اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

وہ سچا عظیم معبود۔ کائنات کا حقیقی مالک اور خالق!
اُس کی صفات کا احاطہ کون کر سکتا ہے!
اور اُس کی عظمت کا اعتراف کیونکر ہو….!
لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے اور حقیر معبودوں کی تعظیم سے سیر نہیں ہوتے!
’وطن‘ کے گیت گاتے نہیں تھکتے!
’قوم‘ کی ترقی کا ورد نہیں چھوڑتے ۔
’ملک‘ کے استحکام پر جان دے دیتے ہیں ۔
’آزادی‘ پر قومیں اپنی نسلیں وار دیتی ہیں ۔
’انسانی حقوق‘ کی راہ میں قربانیاں ایک انسان کو امر کرجاتی ہیں اور لوگ اس کے فنا ہوجانے کے بعد اس کے مجسمے پوجتے ہیں!
لوگ ’جمہوریت‘ کی بحالی کے لیے’ شہید ‘ہوتے ہیں!
’کرکٹ میچ‘ کی ہار یا جیت پر دل کے دورے پڑتے ہیں!
سیاسی اور فلمی ’ستاروں ‘ کی موت پر غشیاں پڑنے لگتی ہیں!
قبیلے، برادری، اور ملک کی جنگ میں… مائیں اپنے سپو ت پیش کردینا ہر دور میں باعث شرف سمجھ لیتی رہی ہیں۔
قوم کے محسنوں کو ’زندہ و پائندہ باد‘ کے نعروں سے صبح شام عقیدت کا خراج پیش کیا جاتاہے۔
وطن کے پرچم کو ’ایڑی چوٹی‘ کے زرو سے سیلوٹ ہوتا ہے اور قومی تفاخر کے مواقع پر اس کی مورتی دل کے پاس سینے پر سجائی جاتی ہے!
پتھر اور لکڑی جیسی حقیر چیزیں اگر قومی یادگاروں میں استعمال ہو جائیں تو ’مقدس‘ ہوجاتی ہیں!
کسی قومی ہیرو کی توہین ہو جائے یا اسکے بت کی بے حرمتی، اس پرجلوس نکل سکتے ہیں ۔ اس کے لیے نازیبا الفاظ کے استعمال پر قیامت برپا ہوسکتی ہے ، اگرچہ رب العالمین کے ساتھ صبح و شام وہاں کیسا بھی شرک اور اُس کے آگے کیسی ہی بغاوت کیوں نہ ہوتی رہے!
ایک ہاتھ پیر ہلانے سے عاجز بزرگ کی پس مرگ زیارت کےلیے ہزاروں میل کا پیادہ پا سفر عقیدت کا ’ادنیٰ ‘ سا اظہار مانا جاتا ہے! ایک مُردے کی قبر کی توسیع کےلئے یہاں آدھا شہر اٹھادیا جاتا ہے! ایک مٹی میں ملے معبود کی ’خوشی‘ کی خاطر ہزاروں زندوں کا نقصان خوشی خوشی جھیلنا ’سعاد ت‘ سمجھا جاتا ہے!
حیران کن بات تو یہ ہے کہ ان معبودوں کے لیے یہ جو کچھ ہوتا ہے، اس میں ان معبودوں کا کوئی بھی کمال نہیں!
دراصل ’عبادت‘ ایک جذبہ ہی ایسا ہے!
’’بندگی‘‘ چیز ہی ایسی پیاری اور خوبصورت بنائی گئی ہے! تبھی تو صرف یہ ﷲ کا حق ہے!!
’’پرستش‘‘ مرمٹنے کا نام ہے۔
سچ پوچھیں تو مر مٹنے کا اپنا مزہ ہے۔
اس کے بغیر انسان ادھورا ہے۔
تبھی تو لوگ دیوانے ہوجاتے ہیں! مرمٹنے کے لیے ’کوئی بھی‘ چیز ڈھونڈ تے ہیں! مٹی نہ ملی تو پتھر اٹھا لیا۔ پتھر نہ ملا تو لکڑی تراش لی۔ لکڑی سے جی بھرا تو پلاسٹک سے بہلا لیا! زندوں سے مایوس ہوا تو مُردوں کا رخ کرلیا!
کیسی وحشت ناک زندگی ہے یہ! اصل معبود نہ ملے تو انسان کیسے پاگل ہوجاتا ہے! کیسے کیسے خبط مارتا ہے! انسان ﷲ سے واقف نہ ہو تو کتنا حقیر ہوجاتا ہے! کیسی گھٹیا حرکتیں کرتا ہے!
قوم پر مرتا ہے۔ عصبیت پہ فدا ہوتا ہے۔ روپے کو خدا بنالیتا ہے۔ پیسے کو خوشی اور غم کا راز سمجھ بیٹھتا ہے۔ لکڑی، پتھر اور کپڑے کے حضور کبھی مذہبی تو کبھی قومی جوش و خروش کے ساتھ آداب اور کورنش بجالاتا ہے۔ مُردوں کو خوش کرنے کے لیے معصوم بچوں کے منہ کا نوالہ چھین کر ایک بے حس و حرکت معبود کو چڑھاوا دے آتا ہے۔
زندوں اور مُردوں کو ہیرو بنا کر پوجتا ہے اور انکی شان میں گستاخی کو برداشت سے باہر سمجھتا ہے۔ حقیر ہستیوں کی عظمت و ناموس کے لیے مرنے مرانے پر اتر آتا ہے۔ ملک کی عزت پہ کٹ مرتا ہے اور وطن کی مٹی کو سلام پیش کرتا ہے….
اور وہ مالکِ ارض و سماوات جو حق رکھتا ہے اِس جان پر، پرستش کے اِن نفیس جذبات پر، اُس ایک کو بھول جاتا ہے! کیسا ظالم ہے وہ انسان جسے عقیدت اور بندگی کا خراج دینے کو جہانوں کا رب نظر نہ آئے تو وہ اسے مٹی پہ ڈھیر کردے!
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ فَمَا ظَنُّكُم بِرَبِّ الْعَالَمِينَ (الصافات85۔87)
(ابراہیم ؑ نے ) جب اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا یہ کیا تم پوجنے بیٹھے ہو؟ نرے بے حقیقت من گھڑت معبود۔ یہ تم ﷲ کو چھوڑ کر پوجنا چاہتے ہو؟ پھر یہ تو بتلاؤ کہ تم نے رب العالمین کو کیا سمجھ رکھا ہے؟
مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًاوَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًاأَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا لِتَسْلُكُوا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا (نوح 13۔20)
(نوح ؑنے کہا) تو کیا تمہیں بس ایک اﷲ ہی کے مرتبے کا پاس نہیں! وہ تووہ ہے جس نے مرحلہ در مرحلہ تمہاری تخلیق کی ۔ کیا دیکھتے نہیں وہ ﷲ جس نے سات آسمان تہ در تہ بنائے۔ پھر ان میں چاند کا اجالا کردیا اور سورج کا چراغ دھردیا، اور تم کو بھی زمین سے کیا عجب طریقے سے اگا یا اور وجود دیا ۔وہ تو تمہیں پھر اسی مٹی میں ملا ڈالے گا، پھر اس سے یکایک وہ تم کو نکال کھڑا بھی کرلے گا۔ اور زمین کا تمہارے لیے فرش بچھایا۔ تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں اور وادیوں میں چلو“
پس یہ ’بندگی‘ تو بجائے خود کتنی زبردست اور حیران کن چیز ہے!
پھر جب یہ ﷲ کے لیے ہو جائے.. اور ایک اُسی کی ہو جائے.. تب تو یہ دنیا کا سب سے بڑا واقعہ کیوں نہ ہو… نہ صرف سب سے بڑا بلکہ خوبصورت ترین اور برحق ترین!۔
غرض ”ﷲ کے دین“ کا مطلب ہوا کہ آدمی کو بندگی کی اصل حقیقت معلوم ہو اور پھر …. ﷲ کی پہچان ہوجائے! تب اس کی خوشی اور سعادت کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہتا!علم کے پس یہ دو ہی حقیقی میدان ہیں، اور حقیقت یہ کہ دونوں اشرف العلوم: ”بندگی کی حقیقت“ اور ”ﷲ کا تعارف“..پھر اس کے ساتھ ایک تیسری چیز… شر ک سے بچنا اور مشرکوں سے براءت رکھنا۔
(اقتباس مضمون ’’افضل الذکر لا الٰہ الا اللہ‘‘ ،کتاب ’’ایمان کا سبق‘‘ از حامد کمال الدین)

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *