مذہب متعلق جدید استدلال کی بڑی غلطی

11138119_1623030111266948_7231706937101337090_n

یہ ہے مخالفین مذہب کا وہ جدید مقدمہ جسکا گزشتہ تحاریر میں ہم نے جائزہ لیا ۔ اسکی بنیاد پر دور جدید کے بہت سے لوگ عضویات کے ایک امریکی پروفیسر کے الفاظ میں کہتے ہیں :
“سائنس نے ثابت کردیا ہے کہ مذہب تاریخ کا سب سے ذیادہ دردناک اور سب سے بدترین ڈھونگ تھا “۔
(C.A. Coulson, Science and Christian Belief, Page 4))
حقیقت یہ ہے کہ مذہب کے خلاف دور جدید کا یہ پورا استدلال ایک قسم کا علمی سقط ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں ۔اس نام نہاد علمی استدلال کی حقیقت صرف یہ ہے کہ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا ۔یہ صحیح ہے کہ واقعات کے مطالعہ کے لئے علمی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے مگر علمی طریقہ محض ایک طریقہ ہو نے کی وجہ سے صحیح نتائج تک نہیں پہنچا سکتا اسی کے ساتھ دوسری ضروری پہلووں کو ملخوظ رکھنا ناگزیر ہے مثلاً ادھوری اور یک رخی معلومات پر اگر علمی طریقہ کو آزمایا جائے تو وہ بظاہر علمی ہونے کے باوجود ناقص اور غلط نتیجہ تک ہی پہنچا ئےگا۔
ایک زندہ مثال حاضر ہے۔ جنوری ۱۹۶۴ء کےے پہلے ہفتہ میں نئی دہلی میں مستشرقین کی ایک بین الاقوامی کانگرس ہوئی جس میں بارہ سو علمائے مستشرقیات شریک شریک ہوئے اس موقع پر ایک صاحب نے ایک مقالہ پڑھا جس میں کئی مسلم یادگاروں کے بارے میں دعوی کیا گیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی بنوائی ہوئی نہیں ہے بلکہ ہندو راجاؤں کی بنوائی ہوئی ہیں مثلاً قطب مینار جو قطب الدین ایبک کی طرف منسوب ہے وہ دراصل و شنور دھوج ہے جس کو اب سے ۲۲ سو سال سمندر گپت نے بنوایا تھا بعد کے مسلم مورخین نے اس کو غلط طور پر قطب مینار کے نام سے پیش کیا اس کی دلیل یہ ہے کہ قطب مینار میں ایسے پتھر لگے ہوئے ہیں جو بہت پرانے ہیں اور قطب الدین ایبک سے بہت پہلے تراشے گئے تھے۔
بظاہر ایک علمی استدلال ہے کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ قطب مینار میں ایسے کچھ پتھر موجود ہیں مگر قطب مینار کے مطالعہ کے لئے صرف اس پرانے پتھروں کا حوالہ دینے سے علمی استدلال کا حق ادا نہیں ہوتا ۔اسی کے ساتھ اور بہت سے پہلوؤں کو سامنے رکھنا ضروری ہے اور جب ہم ایسا کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ توجیہ قطب مینار پر پوری طرح چسپاں نہیں ہوتی ۔اس کے بجائے یہ دوسری توجیہ ذیادہ قرین قیاس ہے کہ اس کے پرانے پتھر دراصل پرانی عمارتوں کے کھنڈر سے حاصل کئے گئے جس طرح دوسری قدیم سنگی عمارتوں میں کثرت سے اس کی مثالیں مو جود ہیں پھر جب اس دوسری توجیہ کو قطب مینار کی ساخت اس کے نقشہ تعمیر پر انے پتھروں کا انداز نصب مینار کے ساتھ نا تمام مسجد اور جوابی مینار کے بقیہ آثار نیز تاریخی شہادتوں کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو ثابت ہو جاتا ہے کہ یہی دوسری توجیہہ صحیح ہے اور پہلی توجیہہ ایک مغالطہ کے سوا اور کچھ نہیں۔
مخالفین مذہب کا مقدمہ بھی بالکل ایسا ہی ہے جس طرح مذکورہ بالا مثال میں چند پتھروں کو ایک خاص رنگ دے کر سمجھ لیا گیا ہے کہ علمی استدلال حاصل ہو گیا ، اسی طرح چند جزوئی اور اکثر اوقات غیر متعلق واقعات کو ناقص رخ سے پیش کرکے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ علمی طریق مطالعہ نے مذہب کی تردید کر دی حالانکہ واقعہ کے تمام اجزاء کو صحیح رخ سے دیکھا جائے تو بالکل دوسرا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مذہب کی صداقت کا یہ بذات خود ایک کافی ثبوت ہے کہ اس چھوڑنے کے بعد بہترین ذہن بھی الپ شلپ باتیں کرنے لگتے ہیں اس کے بعد آدمی کے پاس مسائل پر غور و فکر کے لئے کوئی بنیاد باقی نہیں رہتی ۔مخالفین مذہب کی فہرست میں جو نام ہیں وہ اکثر نہایت ذہین اور ذی علم افراد ہیں ۔بہترین دماغ وقت کے بہترین علوم سے آراستہ ہو کر اس میدان میں اترے ہیں مگر ان اہل دماغ نے ایسی ایسی مہمل باتیں لکھی ہیں کہ سمجھ نہیں آتا کہ ان کو لکھتے وقت آخر ان کا دماغ کہاں چلا گیا تھا یہ سارا لٹریچر بے یقینی ،تضاد ،اعتراف ناواقفیت اور عجیب و غریب استدلال سے بھرا ہوا ہے، کھلی ہوئی حقیقتوں کو نظر انداز کرنا اور معمولی تنکے کے سہارے دعووں کے پل کھڑے کرنا یہ ان کا کل کارنامہ ہے ۔

 (مذہب اور جدید چیلنج)

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *