داستان ابراھیمؑ سے میں نے کیا سمجھا؟

ایک ایسا انسان ہونے کے ناتے جو خدا سے اپنے تعلق کی الجھنوں میں گھرا ہے، میں نے قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے خانوادے کی داستان کی بکھری کڑیوں کو ملا کر دیکھا ہے. سمجھنے کے لیے کہ خدا اپنے بندوں سے کیا چاہتا ہے.
اور مجھے علم ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان انسانوں میں سے ہیں جن کے لیے اللہ نے سب سے بڑھ کر محبت اور ناز کا اظہار فرمایا. اور ابراہیم علیہ السلام کی ساری کی ساری زندگی قربانی سے عبارت تھی. جس کو سچا مان لیا، جس سےمحبت کی، اس سچائی کے لیے اپنی ساری زندگی تج دی.
میں ٹھٹھک کر رک رک جاتی ہوں، جب دوران کلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ آتے ہی خدائی لہجے میں شیرینی، محبت اور ناز گھل جاتا ہے. مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح حج جیسی عظیم عبادت جو دین کا ایک بنیادی رکن ہے، کا ہر ہر پہلو خدا کی اس خانوادے سے محبت کی علامت بن جاتا ہے. حج جو اپنے محبوب کے لیے بےقرار انسان کے جذبوں کی تسکین کا موقع فراہم کرتا ہے، کچھ دیوانوں کی محبت کی یادگار ہی تو ہے.
میں چہرے پہ سجی آنکھیں بند کر کے، دل کی آنکھوں سے تصور کرتی ہوں، اور کئی ہزار برس قبل کی دنیا میں پہنچ جاتی ہوں.
انسانی تاریخ کی ترقی یافتہ اور طاقت ور ترین تہذیب کے ایک انتہائی مقدس اور اعلی خاندان میں آنکھ کھولنے والے اس نوجوان کی تربیت یقینا رائج زمانہ کے لحاظ سے بہترین طریقوں پر کی گئی ہوگی. مشرکانہ معاشروں میں برہمنیت کو بادشاہوں جیسا مرتبہ ملتا ہے. اور ان کے تعلقات شاہی خاندان سے تھے. حضرت سارہ، اپنے وقت کی شہزادی تھیں. اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کو اپنے زمانے کے علوم و فنون کی بہترین تعلیم دی گئی ہوگی، کہ وہ آگے چل کر باپ کی گدی سنبھالیں گے. کتنے ہی نوجوان، غرباء، دینے اور سر پھرے، مذہبی شعائر کی توہین کرتے ہیں. ابراہیم علیہ السلام کی ذات میں ایسا کیا تھا، کہ کسی عامی کی طرح سزا دے کر، یا زندان میں اذیت ناک سزائیں دے کر ان کے قصے کو پاک نہیں کیا جاسکا، بلکہ اپنے وقت کا طاقتور ترین حکمران متوجہ ہونے پر مجبور ہوا. یقینا یہ ان کی شاندار شخصیت اور ان کی پکار کی عظمت ہوگی جس نے نمرود کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا، اور ساری قوم کی آنکھوں کے سامنے عظیم الشان الاؤ میں بھسم کر دینے کی سزا کا ارادہ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ دبائی جانے والی آواز کس قدر طاقتور اور کس قدر اثر انگیز تھی.
ابراہیم علیہ السلام اپنی بیگم اور بھتیجے کو لے کر قدیم بابل (عراق) سے نکل گئے. یہ معمول کی نقل مکانی نہیں تھی. opportunities کا ایک جہاں تھا جس کا دروازہ انھوں نے اپنے لیے بند کر دیا تھا. وہ کیرئیر، وہ سماجی مرتبہ، وہ شان و شوکت، وہ ہٹو بچو کی آوازیں، وہ محلات، وہ عقیدت مندوں کے بوسے، وہ چڑھاوے، وہ شاہوں کی عنایات جس کے لیے ہر انسان ساری زندگی تگ و دو کرتا ہے، یہ اللہ کا دیوانہ، یہ وقت کے جبر اور جہالتوں کا باغی، ان سب کو ٹھکرا کر اپنی اہلیہ اور اپنے بھتیجے کا ہاتھ تھام کر بابل سے نکل گیا.
مولانا مودودی تفہیم القرآن میں رقمطراز ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کی کا نبوی مشن عالمی تھا. وہ کسی ایک علاقے کے لیے نہیں بھیجے گئے تھے. اسی لیے جب ہم بابل سے نکلنے کے بعد ان کے اسفار کے نقشے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس عالمی مشن کی تکمیل کے لیے انہوں نے اپنے بھتیجے، حضرت لوط علیہ السلام کو سدوم اور گمورہ کی طرف بھیجا، جو اپنے وقت کی ایک اور ترقی یافتہ اور خوشحال مملکت تھی، اور خود مصر تشریف لے گئے، وہاں سے اپنے خاندان کے ایک حصے کو صحرائے عرب کی ایک بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑا، اور ایک دوسرے حصے کو لے کر فلسطین میں سکونت پذیر ہوئے. قدیم تاریخ میں یہی خطّے انسانی تمدن کا مرکز بنتے نظر آتے ہیں.
یہاں ایک خوبصورت احساس ہوتا ہے. نبوت کے اس زبردست اور انٹرنیشل کام کی تکمیل کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام ساری ٹیم اپنے گھر سے تیار کرتے ہیں. اپنا بھتیجا، اپنی بیگمات اور اپنے چھوٹے چھوٹے بچے.
اس کہانی کا ایک دلگداز اور پراثر ترین موڑ وہ ہے کہ جہاں میں دیکھتی ہوں کہ ایک باپ اپنی نوجوان بیوی اور اس کے شیر خوار بچے کو لے کر چلا جاتا ہے. سفر لمبا ہے، اور صحرا سے گزرتے ایک خشک علاقے میں سانس لینے کو ٹھہرتے ہیں. یہ ایسا ہی ہے، جسے بین الصوبائی شاہراہ پر سفر کرتے، ایک تھکا ماندہ خاندان کسی غیر آباد علاقے میں کچھ کھانے پینے اور سستانے کے لیے رکتا ہے، جب سامان سمیٹ کر دوبارہ سفر کا ارادہ کرتے ہیں، تو یکایک شوہر کہتا ہے کہ تم اب یہیں رکوگی اس بچے کے ساتھ، اور میں آگے جاتا ہوں. میں نے آنکھیں بند کر کے تصور کیا تھا، سسکچوان کے راستے پر ان پتھریلے ٹیلوں کے بیچ جن کی تنہائی سے میرا دل ہول رہا تھا، یکایک صاحب گاڑی روک کر عرض کریں، کہ آپ یہاں اتر جائیے، ننھے ابراہیم کو لے کر تو میں کیا کہوں گی؟
وہ کمزور لڑکی بھی گود میں بچہ سنبھالے پیچھے دوڑی کہ آپ کس کے سہارے چھوڑے جاتے ہیں؟ دیوانوں کا وہ کیسا خاندان تھا، اس کے قدموں کو جس ہاں نے روک دیا، وہ اس بات کی تائید میں تھی کہ سچے رب کے حکم پر تم کو چھوڑے جاتا ہوں، جو حکیم و علیم ہے، اور احسان شناس بھی.
باپ کا دل پتھر کا نہ تھا. اس نے تو پیچھے مر کر یوں نہ دیکھا تھا کہ مبادا پیچھے دیکھا تو پتھر کا ہو جاؤں. مگر ادھر پہنچے جدھر سے بے قرار بیوی اور معصوم بچہ نظر نہ آتے تھے، تو بے قرار ہو کر سچے رب کے سامنے ہاتھ پھیلا دیے.
“اے اللہ! میں اس وادی غیر ذی ذرع میں اپنے خاندان کو آباد کرتا ہوں.”
اس کمزور لڑکی کے اپنے بچے کی محبت میں دو پہاڑیوں کے بیچ گردش کرنے کا واقعہ میرا دل بھینچ دیتا ہے.
اور پھر کہانی کا ایک اور نازک موڑ اس وقت اتا ہے، جب صحرا کی سختیوں میں وہ ماں سچے رب کی رحمت سے اپنے بچے کو پالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے. وہ دوڑنے بھاگنے کے قابل ہو جاتا ہے. ماں سے کہتا ہوگا کہ میں آپ کا سہارا بنوں گا. دونوں ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے. رات کو جب وہ میٹھی نیند سوتا ہوگا، تو یہ اس کے چہرے کو تکتے صحرا کی وہ تپتی دوپہر یاد کرتی ہوگی، جب اس کی ننھی جان کو پیاس کے ہاتھوں جاں بلب دیکھ کر وہ بھاگتی تھی کہ شام تک اس کو زندہ دیکھ سکوں گی یا صحرا میں اکیلے اس کی قبر کھودوں گی؟ اور آج اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر مسکراتی ہوگی، کہ دیکھوں تو ذرا اس کی انگلیاں میرے ہاتھوں سے لمبی ہوتی جاتی ہیں. ایک “سنگل مام” کی طرح زندگی بتانے والی کی جان اپنے اکلوتے لخت جگر میں نہ ہوگی کیا؟
پھر ایسے میں باپ کتنی امیدیں اور خوف لیے بیابان میں اپنے پیاروں سے ملنے آتا ہے. ہر قدم پر سوچتا ہوگا کہ اس بیاباں میں دو قبریں بنانے کا موقع کسی کو مل سکا ہوگا. یا زندگی انھیں کہیں اور لے گئی ہوگی. اور پھر وہ موڑ مڑتے ہی اپنی بیوی کا ہاتھ بٹاتا ایک خوبصورت اونچا لمبا لڑکا دیکھ کر ان کا دل دھڑکنا نہ بھولا ہوگا؟
اور جب راحتوں کے چند لمحے گزارتے اچانک ہی اس دل شق کر دینے والے خواب کا تذکرہ اس بچے سے کرتے ہیں، تو اس کے جواب سے بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے؟ اس ماں نے کس سکول، کس یونیورسٹی، کس مدرسے سے اسے پڑھوایا تھا، راتوں کو کون سی لوریاں سنائی تھیں؟ وہ ڈرتا ہوگا، خفا ہوتا ہوگا، تو کیا باتیں کی ہوں گی؟ چھوڑ کر چلے جانے والے باپ اور اس کے مقصد کا کیا نقشہ اس کے معصوم ذہن میں بٹھایا ہوگا؟ کہ وہ سر اور نظریں جھکا کر دھیمے سے کہہ دیتا ہے، “ابا جان! آپ مجھے فرمانبرداروں میں سے پائیں گے.!”
میں سوچتی ہوں، کہ مجھے علم ہو جائے تو میں بھی اپنے بچے کو اسی سکول، اسی یونیورسٹی میں داخلہ دلا دوں، وہی کورسز کروا دوں. کیا بی بی ہاجرہ نے پیرنٹنگ کی کوئی ورکشاپ، کوئی عملی نکات نہیں چھوڑے، کوئی کتاب ہی لکھی ہو کہ میں بھی پڑھ لوں.
یہاں رک کر میں سوچتی ہوں. کہ خدا انسان سے کیا چاہتا ہے؟ وہ پے در پے اتنی عظیم قربانیوں کا مطالبہ کیوں کرتا رہا، اور تسلیم و رضا کا پیکر یہ خاندان اس کے آگے سر تسلیم کے ساتھ خم کرتا رہا؟
یہاں مجھے کچھ باتیں سمجھ آئیں.
1 – ہم سب خدا کی بڑی سکیم کا حصہ ہوتے ہیں. ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے لیے کچھ کرتے ہیں، اپنے لیے نقل مکانی کرتے ہیں، اپنے لیے بھاگتے دوڑتے ہیں، اپنی زندگی بنانے کے لیے تگ و دو کرتے ہیں. مگر سچے قصص ہمیں سمجھاتے ہیں کہ خدا مستقبل کی نقشہ گری کر رہا ہوتا ہے. اور اگر انسان اس پر توکل کر لے تو اسے وہ اطمینان حاصل ہو جاتا ہے کہ خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا.
2 – خدا کو ہم سے ہماری عزیز چیزیں چاہیے نہیں ہوتیں. وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ ہم اس کی خاطر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں یا نہیں، اور جب ہم تیار ہوتے ہیں تو وہ وہ ہمیں دنیا و آخرت میں نفع کے ساتھ وہ چیز لوٹا دیتا ہے.
ابراہیم علیہ السلام نے دجلہ و فرات کی وادیاں چھوڑیں، تو خدا نے ان کا نام رہتی دنیا تک کے لیے زندہ کر دیا. آج تک دنیا میں سب سے زیادہ ماننے والے ان کے ہی ہیں.
وہ آگ میں کودے تو بھسم نہ ہوئے، انہوں نے چھری چلائی تو بچے کے حلقوم پر خراش تک نہ آئی، بیاباں میں ان کے پیارے پھلتے پھولتے رہے. اور انسانوں کے لیے آہنی ارادوں، سچے عشق اور مادی کثافتوں سے بلند انسانی عظمت کی داستانیں رقم ہوتی رہیں.
بی بی ہاجرہ دوڑیں تو رب نے مسکرا کر فرمایا،
“تم سمجھتی ہو کہ تم اپنے بچے کے لیے دوڑتی ہو؟ ہم تمہیں اس لیے دوڑاتے ہیں، کہ کچھ برسوں بعد کروڑوں لاکھوں دیوانے ایک عورت اور ایک ماں کے نقش ہائے قدم پر دوڑا کریں.
تم سمجھتی ہو کہ تم کو بیاباں میں بسایا تو اس لیے کہ تم کو سختیوں میں مبتلا دیکھنا ہم کو مرغوب ہے؟ ہم تو ایک کمزور لڑکی اور اس کے نومولود بچے سے وہ کام لیں گے جو رہتی دنیا کے لیے احسان ہوگا. تم اس رحمۃ اللعا لمین کے لیے بستی بساؤ گی، جو انسانوں کے لیے ذریعہ نجات بن کر آئے گا.”
مجھے لگتا ہے کہ میرا رب آسمانوں کی بلندیوں سے بڑے پیار سے مسکرا کر اس خاندان کو دیکھتا ہوگا. وہ جو محسنین کا قدر دان ہے.
اس بے آب و گیاہ وادی میں خدا کا گھر بسا، نور و ہدایت کے زمزمے بہے، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے قرار کی بعثت ہوئی صلی اللہ علیہ و سلم، پہاڑ کے غار میں خدا کا نور چمکا اور دنیا کو غموں کا مداوا اور زندگی گزرانے کا سچا طریقہ عنایت ہوا. عشق و محبت کی عظیم داستانیں اسی خطے سے پھوٹیں.
اور آج جب عشاق کے قافلے سر سے کفن باندھے دیوانہ وار کوئے جاناں کا طواف کرتے ہیں، آستانہ یار پر آنکھیں رگڑتے ہیں، دلوں کا چین کشید کرتے ہیں، مقبول دعاؤں سے دامن بھر بھر کر لاتے ہیں، تو احسان شناس خدا اپنے دیوانوں کو یاد رکھتا ہے.
اس کا وعدہ سچا ہے، اس کی پلاننگ پر حکمت ہے، جو اس کے مشن کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں ، ان کا اجر وہ ضائع نہیں کرتا.
وہ انسانوں کو احساس دلانا چاہتا ہے کہ اس عظیم الشان کائنات کے سامنے تمھارے بظاھر کمزور وجود کے اندر کس قدر بے پناہ طاقت پوشیدہ ہے. خدا کے عرفان اور اس کی رضا کی جستجو کا سفر دراصل عرفان ذات کا سفر ہے. انسانوں میں چھپے بے پناہ پوٹینشل کی بازیافت کا.
خدا کی محبتوں میں سب کا حصہ ہے، عورت کا، مرد کا، بچوں کا، نوجوانوں کا، کمزوروں کا، بزرگوں کا، تنہا مسافروں کا.
عشاق کے قافلے رجز کہتے کوئے جاناں کو رواں دواں ہیں، اور میں محبت کی داستان رقم کرنے والے اس عظیم خاندان کو یاد کر رہی ہوں، جو عدم سے لاکھوں لوگوں کو وادی غیر ذی ذرع میں خیمے لگائے، طواف کرتے، کھاتے پیتے، رکوع و سجود کرتے، مناجاتیں کرتے اور بے فکری سے قہقہے لگاتے دیکھتے مسکراتا ہوگا.
میرے ماں باپ ان پر قربان، میری جان ان پر فدا، رب کی بےشمار رحمتیں اور عنایات ان پر.
تحریر جویریہ سعید

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *