مذہبی اور غیر مذہبی فکر کا خلاصہ

10985191_1623030497933576_4614282229854978846_n

مذہب کی صداقت اور مخالفین مذہب کے نظریے کی غلطی اس سے بھی واضح ہے کہ مذہب کو مان کر زندگی اور کائنات کا جو نقشہ بنتا ہے اور ایک نہایت حسین و جمیل نقشہ ہے وہ انسان کے اعلٰی افکار سے اسی طرح مطابق ہے جیسے مادی کائنات ریا ضیاتی معیاروں کے عین مطابق ہے اس کے برعکس مخالف مذہب فلسفہ کے تحت جو نقشہ بنتا ہے وہ انسانی ذہن سے بالکل غیر متعلق ہے ۔یہاں میں بر ٹرینڈر سل کا ایک اقتباس نقل کروں گا
”انسان ایسے اسباب کی پیداوار ہے جن کا پہلے سے سوچا سمجھا کوئی مقصد نہیں اس کا آغاز اس کی نشوو نما اس کی تمنائیں اور اس کے اندیشے اس کی محبت اور اس کے عقائد سب محض ایٹموں کی اتفاقی ترتیب کا نتیجہ ہیں اس کی زنفی کی انتہا قبر ہے اور اس کے بعد کوئی چیز بھی اسے زندگی عطا نہیں کر سکتی قرن ہا قرن کی جدوجہد تمام قربانیاں بہترین احساسات اور عبقریت کے روش کارنامے سب نظام شمسی کے خاتمہ کے ساتھ فنا ہو جانے والی چیزیں ہیں، انسانی کامراینوں کا پورا محل ناگزیر طور پر کائنات کے ملبے کے نیچے دب کر دہ جائے گا ۔یہ باتیں اگر بالکل قطعی نہیں تو وہ حقیقت سے اتنی قریب ہیں کہ جو فلسفہ بھی اس کا انکار کرے گا وہ باقی نہیں رہ سکتا“۔
Limitations of Science p.133
یہ اقتباس گویا غیر مذہبی مادی فکر کا خلاصہ ہے اس کے مطابق ساری زندگی نہ صرف یہ کہ بالکل تیرہ تار نظر اتی ہے بلکہ اگر زندگی کی مادی تعبیر کو لیا جائے تو پھر خیر و شرکا کوئی قطعی معیار باقی نہیں رہتا ، اس کی رو سے انسانوں پر بم گرانا کوئی ظالمانہ فعل نہیں کیونکہ انسانوں کو بہرحال ایک دن مرنا ہے اس کے برعکس مذہبی فکر میں امید کی روشنی ہے اس میں زندی اور موت دونوں بامعنی نظر آنے لگتے ہیں اس میں ہمارے نفسیات کے تمام تقاضے اپنی جگہ پالیتے ہیں ایک تصور کا انسانی ذہن میں پوری طرح بیٹھ جانا یقینی طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہی وہ حقیقت ہے جس کو انسان کی فطرت تلاش کر رہی تھی اس کے بعد ہمارے پاس اس کے انکار کیلئے کوئی واقعی بنیاد باقی نہیں رہتی۔ یہاں ایک امریکی ریاضی دان Earl Chester Rex کے الفاظ نقل کرتا ہوں۔
”میں سائنس کے اس تسلیم شدہ اصول کو استعمال کرتا ہوں جو دو یا زیادہ مختلف نظریوں میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے کیلئے کام میں لایا جاتا ہے اس اصول کے مطابق اس نظریے کو اختیار کر لیا جاتا ہے جو مقابلہ نہایت سادگی کے ساتھ تمام متنازعہ فیہ مسائل کی تشریح کر دے ۔بہت عرصہ
ہوا جب یہی اصول ٹولوی کے نظریہ اور کو پرنکیس کے نظریے کے درمیان فیصلہ کرنے کیلئے استعمال کیا گیا اور اول الذکر کا دعوی تھا کہ زمین نظام شمسی کا مرکز ہے اس کے برعکس ثانی الذکر کہتا تھا کہ سورج نظام شمسی کا مرکز ہے ٹولوی کا نظریہ اس قدر پیچیدہ اور الجھا ہوا تھا کہ زمین کی مرکزیت کا نظریہ رد کر دیا گیا“۔ (The Evidence of God p.179 )
یہ استدلال بہت سے لوگوں کے لئے کافی نہیں ہو گا ان کے مادی ذہن کے چھوکھڑے میں کسی طرح خدا اور مذہب کی بات نہیں بیٹھے گی، کیونکہ ان حضرات کا یہ عدم اطمینان حقیقتامذہب کے حق میں استدلال کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی وجہ ان کا وہ متعصبانہ ذہن ہے جو مذہبی استدلال کو قبول کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہوتا ۔جیمز جنیز نے اپنی اکتاب ”پراسرار کائنات “ کے آخر میں نہایت صحیح لکھا ہے کہ :۔
”ہمارے جدید ذہن واقعات کی مادی توجیہہ کے حق میں ایک طرح کا تعصب رکھتے ہیں“۔ (Mysterious Universe p.189 )

 

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *