مذہب مخالف تاریخی استدلالات کا جائزہ

11150354_1623029564600336_8812909156698810062_n

جولین ہکسلے لکھتا ہے ” خدا کا تصور اپنی افادیت کے آخری مقام پر پہنچ چکا ہے ‘ اب مزید ترقی نہیں کرسکتا۔ مافوق الفطری طاقتیں دراصل مذہب کا بوجھ اٹھانے کے لئے انسانی ذہن نے اختراع کی تھیں’ پہلے جادو پیدا ہوا، پھر روحانی تصرفات نے اسکی جگہ لی ، پھر دیوتاؤں کا عقیدہ ابھرا اور اسکے بعد ایک خدا کا تصور آیا ، اس طرح ارتقائی مراحل سے گزر کر مذہب اپنی آخری حد کو پہنچ کر ختم ہوچکا ہے۔ (Man in the Modern world, page 130)
اسی طرح اشتراکی فلسفہ کے نزدیک مذہب ایک تاریخی فریب ہے ۔ اشتراکیت چونکہ تاریخ کا مطالعہ ا قتصادی پوائنٹ آف ویو سے کرتی ہے اس لیے اس کے نزدیک مذہب کو جن تاریخی حالات نے پید ا کیا وہ دور قدیم کا جاگیرادارنہ اور سرمایہ دارانہ نظام ہے، اب چونکہ یہ فرسودہ نظام اپنی موت آپ مررہا ہے اس لیے مذہب کو بھی اس کے ساتھ ختم ہونا ہے۔
تبصرہ:
تاریخ یا سماجی مطالعہ کے حوالے سے استدلال کرنے والوں کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ صحیح رخ سے مذہب کا مطالعہ نہیں کرتے اس لئے پورا مذہب ان کو اصل حقیقت کے خلاف ایک اور ہی شکل میں نظر آنے لگتا ہے ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چو کور چیز کوئی شخص ترچھا کھڑا ہو کر دیکھے ظاہر ہے ایسے شخص کو وہی چیز جو حقیقۃً چوکور ہے تکونی نظر آسکتی ہے۔
ان حضرات کی غلطی یہ ہے کہ وہ مذہب کا مطالعہ ایک معروضی مسئلہ کے طور پر کرتے ہیں۔ یعنی ظاہری طور پر مذہب کے نام سے جو کچھ تاریخ میں کبھی پایا گیا ہے ان سب کو مذہب کے اجزا سمجھ کر یکساں حیثیت سے جمع کر لینا اور پھر ان کی روشنی میں مذہب کے بارے میں ایک رائے قائم کرنا ۔اس کی وجہ سے پہلے ہی قدم پر ان کی پوزیشن غلط ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مذہب ان کی نظروں میں محض ایک سماجی عمل بن جاتا ہے نہ کہ کوئی انکشاف حقیقت۔
ایک چیز جو انکشاف حقیقت کی نوعیت رکھتی ہو وہ بذاب خود ایک آئیڈیل ہوتی ہے اور اس کے اپنے آئیڈیل کی روشنی میں اس کے مظاہر اور اس کی تاریخ کا مطالعہ کیا جاتا ہے اس کے برعکس جو چیز سماجی عمل کی حیثیت رکھتی ہو اس کا اپنا کوئی آئیڈیل نہیں ہوتا بلکہ سماج کا عمل ہی ا سکی حقیقت کا تعین کرتا ہے۔ کوئی چیز جو سماجی آداب یا سماجی روایات کی حیثیت رکھتی ہو اس کی یہ حیثیت صرف اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک سماج نے بالفعل اس کو یہ حیثیت دے رکھی ہو۔ اگر سماج اس کو چھوڑ کر اس کی جگہ کوئی اور طریقہ اختیار کر لے تو پھر وہ ایک تاریخی چیز ہو جاتی ہے اور سماجی
روایت کی حیثیت سے اس کا کوئی مقام باقی نہیں رہتا۔
مگر مذہب کا معاملہ اس سے مختلف ہے مذہب کا مطالعہ ہم اس طرح نہیں کرسکتے جس طرح ہم سواری ،لباس اور مکان کا مطالعہ کرتے ہیں کیوں کہ مذہب اپنی ذات میں ایک حقیقت ہے جس کو سماج اپنے ارادہ سے قبول کرتا ہے یا اسے قبول نہیں کرتا یا قبول کرتا ہے تو ناقص شکل میں۔ اس کی وجہ سے مذہب اپنی اصولی حیثیت میں تو ہمیشہ یکساں رہتا ہے مگر سماج کے اندر رواج یا فتہ ا ہلیت کے اعتبار سے اس کی شکلیں مختلف ہو جاتی ہیں اس لئے سماج کے اندر رواج یافتہ مذاہب کی یکساں فہرست بندی کرکے ہم مذہب کو سمجھ نہیں سکتے۔
مثال کے طورپر جمہوریت کو لیجئے جمہوریت ایک مخصوصی سیاسی معیار کا نام ہے اور کسی حکومت کو اس معیار کی روشنی ہی میں جمہوری یا غیر جمہوری کہا جاسکتا ہے یعنی جمہوریت کے اپنے معیار کی رو سے تمام ملکوں کو دیکھا جائے گا اور صرف اسی رویہ کو جمہوری قرار دیا جائے گا جو حقیقۃً جمہوری ہو اس کے برعکس اگر جمہوریت کا مطالعہ اس طرح کیا جائے کہ ہر وہ ملک جس نے اپنے نام کے ساتھ جمہوری ک لفظ لگا رکھا ہے اس کو حقیقۃً جمہوری فرض کرکے جمہوریت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو پھر جمہوریت ایک بے معنی لفظ بن جائے گا کیونکہ ایسی حالت میں امریکہ کی جمہوریت چین کی جمہوریت سے مختلف ہو گی ،انگلینڈ کی جمہوریت مصر کی جمہوریت سے ٹکرائے گی، ہندوستان کی جمہوریت کا پاکستان کی جمہوریت سے کوئی جوڑ نہیں ہو گا ۔اس کے بعد جب ان سارے مشاہدات کوارتقائی ڈھانچہ میں رکھ کر دیکھا جائے گا تو وہ اور زیادہ بے معنی ہو جائے گا کیوں کہ فرانس جو جمہوریت کا مقام پیدائش ہے اس کا مطالعہ بتائے گا کہ جمہوریت اپنے بعد کے ارتقائی مرحلہ کے مطابق نام ہے جنرل ڈیگال(۱۸۹۰۔۱۹۷۰) کی فوجی آمریت کا۔

 (مذہب اور سائنس)

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *