چند سوالات و اشکالات پیدا ھوتے ھیں جن میں سے ایک درج ذیل ھے۔
1۔ سورہ توبہ کی جن آیات میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو مشرکین عرب سے جہاد وقتال کا حکم دیا گیا ہے ان میں قتال کی علت “نقض عہد” اور “طعن فی الدین” کو قرار دیا گیا ھے نہ کہ کسی ” اتمام حجت” کے قانون کا نفاذ (مزے کی بات یہ ھے کہ “اتمام حجت” ایک ایسی اصطلاح ھے جو نہ تو لفظاً اور نہ ہی معناً قرآن مجید میں استعمال ہوئی ہے)۔ ارشاد باری تعالی ہے:
وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ ۙ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ [التوبة 12]
“اور اگر وہ اپنے وعدوں کے بعد اپنے قول وقرار کو توڑ دیں اور تمہارے دین پر طعن کریں تو ان کفر کے اماموں سے قتال کرو کہ ان کے کسی بھی قول وقرار کا کوئی اعتبار نہیں ہے، شاید کہ وہ باز آ جائیں”
اس آیت مبارکہ میں مشرکین عرب سے قتال کو واضح طور “نقض عہد” اور “طعن فی الدین” کی سزا قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح اگلی آیت مبارکہ میں پھر ارشاد ہے:
أَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ [التوبة 13]
بھلا تم اس قوم سے قتال نہ کرو گے کہ جنہوں نے اپنے قول وقرارکو توڑ دیا ہے؟
سورۃ توبہ کے شروع میں اللہ نے سزا کی وجہ واضح طور پر نقض عھد کو قرار دیا ھے جس سے معلوم ھوا کہ برات بھی انھی سے تھی، اب یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ نہیں اتمام حجت کے تحت تھی۔ تو اسکی دلیل نص سے دینا ھوگی کہ نھیں اس سورت میں براۃ نقض عھد نھیں بلکہ اتمام حجت کی وجہ سے تھی۔
2۔۔کیا سورت توبہ میں کہیں یہ بات کھی گئی کہ ان پر یہ عذاب (سزا) اتمام حجت کے اس باب سے ھے؟ “اتمام حجت” کا نفاذ جسے غامدی صاحب احکامات جھاد کی تحدیدات بیان کرنے میں اس قدر اھمیت دیتے ھیں سورہ توبہ میں کسی مقام پر لفظا یا معنا کہیں اس کا سراغ موجود ھے؟ کیا قرآن میں کھیں اس بات کا ذکر موجود ھے کہ مشرکین مکہ نے ابتدائی دور سے محض ضد اور ھٹ دھرمی کی بنا پر رسالت محمدیﷺ کا انکار کیا تھا؟ یعنی جس طرح اھل کتاب کے بارے میں یہ کھا گیا کہ “الذین اتینھم الکتاب یعرفونہ کما یعرفون ابنائھم” (جنھیں کتاب عطا کی گئی وہ اس رسول کو اسی طرح پھچانتے ھیں جیسے اپنے بچوں کو پھچانتے ھیں) کیا ایسی کوئی بات ابتدائی نازل ھونے والی سورتوں میں ان مشرکین کے بارے میں کہی گئی؟ خود یہ جدید بیانئے دینے والے مطالبہ کرتے رہے ھیں کہ “بتاؤ قرآن میں اس خلافت کا ذکر کس آیت میں ھوا جسکا آپ لوگ دعوی کرتے ھیں؟، براہ راست آیت دکھاؤ آیت”۔ اگر استدلال کا اسلوب یھی ٹھرا تو ھم بھی کھتے ھیں کہ پورے قرآن میں کوئی ایک آیت دکھائیں جس میں یہ کھا گیا ھو کہ مشرکین عرب کو جو سزا دی گئی تھی وہ اتمام حجت کے تحت تھی۔ پوری سورۃ توبہ پڑھ جائیں، کسی ایک آیت میں لفظا تو چھوڑیں چلیں اشارتا ھی دکھا دیں کہ اس قانون کے اجراء کی بنا پر یہ سزا دی گئی تھی؟ “براہ راست آیت دکھاؤ بھائی آیت”۔ آخر کیا راز ھے کہ خدا نے پوری سورت میں دیگر باتوں کا ذکر تو کیا مگر جو اصل العلت ھے اسکا کھیں سراغ بھی نھیں؟

3۔۔ فتح مکہ کے وقت حضور ص کی معافی اور رحمدلی کی داستانیں زبان زد عام هیں. بدترین دشمنوں کو بهی معاف کیا. قانون اتمام حجت کے تحت ان کے لئے اسلام یا موت صرف دو راستے تهےتو پهر لا تثریب علیکم الیوم کا مصداق کون اور کیوں؟معافی کی داستان عظمت کی کیا توجیہ؟ دوسرا سوال اس قضیے پر بھی ھے کہ قرآن میں یہ بات کھاں ایک اصول کے طور پر لکھی ھوئی ھے کہ “اتمام حجت کے بعد کفر و اسلام” ھی واحد آپشن ھوتے ھیں؟
علامہ ابنِ قیم نے اپنی معروف تصنیف” زاد المعاد “میں فرمایا ہے:” یعنی جب فتح حاصل ہو گئی تو آپ ﷺ نے تمام افراد کو معاف فرما دیا، سواے نو افراد کے کہ آپ نے ان کے قتل کا حکم فرما دیا خواہ وہ غلافِ کعبہ کے سائے ہی میں کیوں نہ پائے جائیں؟ “(ج3، ص 362)
اس سے ایک صاحب نے یہ نتیجہ نکالا کہ معلوم ہوتا ہے کہ اتمامِ حجت کے پہلو سے یہاں افراد میں واضح فرق کیا گیا ہے۔ مذکورہ بالا نو افراد پر چونکہ اتمام ہو چکا تھا اور ان کے لیے دو اختیارات؛ اسلام یا موت کے علاوہ کوئی اور صورت نہ تھی اور ان کی حیثیت سربرآوردہ شخصیات کی تھی اور ایسے لوگ معاشرے کے لیے ایک انجن کی مانند ہوتے ہیں جو اس کَل کو ہانکتا ہے۔ یہی مترفین، قرآن کی تصریح کے مطابق، بستیوں میں فساد کے ذمے دار ہوتے ہیں، اس لیے ان کے لیے سخت حکم نامہ جاری ہوا۔ رہے عامۃ الناس تو ان کی حیثیت یہ نہ تھی اس لیے ان کے لیے معافی کا عام اعلان کیا گیا۔ چنانچہ انھی لوگوں میں سے بعد میں بہت سوں کا مسلمان ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے اندر اللہ کے علم میں قبول حق کی استعداد باقی تھی۔ مولانا اصلاحی نے سورۂ نصر کی تفسیر میں بڑی صراحت کے ساتھ یہ ذکر فرمایا ہے کہ دین کی راہ میں رکاوٹ اصل میں لیڈروں کا استبداد تھا، (جن میں سے نو کو اس موقع پر معاف نہیں کیا گیا) عوام کے دلوں میں اس حوالے سے کوئی بدگمانی نہ تھی۔ ان لیڈروں کی مذہبی تعذیب کا بند جب ٹوٹا تو لوگ اسلام کی طرف دوڑ پڑے۔
پہلی بات جن نو کو عفو عام سے مستثنی کیا گیا تھا اس کا تعلق اتمامِ حجت سے نہیں تھا، بلکہ ان کے جرائم کی ایک مستقل فہرست تھی، لیکن ان میں سے بھی اکثر کو بعد میں معاف کردیا گیا تھا۔ اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ اتمام کا زیادہ تر تعلق انھی مذہبی جبر کے حامل لیڈروں کے ساتھ ہے جو قرآن کی اصطلاح میں “فتنہ” کے حامل تھے اور یہی عوام کے قبول اسلام میں رکاوٹ تھے۔انھی کے ساتھ قتال مشروع ہوا۔ اس سےتو یہ واضح ہوتا ہے کہ نفس کفر قتال کی علت نہیں بنا بلکہ اس کی بنیاد وہ شوکت تھی جو “فتنہ” کا باعث تھی۔!!
معلوم ہوا کہ جھاد کی اصل غایۃ فتنے کے زور کو توڑنا تھا ،قران میں جھاد کی غایۃ فتنہ واضح طور پر بیان ھوئی ھے اور فتح مکہ کے واقع سے بھی اسی کی تصویب ھوتی ھے۔ اس ضمن میں یہ بات بھی اھم ھے کہ سورہ توبہ میں جھاں اتمام حجت کے تحت قتال کا ذکر ھے وھاں “قاتلوا آئمۃ الکفر” کا ذکر ھے خصوصیت کے ساتھ، یہ بھی اسی طرف اشارہ کرتا ھے کہ ان لوگوں ھی کی وجہ سے فتنہ عام ھے۔
چنانچہ قانون جھاد کا اصلا اتمام حجت کے قانون سے کوئی براہ راست تعلق نھیں؛ یہ غامدی صاحب کا مفروضہ و استنباط ھے۔ قرآن کی براہ راست نص میں اسکا ذکر نھیں قران میں یہ بات کھیں نھیں درج کہ جھاد کروں ان سے اس لئے کہ ان پر اللہ کی بات پوری ھوچکی۔ نبی علیہ السلام نے اظھار دین کے لئے بشمول جھاد جو بھی اقدامات کئے وہ امت کے لئے بلحاظ حالات جائز ھیں۔ غلبہ اسلام و انسداد فتنہ کے لئے کئے گئے جس جھاد کو غامدی صاحب اتمام حجت کے ساتھ جوڑ کر غیر نبی کے لئے اسے منسوخ قرار دیتے ھیں یہ استدلال محل نظر ھے کیونکہ اتمام حجت کا قانون کوئی شریعت کا باقاعدہ منھج نھیں کہ جس سے احکامات جھاد کا دائرہ کار متعین کیا جاسکے بلکہ اسکا تعلق اضافی طور پر مخصوص مخاطبین کے ساتھ ھے۔ یعنی فتنے و کفر کی شان و شوکت کے خاتمے نیز اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے حالات کی مناسبت سے جھاد آج بھی کیا جاسکتا ھے، بس فرق یہ ھے کہ آج موت کے سواء دیگر آپشن میسر ھونگے۔

4۔اگر اس قانون کو جوں کا توں مان بھی لیا جائے تو بھی اس سے اظہار دین کے لئے کئے جانے والے جہاد کی تخصیص لازم نہیں آتی۔اتمام حجت بذات خود کوئی ایسا شرعی اصول نہیں جس پر احکام موقوف ہوں کیونکہ اتمام حجت کا تعلق “حکم” سے نہیں بلکہ “محکوم بہ” سے ہے، یعنی اسے بنیاد بنا کر احکامات کی تخصیص و تعمیم درست نہیں کیونکہ اتمام حجت کا تعلق “حکم جہاد” سے نہیں بلکہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جن کے ساتھ جہاد کیا گیا۔اتمام حجت کا تعلق اس امر سے ہے کہ اللہ تعالی کی نصرت سے جب دین کو غلبہ میسر ہوگا تو مغلوب ہوجانے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟ اتمام حجت کا قانون اس باب میں یہ بیان کرتا ہے کہ جو لوگ نبی علیہ السلام کے براہ راست مخاطبین تھے (یعنی امیین) انہیں قتل کیا جاسکتا ہے جبکہ دیگر کے ساتھ یہ سلوک نہ ہوگا (گو کہ اس باب میں بھی گفتگو کے پہلو موجود ہیں)۔
اصول فقہ کی زبان میں یوں کہا جائے گا کہ قانون اتمام حجت سے حکم جہاد کی تخصیص کرنے میں یہ غلطی ہے کہ اس میں ایک ایسی چیز جو “مکلف” سے متعلق تھی اسے “حکم” سے متعلق فرض کرلیا گیا۔ اتمام حجت کو حکم کے بجائے محکوم بہ سے جوڑنے سے یہ فرق آتا ہے کہ اس سے غلبہ دین کے لئے کئے جانے والے جہاد کو صرف اور صرف رسول اللہﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں کیا جاسکتا۔اگر اصلاحی صاحب کو دیکھا جائے تو انکے یہاں غلبہ اسلام کے لئے ہر سطح پر جدوجہد کا جواز ملتا ہے جو اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ وہ نظریہ اتمام حجت کو حکم سے متعلق فرض نہیں کرتے جیسا کہ بعض دیگر اہل علم نے ایسا کیا۔ اگر ایسا ہی ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اصلاحی صاحب کا نظریہ اتمام حجت بعد والوں سے مختلف تھا۔
استفادہ تحریر، ڈاکٹر زاہد مغل ،  حافظ زبیر و ڈاکٹر مشتاق صاحب

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *