جدیدبیانیےاورعلماء کے کرنےکےکام

حق یہ ہے کہ ہردو بیانیہ(تکفیری اورجوابی بیانیہ)کے رد میں ہم (اسلامی سیکٹر) سے بہت تاخیر اور تقصیر ہوئی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ کہ اسلامی سیکٹر اس وقت دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ اس سے برا وقت دینی طبقوں پر اس سے پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ اِس ’جوابی بیانیہ‘ کے آڑے آنے کا بھی صحیح طریقہ یہی تھا کہ ’تکفیری بیانیہ‘ کے راستے کی سب سے بڑی دیوار بن کر یہاں اسلامی سیکٹر ہی سامنے آتا اور وہ بھی ایک ایسی خوش اسلوبی سےکہ نوجوانوں کی اتنی تعداد ’تکفیر‘ کی جانب لڑھکنے ہی نہ پاتی۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے یہاں تکفیری بیانیہ کا علمی رد ہی مفقود تھا۔ اور جو تھا وہ نادانستہ ’جوابی بیانیہ‘ کے ہاتھ مضبوط کر رہا تھا۔ یہاں اِس تکفیری ڈسکورس سے آگہی بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ اور اس کا رد کرنے کےلیے اصولِ اہل سنت سے مدد لینے کی بھی کوئی خاطرخواہ کوشش سامنے نہیں آئی۔ ہاں اصولِ اہل سنت سے مدد لیے بغیر اس کے ردّ کی جو کچھ مخلصانہ کوششیں ہوئیں وہ ’جوابی بیانیہ‘ کےلیے ایک گونا خلا بھی پیدا کر گئیں۔
اور یہ تو واضح ہے کہ ’جوابی بیانیہ‘ (غامدی/لبرل) اس ’تکفیری بیانیہ‘ کے رد کےلیےنہیں آیا بلکہ ’تکفیری بیانیہ‘ کی پیداکردہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کےلیے آیا ہے۔ دوسریجانب وہ ’تکفیری بیانیہ‘ بھی اس ’جوابی بیانیہ‘ (لبرل/مدخلی/غامدی بیانیہ) کا رد نہیں کرتا بلکہ اس کی پیداکردہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ غرض یہ دونوں ایک دوسرے کےلیےایک طرح سے گنجائش space اور جواز justification پیدا کررہے ہیں۔ یہ اُس کے دم سے اپنی پزیرائی کروا رہا ہے اور وہ اِس کے دم سے۔ اور آگے چین ری ایکشن chain re-action کا ایک سلسلہ چل نکلتا ہے۔ اس کا حل ایک ہے اور بہت سادہ: یہاں مین اسٹریم (کلاسیکل) دینی طبقوں کا بیانیہ آنا چاہئے جو ’تکفیری بیانیہ‘ اور ’جوابی بیانیہ‘ دونوں کو ’’دین‘‘ کے موضوع پر بےدخل کر دے؛ اور ان دونوں ہی کے پیداکردہ خلجان سے قوم کو نکالے۔ (جبکہ فی الوقت تو ’مائک‘ ہی اِن دو کے پاس ہے)۔
مین اسٹریم دینی طبقوں کا بیانیہ narrative، جس میں ’تکفیری بیانیہ‘ اور ’لبرل بیانیہ‘ دونوں سے قوم کو خلاصی دلائی گئی ہو، اور جس کے اندر علمائےسنت کا علم، ان کی دلیل اور ان کی یکجہتی بول رہی ہو، اور جس کی پشت پر کلاسیکل اسلام کی قوت ہو، اور جو یہاں فریقین کے پیداکردہ ایک ایک اشکال کا جچاتلا جواب دیتا ہو (قائل کرنے کی ضرورت نہیں، جواب ضرور دیتا ہو).. ہم اس کو ’’اہل سنت بیانیہ‘‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ بہت دیر پہلے ضروری تھا۔ اس کا سامنے نہ آنا اصل خلا ہے۔ حق یہ ہے کہ مذکورہ دونوں بیانیے اِس ’’خلا‘‘ ہی کا نام ہے۔
پس مین اسٹریم علمائےسنت کا بیانیہ وہ واحد چیز ہے جو اِس ڈیڈلاک کو ختم کروا سکتی تھی۔ شاید اب بھی بہت کچھ کر سکے۔ اس کی غیرموجودگی میں البتہ وہ دونوں بیانیے ایک دوسرے کی پیداکردہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ یعنی اسلامی ایجنڈا کا اور سے اور نقصان کرواتے اور صورتحال کو کسی بند تاریک گلی کی طرف دھکیلتے جائیں گے۔اس ملک میں دین کا مفاد میرے لیے ہر چیز پر مقدم نہ ہوتا تو اس بات پر توجہ دلانے کی کوشش نہ کرتا کہ:
حالیہ منظرنامے میں روزبروز جو ایک گھمبیر اور تشویش ناک صورت پیدا ہو رہی ہے، وہ ہر دو فریق (شدت پسند اور جدت پسند) کو کلاسیکل اسلام والوں پر یہ ’ثابت‘ کرنے کا موقع دے رہی ہے کہ’دیکھا ہم نہ کہتے تھے‘:
1) ملک میں امن و امان کی جو بدترین صورتحال ہو چکی، یہاں تک کہ اِس ’بہتی گنگا‘میں بہت سی عالمی ایجنسیاں آ آ ہاتھ دھونے لگیں (یہ ظاہر کا نقشہ ہے، حقیقت میں وہ کب سے ہیں اور کس سطح تک ہیں، اللہ کے علم میں ہے)۔ اور خدانخواستہ ملک کی سالمیت کےلیے خطرے کھڑے ہو چکے… یہاں جدت پسند اپنی نورتن سفارشات کی لسٹ لے کر اور سے اور وثوق سے بولنے لگے: دیکھا، ہم کب سے کہہ رہے تھے! اب اور کتنی دیر لگاؤ گے ہمارا بیانیہ قبول کرنے میں؟! یعنی بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؛ یہ مریض (کلاسیکل اسلام کو ماننے والے جو محض اپنی خاموشی کے باعث اس صورتحال کی آنچ سہہ رہے ہیں) کب تک اِس حجام کے ’دینِ اکبری‘ والے نشتر سے بچے گا؛ آخر تو قابو آئے گا!
2) دینی طبقوں کی اپنی خاموشی اور اپنے معاملات کو ہاتھ میں نہ لینے، اور غیرذمہ دار عناصر کو دین کی نمائندگی کرنے کےلیے چھوڑ رکھنے کے باعث، دینی طبقے دیوار کے ساتھ لگ گئے۔ الہدیٰ اور تبلیغی جماعت تک کےلیے مسائل سر اٹھانے لگے۔بہت سے دینی پروگرام اور ادارے بےوجہ مصائب میں گھِر گئے۔ یہاں تک کہ ایسی جماعتیں جو اس ملک میں اول روز سے نہ صرف پرامن رہی ہیں بلکہ حالیہ خونریزی و بدامنی سے نوجوانوں کو دُور رکھنے کے معاملہ میں ایک فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں، خود یہ جماعتیں لبرلز کے کٹہرے میں کھڑی کر لی جانے لگیں اور وہ اِن کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے۔ ’دھاڑی‘ ایک تشویش کی علامت بننے لگی۔ اِس بدامنی اور افراتفری کے نتیجے میں محض شک کی بنا پر جیلوں میں بند یا لاپتہ افراد اندازے سے باہر ہیں۔ ’رائٹسٹ ونگ‘ کا ووٹ لے کر آنے والی حکومت یہاں کے مٹھی بھر لبرلز کے نخرے اٹھانے میں خاصی آگے تک چلی گئی، اور اغلباً اس کو اپنی بقاء کا سوال جاننے لگی… یہاں شدت پسند اپنے اُسی بےرحم غیرذمہ دار بیانیہ کے ساتھ اور سے اور وثوق سے بولنے لگے: دیکھا اب خود تمہارے ساتھ کیا ہونے لگا، کیا اب بھی کوئی شک ہے کہ ہم نے بالکل ایک صحیح راستہ چنا تھا! کیوں نہ تم نے اُس وقت ہمارا ساتھ دیا! دیکھا یہ اسلام دشمنی! اب کون ان کو بتائے کہ اسلامی سیکٹر دیوار کے ساتھ لگا ہی اس لیے کہ کچھ غیرمعمولی extra-ordinary غیرمسبوقunprecedented مواقع دین کے نام پر ایک شدت پسند ڈسکورس نے فریقِ مخالف کو فراہم کر ڈالے؛ جس کو پوری قوم اب بھگت رہی ہے اور ان بھگتنے والوں میں سرفہرست یہاں کے دینی طبقے۔ ورنہ یہ دینی طبقے، یہ مدرسے، یہ ’داڑھیوں والے‘ یہیں تو تھے، کب ان کے پیچھے دنیا یوں ہاتھ دھو کر پڑ گئی تھی؟ دنیا بڑی دیر سے یہ چاہتی ہو گی، مگر اس کے مواقع اِس آسانی اور اِس بہتات کے ساتھ تمہارے ان افعال کے دم سے ہی تو اس کو میسر آئے۔ اب بھی تم چاہتے ہو کہ جو جو دینی طبقے تمہارے پیدا کیے ہوئے ان حالات کی زد میں آتے چلے جائیں وہ اِس بحران کا دانستہ حصہ بنتے چلے جائیں! یوں معاملہ گھمبیر سے گھمبیر ہوتا چلا جائے۔
اِس بحران کا حل اِس کو ختم کرنا ہے نہ کہ اِس کو توسیع دینا۔ بحران کا تسلسل ختم کرنے کےلیے مین اسٹریم علمائےسنت کو کوئی initiative لینا ہو گا۔ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں، حضرت تقی عثمانی ایسی قامت کی شخصیات محض غامدی بیانیہ کے چند نکات کا جواب دینے کی بجائے، علمائے سنت کا اپنا کوئی ایک اعلامیہ سامنے لے آئیں (جس کا موضوع فی الحال ’پاکستان میں اسلامائزیشن‘ نہیں بلکہ ’’حالیہ صورتحال کا حل‘‘ ہو) تو مسئلہ کہیں آسانی سے سدھر سکتا ہے۔ جماعتِ اسلامی اور تنظیم اسلامی وغیرہ اِس معاملہ میں ایک مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ دینی طبقوں کو بھی ایسے کسی اعلامیہ کے مندرجات کا پابند کرنے کی بھرپور تحریک اٹھائی جائے، ایک ایک مسجد اور ایک ایک دینی سرکل کی سطح پر اس کی پابندی کا عہد لینے کی مہم campaign کی جائے (بعد اس کے کہ کبار علماء میں اس پر ایک اتفاقِ رائے پیدا کر لیا گیا ہو) اور اسی کی بنیاد پر اتھارٹیز کے ساتھ بھی باقاعدہ بات ہو۔ دینی طبقے اِس ملک کے مخلص sincere پیدآور productive, contributive حصے کے طور پر اتھارٹیز کو مثبت ضمانتیں دیں اور دینی وابستگی یا سرگرمی رکھنے والوں کےلیے اتھارٹیز سے مثبت ضمانتیں مانگیں، یوں معاملات کو ایک باقاعدہ ضبط میں لائیں اور ہر دو جانب پائی جانے والی ایک گونہ uncertainty اورunpredictability کا خاتمہ کریں۔ نتیجتاً؛ اتھارٹیز بھی دینی طبقوں کی بابت ایک واضح سرزمین پر چلیں، اور دینی طبقے بھی اتھارٹیز کے معاملہ میں۔ جس سے؛ مل کر ملک کی حفاظت اور تعمیر کی صورت پیدا ہو۔ یوں تیسرے یا چوتھے یا پانچویں کسی بھی فریق (شدت پسند، لبرل، بیرونی قوتیں وغیرہ سب) کو اس معاملہ میں غیرمتعلقہ irrelevant کر دیں۔ آخر کیا مسئلہ ہے دینی طبقے اور اتھارٹیز براہِ راست تعاون سے یہ مسئلہ کیوں حل نہیں کر سکتے؟
ہاں ایسا کوئی بھی initiative لینے والی شخصیات یہاں دندناتی پھرتی بیرونی ایجنسیوں کی ہٹ لسٹ پر آ سکتی ہیں۔ لہٰذا ان کی حفاظت کے پیشگی انتظامات اتھارٹیز کا ذمہ بنے گا۔ اور اصل حفاظت اللہ کی ہے۔ فَاللَّـهُ خَيْرٌ‌ حَافِظًا ۖ وَهُوَ أَرْ‌حَمُ الرَّ‌احِمِينَ
تحریر حامد کمال الدین سہ ماہی ایقاظ

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *