معاشرےکواوپرسےٹھیک کرناتھایانیچےسے؟

پاکستان میں کرپشن کی حالیہ صورتحال کے حوالے سے ہونے والی ایک بحث میں، کسی ٹی وی چینل پر، اینکر کاشف عباسی کے ایک پریشان کر دینے والے سوال پر کہیں سے جواب آیا: معاشرے کو اوپر سے ٹھیک تھوڑی کیا جا سکتا ہے؛ یہ تو نیچے سے ٹھیک کیا جائے تو ہو گا۔ جس پر جناب اوریا مقبول جان نے برمحل سوال اٹھایا: دنیا میں مجھے کوئی ایک معاشرہ دکھایا جائے جو نیچے سے ٹھیک ہوا یا بدلا گیا ہو۔ اس پر خورشید ندیم صاحب نے بغیر توقف جواب دیا: جی میں آپ کو مثال دیتا ہوں: رسول اللہﷺ کا معاشرہ!
تبصرہ:
متعدد بار ہم یہ مبحث بیان کر آئے ہیں کہ ’’یا‘‘ کا مفروضہ بہت مقامات پر ذہنوں میں غیرضروری وغیرمنطقی طور پر جگہ پا لیتا ہے، یعنی دو چیزوں کے مابین خوامخواہ کی مغایرت؛ جس کی رُو سے ایک کو اختیار کرنا ہو گا اور دوسری کو رد! حالانکہ وہ دونوں بآسانی جمع ہو سکتی تھیں! بلکہ جمع ہی ہونی چاہئیں؛ تبھی ان سے معاملہ کی ایک پوری تصویر بنتی۔ لیکن یہاں ایک موضوع پر باقاعدہ دو فریق ہو کر ہم آپس میں مصروفِ بحث ہو جاتے ہیں۔ یوں ایک ’’لاشےء‘‘ سے پورا ایک جدل dialect کھڑا کر لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ’سکول آف تھاٹ‘ آ جاتے ہیں! فارغ قوموں میں ایسے مشغلے بکثرت رہتے ہیں۔
متعدد بار ہم یہ مبحث بیان کر آئے ہیں کہ ’’یا‘‘ کا مفروضہ بہت مقامات پر ذہنوں میں غیرضروری وغیرمنطقی طور پر جگہ پا لیتا ہے، یعنی دو چیزوں کے مابین خوامخواہ کی مغایرت؛ جس کی رُو سے ایک کو اختیار کرنا ہو گا اور دوسری کو رد! حالانکہ وہ دونوں بآسانی جمع ہو سکتی تھیں! بلکہ جمع ہی ہونی چاہئیں؛ تبھی ان سے معاملہ کی ایک پوری تصویر بنتی۔ لیکن یہاں ایک موضوع پر باقاعدہ دو فریق ہو کر ہم آپس میں مصروفِ بحث ہو جاتے ہیں۔ یوں ایک ’’لاشےء‘‘ سے پورا ایک جدل dialect کھڑا کر لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ’سکول آف تھاٹ‘ آ جاتے ہیں! فارغ قوموں میں ایسے مشغلے بکثرت رہتے ہیں۔اب مثلاً:
1 یہ ڈائلیکٹ کہ مغرب کو اسلام کی تبلیغ کی جائے یا مغرب کے ساتھ لڑائی ہی کی جائے؟ بھئی یہ دونوں کیوں نہیں ہو سکتیں (بشرطِ استطاعت)؟ اُدھر لاتوں کے بھوت بھی کم نہیں اور باتوں کو نہایت خوب سمجھنے والے بھی تھوڑے نہیں۔ اِدھر ہمارے ہاں انٹیلیکچول صلاحیتوں کے مالک صالحین بھی اللہ کے فضل سے ہیں، اور ایسے بھلے لوگ بھی جو اسلام کےلیے صرف سپاہیانہ خدمت انجام دے سکتے ہیں کوئی انٹیلیکچول معرکہ نہیں مار سکتے۔ پس ہردوطرف یہ ایک ’’تنوع‘‘ کا سوال ہوا نہ کہ ’’معارضت‘‘ کا۔ اُن کے غاصب اور مائل بہ شدت طبقوں کے ساتھ شدت اور عام عوام نیز انٹیلکچولز کے ساتھ گفت و شنید، ان دونوں میں آخر کیا تعارض ہے؟ جو جس کا اہل ہو اس کے ساتھ وہی معاملہ، اس میں مسئلہ کیا ہے؟ کیا نبیﷺ نے قتال شروع ہو جانے کے بعد دعوت اور حسنِ سلوک کا معاملہ موقوف کر دیا تھا؟ یہ دونوں اپنےاپنے محل پر بیک وقت کیوں نہیں چل سکتے، بعد اس کے کہ قتال دین میں مشروع ہو چکا ہو؟ یعنی دو خوب چیزوں میں خوامخواہ کا ایک ٹکراؤ فرض کر لینا، اور پھر ایک کے ’’پرو‘‘ اور ایک کے ’’اینٹی‘‘ ہو کر ’دلائل و براہین‘ کا ایک سلسلہ شروع کر لینا!
2 ہمارا قومی مسئلہ آیا انتظامی ہے؟ سیاسی ہے؟ معاشی ہے؟ سماجی ہے؟ فکری ہے؟ تعلیمی ہے؟ یا سائنسی و ٹیکنالوجی پسماندگی ہے؟ یہاں اس پر آپ ’بحثیں‘ تک سنیں گے! بھئی یہ سارے مسئلے بیک وقت کیوں نہیں ہو سکتے؟ ان سب کی اصلاح کےلیے مختص ٹیمیں میدان میں اتریں اور اپنےاپنے میدان میں اصلاحِ احوال پر زور لگا دیں جس سے مجموعی طور پر اِس امت کا ستارہ بلند ہو، اس میں کیا مانع ہے؟ لیکن نہیں، طے یہ ہونا چاہئے کہ ان میں سے کونسا مسئلہ ہمارا قومی مسئلہ ہے!
3 معاشرے کو ٹھیک کرنا ہے… تو کیا اوپر سے کیا جائے گا؟ نہیں نہیں، اوپر سے کیسے، نیچے سے کیا جائے گا! ایک سکول آف تھاٹ، دوسرا سکول آف تھاٹ!
4 علیٰ ھذا القیاس۔
ہمارا ایک قومی مسئلہ یہ بھی ہے کہ: جو کوئی مسئلہ سرے سے نہیں ہوتا، ہم اس کو ایک مسئلہ بنانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اور پھر اس میں الجھ کر اپنے اصل مسئلوں سے توجہ پھیر لینے میں اس سے بھی زیادہ کامیاب!
فارغ مباش کچھ کیا کر!
چنانچہ ایسا ہی ایک غیرمنطقی و غیرضروری ڈائلیکٹ یہ ہے۔ یعنی معاشرے کو اوپر سے ٹھیک کرنا ’’یا‘‘ نیچے سے ٹھیک کرنا؟ حالانکہ معاشرہ نہ محض نیچے سے ٹھیک کرنے ٹھیک ہوتا ہے اور نہ محض اوپر سے ٹھیک کرنے سے۔ معاشرے کو ٹھیک کرنے کی یہ دونوں جہتیں بیک وقت حسب استطاعت فرض ہیں۔ ان میں تعارض ہے ہی نہیں۔ بلکہ یہ دونوں ایک دوسرے کو مکمل کرنے والی ہیں، اور ان دونوں کا ’’تکامل‘‘ ہی اصل میں امت سے مطلوب۔ رہا یہ جدل کہ یہ ’’یا‘‘ یہ؟ تو ہماری نظر میں، یہ جدل صرف وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو معاشرے کی اصلاح کےلیے کوئی اسکیم اپنے پاس نہیں رکھتے۔ کچھ حرج نہیں اگر بعض لوگوں کی صلاحیتیں ایسی کوئی اسکیم پیش کرنے یا اس پر سرگرم ہونے کی متحمل نہ ہوں اور وہ اپنی مصروفیت کےلیے کوئی عام سی سرگرمی اختیار کر لیں۔ شاید ہم میں سے اکثر کا معاملہ ایسا ہی ہو۔ لیکن اصلاح کی ایک بڑی جہت کی نفی کر دینا؟ ’اوپر سے ٹھیک کرنے کی کیا ضرورت ہے‘؟ یا ’نیچے سے ٹھیک کرتے بعض طبقوں کی جدوجہد یہاں کیسی غیرضروری ہے‘… یہ چیز البتہ ہم ایسے ان لوگوں کےلیے بھی نامناسب ہے جو قوم کی اصلاح کےلیے خود اپنے پاس کوئی چیز نہیں رکھتے۔
پھر سب سے بڑھ کر غلط یہ ہے کہ ایسا کوئی سوال رسول اللہﷺ کے برپا کیے ہوئے عمل کی بابت اٹھا دیا جائے۔ حالانکہ اصلاح کی تمام صالح متنوع جہتیں رسول اللہﷺ کے انجام دیے ہوئے اِس عمل میں بیک وقت کارفرما رہی تھیں۔
پس واضح رہے، ہماری گفتگو اِس ’جدل‘ کو سرے سے قبول نہیں کرتی جس کا اوپر ذکر ہوا۔ ہماری کسی بات سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم معاشرے کو ’نیچے سے‘ ٹھیک کرنے کے تصور کو رد کرتےیا رسول اللہﷺ کے برپا کیے ہوئے عمل میں اس بات کا انکار کرتے ہیں۔ ہم پہلے کہہ چکے، یہ ایک ہمہ جہت عمل تھا اور اصلاح کا کوئی رخ اس کے اندر نظرانداز نہ ہوا تھا۔ ہماری نقد یہاں اس طرزِفکر پر ہے جو رسول اللہﷺ کے اِس عمل کو ’معاشرے کو نیچے سے ٹھیک کرنے‘ کے اندر محصور ٹھہراتا ہے۔
رسول اللہﷺ کے دنیا سے رحلت فرماتے ہی جزیرۂ عرب میں ارتداد کا ایک بہت بڑا سلسلہ اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ کسی ایک آدھ علاقے یا ایک آدھ قبیلے تک محدود نہ تھا بلکہ پورا جزیرہ اس کی لپیٹ میں آگیا ہوا تھا۔ یہاں تک کہا جاتا ہے، مدینہ، مکہ، طائف اور بحرین کی ایک بستی جواثا کو چھوڑ کر؛ کوئی علاقہ جزیرۂ عرب میں ایسا نہ رہا جو فتنۂ ارتداد کی زد میں آنے سے بچا رہا ہو۔ بعض نے یہاں تک کہا کہ نماز (باجماعت) صرف تین مساجد تک رہ گئی تھی: حرمین شریفین اور علاء بن الحضرمی کی مسجد بحرین میں۔ بقول ام المؤمنین عائشہ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَزَلَ بِأَبِي بَكْرٍ مَا لَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ لَهَاضَهَا, اشْرَأَبَّ النِّفَاقُ بِالْمَدِينَةِ , وَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ (مصنَف ابن ابی شیبۃ، روایت نمبر 37055http://goo.gl/wYmhA2 )۔ یعنی ’’نبیﷺ نے رحلت فرمائی تو ابوبکر پر ایسی افتاد آئی کہ وہ پہاڑوں پر آئی ہوتی تو ان کو توڑ کر رکھ دیتی۔ مدینہ میں نفاق نے سر اٹھا لیا اور عرب تو مرتد ہی ہو گیا‘‘۔ سمجھو حضرت ابو بکر نے ایک نئے سرے سے جزیرۂ عرب اسلام کو فتح کر کے دیا؛ اور اس مقصد کےلیے پورے جزیرۂ عرب میں ازسرنو ایک جہاد ہوا… باوجودیکہ نبیﷺ کی زندگی زندگی سارا جزیرۂ عرب اسلام کے زیرنگیں آگیا ہوا تھا۔
(ظاہر ہے یہ صالح اقتدار کی طاقت سے زیرنگیں لائے گئے ایک معاشرے کا ہی حال ہو سکتا ہے۔ اور اگر آپ کہنا چاہیں تو اوپر سے قابو کیا گیا ایک معاشرہ۔ حضرت عثمان سے منسوب ایک مشہور قول کہ لَمَا يَزَعُ السُّلْطَانُ النَّاسَ أشَدُّ مِمَّا يَزَعُهُمُ الْقُرآنُ (تاريخ المدينة لابن أبي شبة، ج 3 ص 988 یعنی ’’اقتدار لوگوں کو قرآن سے بھی بڑھ کر زیرِ اطاعت لے آتا ہے‘‘۔ یقیناً نبیﷺ کی تحریک میں اِس سماجی حقیقت کو بدرجۂ اتم بروئےکار لایا گیا تھا۔ بےبسی کی بات اور ہے، لیکن اس بات کو نظریاتی طور پر ہی نظرانداز کروانے کی فکر رائج کروانا کہ صاحب اصلاح تو بس نیچے سے ہوتی ہے، باعثِ حیرت ہے۔ اوریا مقبول صاحب کا یہ سوال پس نہایت برمحل ہے کہ مجھے کوئی ایک معاشرہ دکھایا جائے جو بس نیچے سے بدل دیا گیا تھا)۔
اس غیرمعمولی اتدادِ عرب سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ نبیﷺ کی رحلت کے وقت جزیرۂ عرب کس مقام پر کھڑا تھا۔ عربوں کی ایک بڑی تعداد اُس حالت پر تھی جس کا سورۃ الحجرات میں ذکر ہوا: قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ۔ چنانچہ رسول اللہﷺ کے دنیا سے رخصت ہوتے ہی بہت سے لوگ اسلام چھوڑ گئے۔ بہت سے اسلام پر رہے تو بھی اسلام کی اُس حالت پر نہیں جو اسلام کا مقصود تھا؛ اور جس پر صحابہؓ نے ابوبکر کی سرکردگی میں ایک بڑی محنت اور جانفشانی کے بعد عرب زندگی کو از سر نو بحال کرایا۔
یہاں ہم اس سوال پر غور کرتے چلیں گے کہ جزیرۂ عرب میں اتنی تعداد کا اسلام سے پلٹ جانا، یا کم از کم اصل اسلام سے پلٹ جانا، اسلامی توسیع میں پائی جانے والی ایک غیرمعمولی ’’تیزرفتاری‘‘ کے حوالے سے ہمارے لیے کیا دلالت رکھتا ہے؟ نبیﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری سالوں میں جو عمل ایک غیر معمولی تیزی کے ساتھ انجام پایا، اُسے ہم اِس واقعہ ارتداد کی روشنی میں کیونکر سمجھیں گے؟
ظاہر ہے، ایک یوٹوپیا ذہنیت یہاں یہ سوال اٹھا سکتی ہے کہ یہ توسیعِ اسلام اگر اِس تیزترین صورت میں نہ ہوتی؛ یعنی اِس ’’توسیعی عمل‘‘ کو ’’تربیتی عمل‘‘ کے پیچھےپیچھے رکھا جاتا؛ جب تک ایک علاقے میں لوگوں کی خوب تربیت نہ کر لی جاتی تب تک کوئی نیا علاقہ فتح کرنے کےلیے آگے نہ بڑھا جاتا، تو ایسی خطرناک صورتحال کے یکلخت سامنے آجانے کی نوبت ہی نہ آتی! جبکہ یہاں تو معاملہ ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا تھا! ایسا خطرناک رِسک risk!
ادھر توسیعِ اسلام کی یہ تیزرفتاری ملاحظہ فرمائیے: ثقیف کے لوگوں نے اسلام قبول کرنے کےلیے یہ شرط رکھی کہ ان کو جہاد اور زکات سے چھوٹ دے دی جائے، تو نبیﷺ کی طرف سے ان کی یہ شرط قبول کر لی گئی، البتہ فرمایا: یہ اسلام قبول کرلیں، تو زکات بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔ (سنن ابو داود 3025، صححہ الالبانی)۔ چھوٹ دینے کے ایسے ہی کچھ مزید واقعات بھی ہمیں حدیث و سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں۔
اِس توسیعِ اسلام میں پس ایک ’’برق رفتاری‘‘ اور معاشرے کو مجموعی طور پر ہی اسلام کے زیرنگیں لے آنا، اور بقیہ اشیاء اقتدار کے زیرتاثیر ان کے نفوس میں اتارنے ’وقت‘ اور ’ماحول‘ کے فیکٹر کےلیے رکھ دینا ایک حکمت عملی کے طور پر یقیناً نظر آتی ہے۔ پھر ’وقت‘ اور ’ماحول‘ کے اِس فیکٹر نے، جو ظاہر ہے ’’اقتدار‘‘ پر ہی بنا کرتا تھا، اپنے حصے کا کام کر کے دکھا بھی دیا۔
یوٹوپیا ذہن میں یہاں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ شروع سالوں میں کوالٹی quality پر جو زور رہا وہ آخری سالوں میں کوانٹٹی quantity پر کیوں چلا گیا؟!
یقیناً اللہ کے رسولﷺ نے جو کیا وہ وحی کی راہنمائی میں کیا۔ لہٰذا اس پر ہمیں معاذاللہ کوئی سوال نہیں اٹھانا؛ صرف اِس واقعہ کے پیچھے کارفرما حکمتیں تلاش کرنی ہیں۔
حدیبیہ، جسے قرآن مجید میں ’’فتحِ مبین‘‘ کہا گیا ہے، رسول اللہﷺ کی تحریکی مساعی اور توسیع اسلام میں ایک یکسر نیا موڑturning point گنا جاتا ہے۔اس واقعہ کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ کی نظر جزیرۂ عرب سے گزر کر روم اور فارس پر جا ٹکی تھی؛ اور وہ بھی اِس پہلو سے کہ یہ وقت کی سپر طاقتیں تھیں۔ بےشک پورا جزیرۂ عرب ابھی مفتوح ہونے سے پڑا تھا؛ مگر اسلامی قلمرو کو ایک عظیم ایمپائر میں ڈھال دینے کے خدوخال رسول اللہﷺ کی اپنی پیش قدمی میں دن بدن نمایاں ہونے لگے تھے۔ پچھلی تمام رسالتوں کے برعکس؛ یہ ایک عالمی رسالت ہے اور اس کو بوجوہ پچھلی امتوں سے مختلف ہونا؛ اور جلد از جلد ایک عالمی فنامنا global phenomenon کے طور پر سامنے آنا تھا۔ لہٰذا؛ اسے کم از کم بھی روم اور فارس کی ٹکر کی ایک قوت کے طور پر پیش کر جانا ہمیں رسول اللہﷺ کے آخری سالوں کی حکمت عملی میں خاصا نمایاں نظر آتا ہے۔
یوں بھی؛ اگر ہم پر وہ ’’سطح‘‘ واضح ہے جو اسلام کو انسانی زندگی میں روپزیر کرانے کےلیے مطلوب ہے… تو یہ ’’کوالٹی‘‘ ایک مخصوص ’’کوانٹٹی‘‘ کو پہنچے بغیر روپزیر ہی نہیں ہوتی۔ یہ اسلام اگر محض کچھ ’انفرادی اعمال‘ کا نام ہے پھر تو یوٹوپیا حضرات کی بات میں ضرور کچھ وزن ہے کہ کیوں نہ ایک علاقے کے لوگوں پر پوری محنت کر لینے کےبعد ہی ایک نئے علاقے کو ہاتھ لگایا جائے؛ اگرچہ یہ محنت کتنا ہی وقت لے؛ آخر جلدی کس بات کی! لیکن اگر اسلام کچھ ’انفرادی اعمال‘ سے بڑی ایک حقیقت ہے… تو جب تک وہ اپنے اردگرد شرک کی بعض بڑی بڑی ایمپائرز کو تہ خاک نہ کردے اور زندگی کا دھارا ایک بہت بڑی سطح پر خدائے واحد کی اطاعت کے رخ پر پھیر نہ دے تب تک ’افراد‘ کا خدا کی اطاعت کر لینا بھی وہ معنیٰ اور تاثیر نہیں رکھتا جو اِس دین اور اِس رسالت کو ان کی ’’عبادت‘‘ سے مطلوب ہے۔ تب تلک ’افراد‘ کا خدا کی عبادت کرنا بھی ایک بہت ہی نحیف و لاغر مفہوم رکھے گا۔ اور یہ تو معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ اور صحابہ اِس دین کو جس مفہوم اور جس مزاج پر چھوڑ جائیں گے وہی قیامت تک اِس دین کا صحیح مفہوم اور صحیح مزاج باور ہوتا رہے گا۔
لہٰذا ایک عزت اور تمکنت رکھنے والا اسلام جو اپنے آس پاس شرک کی کسی ایمپائر کو برداشت نہیں کرتا، جو زندگی کے پورے دھارے کو خدا کی عبادت اور اطاعت میں دینے پر یقین رکھتا ہے، اور جو خدا کی عبادت اور اطاعت پر قائم خود ایک بہت بڑی ایمپائر ہے، جس کی نظر مشرق تا مغرب زمین کے ہر افق پر ہے… ایک ایسا عزت اور تمکنت رکھنے والا اسلام اپنے پیچھے چھوڑ کر جانابجائےخود ایک ’’کوالٹی‘‘ کا مسئلہ تھا نہ کہ ’کوانٹٹی‘ کا۔
یوں ہم دیکھتے ہیں رسول اللہﷺ اور خلفاء کے ہاتھوں انجام پانے والا اسلامی عمل:
1 ایک جانب تیزرفتار بھی اتنا ہے کہ بادئ النظر اس میں بہت بڑےبڑے رِسکrisk لیے گئے معلوم ہوتے ہیں۔بظاہر یہاں تک دکھائی دیتا ہے گویا ہر حال میں ’’توسیع‘‘ کرنا مطلوب ہے! مگر جیساکہ ہم نے پیچھے کہا، یہ بھی باقاعدہ مطلوب ہے اگرچہ یوٹوپیا ذہن کو یہ کچھ اوپرا ہی لگے۔ اسلام کے اپنی حقیقت اور مزاج کو برقرار رکھنے کے حق میں یہ چیز بھی مطلوب ہے۔ جس کےلیے ضروری ہے، ’’عوام الناس‘‘ کے آگے ابتداءً اسلام کے کچھ موٹےموٹے ہی تقاضے رکھے جائیں؛ تاکہ معاشرے کی زیادہ سے زیادہ زمین ایک بار اسلام کے ہاتھ میں آجائے اور اسلام خاصی مستحکم پوزیشن میں آکر، پوری تمکنت اور مقدرت کے ساتھ ان کے ذہنی سانچوں اور ان کی زندگی کے معیارات کی تشکیل کرے؛ اور ان کےلیے سماجی رجحانات کی تخلیق کرے۔
2 دوسری جانب یہ نہایت گہرا اور بلندوبالا چوٹیاں سر کرنے والا ایک عمل ہے۔ ایک ایسی جمعیت جس کی سیرت اور کردار رشکِ خلائق ہوتی ہے اور جوکہ وسیع تر معاشرے کے حق میں ایک ایسے اسوہ اور نمونہ کی صورت پیش کرتی ہے؛ کہ تھوڑے ہی وقت کے اندر یہ ان معاشروں کی بھی کایا پلٹ کر رکھ دیتی ہے۔
تیسری جانب، یہ تقسیم فطری اس قدر ہے کہ:
نہ انسانی کمزوریوں کو یہاں ایک لحظہ نظرانداز کیا گیا ہوتا ہے۔ اور
نہ انسانی صلاحیتوں کو ایک ذرہ ضائع ہونے دیا گیا ہوتا ہے۔
معاشروں کو سر تا پیر بدل جانے کےلیے طبعی انداز میں جو ایک وقت درکار ہوتا ہے وہ بھی یہاں دے دیا جاتا ہے، اور
معاشرے کو لے کر چلنے اور اس میں تبدیلی برپا کرنے والوں کی تولیدreproduction میں بھی کوئی ڈھیل نہیں برتی جاتی۔
یہ دونوں کام بیک وقت انجام پاتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو پہلے اور دوسرے کو بعد میں انجام دینے سے؛ کوئی ایک بھی انجام نہیں پاتا!
ہاں ’’بنیادی جمعیت‘‘ کی تیاری البتہ ابتداء میں کچھ وقت لگا کر، پوری یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ کرنا ہوتی ہے۔ یہ کام ہم دیکھتے ہیں، رسول اللہﷺ نے نبوت کے ابتدائی سالوں میں پوری محنت، توجہ اور وقت صرف کرکے انجام دیا۔ جن لوگوں کو ابتدائی سالوں اور اختتامی سالوں کے مابین یہ فرق اس طرح نظر آتا ہے گویا توجہ کا محور ’’کوالٹی‘‘ سے ’’کوانٹٹی‘‘ پر شفٹ کر گیا… ان کی نظر سے اقامتِ دین کی یہ بنیادی حقیقت ہی دراصل اوجھل ہے۔ ابتدائی سالوں میں ’’بنیادی جمعیت‘‘ کی تیاری عمل میں لائی جا رہی تھی۔ بعد کے سالوں میں یہ بنیادی جمعیت میدان میں اتر آئی اور اس کے ذریعے معاشرے کو ہاتھ میں لینے کا عمل شروع ہو گیا تھا؛ لہٰذا وہ خدشے اب غیرضروری ٹھہرے جو ابتداء میں لازماً مدنظر ہوتے ہیں؛ اور جوکہ بعد میں بھی ’’عَلم تھام رکھنے والوں‘‘ کے حق میں مدنظر ہی رکھے جاتے ہیں۔ اِس ’’بنیادی جمعیت‘‘ نے بعدازاں کیسےکیسے کارنامے سرانجام دیے، یہاں تک کہ کچھ غیرمعمولی بحرانوں کے وقت کیسی کیسی قربانیاں اور کیسے کیسے ’’کومپرومائز‘‘ compromise کر کے اسلامی عمل کی حفاظت کی اور انسانی بستیوں کو خدائے واحد کی عبادت کے بندھن میں باندھ کر رکھا، یہ چیز جاننے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
استفادہ تحریر حامد کمال الدین، ایقاظ

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *