مذہب کیخلاف جدید سائنسی مقدمہ اور پسند نا پسند کا اثر

11148495_1623030817933544_6046069299626067015_nدھٹکر چیمبرز  نے اپنی کتاب شہادت میں اپنے ایک واقعہ کا ذکر کیا ہے جو بلا شبہ اس کی زندگی کے لئے ایک  نقطہ انقلاب بن سکتا تھا وہ اپنی چھوٹی  بچی کی طرف دیکھ رہا تھا کہ اس کی نظر بچی کے کام پر جا پڑی اور غیر شعوری طور پر  وہ اس کی ساخت کی طرف متوجہ ہو گیا اس نے اپنے جی میں سوچا یہ کتنی غیر ممکن بات ہے کہ ایسی پیچیدہ اور نازک چیز محض اتفاق سے وجود میں آجائے یقیناً یہ  پہلے سے سوچئ سمجھے نقشے کے تحت ہی ممکن ہوئی ہو گی مگر    اس نے جلد ہی اس خیال کو اپنے ذہن سے نکال دیا کیونکہ اسے احساس ہوا کہ اگر وہ اس کو ایک منصوبہ مان لے  تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہو گا کہ اسے منصوبہ سا ز (خدا) کو بھی ماننا ہو گا  اور یہ ایک ایسا تصور تھا جسے قبول کرنے کیلئے اس کا ذہن آمادہ نہیں تھا۔
اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ٹامس ڈیوڈ پارکس لکھتا ہے۔
” میں اپنے پروفیسروں اور ریسرچ کے سلسلے میں اپنے رفقاء کار میں بہت سے سائنسدانوں کے بارے میں جانتا ہوں کہ علم کیمیا اور طبعیات کے مطالعہ و تجربہ کے دوران میں انہیں بھی متعد و مرتبہ اس طرح  کے احساسات سے دو چار ہونا پڑا“۔
)The evidence of God in an expanding Universe  Edited by john clover monsma p.73-74 (
کس قدر حیرت انگیز بات ہے کہ ایک ایسا موڈ جو خدا کی رہنمائی  کی طرف اشارہ کرتا ہے وہیں سےآدمی الٹی سمت میں مڑجاتا ہے۔ ظاہر ہے اس کی وجہ کوئی علمی دریافت نہیں بلکہ محض  ذاتی پسند کو  فوقیت دینا ہے.
نظریہ ارتقا کی مثال ہمارے سامنے ہے ، اس کا تصور یک طرفہ تمام علمی شعبوں پر چھاپا جارہا ہے ہر وہ مسئلہ جس کو سمجھنے کے لئے خدا کی ضرورت تھی اس کی جگہ بے تکلف ارتقا کا ایک خو بصورت بت بنا کر رکھ دیا گیا ہے مگر دوسری طرف عضویاتی ارتقا کا نظریہ جس سے تمام ارتقائی  تصورات اخذ کئے گئے ہیں اب تک بے مشاہد اور بے دلیل ہے حتی کہ بعض  ریسرچرز نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ اس تصور کو ہم صرف اس لئے مانتے ہیں کہ اس کا کوئی بدل ہمارے پاس موجود نہیں ہے ، سر  آرتھ کیتھ نے ۱۹۵۳ء میں کہا تھا۔
“Evolution is unproved and unprovable We believe it only because the only alternative is special creation and that is unthinkable”
Islamic Thought, dec 1961)
یعنی  ارتقاء ایک غیر ثابت شدہ نظریہ  ہے اور وہ ثابت بھی نہیں کیا جاسکتا ہم اس پر صرف اس لئے یقین کرتے ہیں کہ اس کا واحد بدل تخلیق کا عقیدہ ہے جو سائنسی طور پر ناقابل فہم ہے۔ گویا سائنسداں ارتقاء کے نظریے کی صداقت پر صرف اس لئے متفق ہو گئے ہیں کہ اگر وہ اسے چھوڑ دیں تو لازمی طور پر انہیں خدا کے تصور  پر ایمان لانا پڑے گا۔
ظاہر ہے کہ جو لوگ مادی طرز تعبیر کے حق میں اس قسم کے تعصبات رکھتے ہوں  وہ انتہائی کھلے ہوئے واقعات سے بھی کوئی سبق نہیں لے  سکتے تھے اور ہمیں اعتراف ہے کہ ایسے لوگوں کو مطمئن کرنا ہمارے بس سے باہر ہے۔
اس تعصب کی بھی ایک خاص وجہ  یہ بھی ہے بقول   ایک امریکی عالم طبعیات :
”خدا پرستی کی معقولیت اور انکا ر خدا کا پھسپھا پن  بجائے خود ایک آدمی کے لئے عملاً خدا پر ستی اختیار کرنے کا سبب نہیں بن سکتا لوگوں کے دل میں یہ شبہ  چھپا ہوا ہے کہ خدا کو  ماننے کے  بعد آزادی کا خاتمہ ہو جائے گا وہ علماء جو ذہنی آزادی کو  دل و جان سے پسند کرتے ہیں آزدی کی محدودیت کا کوئی بھی تصور ان کے لئے وحشتناک ہے “۔
The Evidence Of God p.130
چنانچہ جو لین ہکسلے نے نبوت کے تصور کو نا قابل برداشت اظہار برتری قرار دیا ہے  کیونکہ کسی کو نبی ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کویہ حیثیت دی جائے کہ اس کی بات خدا کی بات ہے اور اس کو حق ہے کہ   وہ جو کچھ کہے تمام لوگ اس کو قبول کر لیں۔ لیکن جب انسان کی حیثیت یہی ہے کہ وہ خالق نہیں مخلوق ہے وہ خدا نہیں بلکہ خدا کا بندہ ہے تو اس صورت واقعہ کو کسی  خود ساختہ تصور کی بنا پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ہم حقیقت کو بدل نہیں سکتے ہم صرف اس کا اعتراف کر سکتے ہیں۔ ۔اگر تو انسان بالکل کسی کی اظہار برتری کو خاطر میں نا لاتا ہو پھر تو اس معاملے میں یہ کہا جاسکتا تھا کہ ہم  صرف انکی برتری کو قبول کیوں کریں، جب قوانین کو قبول کرنا  ہی پڑتا ہے تو  بہترین عقلمندی یہ ہے کہ جو حقیقت ہے اور سچ   ہے اسے مان لیں، نہ کہ  چند حیلوں سے اس کا  انکار کر دیں۔ حقیقت کا انکار کرکے  آدمی صرف اپنا نقصان کرتا ہے وہ حقیقت کا کچھ نہیں بگاڑتا۔
یہ امر واقعہ ہے کہ سائنس  کا آخری حقیقت کے پتہ لگانے میں بے بسی کے واضح ہوجائے کے باوجود   ، عملی طور پر منکرین خدا کے  ذہن میں کوئی نمایاں فرق پیدا نہیں ہوا.بلکہ اس کے برعکس انکارخدا کے وکیل نئے نئے ڈھنگ سے اپنے دلائل کو ترتیب دینے میں لگے ہوئے ہیں . تاریخ بے شمار مثالوں سے بھری ہوئی ہےکہ حقیقت ظاہر ہوجانے کے باوجود انسان نے محض اس لئے اس کو قبول نہیں کیا کہ تعصب اس کی اجازت نہیں دیتا تھا. یہی تعصب تھا جب انیسویں صدی کے آخر میں برلن کے پروفیسر ماکس پلانگ نے روشنی کے متعلق بعض ایسی تشریحات پیش کیں جو کائنات کے نیوٹنی تصور کو غلط ثابت کر رہی تھیں تو وقت کے ماہرین نے اس کو تسلیم نہیں کیا اور عرصہ تک اس کا مذاق اڑاتے رہے.حالانکہ آج وہ کو انٹم تھیوری کی صورت میں علم طبیعات کے اہم اصولوں میں شمار کیا جاتا ہے. اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ تعصب دوسرے لوگوں میں تو ہوسکتا ہے مگر سائنس دانوں میں نہیں ہوتا،تو اس میں ایک سائنس دان کا قول یاد دلاؤں گا ۔ڈاکٹر ہلز (A.V. Hills) لکھتے ہیں
I should be the last claim that we scienctific men, are less liableto prejudice than other educated men. Quoted by A.N Gilkes, Faith for modren man,p.109
یہ میں آخری شخص ہوں جو اس بات کا دعوی کرتا ہوں گا کہ ہم سائنس دان دوسرے تعلیم یافتہ لوگوں کے مقابلہ کم تعصب رکھنے والے ہوتے ہیں . اب ایک ایسی دنیا کی کار فرمائی ہو،یہ امید کیسی کی جاسکتی ہے کہ کوئی تصور محض اس لیے قبول کرلیا جائے کہ وہ علمی طور پر ثابت ہوگیا ہے .
تاریخ کا طویل تجربہ ہے کہ انسان کے رہنما اس کے جذبات رہے ہیں ، نہ کہ اس کی عقل . اگرچہ علمی اور منطقی طور پر عقل ہی کو بلند مقام حاصل ہے .مگر زیادہ تر ایسا ہوا ہے کہ عقل خود جذبات کی آلہ کار ررہی ہو. بہت کم ایسا ہوا کہ وہ جذبات کو اپنے قابو میں کر سکی ہو. عقل نے ہمیشہ جذبات کے حقائق میں دلائل تراشے ہیں . اور اسی طرح اپنے جذباتی رویہ کو عقلی رویہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے ،خواہ حقیقت واقعہ انسان کا ساتھ نہ دے مگر جذبات سے لپٹا رہنا وہ اپنے لئے ضروری سمجھتا ہے . ہم کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا معاملہ کسی مشین سے نہیں جو بٹن دبانے کے بعد لازما اس کے مطابق عمل ظاہر کرتی ہے ، بلکہ ہمارا مخاطب انسان ہے اور اس وقت کسی بات کو مانتا ہے جب وہ خود بھی ماننا چاہے. اگر وہ خود ماننا نہ چاہتا ہو تو کوئی دلیل محض دلیل ہونے کی حیثیت سے اسے قائل نہیں کرسکتی . دلیل کو برقی بٹن (electric switch ) کا قائم مقام نہیں بنایا جا سکتا . اور بلا شبہ انسانی تاریخ کی یہ سب سے بڑی ٹریجڈی ہے.

( مذہب اور جدید چیلنج)

فیس بک تبصرے

مذہب کیخلاف جدید سائنسی مقدمہ اور پسند نا پسند کا اثر“ پر 4 تبصرے

  1. “مذہب کیخلاف جدید سائنسی مقدمہ اور پسند نا پسند کا اثر”
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    مجھے اُمید تھی کہ آپ کوئی مثبت دلیل ہستی باری تعالیٰ کی دیں گے۔ محض دوسروں کے اقوال اور وہ بھی جبکہ کوئی سند نہیں رکھتے د ئیےہیں۔
    یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صنم کدہ ہے جہاں لا الہٰ الا اللہ

    • تحریر کا موضوع وجود باری تعالی ہوتا تو ہے ہم ضرور اس پر دلائل دیتے۔ ۔

  2. ہستیِ باری تعالی پر کاینات میں دلایل کی بھرمار ھے ،بس دیدہء بینا کی ضرورت ھے. اللہ تعالی نے بار بار اپنے بندوں کو زمین و آسمان کی خلقت اور لیل و نہار کی گردش پر غور و تدبر کرنے کی دعوت دی ھے. رھی بات ڈارونزم کی تو اس کے غلط اور بے بنیاد بلکہ تاریخِ انسانی کا سب سے بڑا فراڈ خود ساینس دانوں نے قرار دیا ھے. 20 فروری 2006 کو 514 ساینس دانوں نے اپنے دستخطوں کے ساتھ ڈارونزم کے غلط اور بے تکا ھونے کا جو اعلان کیا ھے ،اس سے ڈارون پرستوں کی آنکھیں کھل جانی چاھییں.
    برسوں فلاسفر کی چناں اور چنیں رھی
    لیکن خدا کی بات جہاں تھی،وہیں رھی
    اور:
    وہ وقت بھی آیے گا اعلان ہمارا ھے
    ھر قوم پکارے گی ،قرآن ہمارا ھے
    ان شاء اللہ
    محمد ابراھیم سجاد تیمی
    مدیر علامہ ابن باز اسلامک اسٹڈیز سنٹر
    جامعہ امام ابن تیمیہ ،بہار ،بھارت

  3. محترم منتظمین!

    السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ

    آپ حضرات کی بیش بہا کاوشیں انتہائی گراں قدر اور بہت قابلِ ستائش ہیں۔

    آج کے اس دور میں سوشل میڈیا پر الحادی پروپیگنڈا زوروں پر ہے ۔

    ہماری نئی نسل کنفیوژ ہے اور گستاخ ملحدوں کی بعید از عقل دلائل کا فوری جواب چاہتی ہے۔

    ملحدوں کی منطق اور دلائل کے جوابات کے لیے آپ کی ویب سائٹ یقینا موزوں ترین ہے۔

    اللہ ربّ العزت آپ کی مخلصانہ محنت کو قبول فرماۓ

    آمین ثم آمین ثم آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *