اسلامک ماڈرنزم اور روژن ازم کا فرق

۔

مسلم ماڈرنزم کی بنیادی صفت ‘اجماع کا رد’ کرناہے،یعنی یہ حضرات تاریخی اسلامی علمیت کو رد کرتے ہیں۔چنانچہ ہر ماڈرنسٹ بااختلاف شدت یہ دعوی کرتا ہے کہ ‘آج تک کوئ اصل اسلام نہیں سمجھا’،اور پھر ان میں سے ہر ایک اسلام کی تعبیر و تشکیل نوع (reconstruction and reinterpretation)کا بیڑا اپنے سر اٹھاتا ہے۔انکی نظر میں محدثین، مفسرین و فقہاۓ اسلام ملوکیت کے ایجنٹ،عجمی سازش سے متاثرہ اور قلت تدبروغیرہ کا شکار تھے۔ اسلامی تاریخ کو رد کرکے یہ لوگ جب معروضیت (objectivity) اختیار کرنے کا دعوی کرتے ہیں تو لازما حاضروموجود مغربی تہذیب ہی انکا ریفرنس پوائنٹ بنتا ہے (کیونکہ معروضی حقیقت یہی ہوتی ہے)، نتیجتا جو اسلام یہ لوگ وضع کرتے ہیں وہ لازما مغربی افکار کی اسلام کاری کے سواء اور کچھ نہیں ہوتا، اس لیۓ ان حضرات کی حکمت عملی کو ‘اسلام کی مغرب کاری’ کہا جاسکتا ہے۔ بر صغیر میں اس نہج کی ابتداء سرسید نے کی۔

اسلامک روژنسٹ حضرات اسلامی تاریخ کو رد نہیں بلکہ اسے مسخ کرتے ہیں۔یہ حضرات اسلامی علمیت و تاریخ کی ایک ایسی تشریح و تعبیر بیان کرتے ہیں جسکے نتیجے میں مغربی اقدار و ادارے اسلام کا تسلسل ثابت ہوجاۓ، یعنی اسلام اور مغرب میں ہم آہنگی پیدا ھوجاۓ۔چنانچہ یہ حضرات ثابت کرتے ہیں کہ مغربی اقدار(آزادی، مساوات، ترقی) اسلامی تعلیمات کی عطا ہیں، تمام خلفاء جمہوری طریقے سے منتخب ہوۓ، بینکاری کی ابتداء فلاں امام سے ہوتی ہے، سائنس اندلس کے عظیم مسلم سائنسدانوں کی عطا ہے، سوشل سائنسز کے بانی امام خلدون تھےوغیرہ۔یہ گروہ مغرب اور اسلام میں اصولی مماثلت کا قائل ہے اور ‘جو اچھا ھے وہ لے لو’ کی بنیاد پر مغربی اداروں میں جزوی و عملی اصلاحات کے ذریعے انکا ‘اسلامی متبادل’ تیار کرنا ممکن سمجھتا ہے۔ اس گروہ کی حکمت علمی کو ‘مغرب کی اسلام کاری’ کا نام دیا جا سکتا ھے۔اپنے خیال کے مطابق یہ حضرات مغرب اور اسلام میں ‘پل’ (bridge) تعمیر کررہے ہیں لیکن یہ ایک ایسا پل ھے جس پر صرف ‘یک طرفہ ٹریفک’ چلتی ہے یعنی اسکے ذریعے آج تک صرف مغربی اقدار و ادارے ہی اسلامی دنیا میں پہنچے ہیں مگر یہاں سے اس طرف کچھ نھیں پہنچایا جا سکا۔برصغیر میں اس نہج کے بانی علامہ اقبال(رح) ہیں۔

چونکہ ان دونوں گروہوں کے یہاں قرون اولی کی طرف مراجعت کا کوئ تصور موجود نہیں لہذا انکے علمی منہاج سے ‘احیاۓ اسلام’ کی کوئ مربوط حکمت عملی برآمد نہیں ہوپاتی، یہ محض ‘چیپی لگاکر کام چلانے’ کی حکمت عملیاں ہیں۔برصغیر میں ‘اصولا’ جس شخص کے ہاں احیاۓ اسلام کی حکمت عملی کا سراغ ملتا ہے وہ مولانا مودودی رح ہیں جنہوں نے مغرب کو جاہلیت خالصہ کہا (یہ اور بات ہے کہ مولانا کا سیاسی علم کلام بھی ماڈرنسٹ اور روژنسٹ فکر سے متاثرہ ہے)۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *