اسلامک ماڈرنزم (مغربی اور اسلامی ڈسکورس میں مطابقت پیدا کرنے) کی فکری بنیادیں

یورپ میں جدید الحادی (یعنی تنویری، بشمول سائنسٹفک) ڈسکورس اور عیسائی مذھب کی تاریخی کشمکش یہ بتاتی ھے کہ عیسائیت اس الحاد کے آگے شکست و ریخت کا شکار ھوگئ۔ البتہ جدید مسلم مفکرین نے جدید تنویری الحاد اور مذھب کی اس کشمکش کو ‘تنویری فکر بمقابلہ مذھب’ کے بجاۓ ‘تنویری فکر بمقابلہ عیسائیت’ سے تعبیر کرکے ‘تنویری فکر اور اسلام کا ملغوبہ’ تیار کرنے کا علمی ڈسکورس وضع کیا۔

ان جدید مسلم مفکرین کے دو کلیدی مفروضات ہیں (اولا) عیسائیت چونکہ باطل اور غیر عقلی تھی لہذا اس عقلی تنویری (بشمول سائنٹفک) ڈسکورس کا سامنا نہیں کرسکی (ثانیا) تنویری ڈسکورس کی بنیاد یورپ میں مسلم سپین کے راستے اسلامی علمیت سے اخذ کرکے درآمد کی گئ۔ ان دونوں مفروضات کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام چونکہ حق (عقل و فطرت کے مطابق) ھے لہذا اسے عقلی تنویری ڈسکورس (جو فی الواقع اسلام ہی کا پرتو ھے) سے نہ صرف یہ کہ کوئ خطرہ نہیں بلکہ یہ اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ھے۔ یہیں سے اسلامک ماڈرنزم (یعنی مغرب اور اسلام میں اصولی مطابقت ھے، تنویری اقدار آزادی مساوات و ترقی اسلام کی عطا کردہ ھیں، سائنٹفک ڈسکورس اسلامی ھے، اسلام ماڈرن تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال سکتا ھے، جدید اداروں کی اسلام کاری کرکے انکے اسلامی متبادل تیار کرنے) کی تحریک کا آغاز ھوتا ھے۔

ظاھر ھے ان جدید مسلم مفکرین کے یہ دونوں ہی مفروضے غلط تھے کیونکہ تنویری ڈسکورس درحقیقت کسی مخصوص مذھب نہیں بلکہ بالذات مذھب کا رد ھے کہ یہ خدا پرستی کے بجاۓ انسان پرستی کی بنیاد پر استوار ھے۔ یقینا عیسائیت کے اس ڈسکورس سے شکست کھاجانے کی ایک وجہ اسکی داخلی کمزوریاں (مثلا شرک پر مبنی ھونا، فقہ کا نہ ھونا وغیرہ) بھی تھیں مگراسکی یہ شکست اس بات کی دلیل نہیں کہ تنویری فکر درست اور حق کا پرتو تھی (ویسے بھی دنیوی غلبہ حق کی دلیل نہیں ھوتا)۔ مسلم مفکرین کی عیسائیت کی اس شکست کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھنے کی ایک وجہ عیسائیت کی اسلام دشمنی بھی تھی (یعنی چونکہ عیسائیت کو مسلمان اپنے قدیم دشمن کے طور پر دیکھتے آئے تھے لہذا عیسائیت کی اس شکست و ریخت نیز تنویری مفکرین کی طرف سے عیسائیت کے خلاف کئے جانے والے پروپیگنڈے سے متاثر ھونا کوئ عجیب امر نہیں تھا)۔ اسی طرح تنویری ڈسکورس کو اسلام کی عطا قرار دینا شکست خوردہ ذہنیت کے سواء اور کچھ نہ تھا۔

لیکن ہر گزرتا وقت یہ ثابت کرتا جارہا ھے کہ مسلم ماڈرنسٹ حضرات کا تجزیہ غلط تھا کیونکہ تنویری فکر کے ساتھ جس کشمکش کا سامنا آج سے دو سو سال قبل عیسائیت کو درپیش تھا آج اسلام بعینہہ اسی کشمکش کا شکار ھے۔ مسلمان جس قدر اسلامک ماڈرنزم کو اختیار کرتے چلے جارھے ہیں اسلام اسی قدر سیکولرائز ھوکر تنویری ڈسکورس اور اس سے برآمد ھونے والی (لبرل سرمایہ دارانہ) معاشرتی و ریاستی صف بندی میں ضم ھوتا چلا جا رھا ھے۔ جس طرح توحید اور شرک ایک ساتھ جمع نہیں کئے جاسکتے بالکل اسی طرح خداپرستی اور انسان پرستی بھی یکجان نہیں ھوسکتے، ان دونوں میں سے کسی ایک کو لازما مغلوب ھونا ھی پڑے گا۔

”اسلام دین ھے” کا درست معنی:
”اسلام دین ھے” کا یہ معنی سمجھ لیا جاتا ھے کہ اسلام کے پاس چند ایسے ابدی اصول ہیں جنہیں کسی بھی ماورائے اسلام نظام زندگی میں برت کر اسے اسلامی بنایا جاسکتا ھے، نیز اسلام ہر دور کے تقاضوں کا ساتھ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ھے۔ اس معنی کے اعتبار سے اسلام کسی معین شے نہیں بلکہ چند ایسے مبہم اصولوں کا نام رہ جاتا ھے جن کی تطبیق کسی بھی نظام کے ساتھ کرنا ممکن ھے (گویا اسلام ‘جیسا دیس ویسا بھیس’ کا معاملہ ھے)۔ یہ اسی غلط فہمی کا نتیجہ ھے کہ مسلم مفکرین دور حاضر کے ہر مظہر کو اسلام سے ثابت کرنے کی فکر میں مبتلا رھتے ہیں، یعنی آج اگر دنیا جمہوریت پر فدا ھے تو یہ اسلام سے جمہوریت نکال لاتے ہیں، اگر آج کا انسان حرص و حسد (سرمائے) کے فروغ کیلئے کارپوریشن و بینک چاھتا ھے تو انکے خیال میں اسلام بھی اسکا متبادل فراھم کرسکتا ھے، اگر آج کا انسان سائنس کو علم سمجھتا ھے تو انکے خیال میں یہ سائنس اسلام ہی کی عطا ھے، آج کا انسان اگر عورت کو پبلک آرڈر میں پروفیشنل دیکھنا چاھتا ھے تو انکے نزدیک اسلام اس امر میں بھی اسکے شانہ بشانہ کھڑا ھے، اگر آج کا انسان میوزک، گانے بجانے کو جمالیاتی احساسات کا تقاضا سمجھتا ھے تو انکے نزدیک اسلام یہاں بھی رکاوٹ نہیں، الغرض اس مفروضہ معنی کی بنا پر کبھی اسلام کو سوشل ازم اور کبھی لبرل ازم سے نتھی کردیا گیا۔ الغرض دور حاضر کے ہر تقاضے (ماوراء اس سے کہ وہ جائز ہے یا ناجائز) کا حل و متبادل اسلام سے فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ھے۔

چنانچہ اسلام دین ھے کا معنی یہ نہیں کہ اسلام ہر دور کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ھے بلکہ یہ ھے کہ اسلام انسانی زندگی (انفرادیت، معاشرت و ریاست) کو خود اپنے اصولوں و اقدار پر اس طرح مرتب کرتا ھے کہ انسانی زندگی کا کوئ گوشہ اسکی گرفت سے باہر نہیں رھتا۔ اسلام کامیاب زندگی کا اپنا ایک تصور رکھتا ھے جسکے اپنے مخصوص تقاضے ہیں اور اسلام اس میں کسی مخالف نظام کی آمیزش قبول نہیں کرتا۔ اسلام باطل تقاضوں کا حل یا متبادل پیش نہیں کرتا بلکہ انہیں تبدیل کرنے کا تقاضا کرتا ھے۔ انبیاء باطل تقاضوں کو پورا کرنے نہیں بلکہ اس ذھن کی اصلاح کرنے آتے ہیں جو ایسے باطل تقاضوں کی تکمیل کا متلاشی ھوتا ھے۔ اس کے برعکس جدید سکالرز و مفکرین نے ان تقاضوں ہی کی آبیاری کا بیڑا اٹھالیا اور نتیجتا جدید ذھن کے تقاضوں کا حل پیش کرتے کرتے دین کا حلیہ تو بگڑ گیا البتہ یہ جدید ذھن آج بھی وہیں کا وہیں کھڑا ہمہ تن و ہمہ گوش ‘Do more’ کی صدا بلند کررھا ھے۔ پس اسلام قیامت تک کیلئے دین ھے کا معنی یہ ھے کہ اسلام قیامت تک ہر دور کو جانچنے کا پیمانہ ھے کہ یہ محفوظ رھے گا، دیگر ادیان کی طرح مسخ نہ ھوگا اور نہ ہی ایسا ھوگا کہ چودہ سو سال تک اسے کوئی سمجھ ہی نہ سکے گا اور امت آج کے کسی سکالر یا مفکر کی منتظر رھے گی جو پہلی دفعہ نصوص کو ڈی کوڈ کرے گا۔
تحریر : زاہد مغل

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *