دورِجدیدمیں اسلامی شریعت کی تعبیروتشریح کادرست منہج

مسلم ممالک میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ اور اسلامی احکام وقوانین کی عمل داری کا مسئلہ جہاں اپنی نوعیت واہمیت کے حوالے سے ہمارے ملی فرائض اور دینی ذمہ داریوں میں شمار ہوتا ہے، وہاں اس کی راہ میں حائل متنوع مشکلات اور رکاوٹوں کے باعث وہ ایک چیلنج کی حیثیت بھی رکھتا ہے اور مسلم معاشروں میں اس سے نمٹنے کے لیے مختلف اطراف سے کوششیں جاری ہیں۔ان مشکلات اور رکاوٹوں میں سیاسی، تہذیبی، اقتصادی اور عسکری امور کے ساتھ ساتھ یہ علمی رکاوٹ بھی نفاذ اسلام کی راہ روکے کھڑی ہے کہ آج کے بین الاقوامی حالات اور جدید عالمی تہذیبی ماحول میں اسلامی احکام وقوانین کی مقامی وبین الاقوامی سطح پر تطبیق کی عملی صورتیں کیا ہوں گی، اور گلوبلائزیشن کی اس فضا میں جبکہ دنیا کی کوئی قوم دوسری اقوام کے حالات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی اور اقوام عالم میں ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے اور ایک دوسرے کا اثر قبول کرنے کا دائرہ دن بدن وسیع اور ناگزیر ہوتا جا رہا ہے، اسلامی احکام وقوانین کی اس کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کی قابل قبول اور قابل عمل شکل کیا ہو سکتی ہے؟مسلم ممالک میں اس حوالے سے تین رجحانات عام طو رپر پائے جاتے ہیں اور ان کے درمیان امتیاز بلکہ کشاکش دن بدن واضح ہوتی جا رہی ہے:
 آج کے عالمی ماحول، جدید ثقافتی فضا اور بین الاقوامی مطالبات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اسلامی احکام وقوانین کو اس علمی ورثے اور فقہی ذخیرے کی بنیاد پر بالکل اسی طرح نافذ کر دیا جائے جس طرح وہ ترکی کی خلافت عثمانیہ اور جنوبی ایشیا کی مغل سلطنت میں نافذ تھے اور جن کی اس وقت تک کی ارتقائی شکل ہمارے پاس ’’مجلۃ الاحکام العدلیہ‘‘ اور ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ کی صورت میں موجود ہے۔
 اس علمی ورثے اور فقہی ذخیرے کو ایک طرف رکھتے ہوئے جدید عالمی تقاضوں اور بین الاقوامی مطالبات کو سامنے رکھ کر قرآن وسنت بلکہ بعض حلقوں کے نزدیک صرف قرآن کریم کی بنیاد پر نئی فقہ تشکیل دی جائے اور اسے مسلم ممالک میں قانون سازی کی اساس قرار دیا جائے۔
 گزشتہ چودہ سو سال کے علمی ورثے اور فقہی ذخیرے سے ترک تعلق اور اس سے براء ت کا اظہا ر کرنے کی بجائے اسی کی بنیاد پر اور اس کے مسلمہ اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے نئے مسائل کا حل تلاش کیا جائے، جدید قانون سازی کے تقاضوں کی تکمیل کی جائے اور جن بین الاقوامی مطالبات اور تقاضوں کو پورا کرنے کی عملی صورتیں اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے نکالی جا سکتی ہیں، ان سے گریز نہ کیا جائے۔

پورے عالم اسلام میں ان تین حوالوں سے علمی کام جاری ہے اور ہر حلقہ اپنی سوچ کو آگے بڑھانے کے لیے تگ وتاز میں مصروف ہے۔ دیکھا جائے تو پہلی دونوں صورتیں غیر متوازن اور غیر عملی ہیں، اس لیے کہ نہ تو یہ ممکن ہے کہ ہم آج کے عالمی ماحول کو کلیتاً نظر انداز کر دیں اور جدید بین الاقوامی تمدنی تقاضوں سے آنکھیں بند کرتے ہوئے دو سو سال قبل کے اجتہادی فیصلوں اور عمل کو آج کے لیے بھی مکمل طور پر واجب العمل قرار دے دیں، ا ور نہ ہی یہ ہو سکتا ہے کہ ہم امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ اجماعی تعامل، فقہاے امت کی علمی کاوشوں اور دنیا بھر کے مسلم معاشروں میں اسلامی احکام و قوانین کی حکمرانی کے کم وبیش ایک ہزار سالہ تسلسل کو بین الاقوامیت کے جدید ماحول کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے قرآن کریم یا قرآن وسنت کی نئی تعبیر وتشریح کرنے بیٹھ جائیں، کیونکہ ایسا کوئی بھی عمل مسلمہ اسلامی اصولوں کے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کی غالب ترین اکثریت کے نزدیک بھی قابل قبول نہیں ہوگا اور اس کا عملی نتیجہ مسیحیت میں مارٹن لوتھر کی پراٹسٹنٹ تحریک کی طرح سوسائٹی کو دین سے کلیتاً لاتعلق کر دینے کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوگا۔ اس لیے ہمارے نزدیک اسلامی قوانین واحکام کی تعبیر وتشریح کے لیے صحیح، قابل عمل اور متوازن راستہ یہ ہے کہ:
امت مسلمہ کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی مسلمات کے دائرہ کی بہرحال پابندی کی جائے۔
امت مسلمہ کی غالب اکثریت کی فقہی وابستگیوں کا احترام کرتے ہوئے ہر ملک میں وہاں کی اکثریت کے فقہی رجحانات کو قانون سازی کی بنیاد بنایا جائے، البتہ قانون سازی کو صرف اسی دائرے میں محدود رکھنے کی بجائے دوسری فقہوں سے استفادہ یا بوقت ضرورت قرآن وسنت سے براہ راست استنباط کا دروازہ بھی کھلا رکھا جائے۔
جدید عالمی ثقافتی ماحول اور گلوبلائزیشن سے پیدا ہونے والے مسائل اور بین الاقوامی مطالبات اور تقاضوں کو نہ تو حق اور انصاف کا معیار تصور کیا جائے کہ ہم ہر تقاضے کے سامنے سپرانداز ہوتے چلے جائیں اور اس کے لیے اسلامی اصولوں اور احکام سے دست برداری یا ان کی مغرب کے لیے قابل قبول توجیہ وتعبیر ہی ہماری علمی کاوشوں کا ہدف بن کر رہ جائے اور نہ ہی ہم انھیں یکسر نظر انداز کرتے ہوئے نفاذ اسلام کے لیے اپنی پیش رفت کا راستہ خود ہی روکے کھڑے رہیں، بلکہ جن مطالبات اور تقاضوں کو ہم قرآن وسنت کی تعلیمات، اہل سنت کے علمی مسلمات اور اجتہاد شرعی کے دائرے میں قبول کر سکتے ہیں، انھیں کھلے دل سے قبول کریں اور جو امور قرآن وسنت کی نصوص صریحہ اور اجتہاد شرعی کے مسلمہ اصولوں سے متصادم ہوں، ان کے بارے میں کسی قسم کا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیے بغیر پوری دل جمعی کے ساتھ ان پر قائم رہیں۔
اس پس منظرمیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نفاذ شریعت اور اسلامی قوانین واحکام کی تعبیر وتشریح کے حوالے سے مختلف اطراف میں جو کام ہو رہا ہے، اس کے بارے میں بھی کچھ اصولی گزارشات ضروری سمجھتا ہوں:
1. صرف قرآن کریم کو قانون سازی کی بنیاد بنانا اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قانون سازی کا ماخذ تسلیم نہ کرنا قطعی طور پر ناقابل قبول اور خود قرآنی تعلیمات کے منافی ہے۔
2. سنت رسول سے مراد وہی ہے جو امت مسلمہ چودہ سو سال سے اس کا مفہوم سمجھتی آ رہی ہے اور اس سے ہٹ کر سنت کا کوئی نیا مفہوم طے کرنا اور جمہور امت میں اب تک سنت کے متوارث طور پر چلے آنے والے مفہوم کو مسترد کر دینا بھی عملاً سنت کو اسلامی قانون سازی کا ماخذ تسلیم نہ کرنے کے مترادف ہے۔
3. ایک رجحان آج کل عام طور پر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ سنت مستقل ماخذ قانون نہیں ہے، بلکہ اس کی حیثیت ثانوی ہے اور قرآن کریم کے ساتھ اس کی مطابقت کی صورت میں ہی اسے احکام وقوانین کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ بظاہر بہت خوب صورت بات ہے، لیکن اس صورت میں اصل اتھارٹی سنت نہیں بلکہ مطابقت تسلیم کرنے یا نہ کرنے والے کا ذہن قرار پاتا ہے کہ وہ جس سنت کو قرآن کریم کے مطابق سمجھ لے، وہ قانون کی بنیاد بن سکتی ہے اور جس سنت کو اس کا ذہن قرآن کریم کے مطابق قرار نہ دے، وہ احکام وقوانین کی بنیاد نہیں بن سکتی۔
یہاں ایک بات یہ بھی مغالطہ کا باعث بنتی ہے کہ قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں مطابقت کے لیے عقل عام کو معیار تسلیم کر لیا جائے تو معاملہ قرین قیاس ہو جاتا ہے، مگر یہ سراسر مغالطہ ہے، اس لیے کہ عقل عام کی بنیاد میسر معلومات، مشاہدات اور تجربات پر ہوتی ہے جن کے دائرے زمان ومکان دونوں حوالوں سے تغیر پذیر رہتے ہیں، اس لیے عقل عام کو قرآن وسنت کی تعبیر وتشریح یا ان کے درمیان تطبیق وتوفیق کا حتمی معیار قرار دینے کا مطلب قرآن وسنت کو کسی ایک دور یا علاقہ کی عقل عام کا پابند بنا دینے یا ہر زمانہ اور علاقہ کے لیے الگ الگ تعبیر وتشریح کا دروازہ کھول دینے کے مترادف ہوگا، اس لیے صحیح راستہ یہی ہے کہ سنت کو ثانوی درجہ کا ماخذ قانون قرار دینے کی بجائے اسلامی قانون سازی کا مستقل ماخذ اور قرآن وسنت کی تعبیر و تشریح کا حتمی معیار تسلیم کیا جائے، جیسا کہ حضرات صحابہ کرامؓ کے دور میں ہوتا تھا اور اسی پر امت مسلمہ کا اجماعی تعامل چلا آ رہا ہے۔
استفادہ تحریر: مولانا زاہد الراشدی

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *