مسئلہ فلسطین، مظلوم کا حق مزاحمت اور غامدی صاحب

نمل یونیورسٹی اسلام آباد کے پروفیسر جمیل جامی صاحب نے غامدی صاحب سے اپنی ملاقات کی روداد تحریر فرمائی جس میں مسئلہ فلسطین پر بھی کچھ گفتگو ہوئی۔ غامدی صاحب فلسطینیوں کو مشورہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “اس جدوجہد سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ تم لوگ اپنے آپ کو سماجی اور اقتصادی طور پر مضبوط کرو اور انتظار کرو اس وقت کا کہ اللہ تمھارے بارے میں اپنا فیصلہ تبدیل کرے کیونکہ یہ امریکہ، یہ اسرائیل یہ سب ہماری اخلاقی پستی کی وجہ سے ہم پر مسلط ہیں اور ہم بنی اسرائیل کے نقش قدم پر ہیں۔ یہ ممالک وہ آلے ہیں جن کی بدولت اللہ ہمیں عذاب کا مزہ چکھا رہا ہے” ( کچھ ایسا ہی درس غامدی صاحب کے ایک شاگرد ریحان احمد یوسفی المعروف ابویحیی صاحب نے اپنے ناول ‘ جب زندگی شروع ہوگی ‘ میں دیا )۔
:اس پر دو جامع تبصرہ سامنے آئے ۔ ملاحظہ کیجیے۔
جناب محمد دین جوہر صاحب ایڈیٹر سہ ماہی ‘جی ‘نے تبصرہ کیا:

“غامدی صاحب کے فلسطین پر موقف میں ایک نکتہ (یہ) مستور ہے (کہ اس )پوری دینی تعبیرکا واحد مقصد یہ ہے کہ مغرب کے ہمہ جہتی غلبے کو دین سے تائید یافتہ تقدیری صورت حال سمجھ کر قبول کر لیا جائے اور مسلمانوں میں سیاسی اور تہذیبی مزاحمت کے تمام منابع مٹا دیے جائیں”
ڈاکٹر زاہد مغل صاحب پروفیسر نسٹ یونیورسٹی نے تبصرہ کیا :

” انکی دینی تعبیر میں تہذیبی غلبے و مغلوبیت کے ان معاملات کو تقدیری بنانے میں بھی ایک خوبصورت twist ہے اور وہ یہ کہ انکے مؤقف کے مطابق جب بات “actively” غلبہ دین کی جدوجہد کرنے کی ہو تو اسے وہ تقدیری معاملہ قرار دیتے ہوئے انبیاء کے ساتھ خاص کرتے ہیں نیز اس کیpre conditions (اتمام حجت) تک علم کی رسائی کے لئے وحی سے کم تر کسی علم پر راضی نہیں ہوتے۔ البتہ جب بات ہو مسلمانوں کی طرف سے passively استعمار کے غلبے کو قبول کرکے مزاحمتی جدوجہد ترک کرنے کی تو اس مغلوبیت کو بھی وہ تقدیری فیصلہ ہی قرار دیتے ہیں مگر اس مرتبہ یہ فیصلہ سنانے کے لئے کہ “یہ تمہارے اپنے اعمال کی بدولت اللہ تمہیں عذاب دے رہا ہے” انہیں وحی کی ضرورت نہیں پڑتی، عذاب الہی کے اس تقدیری فیصلے کو معلوم کرنے نیز اس پر مبنی لائحہ عمل اخذ کرنے کے لئے ان کا اپنا علم ہی کفایت کرجاتا ہے۔

مظلوم کا حقِ مزاحمت اور اسلام – جمیل اصغر جامی
جبر اور ظلم کے خلاف جدوجہد انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ انسان کیا یہ ہر ذی روح کی فطرت کا حصہ ہے۔ زمین پر رینگنے والا ایک کیڑا بھی جب اپنی بقا کو خطرے میں پاتا ہے، تو پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہو کر، پوری سرعت اور قوت سے مقابلے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ظلم کے خلاف جدوجہد، بقا کی جدوجہد ہے۔ دنیا کا ہر ضابطہ، دستور، اور اخلاقی اُصول اس جہدوجہد کی نہ صرف اجازت دیتا ہے، بلکہ اس کی تائید بھی کرتا ہے۔ کوئی ضابطہ، قانون یا مذہب اس بنیادی جبلی اُصول کی نفی کرکے، کائنات کی کسی ادنٰی درجے کی مخلوق کی تائید بھی حاصل نہیں کرسکتا، چہ جائیکہ کہ وہ انسانوں میں قبول عام حاصل کرلے۔
اسلام کا تو سب سے بڑا دعوی انفرادیت ہی یہ ہے کہ یہ ”دینِ فطرت” ہے۔ اگر آپ اول و آخر اسلام کا مطالعہ کریں، تو یہ حقیقت بالکل واضح ہوجائے گی کہ یہ وہ مذہب ہے جو انسانی فطرت کے تمام جائز داعیات کا اثبات کرتا ہے اور ان کی تکمیل کے لیے بنیادی اخلاقی حدود و قیود کا ایک ضابطہ رکھتا ہے۔ ظلم اور جبر کے حوالے سے بھی اسلام مظلوم کی مزاحمت کے بنیادی فطری حق کا اثبات کرتاہے، ظالم اور مظلوم کے درمیان طاقت کے عدم توازن کو بھی بخوبی سمجھتا ہے لیکن اس عدم توازن کے باوجود مظلوم کا حقِ مزاحمت تسلیم کرتا ہے۔ اسی لیے تو ارشاد ہوا: ”کتنی ہی چھوٹی جماعتیں رہی ہیں، جو اللہ کے قانونِ صبر و استقامت سے بڑی جماعتوں پر غالب آگئیں، اور اللہ کی مدد تو ثابت قدم لوگوں کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔” پھر ظلم کے سامنے، لامتناہی صبرِ مطلق تو سر تا سر ظالم کی مدد ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ حکمت عملی کا تعین کیا جائے، سارے عوامل کو مدنظر رکھا جائے اور وہ راستہ اپنایا جائے جو سب سے زیادہ سود مند ہو۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب بھی کوئی قوم کسی جارح کے جبر کا شکار ہوئی، تو اس نے ایک گونہ مزاحمت کو روا رکھا اور بالآخر یہی مزاحمت اس کی نجات کا باعث بنی۔ قرآن ان الفاظ میں مظلوم کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے: ”ان لوگوں کو (جہاد کی) اجازت دے دی گئی ہے جن سے (ناحق) جنگ کی جا رہی ہے اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بےشک اﷲ ان کی مدد پر بڑا قادر ہے۔ (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اﷲ ہے۔”
دنیا کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی قوم نے ظلم اور سفاکیت کے چلن کے سامنے صبر اور خود سپردگی کا رویہ اپنایا ہو، اور بالآخر، جارح طاقت نے یا تو رحم کھا کر، یا اپنی ساری کی ساری قاہرانہ طاقت صرف کر کے اس کی جان بخشی کردی ہو۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب بھی کوئی قوم مزاحمت کی راہِ پرخار کا انتخاب کرتی ہے، تو یہ فیصلہ اس کے لیے ہر چند کوئی آسان فیصلہ نہیں ہوتا۔ بھلا ایک ایسی قوم سے زیادہ بہتر کون جانتا ہے کہ ہر راہ جو ادھر کو جاتی ہے، مقتل سے گزر کر جاتی ہے؟ وہ بخوبی جان چکی ہوتی ہے کہ سروں کی فصلیں کٹیں گی، خون مانند آب بہے گا اور مقتل سجیں گے۔ ظاہر ہے یہ سب جانتے ہوئے اگر ایک قوم کسی راہِ مغیلاں پر نکلتی ہے تو وہ اس سے پہلے بہت کچھ آزما چکی ہوتی ہے۔ بھلا کسے پڑی ہے کہ جو منزل کچھ سال جلسے اور جلوسوں کے اہتمام سے حاصل ہوسکے یا تحریر و تقریر اور سیاسی نشست و برخاست سے مل سکے، اس کے لیے سینے چھلنی کروائے، گردنیں کٹوائے اور لاشے اُٹھائے؟ اسی موضوع پر نوابزادہ نصراللہ خان علیہ الرحمہ کی دو لافانی سطریں:
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
کب کوئی بلا صرف دعائوں سے ٹلی ہے
استفادہ تحریر ڈاکٹر جمیل اصغر جامی و ڈاکٹر زاہد مغل صاحب

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *