مذہب مخالف نفسیاتی استدلالات کا جائزہ

11150150_1623028517933774_3407642058672736674_n

فرائڈ لکھتا ہے کہ بچپن میں انسان کے لاشعور میں کچھ ایسی چیزیں بیٹھ جاتی ہیں ‘ جو بعد میں غیر عقلی رویے کا باعث بنتی ہیں ، یہی صورت مذہبی عقائد کی ہے ، مثلا دوسری دنیا اور جنت دوزخ کا تصور دراصل ان آرزووں کی صدائے بازگشت ہے جو بچپن میں آدمی کے ذہن میں پیدا ہوئیں مگر حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے پوری نہیں ہوئیں اور دب کر لاشعور میں باقی رہ گئیں ۔ بعد کو لاشعور نے اپنی تسکین کے لیے ایک ایسی دنیا فرض کر لی جہاں وہ اپنی آرزووں کی تکمیل کرسکے گا، بالکل اسی طرح بچپن کی بہت سی باتیں جو لاشعور میں تہ نشین ہوکر بظاہر حافظہ سے نکل گئیں تھیں ‘ وہ غیر معمولی حالات مثلا جنون یا ہسٹریا میں یکایک زبان پر جاری ہوگئیں تو سمجھ لیا کہ یہ کوئی ماورائی طاقت ہے جو انسان کی زبان سے کلام کررہی ہے۔
فرائڈ کا یہ کہنا خدا اور دوسری دنیا کا تصور کوئی حقیقی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی شخصیت اور انسانی آرزؤں کو کائناتی سطح پر قیاس کرنا ہے’ہمارے لیے ناقابل تصور ہے کہ اس میں استدلال کا پہلو کیا ہے ؟کس بنیاد پر یہ فرض کیا گیا ہے ؟اس کے جواب میں اگر ہم کہیں کہ فی الواقع انسانی شخصیت اور انسانی آرزوئیں کائناتی سطح پر موجود ہیں تو مجھے نہیں معلوم کہ مخالفین کے پاس وہ کون سی حقیقی معلومات ہیں جن کی بنیاد پر وہ اس کی تردید کر سکیں گے۔
جب ایک ناقابل مشاہدہ ایٹم میں وہ نظام پایا جاتا ہے جو شمسی نظام کی سطح پر اربوں میل کے دائرے میں گردش کر رہا ہے پھر وہ شعور جس کا ہم انسان کی صورت میں تجربہ کر رہے ہیں وہ اگر کائناتی سطح پر زیادہ مکمل حالت میں موجود ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے اسی طرح ہمارا ضمیر اور ہماری فطرت جس ارتقایا فتہ دنیا کو چاہتے ہیں وہ اگر ایک ایسی دنیا کی باز گشت ہو جوفی الواقع کائنات کے پردہ میں موجود ہے تو اس میں آخر استحالہ کا کیا پہلو ہے۔؟
الف۔ علمائے نفسیات کا یہ کہنا بجا ہے خود صحیح ہے کہ بچپن میں بعض اوقات ایسی باتیں ذہن میں پڑجاتی ہیں جو بعد کو غیر معمولی شکل میں ظاہر ہو تی ہیں مگر اس سے یہ استدلال کرنا کہ انسان کی یہی وہ خصوصیت ہے جس نے مذہب کو پیدا کیا بالکل بے بنیاد قیاس ہے ۔یہ ایک معمولی سا واقعہ سے غیر معمولی نتیجہ اخذ کرنا ہے یہ ایسی ہی بات ہے جیسے میں کسی کمہار کو مٹی کی مورت بنا تے ہوئے دیکھوں تو پکارا ٹھوں کہ بس یہی وہ شخص ہے جو ذی روح انسان کا خالق ہے ۔
جدید طرزِ فکر کی یہ عام کمزوری ہے کہ وہ معمولی واقعہ سے غیر معمولی استدلال کرتا ہے حالانکہ منطقی اعتبار سے اس استدلال میں کوئی وزن نہیں اگر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص لا شعور میں دبے ہو ئے خیالات کے تحت کبھی غیر معمولی باتیں بڑ بڑانے لگتا ہے تو اس سے یہ کہاں ثابت ہو گیا کہ انبیاء کی زبان سے کائنات کے جس علم کا انکشاف ہوا ہے وہ بھی اسی قسم کی ایک بڑ بڑاہٹ ہے پہلے واقعہ کو تسلیم کرتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے دوسرے واقعہ کے بارے میں استدلال کرنا ایک غیر علمی اور غیر منطقی روز کا مظاہرہ کرنا ہے ۔یہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ توجیہہ کرنے والے کے پاس نبی کے غیرمعمولی کلام کو سمجھنے کے لئے کوئی معیار موجود نہیں تھا اس کو ایک ہی بات معلوم تھی یہ کہ بعض مرتبہ کوئی شخص خواب یا جنون بے ہوشی کی حالت میں کچھ ایسی باتیں زبان سے نکالنے لگتا ہے جو عام طور پر ہوش کی حالت میں کسی کی زبان سے ادا نہیں ہوتیں اس نے فوراً کہہ دیا کہ بس یہی وہ چیز ہے جو مذہبی قسم کی باتوں کی ذمہ دار ہے۔۔!
حالانکہ کسی کے پاس حقیقت کو نا پنے کا ایک ہی معیار ہو تو اس سے یہ ثابت نہیں ہو تا کہ بطور واقعہ بھی حقیقت کو نا پنے کا ایک ہی معیار ہو گا۔
فرض کیجئے دور کے کسی سیارہ سے ایک ایسی مخلوق زمین پر اترتی ہے جو سنتی تو ہے مگر بولنا نہیں جانتی وہ صرف سماعت کی صفت سے آشنا ہے تکلم کی صفت کی اسے کوئی خبر نہیں ہے وہ انسان کی گفتگو اور تقریریں سن کر یہ تحقیق شروع کرتی ہے کہ ”آواز“ کیا ہے اور کہاں سے آتی ہے اس تحقیق کے دوران اس کے سامنے یہ منظر آتا ہے کہ درخت کی دو شاخیں جو باہم ملی ہوئیں تھیں اتفاقا ہوا چلی اور رگڑ سے ان میں آواز نکلنے لگی پھر جب ہوا رکی تو آواز بند ہو گئی یہ واقعہ بار بار اس کے سامنے آتا ہے اب ان میں کا ایک ماہر بغور اس کا مطالعہ کرنے کے بعد اعلان کرتا ہے کہ کلام انسانی کا راز معلوم ہو گیا اصل بات یہ ہے کہ انسان کے منہ میں نیچے اور اوپر کے جبڑوں میں دانت کی موجود گی اس کا سبب ہے جب یہ نیچے اوپر کے دانت باہم رگڑ کھارت ہیں تو ان سے آواز نکلتی ہے اور اسی کو کلام کہا جاتا ہے۔ دو چیزوں کی رگڑ سے ایک قسم کی آواز پیدا ہونا بجارہے خود ایک واقعہ ہے مگر اس واقہ سے کلام انسانی کی تشریح کرنا جس طرح صحیح نہیں ہے اسی طرح غیر معلولی حالات میں لا شعور سے نکلی ہوئی باتوں سے کلام نبوت کی تشریح نہیں کی جاسکتی ۔
ب۔اس استدلال کا دوسرا حصہ پہلو یہ ہے کہ لاشعور میں خیالات دبا دیئے جاتے ہیں وہ اکثر اوقات ایسی ناپسندیدہ خواہشیں ہوتیں ہیں جو خاندان اور سماج کے خوف سے پوری نہیں ہوسکیں مثلاً کسی کے اندر اپنی بہن یا لڑکی کے ساتھ جنسی جذبہ پیدا ہو تو وہ اس خیال سے اسے دبا دیتا ہے کہ اس کا ظاہر کرنا رسوائی کا باعث ہو گا اگر ایسا نہ ہو تا تو وہ شاید اس کے ساتھ شادی کرنا پسند کرتا کسی کو قتل کرنے کا خیال ہو تو آدمی اس کو اس ڈر سے اپنے ذہن میں دفن کر دیتا ہے کہ اس کو جیل جانا پڑے گا وغیرہ وغیرہ ۔
گویا لا شعور میں دبی ہوئی خواہشیں اکثر اوقات وہ برائیاں ہوتی ہیں جو ماحول کے خؤف سے بروئے کار نہ آسکیں اب اگر ایسے کسی شخص میں ذہنی اختلال ”مینٹل ڈسارڈر“ پیدا ہو اور اس کا لا شعور ظاہر ہونا شروع کرے تو اس سے کیا ظاہر ہو تا ہے ؟ظاہر ہے کہ وہی برے جذبات اور غلط خواہشیں اس کی زبان سے نکلیں گی جو اس کے لا شعور میں بھری ہوئی تھیں وہ شرکا پیغمبر ہو گا خیر کا پیغمبر نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس انبیاء کی زبان سے جس مذہب کا ظہور ہوا ہے وہ سرتا پا خیر اور پاکیزگی ہے ان کا کلام اور ان کی زندگی خیر اور پاگیزگی کا اتنا اعلٰی نمونہ ہے کہ انبیاء کے سوا کہیں اس کی مثال نہیں ملتی یہی نہیں بلکہ ان کے خیالات میں اتنی کشش ہوتی ہے کہ وہی سماج جس کے خوف سے انہوں نے کبھی اپنے خیالات اپنے ذہن میں چھپا لئے تھے وہ اس پر دل و جان سے فریفتہ وہ جاتا ہے اور صدیوں پر صدیاں گزر جاتی ہیں پھر بھی انہیں نہیں چھوڑتا۔
ج۔ نفسیاتی نقطہ نظر سے انسان کا لاشعور اصلاً خلا ہے اس میں پہلے سے کوئی چیز موجود نہیں ہوتی بلکہ شعور کی راہ سے گز ر پر پہنچتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ لا شعور صرف انہیں واردات اور معلومات کا گودام ہے جو کبھی انسان کے علم میں آیا ہو وہ نا معلوم حقائق کا خزانہ نہیں بن سکتا لیکن یہ حیرت انگیز بات ہے کہ انبیاء کی زبان سے جس مذہب کا اعلان ہوا ہے وہ ایسی حقیقتوں پر مشتمل ہے جوو قتی نہیں دائمی ہیں وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو نہ تو انہیں پہلے سے معلوم تھیں نہ ان کے وقت تک پوری نسل انسانی کو معلوم ہو سکی تھیں ،اگر ان حقائق کا سرچشمہ لا شعور ہوتا تو وہ ہرگز ایسے نامعلوم حقائق کا اظہا رنہیں کر سکتا تھا۔
انبیا ء کی زبان سے جس مذہب کا اظہار ہو ا ہے اس میں فلکیات طبعیات حیاتیات نفسیات تاریخ تمدن سیاست معاشرت معاشرت غرض سارے ہی علوم کسی نہ کسی اعتبار سے مس ہوتے ہیں ایسا ہمہ گیر کلام لاشعور تو درکنار شعور کے تحت بھی اب تک کسی انسان سے ظاہر نہیں ہوا جس میں غلط فیصلے خام انداز ے غیر واقعی بیانات اور ناقص دلائل موجود نہ ہوں مگر مذہبی کلام (قرآن)حیرت انگیز طور پر اس قسم کے تمام اغلاط سے بالکل پاک ہے۔ وہ اپنی دعوت اپنے استدلال اور اپنے فیصلوں میں تمام انسانی علوم کو چھوتا ہے مگر سیکڑوں ہزاروں برس گزر جاتے ہیں اگلی نسلوں کی تحقیق پچھلی نسلوں کے خیالات کو بالکل بے بنیاد ثابت کر دیتی ہے مگر مذہب کی صداقت پھر بھی باقی رہتی ہے آج تک حقیقی معنوں میں اس کے اندر کسی غلطی کی نشاندہی نہ ہو سکی اگر کسی نے ایسی جرأت کی ہے تو وہ خود ہی غلط کار ثابت ہوا ہے۔

 

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *