دفاعی حربہ: ‘اگر ھم ماڈرنسٹ ھیں تو علماء بھی ماڈرنسٹ ھیں’

‘مسلم ماڈرنسٹ حضرات خود کو اسلامی تاریخ کا حصہ قرار دینے (درحقیقت اپنی مغربی بنیادیں چھپانے) کیلئے ایک کے بعد دوسرے حربے کی تلاش میں رھتے ہیں۔ کبھی کہیں گے کہ ھم اسلاف کے ساتھ اسی طرح اختلاف کررھے ھیں جس طرح اسلاف آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے رھے ہیں، جب ان پر واضح کردیا جاۓ کہ تمہارے اور اسلاف کے آپسی اختلافات میں بنیادی نوعیت کا فرق ھے تو پھر اپنے دفاع کی ”بنیاد” تبدیل کرلیتے ھیں۔ چنانچہ اب وہ پینترہ بدل کر اسلاف کے اختلافات کے بجاۓ معاصر راسخ العقیدہ علماء و گروھوں کے چند مغربی اقدارواداروں کی اسلام کاری یا انکی ان میں شرکت کو اپنے دفاع کی بنیاد بنانے لگتے ھیں، یعنی وہ کہتے ھیں کہ ”اگر ھم مغربی افکار کی اسلام کاری کی وجہ سے ماڈرنسٹ ہیں تو یہ علماء بھی ایسا کرنےکی وجہ سے ماڈرنسٹ ھیں۔ لہذا یا تو ھم بھی ماڈرنسٹ نہیں اور یا پھر علماء بھی ماڈرنسٹ ھیں”۔ اس دلیل کا تجزیہ کرنے کیلئے ھم یہاں جمہوریت کی مثال لئے لیتے ھیں جسکا جواز ھمارے یہاں سب سے زیادہ پیرایوں اور شیڈز میں پایا جاتا ھے۔ اس ضمن میں ان ماڈرنسٹوں کا استدلال یہ ھے کہ اگر ھم جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کرنے کی بنا پر ماڈرنسٹ ہیں تو وہ تمام علماء و مذھبی گروہ بھی ماڈرنسٹ کہلانے چاہئیں جنہوں نے یا تو اسکی اسلام کاری کی اور یا پھر آزادی ھند کیلیے کانگریس یا مسلم لیگ میں شرکت کی (کہ یہ دونوں جماعتیں جمہوری جماعتیں تھیں)۔
مگر یہ دلیل بھی اسلاف کے اختلافات پر اپنے اختلافات کو قیاس کرنے کی طرح سطحی تجزئیے کا نتیجہ ھے۔ اس دلیل کا مختلف پیرایوں میں تجزیہ کرنا ممکن ھے البتہ یہاں خوف طوالت کی بنا پر ایک کا ذکر کرتے ھیں۔ ماڈرنسٹ حضرات یہ دلیل دیتے وقت یہ بنیادی بات بھول جاتے ہیں کہ بسا اوقات دو مختلف لوگ مختلف وجوہ اور دلائل کی بنیاد پر یکساں نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں، اور انکے استدلال کی نوعیت کا یہی فرق دو مختلف قسم کے رویوں کو تشکیل دیتا ھے۔ لہذا انہیں ایک جیسا سمجھنا مسئلے کی نوعیت پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ھوتا ھے۔ چنانچہ اثبات جمہوریت کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ھے۔ جمہوریت کا اثبات یا اس میں شرکت چند وجوہ کی بنیاد پر ممکن ھے۔ مثلا:
1) اسلام کا اصل ریاستی نظم صرف جمہوریت ھے، اسکے علاوہ سب غلط ھے جیسے غامدی صاحب کہتے ہیں (اس سے لازما یہ نتیجہ نکلتا ھے کہ چودہ سو سال تک اسلاف اسلام کی سیاسی تعلیمات کو نہ سمجھ سکے لہذا تاریخی اسلامی سیاسی فکر مشکوک و مردود ھے)
2) اسلام کا آئیڈئیل و مطلوب تو جمہوریت ہی ھے البتہ قبائلی دور میں اسکے نفاذ کے امکانات موجود نہ تھے لہذا ملوکیت جو اصولا تو بری اور غیر مطلوب ہی تھی، مگر اس دور کے معاشرتی حقائق کے تحت قابل فہم ھے اور اسلاف اسلام کا یہ حکم نہ سمجھ سکنے کے معاملے میں بس معذور تھے۔ البتہ آج چونکہ حالات بدل چکے ھیں اور فرد کی اہمیت کو دنیا پہچان چکی ھے لہذا اب جمہوریت کے سواء کسی غلاظت کو اپنے سر پر سجانے کی کوئ وجہ نہیں۔ پس فورا اسلام کا آئیڈئیل نظام نافذ کرو
3) اسلام کا کوئ مخصوص سیاسی نظم نہیں، ھر دور کے لوگ اپنی سہولت و عرف کے مطابق کوئ بھی ترتیب اختیار کرسکتے ہیں۔ آج چونکہ دنیا میں جمہوری طریقہ معروف و مقبول ھے لہذا اسے اختیار کرلینے میں کوئ قباحت نہیں۔ اثبات جمہوریت کی یہ تعبیر نہ تو اسکا حکمی شرعی جواز ھے (بلکہ یہ محض ‘اجازت’ کی بات ھے نہ کہ حکم یا مطلوب کی)، نہ ہی اسکی رو سے اسلاف کا فہم اسلام غلط قرار پاتا ھے اور نہ ہی اسلامی تاریخ بوجہ عدم جمہوریت لائق مطعون ٹھرتی ھے
4) جمہوریت اگرچہ غلط ھے مگر آج کے زمینی حقائق میں اس سے سہو نظر ممکن نہیں کہ یہ چنداں ناگزیر ھوچکی، آج کے دور میں سیاسی جدوجہد اور قوت مربوط کرنے کا یہ نہایت اھم ذریعہ اور طریقہ ھے لہذا اس راستے اور فرنٹ کو باطل کیلئے کھلا نہیں چھوڑا جاسکتا بلکہ اسکے ذریعے جو کچھ خیر جمع کیا جا سکتا ھے وہ جمع کیا جانا چاھئے اور باطل کے راستے میں جتنا ھوسکے روڑے اٹکاۓ جائیں۔ یہ بھی جمہوریت کا کوئ اصولی شرعی جواز نہیں بلکہ ‘حکمت عملی’ (فقہ الواقع) کے باب کے تحت اسکے ساتھ تعامل کرنے کی بات ھے، نہ ہی اس تعبیر سے تاریخی اسلامی تشریح قابل رد قرار پاتی ھے

درج بالا چار میں سے پہلے دو خالصتا ماڈرنسٹ رویے ہیں، جبکہ آخری دو نہیں (یاد رھے، مسلم مادرنسٹ کے دو بنیادی وظائف ھیں: ”تاریخی اسلام کا رد، ماڈرنزم کا اثبات”)۔ تیسرا رویہ اگرچہ ماڈنسٹ رویہ نہیں مگر یہ خطرات سے خالی بھی نہیں کیونکہ یہ رویہ اختیار کرنے والے لوگ جمہوریت کو غلط طور پر غیر اقداری اور خلاف اسلام نہ سمجھ کر اس کے ساتھ بلاتکلف تعامل کرتے ھیں جسکے نتیجے میں مرور زمانہ کے ساتھ یہ تعامل ایک قسم کا نفسیاتی و معاشرتی جواز حاصل کرلیتا ھے (جیسا کہ جمہوریت نے طبقہ علماء کے یہاں کرلیا ھے)۔ مگر اس غلطی کو (اگر کچھ ھے بھی) زیادہ سے زیادہ اجتہادی خطا یا حکمت عملی کی غلطی کہا جاسکتا ھے ‘اصولی ٹھوکر’ نہیں۔ چنانچہ علماء کی اکثریت جمہوریت کے ساتھ تیسری یا چوتھی میں سے کسی ایک بنا پر تعامل اختیار کرتی ھے اور کرتی رھی ھے۔ لہذا ان ماڈرنسٹ حضرات کا خود کو علماء کی صفوں میں تلاش کرنا یا علماء کو اپنی صفوں میں گھسیٹ لانے کی کوشش کرنا بے سود ھے۔ علمی دیانت کا تقاضا تو یہ ھے کہ ان متجددین کو کھلے دل سے یہ حقیقت تسلیم کرنی چاھئے کہ ”یہ اسلامی تاریخ سے کٹے ھوۓ لوگ ھیں” لہذا یہ اپنی فکری جڑیں یہاں تلاش کرنے کی لاحاصل جدوجہد ترک کردیں۔ ایسی ہر جدوجہد انکے لئے مزید پشیمانی کا باعث ہی بنے گی۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ھے کہ آخر تاریخی فہم اسلام کو رد کردینے کے بعد ایک شخص کس منہ سے خود کو اسلامی تاریخ کا وارث قرار دے سکتا ھے؟ ایسا صرف ایک فاتر العقل انسان ہی کرسکتا ھے کہ جس شے کو ابتداء رد کررہا ھے پھر خود کو اسی کا تسلسل بھی قرار دے، فیا للعجب (اگر تاریخ معتبر نہیں اور تم اسی کا تسلسل ھو تو تم کیسے معتبر ھوگئے؟)۔
تحریر : زاہد مغل

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *