فلسفیانہ طریق استدلال اور مذہب

10006638_1620938164809476_3272051461294417378_n

ایک مشہور دعوی:
“مذہب کے جو دعوے ہیں ان کی بنیاد کسی دلیل پر قائم نہیں ہے مذہب خالص اعتقادی چیز ہے۔ مذہب کی صداقتوں کو اس طور پر خارج میں (demonstrate) نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لئے مذہب صرف ایک دعویٰ یا عقیدہ ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت حاصل نہیں ہے۔”
اس میں جس بنیاد پر مذہب کو رد کیا گیا ہے وہ ‘مشاہدہ’ ہے ۔ کہ چونکہ مذہبی نظریات کا مشاہدے سے کوئی تعلق نہیں اس لیے قابل قبول بھی نہیں ۔ جبکہ دوسری طرف جس کو مذہب کے مقابلے میں پیش کیا جاتا ہے یعنی سائنس اسے دیکھا جائے تو ادھر بھی کئی ایسے نظریات تسلیم شدہ جو کبھی مشاہدہ یا تجربہ میں نہیں آتے۔ بلکہ بعض خارجی تجربات یا مشاہدات کی بنا پر کچھ نظریات قائم کر لئے گئے ہیں ۔ مثلا بجلی کو ہی دیکھ لیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ENERGY MEANS FLLOW OF ELECTRON
یہ نہیں کہ کسی نے بجلی کے کسی تار میں خوردبین سے الیکٹران کو دوڑتے ہوئے دیکھ لیا ہے۔ یہ درحقیقت اس مشہور واقعہ کی ایک توجیہہ ہوتی ہے کہ جب بٹن دباتے ہیں تو کیوں بلب جل جاتا ہے پنکھا گھومنے لگتا ہے کارخانے متحرک ہو جاتے ہیں، اسی طرح ٹیلیفون نمبر جو بلا شبہ صاحب ٹیلی فون سے متعلق ہے مگر وہ خود صاحب ٹیلی فون نہیں ہے۔ گویا یہاں بھی سائنس داں کے مشاہدہ یا تجربہ کو جو چیز اصل حقیقت سے جوڑتی ہے وہ صرف ایک ایسی چیز ہے جو اس کے ذہن میں ہے۔ یعنی استنباط نہ کہ خود مشاہدہ یا تجربہ ۔
گویا ریسرچ میں معیار صرف تجربہ یا مشاہد ہ نہیں بلکہ اور بھی کچھ چیزیں ہیں جن سے حقیقت کا پتا لگا جاتا ہے۔ان کو دیکھتے ہوئے جو جدید معیار استدلال سامنے آتا ہے وہ یوں ہے
۱۔ جو چیز زیر بحث ہے خود وہ چیز براہ راست ہمارے اپنے تجربے او مشاہدے میں آجائے۔
۲۔ دوسرا درجہ وہ ہے کہ جب کہ دعویٰ پورا کا پورا تو نظر نہ آئے مگر اس کے کچھ اجزاء دکھائی دے رہے ہوں۔
۳۔ وہ استدلال بھی صحیح معیار ہے جس میں اگرچہ اصل حقیقت کو براہ راست دکھایا نا گیا ہو مگر اسکے کچھ ایسے پہلو ہمارے تجربہ میں آتے ہوں جن سے قیاس کیا جاسکے کہ ایسی کوئی حقیقت یہاں پائی جارہی ہے۔ معیار استدلال میں اس تیسرے اضافہ کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ وہ معنی خیز حقائق دسترس میں آجاسکے جن کا دوسرا نام جدید طبعیات یا نیو کلیر سائنس ہے۔
۴۔ وہ مشاہدات و تجربات اصل دعویٰ کے حق میں جائز قرینہ پیدا کرتے ہوں یا ان کی توجیہہ کے لئے کوئی بہتر تصور۔ جو چیز اس معیار پر واقعی طور پر پوری اترے، اس کو بھی ایک ثابت شدہ چیز سمجھا جائے گا۔
مذہب کا مقدمہ بھی اس تیسرے اور چوتھے پوائنٹ سے متعلق ہے۔اس کی وضاحت کے لئے میں یہاں دو مثالیں دینا چاہتا ہوں۔ ایک منفی اور دوسری مثبت۔
منفی مثال کے ذیل میں جدید ذہن کے خلاف ِمذہب نظریات کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ مذہب کے سلسلہ میں جدید ذہن کا کہنا صرف یہ نہیں ہے کہ وہ ہمارے لئے قابل فہم نہیں ہے۔ بلکہ اس سے آگے بڑ کر خود مذہب کی واقعیت کے بارے میں اس نے ایک بیان دے دیا ہے۔ اور وہ یہ کہ مذہب ایک سراسر غٖلط اور بے بنیاد چیز ہے۔
مذہب کے خلاف دور جدید کا مقدمہ بیک وقت دو متضاد پہلوؤں کا حامل ہے۔ ایک طرف جدید ذہن کا کہنا ہے کہ مذہب چونکہ ایسے عقائد کے مجموعہ کا نام ہے جس کا مظاہرہ ممکن نہیں ہے، اس لئے وہ شخصی عقیدہ کی چیز ہے۔ دوسروں سے اس کے ماننے کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ دوسری طرف فلسفیوں اور سائنس دانوں کی ایک فوج یہ بھی کہ رہی ہے کہ جدید دریافتوں نے مذہبی عقائد کو باطل ثابت کر دیا ہے۔
یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ کیونکہ مذہب اگر ایک ایسے دائرے کی چیز ہے جس کو دوسرے شخص کے سامنے علمی طور پر ثابت نہیں کیا جاسکتا ، تو جس طرح اس کا ثابت کرنا ناممکن ہو گا، اسی طرح اس کا رد کرنا بھی ناممکن ہونا چاہئے ۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو دور جدید کے موقف کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم مذہب کو علمی طور پر مدلل کرنا چاہیں تو وہ کہیں گے کہ تم فضول کوشش کر رہے ہو کیونکہ مذہب ثابت کرنے کی چیز ہی نہیں۔ لیکن جب وہ خود مذہب کے خلاف دلیل قائم کرنا چاہیں تو مذہب ایک ایسے دائرے کی چیز بن جاتا ہے جہاں علمی دلائل قائم کئے جاسکتے ہوں۔
اس تضاد کی وجہ حقیقۃ یہ نہیں ہے کہ مذہب واقعی ایسے دائرہ سے تعلق رکھتا ہے جہاں دلائل قائم نہ کئے جاسکتے ہوں۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مخالفین مذہب یہ نہیں چاہتے کہ جس اصول استدلال کے تحت انہوں نے مذہب کا رد کرنا چاہا ہے اسی اصول استدلال کو اہل مذاہب اس کے اثبات کے لئے استعمال کریں، کیونکہ اگر ایسا ہوا تو انہیں مذہب کی معقولیت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی عدالت میں سرکاری وکیل تو اپنا فرج انجام دے رہا ہو مگر ملزم کواپنا وکیل رکھنے کی اجازت نہ ہو ۔ سرکاری وکیل کا ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اس اصول کو تسلیم کرتی ہے کہ مقدمہ کی وضاحت کے لئے وکیل ہونا چاہئے ۔ مگر اس اصول کو جب ملزم استعمال کرنا چاہے تو حکومت اس کی مخالف ہو جاتی ہے کیونکہ اس سے اندیشہ ہوتا ہےکہ اس فائدہ کہیں ملزم کو نہ پہنچ جائے۔
اگر اصول یہ ہے کہ حقیقت صرف مشاہدہ اور تجربہ سے حاصل شدہ چیز کا نام ہے تو مذہب کے مخالفین کا موقف اسی وقت صحیح ہو سکتا ہے جب کہ انہوں نے مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعہ براہ راست طور پر یہ معلوم کر لیا ہو کہ فی الواقع مذہب کوئی چیز نہیں ہے۔ مثلاً ان کا مشاہدہ اس حد تک مکمل ہو چکا ہو کہ وہ کہہ سکیں کہ عالم کے اندر اور عالم کے باہر جو کچھ ہے وہ سب ہم آخری حد تک دیکھ چکے ہیں اور اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہاں نہ خدا ہے، نہ فرشتے ، نہ جنت نہ دوزخ بالکل اسی طرح جیسے ۱۰ فٹ چوڑے اور ۱۰ فٹ لمبے ایک خالی کمرے کے اندر ایک بینا شخص ہو تو وہ اس میں نظر دوڑا کر یہ کہنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے کہ اس کے اندر کوئی ہاتھی یا شیر موجود نہیں ہے۔
ظاہر ہے کہ مخالفین مذہب اس موقف میں نہیں ہیں۔ پھر استدلال کا وہ کون سا طریقہ ہے جس سے انہوں نے مذہب کے خلاف مواد حاصل کیا ہے۔ یہ مذہب کا براہ راست مشاہدہ نہیں بلکہ بعض مشاہدات کی توجیہہ ہے۔ (مثال عالم افلاک میں باہمی کشش کو دریافت کرنے کے بعد یہ کہنا کہ کوئی خدا نہیں ہے جو کائنا ت کو سنبھالے ہوئے ہو۔ کیونکہ قانون کشش اس کی توجہہ کے لئے موجود ہے) ظاہر ہے کہ یہاں جس مشاہدہ کی بنیاد پر دلیل قائم کی گئی ہے ، وہ خود خدا کا عدم وجود نہیں ہے یعنی کسی دور بین نے آخری طور پر ہمیں یہ خبر نہیں دی ہے کہ یہ کائنات خدا سے خالی ہے بلکہ اس خارجی مشاہدہ کی بنیاد پر یہ استنباط کیا گیا ہے کہ خدا کو نہیں ہو نا چاہئے گویا مشاہدہ یا تجربہ خود عدم وجود کا نہیں ہوا بلکہ ایک اور واقعہ کا ہوا ہے جس سے عدم وجود کو قیاس کر لیا گیا ہے۔
یہ اصول استدلال جس کو موجودہ زمانہ میں مذہب کے رو کے لئے صحیح سمجھا گیا ہے وہی مذہب کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت ہے ۔غلطی اصول استدلال میں نہیں بلکہ اصول استدلال کے انطباق میں ہے۔ اگر اس کو صحیح طور پر منطبق کیا جائے تو نتیجہ بالکل بر عکس بر آمد ہو گا۔
اوپر ہم نے چوتھے معیار استدلال کی منفی مثال دی تھی۔ مثبت مثال کے ذیل میں عضو یاتی ارتقاء کو پیش کیا جاسکتا ہے جس کو جدید دنیا میں اس طرح تسلیم کر لیا گیا ہے کہ آج علم کی تمام شاخوں میں اس کے اثرات پھیل چکے ہیں۔ نظریہ ارتقا کی صداقت کا ثبوت پہلے اور دوسرے و تیسرے معیار کے مطابق حاصل نہیں ہوتا ۔ اس کی صداقت کا واحد ثبوت صرف اس معیار استدلال میں ملتا ہے نمبر ۴ کے تحت بیان کیا گیا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ عضو یاتی ارتقا ء جدید دنیا کے لئے ایک سائنٹفک حقیقت ہے۔نظریہ ارتقا کے حق میں وہ کون سے دلائل فراہم ہوئے ہیں جن کی وجہ سے دور جدید کے اہل علم نے اس کی صداقت تسلیم کر لیا ہے۔ یہاں میں اس کے چند پہلوؤں کا ذکر کروں گا تاکہ اندازہ ہو سکے کہ ان دلائل کی نوعیت کیا ہے۔
۱۔ حیوانات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان میں ادنیٰ اور اعلٰی اقسام پائی جاتی ہیں۔ واحد الخلیہ جانوروں سے لے کر اربوں خلیات رکھنے والے جانور اسی طرح صلاحتیوں کے اعتبار سے حیوانات میں ادنٰی اور اعلٰی درجات کا فرق ہے۔
۲۔ اس ابتدائی مشاہدہ کو جب اس کہانی کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے جو زمین کی تہوں میں نقش یے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس فرق میں باعتبار زمانہ ایک ارتقائی ترتیب ہے ۔ کرڑوں برس پہلے زمین پر زندگی کی جو شکلیں اباد تھیں اس کے پنجر قدرتی عمل کے تحت پتھرائی ہوئی حالت میں اب بھی زمین کے نیچے دبے ہوئے ہیں جن کو فاصل کہا جاتا ہے۔ یہ فاصل بتاتے ہیں کہ زمین پر زیادہ قدیم دور میں حیوانات کی جو قسمیں یہاں آباد تھیں وہ سادہ قسمیں تھیں اور اس کے بعد دھیرے د ھیرے زیادہ پیچیدہ اور ترقی یافتہ قسمیں آباد ہوتی ترہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی زندگی کی موجودہ قسمیں سب کی سب بیک وقت وجود میں نہیں آئیں بلکہ سادہ قسمیں وجود میں آئیں اور اس کے بعد دھیرے دھیرے ترقی یافتہ قسمیں۔
۳۔ اس کے بعد ایک اور حقیقت ہمارے آتی ہے وہ یہ کہ مختلف حیوانات کے درمیان نوعی اختلاف کے باوجود ان کے جسمانی نظام میں بہت سی مشابہتیں پائ جاتی ہیں مثلا مچھلی چڑیے یہ ملتی جلتی ہے اور گھوڑا کا ڈھانچہ انسان کے مشابہ ہے وغیرہ وغیرہ ۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ سارے ذی حیات ایک ہی خاندان کی پیدوار ہیں اور سب کے اجداد بالاخر ایک ہی تھے۔
۴۔ ایک نوع سے دوسری نوع کیسے نکلی یہ اس وقت معلوم ہوجاتا ہے جب ہم ایک اور واقعہ کو دیکھتے ہیں۔ وہ یہ کہ ایک جانور کے بطن سے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ سب کے سب یکساں نہیں ہوتے بلکہ ان کے مختلف بچوں میں کچھ فرق ہوتا ہے ۔ یہی فرق اگلی نسلوں میں مزید ترقی کرنا ہے اور انتخاب طبعی کے عمل کے تحت آگے بڑھتا رہتا ہے۔ یہ فرق لاکھوں سال کے بعد اتنا زیادہ ہو جاتا ہے کہ ایک چھوٹی گردن والی بکری لمبی گردن والے زرافہ کی شکل اختیار کر لیتی ہے اس نظریہ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ” انیمل بیالوجی“کے مصنفین (ہالڈین اور بکسلے) نے ارتقاء کو تبدیلیوں کے انتخاب کا نام دیا ہے۔
نظریہ ارتقا کے حامیوں کے دلائل جس معیار استدلال پر اترتے ہیں وہ کون سا معیار ہے وہ وہی معیار ہے جس کو ہم نے اوپر نمبر ۴ کے تحت بیان کیا ہے یعنی دعویٰ یا اس کے اثرات کا براہ راست تجربہ ہونا۔ البتہ ایسے مشاہدات کا حاصل ہونا جن سے ان کی صداقت کا منطقی قرینہ معلوم ہوتا ہے۔
نظریہ ارتقاء کے حامی ابھی تک ان میں سے کسی چیز کا بھی مشاہدہ یا تجربہ نہیں کر سکے ہیں جن کے اوپر ان کے نظریہ کی بنیاد قائم ہے ۔ مثلاً وہ کسی لیبارٹری میں یہ نہیں دکھا سکتے کہ بے جان مادہ سے زندگی کیسے پیدا ہو جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں ان کے دعوی کی بنیاد صرف یہ ہے کہ طبعیات ریکارڈ بتانا ہے کہ وہ پہلے بے جان مادہ تھا ۔ پھر کائنات میں زندگی رینگنے لگی ۔ اس سے وہ قیاس کر لیتے ہیں کہ زندگی بے جا ن مادہ سے اسی طرح نکل آئی ہے جیسا ماں کے پیٹ سے بچہ نکلتا ہے۔ اسی طرح ایک نوع کا دوسرے نوع میں تبددیل ہونا بذات خود کوئی تجربہ اور مشاہد کی چیز نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ کسی چڑیا خانہ میں ایسے تجربات کیے جاسکیں جہاں بکری زرافہ بنتی ہوئی نظر آئے۔ بلکہ بعج خارجی مشاہدات مثلا ً مختلف انواع میں مشابہت اور ایک نسل کے کئی بچوں میں باہم فرق سے یہ قیاس کر لیا گیا ہے کہ نو عیں الگ الگ موجود میں نہیں آئیں بلکہ ہر نوع دوسری نوع سے برآمد ہوتی چلی گئی ہے ۔ اسی طرح جبلت کا ذہانت کی شکل میں ترقی کرنے کا معاملہ ہے جسکا دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان بھی حیوان ہی کی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ اس سلسلہ میں بھی ابھی تک کوئی ایسا مشاہدہ سامنے نہیں لایا جاسکا جہاں فی الواقع جبلت ذہانت میں تبدیل ہوتی نظر آرہی ہو ۔ یہ بھی محض ایک قیاس ہے جس کی بنیاد صرف ایک واقعہ پر ہے کہ ارضیاتی تحقیق میں جبلت والے جانوروں کے آثار نچلے طبقات میں ملتے ہیں اور ذہانت والے جانوروں کے آثار اوپر کے طبقات میں۔
اس قسم کے تمام دلائل کی نوعیت یہ ہے کہ دعویٰ اور دلیل کے درمیان جو ربط ہے وہ صرف قیاسی ربط ہے نہ کہ تجرباتی یا مشاہداتی ربط۔ مگر اس قسم کے دلائل کی بنیاد پر ارتقا کی بنیاد پر ارتقا کے تصور کو موجود وہ زمانہ میں ایک سائنٹفک حقیقت قرار دے دیا گیا ہے۔ گویا جدید ذہن کے نزدیک علمی حقائق کا دائرہ صرف انہیں واقعات تک محددو نہیں ہے جو براہ راست تجربے سے معلوم ہوں۔ بلکہ تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر جو منطقی قرینہ حاصل ہوتا ہے وہ بھی اتنا ہی سائنٹفک حقیقت ہو سکتا ہے جتنا وہ حقیقت جس کا یا جس کے اثرات کا براہ راست تجربہ کیا جاسکتا ہو۔
یہاں مجھے نظریہ ارتقا کی صداقت یا عدم صداقت سے بحث نہیں ہے کیونکہ یہاں جو سوال ہے وہ اصلاً معیار استدلال سے متعلق ہے اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ خواہ کوئی بھی معیار استدلال ہو اس سے ثابت کی ہوئی چیز صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی ۔
سر آرتھ کیتھ کے الفاظ میں ارتقا مذہب عقلیت کا ایک بنیادی عقیدہ ہے ایک سائنسی انسائکلو پیڈیا یں ڈار و نزم کو ایک ایسا نظریہ کہا گیا ہے جس کی بنیاد تو جیہہ بلا مشاہدہ پر قائم ہے۔
پھر ایک ایسی چیز جس کا لیبارٹری میں تجربہ نہ کیا جاسکتا ہو جو صرف عقیدہ ہو اس کو کس بنا پر علمی حقیقت سمجھا جانا ہے۔
یہ استدلال جو نظریہ ارتقا کو حقیقت قرار دینے کے لئے معیار استدلال کے اعتبار سے کافی سمجھا جاتا ہے۔ یہی استدلال بدر جہا زیادہ شدت کے ساتھ مذہب کے حق میں موجود ہے۔ اے ای مینڈر کے الفاظ جو اس نے نظریہ ارتقاء کے حق میں کہے مذہب کے لیے ذیادہ مضبوطی کےساتھ پیش کیے جاسکتے ہیں کہ:
۱۔ یہ نظریہ تمام معلوم حقیقتوں سے ہم آہنگ ہے۔
۲۔ اس نظریہ میں ان بہت سے واقعات کی تو جیہہ مل جاتی ہے جو اس کے بغیر سمجھی نہیں جاسکتی۔
۳۔ دوسرا کوئی نظریہ ابھی تک ایسا سامنے نہیں آیا جو واقعات سے اس درجہ مطابقت رکھتا ہو۔
ایسی حالت میں جدید ذہن کے پاس کوئی وجہ جواز نہیں ہے کہ وہ کیوں ارتقا کو سائنسی حقیقت قرار دیتا ہے اور مذہب کو سائنسی ذہن کیلئے ناقابل قبول ٹھہراتا ہے۔

 (مذہب اور سائنس)

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *