اللہ کےقانون کی حاکمیت [اسلامی سیاست]

تھیوکریسی(Theocracy):
تھیوکریسی کا لفظ یونانی اصلیت رکھتا ہے۔ یونانی زبان میں Theo خدا کو کہتے ہیں، ( اور اسی سے تھیولوجی بنا ہے لوجی کہتے ہیں علم کو۔ توتھیولوجی کے معنی عالم الٰہیات ہیں)، Cracy کے معنی ہیں حاکمیت۔ اس طرح Theoracyکے معنی ہوئے خدا کی حاکمیت۔
اس نظام کا اصل تصور تو بڑا مبارک ہےوہ یہ کہ درحقیقت اس کائنات میں اصل حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے اور یہاں جو بھی حکومت قائم ہو اسے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کرنی چاہئے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا تعین کون کرے؟ عیسائی دنیا میں اس کا عملی جواب یہ تھا کہ چرچ کا سربراہ جو پوپ کہلاتا تھا، اسے ہی یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا تعین کرکے بادشاہ کو بتائے، چنانچہ جس بات کو پوپ اللہ تعالیٰ کا حکم قرار دیدے، حکومت کا سربراہ اسی پر عمل کرنے پر مجبور ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عملاً تھیوکریسی کا مطلب مذہبی پیشواؤں کی حاکمیت ہوگیا۔ چنانچہ اب جو تھیوکریسی کا ترجمہ کیا جاتا ہے تو بکثرت ’’ خدا کی حاکمیت‘‘ کے بجائے ’’مذہبی پیشواؤں کی حاکمیت‘‘ کے لفظ سے کیا جاتا ہے۔
روم کی عیسائی حکومتوں میں یہ ایک بہت لاینجل مسئلہ رہا ہے کہ اگر چہ حکمراں تو بادشاہ ہوا کرتا تھا لیکن وہ پوپ کے مذہبی احکام کا پابند ہوتا تھا۔ اس کے نتیجے میں ایک طرف تو بادشاہ اور پوپ کے درمیان بکثرت اختلافات رہتے تھے دوسرے چونکہ پوپ کو بلاشرکت غیرے مذہب کے احکام متعین کرنے کا مکمل اختیار حاصل تھا اور اس پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی اس لئے پوپ نے اپنے اس اختیار کا متعدد مواقع پر ناجائز استعمال کیا اور خاص طور پر جب ایسے ایسے لوگ پوپ بنے جو اپنے ذاتی مفادات کے اسیر تھے تو انہوں نے بڑی بے رحمانہ پالیسیاں اپنائیں جن سے پوری قوم کو جبر و تشدد کی گھٹی ہویء فضا میں صدیاں گزارنی پڑیں۔ تھیوکریسی چلانے والے مذہبی پیشوا نہ تو عوام کی رائے کو اہمیت دیتے تھے کیونکہ وہ عوامی نمائندے نہیں بلکہ پوپ کے نامزد کردہ ہوتے تھے، نہ حکومتی اُمور میں وہ کسی الہامی شریعت کے وضع کردہ قوانین کے پابند تھے۔عیسائی پاپاؤں اور پادریوں کے پاس مسیح کی چند اخلاقی تعلیمات کے سوا کوئی شریعت سرے سے تھی ہی نہیں، باقاعدہ شریعت یا شرعی قوانین و احکام کا کوئی ایسا ضابطہ نہیں ہے جسے دستورِ مملکت بنایا جاسکے۔ لہٰذا وہ اپنی مرضی سے اپنی خواہشات نفس کے مطابق قوانین بناتے تھے اور انہیں یہ کہہ کر نافذ کرتے تھے کہ یہ خدا کی طرف سے ہیں۔
انکا قانونِ شریعت کسی وحی و الہام سے ماخوذ نہ تھا، بلکہ خود ان کا گھڑا ہوا تھا۔ اس میں انہوں نے جو نظام عقائد، جومذہبی اعمال و رسوم، جو نذریں و نیازیں، جو معاشرتی ضوابط وغیرہ تجویز کیے تھے ان میں سے کسی کی سند بھی ان کے پاس کتاب اللہ سے نہ تھی۔ اسی طرح انہوں نے خدا اور بندے کے درمیان مذہبی منصب داروں کو جو ایک مستقل واسطہ قرار دیدیا تھا یہ بھی ان کا خود ساختہ تھا۔ نیز انہوں نے نظام کلیسا کے کارپردازوں کے لیے جو حقوق اور اختیارات تجویز کیے تھے اور جو مذہبی ٹیکس لوگوں پر لگائے تھے ان کے لیے بھی کوئی ماخذ ان کی اپنی ہوائے نفس کے سوا نہ تھا۔ ایسے نظام کا نام چاہے انہوں نے تھیا کریسی رکھ دیا ہو لیکن وہ فی الحقیقت تھیا کرسی نہ تھا۔ اس ساری صورتحال کے نتیجے میں عوام کے درمیان مذہب کے خلاف بغاوت پیدا ہوئی اور آخر کار جب انہوں نے حکومت سے مذہب کا عمل دخل ختم کرکے سیکولر نظام حکومت قائم کیا تو تھیوکریسی کا لفظ ایک گالی بن کر رہ گیا، کیونکہ اس لفظ کو سنتے ہی ان کے ذہن میں وہ ساری خرابیاں ابھرآتی ہیں جو پوپ کے ادارے نے پیدا کی تھیں۔ اس کو آخر اسلام کی حکومت الہٰیہ یا شریعت حکومت سے کیا مماثلث ہوسکتی ہے جس کے لیے کتاب و سنت کی صورت میں بالکل واضح اور ناقابل ہدف و ترمیم قانون موجود ہے، اور جس کو چلانا کسی مخصوص مذہبی طبقہ کا اجارہ نہیں ہے۔
چونکہ تھیوکریسی کا لفظ اب بہت بدنام ہوگیا ہے اس لئے ہمارے مسلمان معاشرے میں بھی لوگ بکثرت یہ کہنے لگے ہیں کہ اسلام تھیوکریسی کا حامی نہیں ہے اور تھیوکریسی اسلام کے خلاف ہے لیکن یہ کہتے ہوقت لوگ تھیوکریسی کے اصل تصور اور عیسائی دنیا کے اس کے عملی اطلا ق کے درمیان فرق نہیں کرتے چنانچہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں اسلامی حکومت قائم ہونی چاہئے، یا علماء سیاست میں حصہ لیتے ہیں تو تجدد پسند حلقوں کی طرف سے جھٹ یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ ملک میں Theocracy قائم کرنا چاہتے ہیں اور ہم پاکستان Theocracy قائم نہیں ہونے دیں گے لیکن Theocracy کا مطلب کوئی سمجھاتا نہیں، نہ اعتراض کرنے والا اور نہ جواب دینے والا، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے محاسن اور معائب سے باخبر ہوئے بغیر ایک نعرے کے طور پر یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے کہ اسلام میں تھیوکریسی نہیں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جیسے قرآن کریم نے ’’ ان الحکم الا اللہ ‘حاکمیت اللہ کے سوا کسی کی نہیں ہے’۔ سورۃ الانعام 57 ‘‘ کے مختصر جملے میں بیان فرمایا ہے۔ اب اندازہ کرلیجئے کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام میں تھیوکریسی نہیں ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اسلام میں خدا کی حاکمیت نہیں ہے لہٰذا جو لوگ بے سوچے سمجھے اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں وہ کتنی خطرناک بات کہہ دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ Theocracy اپنے لغوی اور اپنے اصل تصور کے لحاظ سے بالکل درست ہے کہ اس کائنات میں حاکمیت کا حق درحقیقت اللہ جل جلالہ کو حاصل ہے، اور انسان جو کوئی حکومت قائم کریں وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے تابع ہونی چاہئے لیکن عیسائیت، یہودیت اور ہندو مذہب میں اس تصور کو ٹھیک ٹھیک نافذ کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا اس لئے انہوں نے اسے بگاڑ کر مذہبی پیشواؤں کی حاکمیت میں تبدیل کردیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج جب تھیوکریسی کا نام لیا جاتا ہے تو اس سے کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا مفہوم نہیں سمجھتا بلکہ اسے مذہبی پیشواؤں کی حاکمیت ہی سمجھا جاتا ہے چنانچہ سیاست کی اردو کتابوں میں بھی اس کاترجمہ مذہبی پیشوائیت کے نام سے کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بجائے مذہبی پیشواؤں کو حاکمیت کا درجہ دیدینا وہ بدترین شرک ہے جس کی مذمت قرآن کریم نے ان الفاظ میں فرمائی ہے: اتخذ وا أحبارھم ورھبا نھم أربابا من دون اللہ ۔”ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو پروردگار بنالیا ہے۔

اسلام کا تصور’ اللہ ٰ کی حاکمیت’:
اس تصور کی سب اہم بنیاد جسے اصل الاصول کہنا چاہئے یہ ہے کہ اس کائنات پر اصل حاکمیت اللہ تبارک و تعالیٰ کو حاصل ہے اور دنیا کے حکمران اس حاکمیت کے تابع ہی حکومت کرسکتے ہیں،۔اسلام میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کواس کے صحیح مفہوم میں اختیار کیا گیا ہے اور اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ہدایات وحی کے ذریعے بنی نوع انسان تک پہنچائی ہیں چاہے وہ وحی متلو کے ذریعے ہوں یا وحی غیر متلو کے ذریعے وہ اسلامی حکومت کا اولین ماخذ ہیں ۔
انسانی زندگی کے لیے جو آئین وقانون درکار ہے، وہ حاکم حقیقی اللہ تعالیٰ نے اصولی حد تک اپنے رسولﷺ کے ذریعے عطا فرما دیا ہے۔ اسے بنانے کی کسی فرد یا مجموعہ افراد یا مجلس قانون ساز کو قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ قانون قرآن مجید میں اور اس کے مستند اورقولی وعملی شارح حضرت محمدﷺ کی سنت میں پوری طرح موجود اور دستیاب ہے۔ اس قانون خدا وندی کی بلا چوں و چرا اطاعت ہر انسان کو کرنی ہے اور بے کم و کاست اِس پورے مجموعہ قوانین کو اپنی پوری انفرادی و اجتماعی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔ وہ اس کے بجائے کوئی قانون بنا سکتا ہے نہ اس کی پیروی کر سکتا ہے۔ اس شریعت سے اگر وہ انحراف کرے گا تو اپنی حقیقی حیثیت (خلیفۃ اللہ) سے منحرف اور اپنے مالک (اللہ )سے بغاوت کا مجرم ٹھہرے گا۔ البتہ جس مسئلہ یا معاملے میں شریعت خاموش ہے یا نئے مسائل کے پیش نظر کوئی فروعی قانون بنانے کی ضرورت پیدا ہو جائے تو ایسا قانون ،اصولِ دین اور اسلام کی روح اور مزاج کو سامنے رکھتے ہوے باہمی مشورے سے بنایا جا سکتا ہے۔
اسلام عیسائیت کی طرح محض اخلاقی تعلیمات کا مجموعہ نہیں ہے، یہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی عطا کرتا ہے۔ ریاستی اُمور چلانے کے لئے اسلام کا اپنا ضابطہ حیات ہے۔ اسلام میں کلیسا کی طرح کوئی “Hierarchy” نہیں ہے جس میں پوپ، کا رڈینل، چیف بشپ، پادری یا فادر پر مبنی درجہ بہ درجہ کلیسائی نظم ہو۔ اسلام نے حکمرانی کا حق کسی مخصوص طبقہ کو تفویض نہیں کیا جو خدائی مشن کا نام لے کر اقتدار پر قابض ہوجائے اور اپنی من مانی کرتا پھرے۔خلاصہ یہ کہ اسلامی حکومت یا ریاست اللہ کی حاکمیت کے تحت انسانی خلافت ، جو خدا کے ملک میں اس کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق اس کی مقرر کردہ حدود (یعنی شریعت) کے اندر کام کرکے اس کے منشا کو پورا کرتی ہے۔ اس خلافت پر کسی ایک فرد یا خاندان یا گروہ کا اجارہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں تمام اہل ایمان برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں اور وہی اپنے صاحب الرّائے و صاحب کر دار معتمد نمائندوں کے ذریعے اپنا اختیار اور حقِّ خلافت کسی شخص کو سپرد کرتے ہیں ۔
یہاں جو شخص حکمراں بنایا جاتا ہے اس کی اصلی حیثیت ایک نائب ہی کی سی ہوتی ہے وہ تنقید سے بالاتر نہیں ہوتا ۔ قانون کی نگاہ میں اس کی حیثیت عام شہریوں کے برابر ہوتی ہے ، اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے اور وہ عدالت میں کسی امتیازی برتاؤ کا مستحق نہ ہوتا۔ اسے مشورہ کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں خلفاے راشدین کا دور تو مثالی ہے ہی، مگر بعد میں بھی کسی خلیفہ یا سلطان نے قرآن و سنت کو مسترد کرکے کوئی نیا دستور وضع کرنے کی جسارت نہ کی۔ اسلامی تاریخ ایسی متعدد مثالیں پیش کرسکتی ہے جن کے مطابق مسلمانوں کے خلیفہ کو بارہا قاضی کے سامنے پیش ہوکر اپنے عمل کی وضاحت کرنا پڑی، بعض اوقات تو اُنہیں جرمانے بھی ادا کرنے پڑے۔
اہل مغرب کے تعصب کا حال یہ ہے کہ جب وہ کسی بھی موضوع سے متعلق مختلف نظریات کی تاریخ بیان کرتے ہیں تو ان میں اسلامی تعلیمات یا مسلمان مفکرین کی خدمات کاکوئی ذکر نہیں کرتے۔ سیاسی نظریات کی تاریخ میں بھی یہی ہوا ہے کہ وہ سیاسی نظریات کی تاریخ ارسطو اور افلاطون سے شروع کرتے ہیں اور پھر عیسائی دور پر پہنچنے کے بعد کئی صدیوں کی چھلانگ لگا کر وولٹائر، مونتیسکو اور روسو پر پہنچ جاتے ہیں اور اس بات کا کوئی ذکر تک نہیں کرتے کہ درمیان میں ایک طویل عرصہ اسلامی حکومتوں کا گزرا ہے جس میں سیاست کا ایک مختلف تصور پیش کیا گیا ہے۔ چنانچہ خدائی اصل کا نظریہ بیان کرتے ہوئے اس کے تحت صرف اس تھیوکریسی کی باتیں بیان کی جاتی ہیں جو یہودیوں، عیسائیوں یا ہندؤں کی تھیوکریسی سے متعلق ہیں لیکن اس بات کا کہیں ذکر و فکر نہیں ہے کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو کس طرح سیاست کی بنیاد پر بنایا گیا ہے اور اس کے تحت جو خلاف راشدہ قائم ہوئی اور اس کے بعد بھی مسلمانوں نے جو حکومتیں قائم کیں ان کی بنیاد کیا تھی؟ یہ درحقیقت اس تعصب کا نتیجہ ہے جو ان لوگوں کو مسلمانوں اور اسلام کے ساتھ رہا ہے ورنہ اگر صرف مورخانہ دیانت ہی پر عمل کرلیا جاتا تو کم از کم ایک نظریہ کے طور پر تو یہ بات ذکر کی جاتی کہ اسلام کا تصور سیاست کیا ہے اور اس کے تحت کس قسم کی حکومتیں قائم ہوئی ہیں؟ ۔
گزشتہ صدی میں ہندوستان میں تہذیبی مرعوبوں کے ایک فرقے نے اپنے مخصوص مذہبی تصور کو بہتر ثابت کرنے کے لیے مذہبی پیشوائیت کے ادبی افسانے تراشے اور اس کا ترجمہ’مُلَّا اِزم’ کرتے ہوئے علماے امت، محدثین ِکرام اور فقہاے عظام کو مطعون کرنے کا ذریعہ بنایا۔ ہم نے ان افسانوں کا تاریخی تجزیہ ایک تحریر میں پیش کیاتھا ، اس میں جو تاریخی حوالوں سے تفصیل پیش کی گئی تھی وہ ہمارے موجودہ موضوع سے بھی تعلق رکھتی ہے ہے، وہ تحریر اس لنک سے دیکھی جاسکتی ہے۔
استفادہ تحریر: اسلام اور جدید سیاسی نظریات از مفتی تقی عثمانی صاحب

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *