غامدی صاحب کااپنابیانیہ کیا تھا؟

اسلام كے احكامِ جہاد ہمیشہ سے متجددین كے لیے سوہانِ روح بنے رہے ہیں، یہ لوگ اس كی تردید و انكار كے لیے بہت دور دور كی كوڑیاں لاتے رہے ہیں۔ بدلتے حالات كے ساتھ جدید اسلام كی جہادی تعبیرات بھی رنگ بدلتی رہی ہیں۔ لیكن اس معاملے میں جدید اسلام علمی دیانت كے اصولوں كی كیسی خلاف ورزی كا مرتكب ہوسكتا ہے اس كا اندازہ ہمیں اس وقت ہوا جب جاوید غامدی صاحب نے افغان جہاد كے بارے میں گفتگو كرتے ہوئے یہ ارشادات فرمائے۔ ایك سائل، ڈاكٹر الطاف قادر صاحب، نے مطالبہ كیا:’’جن لوگوں نے افغان جہاد كی سرپرستی كی، اور قبائلی علاقے كے لوگوں كو استعمال كیا، ان لوگوں كو سزا دی جائے۔‘‘اس پر جاوید احمد غامدی صاحب نے فرمایا:
“مجھے اِن سے سو فیصد اتفاق ہے۔ میرے نزدیك اصل جرم كا ارتكاب امریكہ نے كیا، اور پھر ہماری اُس وقت كی سٹیبلشمنٹ نے كیا۔ اُن كو كوئی حق نہیں تھا كہ وہ اس قسم كی پرائیویٹ آرمی بنائیں، اور مذہبی بنیاد پر لوگوں كو منظم كریں اور ان كے ذریعے سے جہاد فرمائیں – افغانستان میں بھی اور كشمیر میں بھی – دونوں جگہ یہ بنیادی غلطی كی گئی۔ میں نے اُس زمانے میں بھی بڑی شدت كے ساتھ اس كی طرف توجہ دلائی تھی، كہ ہم اپنے وجود میں بارود بھر رہے ہیں اور اپنی قبر كھود رہے ہیں۔ اور میں یہ بات درست سمجھتا ہوں كہ جن لوگوں نے اس طرح كی پالیسیاں بنائیں، ان كی مذمت كی جانی چاہیے۔ میں نے اپنے كانوں سے یہ سنا ہے كہ ہلیری كلنٹن نے كہا كہ [افغان جہاد میں] ہم سے غلطی ہوئی [اور] ہم نے سارے معاملے كو ایك دوسرے زاویے سے دیكھا۔ جو كچھ ڈاكٹر الطاف كہہ رہے ہیں، میں بھی یہی كہتا رہا ہوں۔ بجائے اس كے كہ ہم قبائلیوں كو جدید ریاست میں منظم كرتے، ہم نے انہیں اس كام كے لیے استعمال كیا۔ جنہوں نے یہ كام كیا وہ سر تا سر مجرم ہیں۔ میں ہمیشہ یہی كہتا رہا ہوں۔ (سماء ٹی وی، ’’غامدی كے ساتھ‘‘ ، 28 فروری 2014ء)
’’میں ہمیشہ یہی كہتا رہا ہوں‘‘ ،’’میں نے اُس زمانے میں بھی بڑی شدت كے ساتھ اس كی طرف توجہ دلائی تھی۔‘‘ کے جملے بتا رہے ہیں كہ ضرور كسی شے كی پردہ داری مطلوب ہے!۔ جواب دینے سے زیادہ مقرر كو اس بات كی فكر ہے كہ سامعین كو باور كرائے كہ: میں كبھی اس گناہ كا مرتكب نہیں ہوا۔ لہٰذا جن لوگوں نے یہ كام كیا وہ سر تا سر مجرم ہیں۔ میں نہیں ہوں!
اس حقیقت سے پردہ اٹھانے کے لیے جاوید غامدی صاحب کی ایک مطبوعہ تحریر پیش ہے، جو انہوں نے سنہ 1988ء میں صدر ضیاء الحق كو خراجِ تحسین پیش كرتے ہوئے لكھی تھی۔ ہم اس تحریر كو بتمام و كمال نقل كر رہے ہیں تاكہ غور و فكر كرنے والوں اور بعض سادہ لوح پاكستانیوں كو معلوم ہوجائے كہ جدید اسلام كے ’’بیانیے‘‘ سے كیا مراد ہے، اور جس ’’جوابی بیانیے‘‘ كے پیچھے اب جاوید غامدی صاحب كھڑے ہیں، وہ دراصل كس ’’بیانیے‘‘ كا جواب ہے اور اُن كے حالیہ بیانیے سے جو كچھ متبادر ہے، اس كے مقابل ان كا اصل ’’بیانیہ‘‘ كیا ہے! اس سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوجائے گا كہ پاكستان میں موجودہ ’’مذہبی انتہا پسندی‘‘ كی لہر كس پردہ نشیں كا ’’مولود فسانہ‘‘ ہے! غامدی صاحب كی تحریر پیش ہے:

٭شذرات٭
( جاوید احمد غامدی)
صدر جنرل محمد ضیاء الحق بھی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان كی وفات ہماری تاریخ كا ایك ناقابلِ فراموش سانحہ ہے۔ نفاذِ دین كے لیے جو حكمتِ عملی انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں اختیار كیے ركھی، مجھے اگرچہ اس سے سخت اختلاف تھا لیكن ابھی پچھلے ماہ میں نے جب ’’شریعت آرڈی نینس‘‘ كے نفاذ كے بعد ان كی حكمتِ عملی پر تنقید لكھی تو اس میں یہ بھی لكھا:
’’مجھے اس بات كا اعتراف كرنا چاہیے كہ بہرحال اس ملك كی تاریخ میں پہلے سربراہِ مملكت ہیں جنہوں نے اسلام كے ساتھ اپنے تعلق كو بغیر كسی معذرت كے پورے اعتماد كے ساتھ ظاہر كیا۔ اسے برملا اس مملكت كی اساس قرار دیا۔ اس كے بارے میں صاف صاف كہا كہ وہ جس طرح ہماری انفرادی زندگی كا دین ہے، اسی طرح ہماری ریاست كا بھی دین ہے۔ اپنی سربراہی كے پہلے دن سے اس كے نفاذ كے لیے كوشاں ہوئے۔ علماء اور اہلِ دین كے ساتھ بہت عقیدت مندانہ رویہ اختیار كیا۔ ہر قومی اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر، جہاں انہیں موقع ملا، وہ قرآن كی آیات پڑھتے اور اسلام پر اپنے غیرمتزلزل یقین كا اظہار كرتے نظر آئے، اور اس ملك میں جہاں اكثر اربابِ سیاست اب بھی اس حماقت میں مبتلا ہیں كہ مذہب انسان كا انفرادی معاملہ ہے اور ریاست كے معاملات سے اس كا كوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے وہ ہر جگہ اور موقع پر اس تصور كی بیخ كنی كرتے رہے۔‘‘
صدر صاحب كی وفات كے بعد اب اس ملك كے در و دیوار ان حقائق كا اعتراف كر رہے ہیں۔ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے كہ اسلام كا یہ بطلِ جلیل ہمارے دشمنوں كے انتقام ہی كا نشانہ بنا۔ اس كے مقابلے میں پے درپے ہزیمت اٹھانے كے بعد ان كے لیے كوئی دوسرا راستہ غالباً باقی بھی نہیں رہا تھا۔ لیكن انہیں شاید معلوم نہ تھا كہ اس طرح وہ اس قوم كی تاریخ میں ایك ایسا باب رقم كر رہے ہیں جو اس كے نصب العین كی تلاش میں اب ہمیشہ اس كے لیے منبع الہام بنا رہے گا۔ اقبال نے عالمگیر كے بارے میں كہا تھا:تركش ما را خدنگ آخریں ]یعنی اورنگ زیب عالمگیر ہمارے تركش كا آخری تیر تھا[
اس لحاظ سے دیكھیے تو محمد ضیاء الحق، فی الواقع اسلام كی نشاة ثانیہ كے اس دور میں ہمارے تركش كا پہلا تیر تھا۔ وہ جب تك زندہ رہے ہم نے ان سے اختلاف بھی كیا اور ان پر تنقید بھی كی، لیكن ان كی شہادت نے اب اس كے سوا كوئی احساس باقی نہیں رہنے دیا كہ:
یار در عہد شبابم بكنار آمد و رفت-ہمچو عیدے كہ در ایام بہار آمد و رفت
وہ كیا شخص تھا، بقول شبلی:
اس كے اخلاق كھٹك جاتے ہیں دل میں ہر بار
وہ شكر ریز تبسم، وہ متانت، وہ وقار
وہ وفا كیشیٴ احباب، وہ مردانہ شعار
وہ دل آویزیِ خُو ، وہ نگہٴ الفت بار
صحبتِ رنج بھی اِك لطف سے كٹ جاتی تھی
اس كی ابرو پہ شكن آ كے پلٹ جاتی تھی
یہ قوم ان كی ہر بات فراموش كر دے سكتی ہے، لیكن جہادِ افغانستان كے معاملے میں وہ جس طرح اپنے موقف پر جمے رہے اور جس پامردی اور استقامت كے ساتھ انہوں نے فرزندانِ لینن كے مقابلے میں حق كا علم بلند كیے ركھا، اسے اب زمانے كی گردشیں صبحِ نشور تك ہمارے حافظے سے محو نہ كر سكیں گی۔ میں جب فیصل مسجد كے بلند و بالا میناروں كے سائے میں ان كے مرقد كو دیكھتا ہوں تو مجھے بے اختیار اپنے وہ شعر یاد آ جاتے ہیں جو میں نے اب سے برسوں پہلے، غالباً 1973ء میں شہادت گاہ بالا كوٹ كی زیارت كے موقع پر كہے تھے:
فضا خموش، سوادِ فلك ہے تیرہ و تار
كہ لٹ گئی ہے كہیں آبروئے چرخِ بریں
نگاہِ قلب كے تاروں میں اختلالِ سرود
مرے وجود میں شاید مرا وجود نہیں
شروع وادیِ كاغان میں مقامِ جنوں
مقامِ حاصلِ انساں، مقامِ اِلّا ہُو
مری حیاتِ پریشاں كی رفعتوں كا مقام
مری قبائے دریدہ كی آرزوئے رفُو
یہی مقام ہے اس قافلہٴ حق كا مقام
گواہ جس كی شہادت پہ عصمتِ جبریل
مری نگاہِ تمنا كی جستجو كا كمال
نواحِ مشہدِ احمد ، مقامِ اسماعیل
میں اس مقام كے ذرّوں كو آسماں كہہ دوں
اور اپنی منزلِ فردا كے رازداں كہہ دوں
)جاوید احمد غامدی، ’’شذرات‘‘ ، ماہنامہ اشراق، جلد١، شمارہ١، ستمبر 1988ء، صفحات:6 تا 8(
جاوید غامدی صاحب كا یہ ’’بیانیہ‘‘ كس قدر چشم كشا ہے!!جس ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ كو جاوید غامدی صاحب آج ’’مجرم‘‘ قرار دے رہے ہیں، اُس وقت انہیں ’’امتِ مسلمہ كے تركش كا پہلا تیر‘‘ دكھائی دے رہی تھی اور آج کس اعتماد اوربے باكی سے یہ فرما رہے ہیں كہ ’’میں نے اُس وقت بھی شدت سے توجہ دلائی تھی كہ ہم اپنی قبر كھود رہے ہیں‘‘!!۔اس ’’منسوخ‘‘ بیانیے كا گہرا تعلق سنہ 2015ء كے ’’جوابی بیانیے‘‘ سے بھی ہے۔ ’’جوابی بیانیے‘‘ كا مركزی خیال یہ ہے كہ ’’ریاست كا كوئی دین نہیں ہوتا‘‘۔ لیكن یہ رفعت صدر ضیاء الحق كے عہد كی من جملہ بركات ہی سے ہوسكتی ہے كہ جاوید غامدی صاحب نے لكھا تھا كہ اسلام ’’جس طرح ہماری انفرادی زندگی كا دین ہے، اسی طرح ہماری ریاست كا بھی دین ہے‘‘۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا تھا كہ جو لوگ اسلام كو ’’ریاست‘
دین تسلیم نہیں كرتے (یعنی جو لوگ ضیاء الحق سے اختلاف كر رہے تھے)، وہ ’’حماقت میں مبتلا‘‘ ہیں!
اپنے حالیہ بیانیے میں جاوید غامدی صاحب فرماتے ہیں كہ مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی اور قتل و غارت كا عفریت ’’اسی مذہبی فكر كا مولود فسانہ ہے جو نفاذِ شریعت اور جہاد و قتال كے زیرِعنوان اور كفر، شرك، اور ارتداد كے استیصال كے لیے ہمارے مدرسوں میں پڑھا اور پڑھایا جا رہا ہے۔ انتہاپسند افراد اور تنظیمیں اسی سے الہام حاصل كرتی ہیں‘‘۔اور سماء ٹی وی کے اس پروگرام میں غامدی صاحب نے فرمایا كہ یہ مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی دراصل افغان جہاد كا ’’مولود فسانہ‘‘ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے كہ یہ مذہبی انتہا پسندی كہیں آسمان سے نازل نہیں ہوئی، نہ كسی مذہبی مدرسے سے اٹھی ہے، بلكہ یہ تو ’’امریكہ اور اس وقت كی اسٹیبلشمنٹ‘‘ كے جرائم كا نتیجہ ہے اور خود جاوید غامدی صاحب كی دینی صحافت كا ’’مولود فسانہ‘‘ ہے جس كی پیدائش سنہ 1988ء میں ہوئی تھی، جسے غامدی صاحب نے اپنے ہاتھ سے سیاسی اسلام كی گھٹّی پلائی تھی، جس كے عقیقے پر جاوید غامدی صاحب نے تہنیتی شاعری فرمائی تھی، اپنے قلم سے اس كی لے بڑھائی تھی، اور اس كی غیرمشروط تائید فرمائی تھی۔ اب وہ دہشت گردی عالمِ شباب كو پہنچی ہے تو غامدی صاحب اسے بھلانے كی كوشش فرما رہے ہیں۔ وہ كب تك امریكہ اور صدر ضیاء الحق كے ’’جرائم‘‘، اور اپنے صحافتی گناہوں كا بوجھ دینی مدارس پر لادتے رہیں گے؟

سوچ کا ارتقاء یا علمی بدیانتی؟
روایت یہ رہی ہے كہ اگر آپ سے كوئی سیاسی و علمی غلطی ہوئی ہو، جس كے نتیجے میں بقول خود یہ ملك ’’دہشت گردوں كی جنت‘‘ بن گیا، اور ’’ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں‘‘، تو اخلاق كا تقاضا یہ ہے كہ آپ اپنی غلطی كا اعتراف كریں اور قوم سے معذرت كریں۔ جنرل ضیاء الحق كی جہادی كارروائی كی اگر آپ نے علانیہ تائید كی تھی اور اس پر شعروں میں خراجِ تحسین پیش كیا تھا، تو كم از كم پاكیِ داماں كی حكایت كو اتنا نہ بڑھائیں اور بقول خود افغان جہاد كی وجہ سے جو خون آج بہہ رہا ہے، اس كی كم از كم جزوی ذمہ داری ہی قبول كریں!
آراء بدلنے كا اختیار ہر صاحبِ قلم كو ہے۔ لیكن اس میں اگر علمی دیانت داری كا لحاظ نہ ركھا جائے تو یادِماضی عذاب بن جاتی ہے۔ اوپر نقل ہوا ہے كہ گزشتہ سال جب ایك سائل نے مطالبہ كیا كہ: ’’جنہوں نے افغان جہاد كی سرپرستی كی اور قبائلی علاقے كے لوگوں كو استعمال كیا ان لوگوں كو سزا دی جائے‘‘۔ تو اس پر جاوید غامدی صاحب نے جواب دیا: ’’مجھے سو فیصد اتفاق ہے، وہ سر تا سر مجرم ہیں‘‘، اور مزید فرمایا كہ ’’میں نے اُس زمانے میں بھی شدت كے ساتھ اس طرف توجہ دلائی تھی‘‘۔ سنہ 1988ء میں اُن كی محولہ بالا تحریر سے واضح ہے كہ یہاں صداقت كا دامن ان كے ہاتھ سے چھوٹ گیا ہے۔ علمی دیانت كا تقاضا تھا كہ وہ یہ جواب دیتے:
’’میں بھی مجرم ہوں، میں نے اس وقت افغان جہاد كے سپہ سالار كو خراج تحسین پیش كیا تھا، اسے ملت اسلامیہ كے تركش كا پہلا تیر قرار دیا تھا، اور اس كے حق میں دینی فتاویٰ جاری كیے تھے، اور شرمندہ ہوں كہ فرطِ جذبات میں مجھ سے كچھ شاعری بھی سرزد ہوگئی تھی، چنانچہ اس اعتبار سے بالواسطہ افغان جہاد كی سرپرستی میں شریك تھا۔ مجھے صدر ضیاء الحق كی بعض باتوں سے اختلاف تھا، لیكن جہادِ افغانستان كو میں اُن كی ’’استقامت اور پامردی‘‘ كی روشن مثال سمجھتا تھا اور اس میں انہیں حق كا علمبردار سمجھتا تھا۔ اس كے نتیجے میں پیدا ہونے والی مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی كا ذمہ دار فقط اس وقت كے حكمران اور دینی مدارس نہیں ہیں، بلكہ میں بھی كسی حد تك اس كا ذمہ دار ہوں۔ یہ ’’دہشت گردی‘‘ فقط دینی مدارس ہی كا ’’مولود فسانہ‘‘ نہیں ہے، بلكہ میری مضطرب شاعری و صحافت كا ’’مولود فسانہ‘‘ بھی ہے۔ مجھ سے غلطی ہوئی تھی۔ میری رائے اب تبدیل ہوگئی ہے۔ اب میں اُس ’’جہاد‘‘ كو ایك جرم سمجھتا ہوں۔ میں شرمندہ ہوں اور قوم سے معذرت كرتا ہوں۔‘‘
لیكن اس كی بجائے، اپنی سابقہ تحریر كو یكسر نظرانداز كرتے ہوئے آن دی ریکارڈ یہ کہنا میں نے اُس وقت بھی كہا تھا كہ ’’ہم اپنی قبر كھود رہے ہیں‘‘ اور ’’اپنے وجود میں بارود بھر رہے ہیں‘‘ اور ’’میں ہمیشہ یہی كہتا رہا ہوں‘‘ کس قدر کھلا جھوٹ اور بددیانتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے كہ جاوید غامدی صاحب صدر ضیاء الحق كے زمانے میں اس كام كو ’’جہاد‘‘ سے تعبیر كر رہے تھے، اور نہ صرف انہوں نے صدر ضیاء الحق كے اس اقدام پر كسی نوع كی تنقید نہیں كی تھی، بلكہ انہیں خراجِ تحسین پیش كرتے رہے۔ بات تو رسوائی كی ہے، لیكن سچ یہ ہے كہ اس وقت فرطِ جذبات میں آں جناب نے سوز و درد میں ڈوبی كچھ شاعری بھی فرمائی تھی!
جاوید غامدی صاحب نے لكھا تھا كہ جنرل ضیاء الحق ’’اس قوم كی تاریخ میں ایك ایسا باب رقم كر رہے ہیں جو اس كے نصب العین كی تلاش میں اب ہمیشہ اُس كے لیے منبعِ الہام بنا رہے گا‘‘، لیكن سماء ٹی وی پر ان كی گفتگو سے معلوم ہوا كہ ’’ہمیشہ‘‘ كہاں، دس بارہ برس ہی میں یہ الہام، مغرب كی ’’وحیِ خفی‘‘ سے، منسوخ ہوگیا، اور ’’صاحبِ الہام‘‘ ایك قابلِ مذمت مجرم قرار پایا۔ تاریخ میں كسی ’’منبعِ الہام‘‘ كی ایسی رسوائی كم ہی ہوئی ہوگی۔ كیا جدید اسلام كے نزدیك ’’الہام‘‘ بھی اشیائے صرف كی نوعیت كی چیز ہوتی ہے؟ اور دینی آراء بھی؟ اپنی سابقہ دینی آراء كو مستور ركھنے كی اس كوشش میں دین كی كون سی مصلحت پوشیدہ ہے؟جاوید غامدی صاحب نے جن مجاہدین كو ’’قافلہٴ حق‘‘ قرار دیا تھا، اب انہی مجاہدین كی مذمت میں كلامِ بلیغ جاری ہوا۔ فرماتے ہیں: ’’جن لوگوں نے اس طرح كی پالیسیاں بنائیں ان كی مذمت كی جانی چاہیے‘‘۔

جب افغانستان میں درآنےوالی روسی افواج كےخلاف جہاد میں مغربی قوتوں کو بھی اپنا مفاد نظر آیا اور انکو فتوی کی ضرورت پڑی تو جاویدغامدی صاحب بھی اس ’’بطل ِجلیل‘‘كی ’’امامت‘‘میں جہادكےثناخواں تھے۔ آج جب مغربی قوتوں كےخلاف افغان مزاحمت كاسوال اٹھاہے،تووہ سب لوگ ’’مجرم‘‘قرارپائےہیں۔! اُس وقت افغان حریت پسندوں كی تلوار روسی افواج كی گردن پر تھی تو وہ ‘قافلہ حق ‘تھے دس بارہ برس بعد جاوید غامدی صاحب نے دیكھا كہ اب حریت پسند افغانوں كی نوكِ شمشیر، ’’فرزندانِ لینن‘‘ كی بجائے امریكی اور یوروپی افواج كے سینے میں پیوست ہے۔ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون اب كچھ اور كہہ رہے تھے: اب یہی مجاہدین ’’دہشت گرد‘‘ قرار پائے ۔ جدید اسلام كے فتاویٰ كی صنعت، اور جدیدیت كی mass production كی صنعت كے مابین فقط یہی مناسبت روُبعمل نہیں ہےاب حفظ و نسیاں بھی اسی پیداواری نظام كے طلسم میں گم ہیں۔ چنانچہ جس جہاد كے بارے میں جاوید غامدی صاحب كا خیال تھا كہ اسے ’’زمانے كی گردشیں صبحِ نشور تك ان كے حافظے سے محو نہ كرسكیں گی‘‘ وہ دس بارہ سالوں میں ہی غامدی صاحب كے حافظے سے محو ہوگیا۔
اس مرتبہ قرآن و حدیث كی كچھ اور ’’نصوص‘‘ كام میں لائی گئی ہوں گی، لیكن ان نَو دریافت شدہ ’’نصوص‘‘ كا اثر بالكل متضاد ہے۔ قرآن و حدیث كی ان ’’نصوص‘‘ میں ایك اور ’’كرامت‘‘ بھی ہے۔ یہ ’’نصوص‘‘ خواہ نئی ہوں یا پرانی، اور یہ متجددین اُن كے ذریعے، ایك ہی شے كو، خواہ كبھی ’’جہاد‘‘ اور كبھی ’’دہشت گردی‘‘ قرار دیں، لیكن بہرصورت مغربی قوتیں ہی برسر حق قرار پاتی ہیں! جدید اسلام كی دینی تعبیرات اور اجتہادات ہمیشہ جدیدیت كے حق میں ہی پڑتے ہیں۔ جدید اسلام كی ’’جدیدیت‘‘ كا اس سے بڑھ كر كیا ثبوت ہوگا كہ وہ تیزی سے بدلتے ہوئے زمانے كے ساتھ، نصوص كی تعبیرات بھی بدلتا رہتا ہے!
ہمارے متجددین كی ’’علمی دیانت‘‘ كے اس المناك واقعے سے اس امر كی مزید شہادت ملتی ہے كہ ’’جدید اسلام‘‘ كا قرآن و سنت كی نصوص سے تعلق ایك instrumental جہت ركھتا ہے۔ ماڈرن اسلام فی الواقع حالات كے تابع ہے، اور زمانے اور قوت سے سازگاری پیدا كرنا اس كی سرشت میں ہے كہ اس نے غلامی كی گود میں آنكھ كھولی اور جدیدیت كے ہاتھوں میں پل كر جوان ہوا۔ اس كے ’’علوم‘‘ بے روح كٹھ پتلیاں ہیں اور ان كی ڈور جدید قوت كے ہاتھ میں ہے۔ اس فكر كی تہہ میں ارادہ كم اور زمانے كا جبر زیادہ فعال ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دینی و ملّی معاملات كو ان متجددین كے ہاتھوں میں دینے كے نتائج كس قدر ہولناك ہوسكتے ہیں۔!

٭تشددپسندی، جہاد افغانستان اور خورشید ندیم صاحب:
غامدی صاحب کے حلقے کے سند یافتہ صحافی خورشیدندیم صاحب اپنے ایک کالم میں لكھتےہیں:
’’مذہبی تشدد پسندی اُس بیانیے كا منطقی نتیجہ تھا جو جنرل ضیاء الحق مرحوم سے منسوب ہے۔ جب ریاست خود مذہب كے نام پر گروہوں كو مسلح كرتی ہے تو پھر وہی كچھ ہوتا ہے جو ہوا۔‘‘ (كالم ’’فوج اور اہلِ سیاست‘‘، روزنامہ دنیا، مورخہ 16 مارچ، سنہ 2015ء)
خورشید ندیم صاحب كے كئی كالم ’’سماج‘‘ كے اخلاقی زوال كے مرثیے پر مبنی ہوتے ہیں، اور سماج كی اصلاح كی ذمہ داری سے بوجھے ہوتے ہیں۔ مذہبی تشدد پر تو اپنا صحافتی قلم تیز كرتے انہیں ایك زمانہ ہوگیا ہے۔ اہلِ مذہب كی اصلاح كا جذبہ بھی ان كے لفظ لفظ میں موجزن ہے۔ لیكن صحافت كی اخلاقی اصلاح اس واعظانہ پراجیكٹ كا حصہ نہیں ہے۔ صحافت كو اصلاح سے مستثنیٰ ركھنے كا جواز بھی ہےکہ كارپوریٹ صحافت كی اپنی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں، یہ ہمیشہ قوت كے تابع ہوتی ہے۔ صحافت غالب episteme، اور ریاستی قوت كے قران (intersection) كی دربان ہوا كرتی ہے۔ چنانچہ وہ بھی اسی بہاؤ میں بہتی ہے جس میں مصنوع نظریات بہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے كہ خورشید ندیم شاید اس كی قدرت نہیں ركھتے كہ پوری بات بیان كریں۔
یہ جدید صحافت كا رضاكارانہ سنسر ہی ہے کہ جو ’’بیانیہ‘‘ مبینہ طور پر پاكستان میں مذہبی انتہا پسندی اور تشدد كا سبب بنا ہے، اس كے مصنفین میں خورشید ندیم كے استاد جاوید غامدی بھی شامل ہیں، لیكن خورشید ندیم كی صحافیانہ تحریریں اس معاملے میں Journalistic Amnesia كا شكار ہیں، چنانچہ جاوید غامدی صاحب كا ’’افغان جہاد‘‘ سے قدیم تعلق خورشید ندیم كا blind spot بن كے رہ گیا ہے۔ نصابی كتابوں میں مرقوم ’’پیشہ ورانہ صحافتی اخلاقیات‘‘ كے قواعد و ضوابط بھی اسی blind spot كے اندھیرے میں گم ہیں ورنہ وہ كبھی تو لكھتے كہ ان كے استاد نے افغان جہاد كی سعادت كی وجہ سے صدر ضیاء الحق كو ’’امتِ مسلمہ كے تركش كا پہلا تیر‘‘ قرار دیا تھا، اور ’’قافلہٴ حق‘‘ كا معزز لقب دیا تھا! كبھی تو ’’فكرِ فراہی‘‘ كے “new religious cult” كی عصبیت سے بلند ہوتے، اور صدر ضیاء الحق كے خلاف قراردادِ جرم مرتب كرتے وقت اپنے ’’استاذ امام‘‘ كے لیے بھی دو لفظ لكھتے، اور ’’مذہبی تشدد‘‘ كے فروغ میں جاوید غامدی صاحب كے تاریخی كردار پر بھی كچھ روشنی ڈالتے، اور بتاتے كہ ’’مذہبی تشدد پسندی اس بیانیے كا نتیجہ تھا جو جاوید غامدی سے منسوب ہے‘‘! كبھی تو كہتے كہ یہ ’’مذہبی تشدد‘‘ ان كے اپنے استاد كا ’’مولود فسانہ‘‘ ہے! لیكن قوت كی حركیات، جبر كے تماشے، اور كارپوریٹ جنت میں منصور جیسی ہمت كے بغیریہ حق گوئی بھلا کہاں ممكن ہے؟
استفادہ تحریر ‘صدر ضیاء الحق، افغان جہاد اور غامدی صاحب کا بیانیہ از نادرعقیل انصاری ، سہ ماہی جی

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *