دفاعی حربہ:اسلاف سےاختلاف رکھنااورغیرجانبداریت

.

اسلاف سے اختلاف رکھنا کوئ شجر ممنوعہ نہیں:

جب کبھی کسی مفکر (سرسید سے لیکر غامدی صاحب اور ان کے علاوہ دیگر تک) کو کہا جاۓ کہ آپ ماڈرنسٹ ھیں تو پلٹ کر کہتے ھیں کہ ”اسلاف سے اختلاف رکھنا کوئ شجر ممنوعہ نہیں اور پھر یہ لوگ اسلاف کے آپسی اختلافات کی مثالیں گنوانے لگیں گے کہ دیکھو فلاں نے فلاں سے اختلاف کیا وغیرہ وغیرہ، لہذا ھم بھی بس یہی کررھے ھیں”۔ اس جواب سے یہ لوگ یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں گویا انکا اختلاف بھی ویسا ھی ھے جیسا اسلاف کا آپسی اختلاف۔ مگر انکا ایسا کہنا یا تو انکی چالاکی کا مظہر ھے اور یا پھر ناسمجھی کا (اور یا پھر ان دونوں کا)۔
درحقیقت ماڈرنسٹ کو ماڈرنسٹ اس لئے نہیں کہتے کہ وہ اسلاف سے اختلاف کرتا یا انہیں رد کرتا ھے بلکہ اس لئے کہتے ہیں کیونکہ وہ یہ اختلاف اور رد ایک خاص مقصد کیلئے کرتا ھے۔ وہ مقصد ھے ”حاضر و موجود (علمی و تہذیبی) تناظر کے اندر اسلام کی قابل قبول و قابل عمل تفہیم وضع کرنا”۔ یہ حاضر و موجود تناظر کہاں سے نکلا؟ یہ نکلا ھے Modernity (جدیدیت) کی اس تحریک سے جو سترھویں اور اٹھاریوں صدی عیسوی مغرب میں مقبول عام ھونا شروع ھوئ اور جس نے خدا پرستی کو رد کرکے انسانیت پرستی کی بنیاد پر انفرادیت، معاشرت و ریاست کی تعمیر و تشکیل کی۔ اس تحریک نے جس نظام زندگی کو وضع کیا اور فروغ دیا اسے ‘سرمایہ داری’ کہتے ھیں۔ جدیدیت کی اس تحریک کی بنیادی صفت یہ تھی کہ اس نے ماضی کی تمام علمیتوں رد کیا۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس تحریک سے پہلے انسانی تاریخ میں کسی تہذیب نے ‘انسانیت پرستی’ (فروغ آزادی بطور قدر) کو قبول نہیں کیا، لہذا ان جدیدی مفکرین کی یہ مجبوری تھی کہ وہ تاریخی علمیتوں کو رد کریں کہ ماضی کی کوئ علمیت انکی مطلوبہ اقدار (آزادی، مساوات و ترقی) اور ادارتی صف بندی کا جواز بیان نہیں کرتی تھیں۔
چنانچہ انیسویں صدی سے لیکر آج تک بہت سے مسلم مفکرین نے اس حاضروموجود تناظر کے اندر تفہیم اسلام وضع کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ مگر یہاں انکی راہ میں رکاوٹ وہی شے بنی جو جدیدی مفکرین کی راہ میں رکاوٹ تھی، یعنی تاریخی اسلامی علمیت جو ظاھر ھے اس حاضروموجود جدیدتناظر کے اندر (یعنی اسکی اسلام کاری کیلئے) وضع نہیں کی گئی تھی۔ لہذا ہر مسلم متجدد لازما تاریخی اسلامی تشریح کو رد کرنے پر خود کو مجبور پاتا ھے کہ اسکے بغیر وہ ”حاضروموجود جدیدی تناظر کے اندر” تفہیم اسلام وضع نہیں کرسکتا۔ پس خوب واضح رھے کہ ماڈرنسٹ اس لئے ماڈرنسٹ نہیں کہلاتا کہ وہ اسلاف سے اختلاف کرتا ھے بلکہ اس لئے کہلاتا ھے کہ وہ یہ اختلاف اسلام کو ماڈرنزم (حاضروموجود) کے اندر ضم کرنے کیلئے کرتا ھے۔
اس مقام پر ماڈرنسٹ لوگ کہتے ہیں کہ ”ھم تو یہ نہیں کہتے اور نہ ہی یہ ہماری نیت ھے کہ ھم مغرب کو اسلام یا اسلام کو مغرب کے اندر سمونا چاھتے ہیں، ھم تو بس خالی الذھن اور غیر متعصب ھوکر ‘اصل اسلام’ کو سمجھنا چاھتے ہیں، اگر ہماری بات اسلاف کے خلاف اور مغربی فکر سے جاملتی ھے تو یہ ھمارے غیرمتعصبانہ تجزئیے کا اتفاقی نتیجہ ھے”۔ مگر یہ کتنا ‘حسین اتفاق’ ھے جناب جو پچھلے ریڑھ سو سال سے پورے آب و بات اور تسلسل کے ساتھ ہر متجدد کے یہاں رواں دواں ھے کہ ان میں سے جو بھی اسلاف کو رد کرتا ھے اس کے یہاں ‘لازما مگر اتفاقی طور پر’ اسلام کے دامن سے مغرب ہی کا سورج طلوع ھوتا ھے، ھے نا حسین اتفاق! درحقیقت یہ کوئ اتفاق نہیں بلکہ خالصتا اس اپروچ کا ناگزیر تتمہ ھے جو یہ حضرات فہم اسلام کیلئے اپناتے ہیں، یعنی حاضر و موجود کے اندر تفہیم اسلام کی کوشش۔ ظاہر ھے آپ جس فریم ورک کے اندر کسی شے کو سمجھیں گے اس فہم سے اسی فریم ورک کا جواز اور اثبات ھوگا نہ کہ اسکا جسے آپ رد کرچکے! پھر ‘خالی الذھن اور غیرمتعصب’ ھونے کا دعوی بھی لفاظی کے سواء کچھ نہیں کیونکہ اس دنیا میں انسان کبھی غیر متعصب اور خالی الذھن نہیں ھو سکتا، یہ صرف ایک لامتصور تصور (inconceivable idea) ھے۔ اس دنیا میں انسان لازما ‘کوئ نا کوئ پوزیشن’ لینے پر مجبور ھے۔ تفہیم اسلام کیلئے تاریخی فہم اسلام کو رد کردینے کا مطلب خالی الذھن یا نیوٹرل ھوجانا نہیں ھوتا بلکہ حاضروموجود (یعنی جدیدیت) کی تاریخ کو اپنے فہم کا ریفرنس بنا لینا ھوتا ھے اور بس۔
ہر ماڈرنسٹ کہتا ھے کہ میں اصل اسلام سمجھنے کی کوشش کررہا ھوں، میں قرآن کے الفاظ سے استدلال کرتا ھوں، میں مغرب سے متاثر نہیں ھوں، البتہ اگر میری فکر یا کسی بات سے مغرب کے کسی نظرئیے، قدر یا ادارتی صف بندی کی تائید ھوتی ھے تو یہ اتفاق ھے۔ مگر یہ عجیب اتفاق ھے جو ڑیڑھ سو سال سے بلا استثنی ان میں سے ہر ماڈرنسٹ کے ساتھ ھوتا بلکہ لازما ھوکر رھتا ھے۔ اور تو اور اس اتفاقی حادثے کے نتیجے میں انکی فکر سے صرف غالب مغربی فکر، اقدار اور اداروں ھی کی تائید ھوتی ھے، ایسا کوئ اتفاق کسی دوسری مغلوب تہذیبی روایت کے حق میں پیش نہیں آتا۔ یعنی ایسا کبھی نہیں ھوتا کہ انکی فکر سے مثلا شنٹوازم کے نظریات و اقدار ثابت ھوجاتے ھوں۔ بھائ اگر یہ اچانک سے ھونے والا اتفاق ھے تو کبھی تو ایسا ھونا چاہئے نا کہ اتفاق سے یہ اتفاق ان پیچاری مغلوب تہذیبوں اور نظریات کے ساتھ بھی ھوجاۓ، مگر کیا مجال ھے اس اتفاق کی کہ اتفاق سے ادھر ادھر چلا جاۓ۔ معلوم ھوتا ھے اس ‘اتفاق’ نے مغرب کے ساتھ مکمل اتفاق کرلیا ھے کہ قرعہ فال ہر بار تمہارے ہی حق میں فیصلہ سناۓ گی۔

کیا کوئ عقلمند شخص ماڈرنسٹوں کا یہ دعوی قبول کرسکتا ھے؟ اتنے بے شمار اور ھم خیال لوگوں کے ساتھ اتنے تسلسل سے بار بار ایک ہی قسم کا واقعہ رونما ھونا بذات خود یہ بتا رھا ھے کہ یہ حادثاتی اتفاق نہیں بلکہ اسکی گہری علمی بنیادیں ہیں (اس پر تفصیل آگے آئے گی)۔ گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ تصدیق و توثیق مغرب ان جدید مفکرین کی ‘سنت متواترہ’ جو آج تک کبھی منقطع نہیں ہوئی

کیا غیر جانبداریت (تعصبات سے بالاتر ھونا) ممکن ھے؟

آج کل اپنی بات وزنی بنانے کیلئے چند الفاظ کا استعمال بے دریغ کیا جاتا ھے، مثلا میرا تجزیہ معروضی (objective) ھے، ہمیں اسلاف کو رد کرکے غیر متعصبانہ (یعنی نیوٹرل) روش اختیار کرنی چاھئے، جو بات عقل کے پیمانے پر پورا اترے اسے ہی ماننا چاہئے (گویا عقل کا کوئ ایک ہی آفاقی پیمانہ ھے) وغیرھم۔ اس قسم کے الفاظ ماڈرن و تنویری مفکرین نے اپنے مخصوص جانبدارانہ ایمانیات، نظریات و مفروضات کو پھیلانے کیلئے بے دریغ استعمال کئے (اور سوشل سائنٹسٹ آج بھی لوگوں کو بے وقوف بنانے کیلئے انکا استعمال کرتے ہیں)۔ چونکہ ھمارے متجددین بھی ماڈرنزم کے ڈسکورس سے سخت متاثر ھیں لہذا انکے یہاں بھی غیرمتعصبانہ روش کا لفظ کثرت سے پایا جاتا ھے۔ درحقیقت اس کائنات میں غیر متعصب بمعنی غیر جانبدار (خالی الذھن) ھونا ناممکن بلکہ لامتصور تصور ھے کہ انسان ہمیشہ ‘ایک پوزیشن کو کسی دوسری پر ترجیح دینے پر مجبور ھے’۔ جب آپ ایک پوزیشن کر رد کرکے کسی دوسری پوزیشن کو (کسی بھی وجہ سے) اختیار کرتے ہیں یا ایک کو دوسری پر فوقیت دیتے ھیں تو یہ بذات خود جانبداریت کا رویہ ھے نہ کہ غیرجانبدار ھوجانے کا۔ الغرض اس کائنات میں انسان کے پاس انتخاب تعصب کرنے یا نہ کرنے کا نہیں بلکہ مخصوص قسم کے تعصبات (ترجیحات) کو جائز سمجھنے یا نہ سمجھنے کا ھے، تعصب تو ناگزیر ھے (prejudices are inevitable, choice is only between legitimate and illegitimate prejudices, not between prejudice and no-prejudice)۔

مثلا ایک مسلمان جب اسلام کو حق کہتا ھے تو یہ اسکا اسلام کی طرف جانبدارانہ رویہ ھے اور وہ اس تعصب (جانبداریت) کو بوجوہ جائز سمجھتا ھے۔ اسکے مقابلے میں ایک ایتھسٹ کا تعصب یہ ھے کہ وہ انسان کو عبد کے بجاۓ آزاد ماننے کی طرف جانبدار ھے مگر اپنی اس ‘پوزیشن’ کو وہ غیرجانبداریت کےپردے میں چھپانے کی کوشش کرتا ھے اور مسلمان کو متعصب کہتا ھے مگر فی الحقیقت وہ خود بھی متعصب ھی ھے (ان دونوں میں فرق صرف تعصبات کی نوعیت اور انکی ترجیح کا ھے نا کہ متعصب یا غیر متعصب ھونے کا)۔ جب وہ مسلمان کو کہتا ھے تم اسلام کے تعصب سے باہر آکر سوچو تو وہ اسے کسی نیوٹرل مقام کی طرف نہیں بلکہ کفر کی پوزیشن کی طرف دعوت دے رہا ھوتا ھے کیونکہ اسلام سے باہر نکل جانے کے بعد انسان نیوٹرل نہیں بلکہ کافر ھوجاتا ھے اور کفر بذات خود ایک جانبدارانہ پوزیشن (ترجیح) ھے۔ اسی طرح ایک راسخ العقیدہ مسلمان جب یہ کہتا ھے کہ میرے فہم اسلام کا مصدر وہ فہم اسلام ھے جو ”اسلامی تاریخ کے اندر” متشکل ھوا تو یہ اسکا اسلامی تاریخ کی طرف جانبداریت کا رویہ ھے اور وہ اس تعصب (ترجیحات کی ترتیب) کو بوجوہ جائز سمجھتا ھے۔ اسکے مقابلے میں ماڈرنسٹ حضرات کے نزدیک غیرمتعصب ھوجانے کا تقاضا یہ ھے کہ تم اپنے اس مخصوص تعصب سے دستبردار ھوکر اسلاف کے فہم اسلام کو رد کردو۔ مگر درحقیقت ‘عدم تعصب’ کے نام پر انکی یہ دعوت کس نیوٹرل مقام کی طرف نہیں بلکہ اس جانبدارانہ تشریح کی طرف ھوتی ھے جو خود انہوں نے اسلام کو ماڈرنزم کے تقاضوں سے ھم آھنگ ثابت کرنے کیلئے کی ھوتی ھے۔ ظاھر ھے یہ بذات خود ایک متعصبانہ پوزیشن ھوتی ھے۔ لہذا یاد رہنا چاہئے کہ جب یہ ماڈنسٹ غیر متعصب ھوجانے کی دعوت دیتے ہیں تو اسکا مطلب صرف اتنا ھوتا ھے کہ تم اپنے تعصبات کو ناجائز اور ہمارے تعصبات کو جائز سمجھو۔

درحقیقت کسی ایک پوزیشن کو رد کردینے کے بعد انسان نیوٹرل یا غیر متعصب نہیں ھوجاتا بلکہ ایک دوسری پوزیشن میں داخل ھوجاتا ھے، ان دو پوزیشنوں کے درمیان کوئ ایسا خلا متصور نہیں جہاں انسان خالی الذھن ھوجاتا ھو۔ انسان تاریخی و معاشرتی عمل کے مختلف النوع اثرات سے بیک وقت متاثر ھونے پر مجبور ھے۔ جو شخص غیرمتعصب (بمعنی خالی الذھن و غیر جانبدار) ھونے کا دعوی کرتا ھے وہ درحقیقت معاشرے و تاریخ سے ماوراء ھونے کا دعوی کرتا ھے اور یہ محض ایک لغو تصور ھے کیونکہ تاریخ و معاشرے سے کٹے ھوۓ انسان کا تصور ایک لامتصور تصور ھے (people without history is inconceivable idea)۔ اسکا دوسرا پہلو یہ ھے کہ انسانی سوچ کا عمل اور اسکا اظہار زبان (language) کا محتاج ھے اور زبان بذات خود معاشرتی عمل کا نتیجہ ھے لہذا زبان مخصوص نظریات و اقدار کو اپنے اندر سموۓ ھوتی ھے۔ پس اس کائنات میں انتخاب صرف ترتیب ترجیحات کا ھے نہ کہ ترجیح و عدم ترجیح کا۔ اگر آپ یہ کہیں کہ اس دنیا کے تمام نظریات، دعوے اور پوزیشن مساوی اقداری حیثیت کی حامل ہیں (یعنی حق کے تمام تصورات مساوی ھیں) تو یہ بذات خود ایک جانبدارانہ پوزیشن و دعوی ھے۔

خلاصہ: ماڈرنسٹ کا وجہ جواز محض اسلاف سے اختلاف کرنا نہیں بلکہ ماڈرن (سرمایہ دارانہ) تناظر کو اسلام میں سمونے کیلئے تفہیم اسلام کی کوشش کرنا ھے۔ اسی لئے ھم کہتے ہیں کہ ماڈرنسٹ مفکرین اسلامی تاریخ میں ایک بالکل نیا فنامینا ھیں کیونکہ بذات خود ماڈرنزم (جسکی اسلام کاری انکا بنیادی ھدف ھوتا ھے) ایک جدید فنامینا ھے۔ لہذا اپنے تجددانہ افکار کو آئمہ سلف کے آپسی اختلافات کےپردے میں چھپانے کی کوشش کرنا یا تو چالاکی ھے اور یا پھر نا سمجھی (اور یا پھر ان دونوں کا مجموعہ)۔ آئمہ کے اختلافات کا مقصد نا تو ماڈرنزم (سرمایہ داری) کو جواز دینا تھا اور نہ ہی انکی فکر سے نتیجتا سرمایہ داری برآمد ھوئ (اور نہ ہی ھو سکتی ھے تب ہی تو یہ متجددین انہیں رد کرتے ھیں)۔ ان ماڈرنسٹوں کے اصل فکری پیشوا معروف ائمہ دین نہیں بلکہ معتزلہ ہیں جنہوں نے بعینہہ انکی طرح ایک غیر (یونانی) علمیت کے اندر فہم اسلام وضع کرنے کی کوشش کی (مگر امام غزالی نے انہیں بری طرح چت کردیا)۔ ماڈرنسٹ اپنی اپروچ میں انہی معتزلہ کے فکری جانشین ھیں (البتہ دونوں کے ‘حاضروموجود’ کے مباحث و تناظر میں ذرا فرق ھے)۔ اللہ ہمیں حقیقت سمجھنے کی توفیق عطا فرماۓ
تحریر : زاہد مغل

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *