فقہ اسلامی اوردنیاکےقدیم ترین قوانین

آج فقہ اسلامی کا شمار دنیا کے چند قدیم ترین نظام ہائے قوانین میں ہوتا ھے۔ فقہ اسلامی جس دور میں مرتب ہو رھی تھی،جن دنوں فقہائے اسلام اور ائمہ مجتہدین اور مفسرین قرآن، قرآن و سنت پر غور کر کے قرآن و سنت کو مرتب کر رھے تھے۔ اس دور میں دنیا میں چار بڑے بڑے قوانین موجود تھے جن کا شمار نہ صرف اس دور کے ترقی یافتہ قوانین میں ہوتا تھا،

قانون حموربی

بلکہ آج بھی تاریخ علم قانون جو آج ھمارے سامنے ہے اور جس کا متن دنیا کی ہر بڑی زبان میں مطبوعہ موجود ہے، وہ حموربی کا قانون ھے۔ حموربی حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام سے تقریباّ پونے دو ہزار سال پہلے گزراہے۔ اس کی وفات کا اندازہ 1750 قبل مسیح کیا جاتا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا معاصر تھا۔ اس نے قوانین کا ایک مجموعہ تیار کروایا تھا جو کئی سو صفحات پر مشتمل تھا۔ یہ فرمانروا کم و پیش پینتالیس سال حکمراں رہا۔ اس نے دنیا کا ایک قدیم ترین مجموعہ جو کئی سو(کل دو سو بیاسی) دفعات پر مشتمل تھا، ایک بڑے سنگی لوح پر کندہ کرایا تھا۔ آٹھ فت بلند یہ لوح جو اس کے زمانے میں لکھی گئی تھی، 1901ء میں دستیاب ہوئی۔ اس کے بارے میں آثار قدیمہ کے ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ یہ مدون تاریخ میں دنیا کا قدیم ترین تحریری مجموعہ قانون ہے۔

٭قانون حموربی اور اس کے مندرجات:
قانون حموربی کا آغاز دیوتاؤں کے نام اپیلوں اور مناجاتوں سے ہوتا ہے اور انتہا بھی بتوں اور دیوتاؤں کے حضور دعائیہ مضامین کے الفاظ پر ہوتی ہے۔ جگہ جگہ اس قانون میں قانون کے مخالفین پر لعنت کی گئی ہے۔ جو احکام دیئے گئے ھیں ان کے مبنی بر عدل و انصاف مبنی بر مقبولیت ہونے کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ھیں کہ اس قانون کی رو سے جھوٹے گواہ کی سزا موت ہے۔ غلط فیصلہ کرنے والے جج کو جرمانہ بھی کیا جائے اور بر طرف بھی کیا جائے۔ ایک زیادہ دلچسپ مثال یہ ھے کہ اگر کسی شخص کے کسی مکان ، دکان یا کسی بھی عمارت کی دیوار گر جائے، اور اس کے نتیجے میں کوئی شخص مر جائے تو جس نے یہ دیوار بنائی تھی اس کو سزائے موت دی جائے گی۔ اگر دیوار گر جانے سے مکان کے مالک کا بچہ مر جائے تو بنانے والے مستری یا معمار کے بچے کو مجرم قرار دیتے ہوئے اس کو سزائے موت دی جائے۔ مثلاُ ایک ٹھیکیدار نے مکان بنایا۔ اس مکان کی دیوار گر گئی اور جو آدمی اس میں رہتا تھا اس کا بچہ دیوار تلے آ کر مر گیا۔ تو اب سزا یہ نہیں ہے کہ بنانے والے مستری یا معمار یا ٹھیکیدار سے پوچھا جائے کہ اس نے یہ دیوار کمزور کیوں بنائی تھی، بلکہ سزا یہ ھے کہ معمار کے بچے کو پکڑ کر قتل کر دیا جائے۔ یہ دنیا کے قدیم ترین قانون کی ایک دفعہ ھے۔
اس قانون کے مطابق انسانی آبادی ایک طرح کے انسانوں پر مشتمل نھیں تھی، بلکہ اس نے آبادی کو تین حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ ایک طبقہ حکام یا اشرافیہ کا طبقہ، ایک عامۃالناس اور ایک غلاموں کا طبقہ۔ لیکن ان احکام کے باوجود ہم یہ دیکھتے ھیں کہ اس قانون میں بعض ایسی مثالیں موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب یہ قانون مرتب کیا جا رہا تھا تو وہاں بعض آسمانی شریعتوں کے بقایا جات بھی موجود تھے۔ ان آسمانی شریعتوں کے بقایا جات بظاہر حضرت نوح علیہ السلام حضرت ادریس علیہ السلام یا کسی اور قدیم تر پیغمبر کی شریعت کے تھے ‘ہم نہیں جانتے۔ لیکن بعض ایسی مثالیں موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ بعض آسمانی کتابیں یا کم از کم ان کی باقی ماندہ تعلیمات وہاں موجود تھیں۔ جن کے اثرات اس قانون میں پائے جاتے ہیں۔ طلاق کے بعض احکام اور سزاؤں کے بعض احکام، تورات اور قرآن مجید کے احکام سے ملتے جلتے معلوم ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان کا اصول اختیار کیا گیا ہے۔ چور کے لیے قطع ید کی سزا کا قانون بھی حموربی کے ہاں ملتا ہے۔ اس قانون میں بہتان اور الزام تراشی کی سخت سزا تجویز کی گئی ہے۔ بد کاری کو فوجداری جرم قرار دیتے ہوئے اس کے لیے سزائے موت رکھی گئی ہے۔ خانگی امور میں بھی بعض احکام آسمانی شریعتوں سے متاثر معلوم ھوتے ھیں۔

٭قانون روما:
حموربی قانون کے علاوہ دنیا کا دوسرا قدیم ترین قانون یہودی قانون ہے۔ پھر شاید ہندوؤں کا منو شاستر ہے۔ پھر دنیائے مغرب کا وہ قانون جس پر اہلِ مغرب کو آج بھی ناز ہے، رومن لاء ہے۔ یہ وہ قانون ہے جس کا آغاز بھی قبل مسیح چوتھی یا پانچویں صدی سے ہوتا ہے۔ یہ قانون پہلی بار 450 قبل مسیح میں بارہ تختیوں پر لکھا گیا۔ قانون کابیشتر حصہ سابق سے رائج الوقت رسوم و رواجات کی تدوین سے ہی عبارت تھا۔ کچھ احکام دوسری اقوام مثلاَ یونانیوں سے ماخوذ بتائے جاتے ہیں۔ ان دو ازدہ الواح کے مندرجات میں بعض قانونی ضوابط کے علاوہ مذہبی مراسم اور جنازہ اور میت کے احکام بھی شامل تھے۔ اسلوب میں قانونی تقاضوں اور دو ٹوک انداز کے بجائے شاعرانہ اور مبالغہ آمیز اسلوب اپنایا گیا ہے۔ قانونی احکام بہت سخت اور اور بعض جگہ ناقابلِ عمل انداز کے تھے۔
یہ قانون مسلسل ترقی کرتا رہا۔ اور کئی بار لکھا گیا۔ اس قانون کی ایک اہم تدوین کی مثال وہ قانون ہے جو رسول اللّہ ﷺ کے بہت بچپن کے زمانے میں مرتب کیا گیا۔ غالبا جب رسول اللّہ ﷺ کی پیدائش کو چند سال ہوئے ہوں گے۔ اس وقت ایک رومی فرمانروا جسٹینین نے یہ احکام مرتب کروائے تھے۔ ان سب قوانین کے مجموعے کو رومن لاء کہا جاتا ھے۔ رومن لاء نہ صرف پوری سلطنت روما میں رائج رہا جہاں رومی حکومت کے باجگزار فرمانروا حکمران تھے اور جہاں رومی سلطنت کے اثرات تھے۔
بہت سے مغربی مستشرقین نے تقریبا دیڑھ پونے دو سو سال پہلے یہ دعویٰ کیا کہ فقہ اسلامی قانون روما سے ماخوذ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب انہوں نے فقہ اسلامی کے ذخائر کا مطالعہ کیا اور یہ دیکھا کہ اتنی وسیع و عریض فقہ، اتنا منظّم، اتنا گہرا، اتنا عمیق اور اتنا سائنٹیفک نظام مسلمانوں کے پاس موجود رہا ھے، تو شاید ان کے حاکمانہ پندار نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ مسلمانوں کی اس عظمت کا اعتراف کریں۔ ان کے مستعمرانہ مزاج اور ذہن نے یہ بات قبول نہیں کی کہ مسلمان فقہاء کے اس کارنامے کو تسلیم کریں۔ لہذا انہوں نےیہ بے بنیاد دعوٰی شروع کر دیا کہ اسلام کا قانون روما کے قانون سے ماخوذ ہے۔

٭فقہ اسلامی کے رومن قانون سے مستعار ہونے کے دلائل:
فقہ اسلامی کے رومن قانون سے مستعار ہونے کی تائید میں جو مفروضات گھڑے گئے ‘ دلائل’ دیئے گئے وہ اس نوعیت کے تھے:
1. فقہ اسلامی اور رومی قوانین میں یکسانیت ومماثلت پائی جاتی ہے، فقہی کتابوں کی ترتیب اور رومی قوانین کی ترتیب ایک جیسی ہے اس لیے ہوسکتا ہے کہ رومی قوانین کا عربی یافارسی ترجمہ فقہاء کے پیشِ نظر رہا ہو۔
2. قرآن مجید میں قانونی احکام زیادہ نہیں ہیں۔ قرآن مجید کی چند سو آیات احکام سے اتنا وسیع فقہی ذخیرہ کیسے نکالا جا سکتا ہے۔ ہو نہ ہو یہ سارا ذخیرہ قانون روما سے لیا گیا ہو گا۔
3. جب مسلمانوں نے سیدنا عمر فاروق رض کے دور میں شام کے علاقے فتح کیے تو وہاں رومی احکام کے اثرات موجود تھے۔ وہیں سے فقہائے تابعین نے یہ اثرات لیے اور ان کو باقاعدہ قانونی تصورات کی شکل دے دی۔
4. بعض قانونی اصولوں کو مذہبی تقدس دینے کے لیے حدیث کا نام دے دیا گیا اور ان کو رسول اللّہ ﷺ سے منسوب کرا دیا گیا۔ یاد رہے کہ انیسویں صدی کا وسظ ہی وہ زمانہ ہے جب مغربی مستشرقین نے تدوین حدیث کے بارے میں غلط بیانیاں کرنے کا نامبارک سلسلہ شروع کیا تھا۔
5. رومی قانون اور رومی تصورات سے استفادہ کیے بغیر اسلامی قانون اتنی برق رفتاری سے ترقی نہ کر سکتا تھا۔ یہ بے مثال وسعت اور یہ بے نظیر تیز رفتاری اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمان فقہاء نے کسی دستیاب ترقی یافتہ قانون سے استفادہ کیا تھا۔ جو ظاہر ہے کہ رومی قانون ہی ہو سکتا تھا جو شام کے مفتوحہ علاقوں میں بسہولت دستیاب تھا۔
6. فتح اسلامی کے وقت قیصریہ اور بیروت میں ایسی عدالتیں موجود تھیں جن میں رومی قوانین کے مطابق فیصلے ہوتے تھے اور یہ عدالتیں فتح اسلامی کے بعد بھی وہاں موجود رہیں چونکہ مسلمان اس وقت تک شہر کی متمدن زندگی اور اس کے اصولوں سے زیادہ واقف نہیں تھے اور دوسری طرف قدیم متمدن ممالک کی فتوحات کے نتیجے میں نئے نئے مسائل بڑی سرعت کے ساتھ پیدا ہورہے تھے اور قرآن وحدیث سے حاصل شدہ مواد ان ضروریات کی تکمیل کے لیے کافی نہیں تھا، اس لیے قدمائے اسلام مفتوحہ ممالک کے سابقہ قوانین کے مطابق فیصلے کرتے تھے، اس طرح بہت سے رومی قوانین اسلامی قانون کی شکل اختیار کرگئے۔

انیسویں صدی کے ربع اخیر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں یہ بات مزید زوروشور سے دہرائی گئی۔ فان کریمر، ڈی بوئر، گولڈ تسیہر اور آخر میں جوزف شخت نے اس موضوع پر تحریروں کے انبار لگا دیئے، یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ دعوے کرنے میں رومی الاصل یا اطالوی مستشرقین کے مقابلے میں جرمن بالخصوص یہودی الاصل مستشرقین زیادہ پیش پیش تھے۔ ان لوگوں نے یہ لے اتنی شدت سے بلند کی کہ دنیائے مغرب تو دنیائے مغرب، خود دنیائے اسلام کے بہت سے لوگ اس سے اثر لئے بغیر نہ رہ سکے۔ان لوگوں کے دلائل بھی کم و پیش وہی تھے۔ یعنی شام و عراق متمدن مقامات تھے، وہاں یہ قوانین پہلے سے ہی رائج تھے۔ اس لیئے فقہائے اسلام کا ان سے متاثر ہونا ناگزیر تھا۔ یا یہ کہ روز افزوں ریاست اور معاشرے کے مسائل حل چونکہ شریعت (قرآن و سنت) میں موجود نہ تھا، اس لئے نہ صرف حکمران بلکہ قضاۃ و فقہاء مجبور تھے کہ شام و عراق کے مفتوحہ علاقوں میں رائج مقامی رواجات اور رائج الوقت قانونی تصورات کے مطابق نت نئے پیش آمدہ معاملت کا فیصلہ کریں۔
اگربنظرِ غائر ان دلائل کا مطالعہ کیا جائے تومعلوم ہوگا کہ مستشرقین نے حقائق کو مسخ کرنے ،خیالی مفروضات کوحقیقت کا جامہ پہنانے اور رائی کا پہاڑ بنانے میں جس جرأت وبیباکی کا مظاہرہ کیا ہے؛ شاید اس کی مثال دوسری جگہ نہ مل سکے۔ ہمیں مغربی اہل علم اور مستشرقین سے تو کوئی شکایت نہیں، متعصبین و مخالفین سے اسی رویے کی امید ہوتی ہے ۔ شکایت غیروں سے نہیں اپنوں سے ہوتی ہے۔ اپنوں میں سے جب کوئی ان کمزور اور ادھ کچری باتوں کو دہراتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے۔ ہمارے متجددین کی فقہ کے موضوع پر تمام تر تحقیق انہی مفروضات کو لیے ہوئے ہے۔
استفادہ تحریر خطبات فقہ ڈاکٹر محمود احمد غازی

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *