دفاعی حربہ:کیاقرآن وحدیث مقدم ہیں یااسلاف کافہم اسلام؟

ماڈرنسٹوں کا ایک اور دفاعی وار ۔۔۔۔۔ ”کیا قرآن و حدیث مقدم ہیں یا اسلاف کا فہم اسلام؟”
ماڈرنسٹ حضرات کا ایک عمومی وار یہ بھی ھوتا ھے کہ اگر آپ انکے سامنے اسلاف کے فہم اسلام کی بات کریں گے تو جھٹ سے کہیں گے: ”کیا اسلاف کا فہم مقدم ھے یا قرآن و حدیث؟”۔
یہ سوال کچھ یوں پوچھا جاتا ھے گویا تاریخی فہم اسلام اور قرآن و حدیث متضاد چیزیں ہیں نیز تاریخی اسلام رد کردینے کے بعد یہ لوگ نیوٹرل مقام پر برجمان ھوکر قرآن و سنت کا مطالعہ کرکے نتیجے اخذ کررھے ہیں، جبکہ یہ دونوں ہی مفروضے غلط ہیں۔ ایسا ہی ایک سوال ان پر بھی داغا جا سکتا ھے: ”کیا تمہارا جدید فہم اسلام مقدم ھے یا قرآن و حدیث؟” ان ماڈرنسٹوں کی چالاکی یہ ھے کہ اپنے فہم اسلام (جسکا ریفرنس جدیدی ڈسکورس ھوتا ھے) کو یہ بذات خود قرآن و سنت کے ھم معنی قرار دے رھے ھوتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ ”ھم قرآن و سنت سے دلیل لا رھے ہیں”، تو جناب کیا روایت پسند لوگ اپنے فہم دین کیلئے ویدا یا گیتا سے دلیل لاتے ہیں؟ ظاھر ھے ہر گروہ قرآن و سنت ہی کے ماخذ ھونے کا دعوی کرتا ھے اس میں ایسی نئ بات کیا ھے؟
درحقیقت ان لوگوں سے گفتگو کا بنیادی اور متعلقہ نکتہ یہ نہیں کہ ”آپکے دین کا ماخذ کیا ھے” (ظاہر بات ھے ہر گروہ یہی دعوی کرتا ھے کہ اسکا ماخذ قرآن و حدیث ھے) بلکہ یہ ھے کہ ”آپکے ماخذات دین کے فہم کا ماخذ کیا ھے؟” (یعنی آپ فہم دین کو کس اصول، روایت اور پیراڈئیم سے اخذ کرتے ہیں؟)۔ موجودہ دنیا میں اسکی دو غالب پیراڈائمز ہیں:
(1) تاریخ اسلام کے اندر متشکل پانے والا فہم اسلام (اسکا دعوی ھےکہ دین کی درست تشریح وہ ھے جو ‘اسلامی تاریخ کے اندر’ وضع کی گئ)
(2) جدیدی ڈسکورس کے اندر وضع کیا جانے والا فہم اسلام (اسکا دعوی ھے کہ درست تعبیر وہ ھے جو ‘جدیدیت کے تاریخی تناظر کے اندر’ وضع کی جارہی ھے، مگر اس پیرادائیم کے قائلین ھوشیاری کا مظاھرہ کرتے ھوۓ اپنی اس پوزیشن کو بذات خود قرآن و سنت کہہ دیتے ھیں)
ان دو کے علاوہ یہاں کوئ عمومی چوائس نہیں۔ درحقیقت سوال یہ نہیں کہ قرآن و سنت کس کے پاس ھے (ظاہر ھے دونوں ہی اسکا دعوی کررھے ہیں اور اپنے حق میں انہی سے دلائل پیش کررھے ھیں)، اصل مسئلہ یہ ھے کہ قرآن و سنت کا پیش کیا جانے والا فہم کس کا درست ھے؟ یعنی یہاں چوائس صرف پیراڈئیم کی ھے، نہ کہ قرآن و سنت کو ماننے یا نہ ماننے کی۔ لہذا یہ ماڈرنسٹ جب یہ کہتے ہیں کہ ”اسلاف کا فہم مقدم ھے یا قرآن و حدیث؟” تو اسکا مطلب صرف یہ ھوتا ھے کہ ”اسلاف کے فہم اسلام کو رد کردو کیونکہ وہ جدید تناظر میں قابل عمل نہیں، اور ھمارا فہم اسلام قبول کرلو کہ یہ جدید تناظر کے ساتھ ھم آہنگ ھونے کی وجہ سے درست ھے”۔ درحقیقت ان دونوں کے دعووں کی نوعیت ایک سی ھے، دونوں کا ریفرنس پوائنٹ تاریخی تناظر سے مطابقت ہی ھوتی ھے اس فرق کے ساتھ کہ ماڈرنسٹ کا ریفرنس جدیدیت کی تاریخ سے مطابقت ھوتی ھے جبکہ روایت پسند کی اسلامی تاریخ کے ساتھ ۔ مگر یہ ماڈرنسٹ بڑی چابکدستی کے ساتھ اپنے نظریات کو ‘قرآن و سنت’ جبکہ تاریخی فہم اسلام کو ‘اسلاف کا فہم’ قرار دیکر اپنے نظریات کیلئے بلا وجہ کا تفاخرانہ جواز پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پس اچھی طرح سمجھ لینا چاھئے کہ اپنے نظریات کے جواز کیلئے یہ جدیدیت پسند جس سوال کو ”اسلاف کا فہم اسلام بمقابلہ قرآن و حدیث” کا رنگ دے کر پیش کرتے ھیں درحقیقت اس گفتگو کا اصل عنوان ”اسلامی تاریخ کا فہم اسلام بمقابلہ جدیدی تاریخ کا فہم اسلام” ھوتا ھے، مگر چند سادہ لوح روایت پسند لوگ انکی اس ‘چکربازی’ کو سمجھ نہیں پاتے اور نتیجتا گفتگو کے غلط عنوان کے تحت گفتگو کرتے کرتے ان سے مرعوبیت کا شکار ھوجاتے ھیں۔ لہذا یہ ضروری ھوتا ھے کہ سوال کا جواب دینے سے پہلے سوال کی درست نوعیت کو سامنے لایا جاۓ، بصورت دیگر غلط سوال کا جواب دینے کی کوشش میں ایک غلط جواب ہی سامنے آۓ گا۔
کیا اسلاف کی تشریح اسلام پر عمل کرنا ازروۓ قرآن بری بات ھے؟
متجددین کے سامنے جب کبھی اسلام کی تاریخی تعبیر و تشریح کی اہمیت کی بات کی جاۓ تو جھٹ سے کہتے ہیں: ”تم جیسے روایت پرستوں کا سب سے بڑا مسئلہ اور المیہ یہی ھوتا ھے کہ اسلاف کے دماغوں سے ھٹ کر نہیں سوچتے۔ یہ وھی استدلال ھے جو ازروۓ قرآن ھر دور کے کفار نے استعمال کیا ھے کہ ھم اپنے باپ دادا کے دین کو کیسے چھوڑ دیں۔”

ان خودساختہ مفسرین قرآن (جن میں سے اکثریت کو عربی تک نہیں آتی محض ترجموں پر گزارا کرتے ہیں) کا مفروضہ یہ ھے کہ اسلاف کی پیروی ہرحال میں بری شے ھے۔ سوال یہ ھے کہ اگر باپ دادا حق پر ھوں کیا تب بھی ازروۓ قرآن انکی پیروی بری چیز ھے؟ اگر ھاں تو اسکی دلیل قرآن سے ھونی چاہئے۔ قرآن تو یہ بتاتا ھے کہ باپ دادا اگر حق پر ھوں تو انکی پیروی بذات خود مطلوب و مستحسن ھے۔ دیکھیے منعمین کے راستے پر چلتے رھنے کی دعا خدا نے خود سورہ فاتحہ میں سکھائ، اسی طرح جب حضرت یعقوب علیہ السلام کی رحلت کا وقت قریب آیا تو اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ تم کس کی عبادت کرو گے؟ تو بیٹوں نے جواب دیا کہ آپ کے الہ، آپکے والدین ابراھیم، اسماعیل و اسحاق کے الہ کی عبادت کریں گے (بقرہ: 133)۔ یہ جواب سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام بالکل مطمین ہوگئے، ان متجددین کی طرح اپنے بیٹوں سے یہ نہیں کہا ”تم جیسے روایت پرستوں کا سب سے بڑا مسئلہ اور المیہ یہی ھوتا ھے کہ اسلاف کے دماغوں سے ھٹ کر نہیں سوچتے ۔ یہ وھی استدلال ھے جو ھر دور کے کفار نے استعمال کیا ھے کہ ھم اپنے باپ دادا کے دین کو کیسے چھوڑ دیں”۔ درحقیقت جو قرآنی آیات حق کا انکار کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئ یہ لوگ انہیں حق کی پیروی کرنے والوں پر چسپاں کرنے کی سنگین غلطی کرکے ظلم کا ارتکاب کرتے ھیں۔

٭”پچھلے (بشمول صحابہ و تابعین) بھی ہماری طرح انسان تھے”٭

بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک ابھرتے ھوئے متجدد فرماتے ہیں:
”پچھلے بھی ہماری طرح انسان تھے جنھوں نے حتّی المقدور اپنے حالات میں انبیائی پیغام کو برتنے اور اس کی تحمیل کا خاطر خواہ شرف حاصل کیا ۔ ہم ان کے گرد تقدس کا ہالہ تعمیر نہ کریں تو ان کی لغزشیں ہمارے راستے میں فکری رکاوٹیں پیدا نہیں کریں گی اور ہم اپنے اندر وحی ربّانی سے اسی طرح اخذ و اکتساب کی ہمت پائےں گے جس طرح پچھلوں نے کیا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جہاں تاریخ canonization کا شکار ہوجائے اور راسخ العقیدہ فکر اس بات پر مُصر ہو کہ محمد رسول اﷲ کے ساتھ ہی خلفائے اربعہ، ائمہ اربعہ، ائمہ اثنا عشر ، ائمہ سبعہ وغیرہ کو بھی راسخ العقیدگی کا اظہار سمجھا جائے بھلا ایک ایسی راسخ العقیدگی کو وحی ربّانی کا صحیح شارح اور ترجمان کیسے سمجھا جاسکتاہے؟ (راشد شاز)
دیکھئے یہاں شاذ صاحب نے کیا چستی کا مظاہرہ کیا ھے، یعنی یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں نے براہ راست محمد رسول اللہ (ص) سے بنفس نفیس وحی ربانی کی تعلیمات حاصل کیں اور جو براہ راست اس رسول کے سکھائے ھووں کے سکھائے ھوئے تھے انہیں امت بس شاذ صاحب جیسا ‘ایک مفکر’ مان لے جو اپنے حالات کے مطابق وحی ربانی کو سمجھ رھے ھیں ۔۔۔۔۔ واہ جی واہ، سبحان اللہ، کیا کہنے ہیں اس علمی دلیل کے۔ ان لوگوں کے بقول جو لوگ ربانی وحی کی تلاوت، تعلیم، تزکیہ وحکمت کے ضمن میں اولین مخاطب اور خود شارح وحی و شارع (ص) کے شاگرد ھوں انکی رائے کی حیثیت بھی علم کے بازار میں بس ہمارے ان متجددین کی سی ھے جنکے علم کا ریفرنس پوائنٹ قرآن و سنت کم اور جدیدی علمی ڈسکورس زیادہ ھے۔ اسے عقلی افلاس نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟
پھر ایک اور چستی دیکھئے، اس دلیل میں تاریخی معتبر دینی تشریحات کو بڑی ھوشیاری کے ساتھ ”اپنے ماحول کے مطابق وحی کا فہم” (وہ بھی ایسا جو اغلاط سے پر ھے، یعنی آئمہ سلف بیچارے تو اپنے حالات کے مطابق بھی وحی کو درست نہ سمجھ سکے، انکا فہم ہمارے حالات کی کیا خاک کفایت کرے گا) قرار دے کر اسے ترک کرکے نئے فہم کی تعمیر کا جواز فراھم کرنے کی کوشش کی گئی ھے۔ مگر ھمارے یہ متجددین کبھی یہ غور کرنے کی زحمت گورا نہیں کریں گے کہ یہ حالات کیونکر تبدیل ھوگئے، کیا واقعی یہ تبدیل شدہ حالات کوئی فطری شے ھے، کیا تبدیل شدہ حالات وحی کی روشنی میں تبدیل ھوئے یا اسے عضو معطل بنا کر؟ ظاھر ھے جب تک تبدیل شدہ حالات کا علمی تجزیہ کرکے ان پیچیدہ سوالات کا تشفی بخش جواب نہیں دے دیا جاتا اس وقت تک یہ کیسے طے کیا جا سکتا ھے کہ آیا موجودہ وقت ان تبدیل شدہ حالات کو وحی کی تاریخی تشریح کے مطابق ڈھالنے کا ھے یا وحی کو تختہ مشق بنا کر اسے تبدیل شدہ حالات کے مطابق تبدیل کردینے کا ھے؟
کیونکہ حاضر و موجود تبدیل شدہ دنیا کے بارے میں اس قسم کے پیچیدہ تجزیات خاصی محنت کے متقاضی ھوتے ہیں لہذا یہ متجددین ”دین کو جدید بنانے” کا آسان راستہ اختیار کرلیتے ھیں۔ مگر ظاہر ھے علمی کاہلی کوئی علمی رویہ نہیں۔
تحریر : زاہد مغل

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *