کیاخلفائےراشدین نےسنت کی پیروی نہیں کی؟

اعتراض:
“حضرات خلفائے کرام اچھی طرح سمجھتے تھے کہ وحی الکتاب کے اندر محفوظ ہے اور اس کے بعد حضور ﷺ جو کچھ کرتے تھے، باہمی مشاورت سے کرتے تھے۔ اس لیے حضور ﷺ کی وفات کے بعد نظام میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ سلطنت کی وسعت کے ساتھ تقاضے بڑھتے گئے اس لیے آئے دن نئے نئے امور سامنے آتے تھے جن کے تصفیہ کے لیے اگر کوئی پہلا فیصلہ مل جاتا جس میں تبدیلی کی ضرورت نہ ہوتی تو اسے علیٰ حالہٖ قائم رکھتے تھے۔ اگر اس میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی تو باہمی مشاورت سے تبدیلی کر لیتے اور اگر نئے فیصلہ کی ضرورت ہوتی تو باہمی مشاورت سے نیا فیصلہ کر لیتے۔ یہ سب کچھ قرآن کی روشنی میں ہوتا تھا۔ یہی طریقہ رسول اللہ کا تھا اور اسی کو حضور ﷺ کے جانشینوں نے قائم رکھا۔ اسی کا نام اتباع رسول تھا”۔
جواب :
اس عبارت میں پے در پے متعدد غلط باتیں کی گئی ہیں۔ پہلی غلط بیانی یہ ہے کہ رسول اللہ جو کچھ کرتے تھے، باہمی مشاورت سے کرتے تھے، حالانکہ مشاورت حضور ﷺ نے صرف تدابیر کے معاملے میں کی ہے اور وہ بھی ان تدابیر کے معاملے میں جن کے اختیار کرنے کا حکم آپ کو وحی سے نہیں ملا ہے۔ قرآن کی تعبیر و تفسیر اور اس کے کسی لفظ یا فقرے کا منشا مُشخّص کرنے میں حضور ﷺ نے کبھی کسی سے مشورہ نہیں لیا۔ اس معاملہ میں آپ کی اپنی ہی شرح قطعی ناطق تھی۔ اس طرح آپ کے پورے عہد رسالت میں کبھی یہ طے کرنے کے لیے کوئی مشاورت نہیں ہوئی کہ لوگوں کے لیے کس چیز کر فرض و واجب کس چیز کو حلال و جائز اور کس چیز کو ممنوع و حرام ٹھہرایا جائے اور معاشرے میں کیا قاعدے اور ضابطے مقرر کیئے جائیں۔ حضور ﷺ کی حیات طیبہ میں تنہا آپ کی زبان اور آپ کی عملی زندگی ہی لیجسلیچر تھی۔ کوئی مومن یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ ان معاملات میں وہ حضور ﷺ کے سامنے زبان کھولنے کا مجاز ہے۔ کیا آپ کوئی مثال ایسی پیش کر سکتے ہیں کہ عہد رسالت میں قرآن کے کسی حکم کی تعبیر مشورے سے کی گئی ہو، یا کوئی قانون مشورے سے بنایا گیا ہو؟ بہت سی نہیں صرف ایک مثال ہی آپ پیش فرما دیں۔

حدیث اور خلفائے کرام کا طرز عمل :
دوسری خلاف واقعہ بات آپ یہ فرما رہے ہیں کہ خلفائے راشدین صرف قرآن کو منبع ہدایت سمجھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قول و عمل کو واجب الاتباع مآخذ قانون نہیں سمجھتے تھے۔ یہ ان بزرگوں پر آپ کا سخت بہتان ہے جس کے ثبوت میں نہ آپ ان کا کوئی قول پیش کر سکتے ہیں نہ عمل، اگر اس کا کوئی ثبوت آپ کے پاس ہے تو وہ سامنے لائیے۔ ان کے طرز عمل کی جو شہادتیں ان کے زمانے سے متصل لوگوں نے دی ہیں وہ تو یہ ہیں :
ابن سیرین (33ھ – 110ھ) کہتے ہیں کہ “ابوبکر کے سامنے جب کوئی معاملہ پیش ہوتا اور وہ جب نہ کتاب اللہ میں سے اس کے لیے کوئی حکم پاتے، نہ سنت میں اس کی کوئی نظیر ملتی تب وہ اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرتے اور فرماتے یہ میری رائے ہے، اگر صحیح ہے تو اللہ کا فضل ہے۔” (ابن القیم، اعلام الموقعین، جلد 1، ص 54)۔
میمون بن مہران (27ھ – 71ھ) کہتے ہیں : “ابوبکر صدیق کا طریقہ یہ تھا کہ اگر کسی معاملہ کا فیصلہ انہیں کرنا ہوتا تو پہلے کتاب اللہ میں دیکھتے، اگر وہاں اس کا حکم نہ ملتا تو سنت رسول اللہ میں تلاش کرتے۔ اگر وہاں حکم مل جاتا تو اس کے مطابق فیصلہ کرتے۔ اور اگر انہیں اس مسئلے میں سنت کا علم نہ ہوتا تو لوگوں سے پوچھتے تھے کہ کیا تم میں سے کسی کو معلوم ہے کہ اس طرح کے کسی معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی فیصلہ فرمایا ہے۔” (کتاب مذکور، صفحہ 62)۔
علامہ ابن قیم نے پوری تحقیق کے بعد اپنا نتیجۂ تحقیق یہ بیان کیا ہے کہ لا یحفظ للصدیق خلاف نص واحد ابدا۔ ابوبکر صدیق کی زندگی میں نص کی خلاف ورزی کی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔” (کتاب مذکور، ج4، ص 120)۔
مشہور واقعہ ہے کہ ایک دادی اپنے پوتے کی میراث کا مطالبہ لے کر آئی جس کی ماں مر چکی تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق نے کہا میں کتاب اللہ میں کوئی حکم نہیں پاتا جس کی رو سے تجھ کو ماں کا حصہ پہنچتا ہو۔ پھر انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تو اس معاملہ میں کوئی حکم نہیں دیا ہے۔ اس پر مغیرہ بن شعبہ اور محمد بن مسلمہ نے اٹھ کر شہادت دی کہ حضور ﷺ نے دادی کو چھٹا حصہ (یعنی حصۂ مادری) دلوایا ہے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر نے اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا۔ (بخاری و مسلم)
موطا میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ حضرت ابوبکر نے اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ کو اپنی زندگی میں کچھ مال دینے کے لیے کہا تھا، مگر انہیں یہ یاد نہیں تھا کہ یہ مال ان کے حوالہ کر دیا گیا تھا یا نہیں۔ وفات کے وقت آپ نے اس سے فرمایا کہ اگر وہ مال تم لے چکی ہو، تب تو وہ تمہارے پاس رہے گا (کیونکہ وہ ہبہ ہو گیا)، لیکن اگر ابھی تک تم نے اسے قبضہ میں نہیں لیا ہے تو اب وہ میرے سب وارثوں میں تقسیم ہو گا (کیونکہ اس کی حیثیت ہبہ کی نہیں بلکہ وصیت کی ہے اور حدیث لا وصیۃ لوارث کی رو سے وارث کے حق میں کوئی وصیت میت کے ترکے میں نافذ نہیں ہو سکتی تھی) اس طرح کی بکثرت مثالیں خلیفۂ اول کی زندگی میں ملتی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے سے بال برابر ہٹنا بھی جائز نہ رکھتے تھے۔
کون نہیں جانتا کہ خلیفہ ہونے کے بعد حضرت ابوبکر کا اولین اعلان یہ تھا کہ اطیعونی ما اطعت اللہ و رسولہ فان عصیت اللہ و رسولہ فلا طاعۃ لی علیکم ” میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا رہوں۔ لیکن اگر میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کروں تو میری کوئی اطاعت تم پر نہیں ہے۔” کس کو معلوم نہیں کہ انہوں نے حضور ﷺ کی وفات کے بعد جیش اسامہ کو صرف اس لیے بھیجنے پر اصرار کیا کہ جس کام کا فیصلہ حضور ﷺ اپنی زندگی میں کر چکے تھے، اسے بدل دینے کا وہ اپنے آپ کو مجاز نہ سمجھتے تھے۔ صحابہ کرام نے جب ان خطرات کی طرف توجہ دلائی جن کا طوفان عرب میں اٹھتا نظر آ رہا تھا اور اس حالت میں شام کی طرف فوج بھیج دینے کو نامناسب قرار دیا، تو حضرت ابو بکرؓ کا جواب یہ تھا کہ
لو خطفتنی الکلاب و الذئاب لم ارد قضاء بہ رسول اللہ۔
“اگر کتے اور بھیڑیے بھی مجھے ا چک لے جائیں تو میں اس فیصلہ کو نہ بدلوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کر دیا تھا”۔ حضرت عمرؓ نے خواہش ظاہر کی کہ کَم از کم اسامہؓ ہی کو اس لشکر کی قیادت سے ہٹا دیں کیونکہ بڑے بڑے صحابہ اس نوجوان لڑکے کی ماتحتی میں رہنے سے خوش نہیں ہیں، تو حضرت ابو بکرؓ نے ان کی داڑھی پکڑ کر فرمایا:
ثکلتک امک و عدمتک یا ابن الخطاب، استعملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و تامرنی ان انزعہ۔
“خطاب کے بیٹے، تیری ماں تجھے روئے اور تجھے کھو دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو مقرر کیا اور تو مجھ سے کہتا ہے کہ میں اسے ہٹا دوں”۔ اس موقع پر لشکر کو روانہ کرتے ہوئے جو تقریر انہوں نے کی اس میں فرمایا:
انما انا متبع لست بمبتدع
“میں تو پیروی کرنے والا ہوں۔ نیا راستہ نکالنے والا نہیں ہوں”۔

پھر کس سے یہ واقعہ پوشیدہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ اور حضرت عباس کے مطالبۂ میراث کو ابوبکر صدیقؓ نے حدیث رسول اللہ ہی کی بنیاد پر قبول کرنے سے انکار کیا تھا اور اس “قصور” پر وہ آج تک گالیاں کھا رہے ہیں۔ مانعینِ زکوٰۃ کے خلاف جب وہ جہاد کا فیصلہ کر رہے تھے تو حضرت عمرؓ جیسے شخص کو اس کی صحت میں اس لیے تامل تھا کہ جو لوگ کلمہ لا الٰہ الا اللہ کے قائل ہیں ان کے خلاف تلوار کیسے اٹھائی جا سکتی ہے۔ مگر اس کا جو جواب انہوں نے دیا، وہ یہ تھا کہ
واللہ لو منعونی عقالا کانوا یودونہ الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لقاتلھم علی منعہ
“خدا کی قسم، اگر وہ اونٹ باندھنے کی ایک رسی بھی اس زکوٰۃ میں سے روکیں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں دیتے تھے تو میں اس پر ان سے لڑوں گا”۔ یہ قول اور یہ عمل تھا اس شخص کا جس نے حضورؐ کے بعد سب سے پہلے زمامِ کار سنبھالی تھی اور آپ کہتے ہیں کہ خلفائے راشدین اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے فیصلے بدلنے کا مجاز سمجھتے تھے۔

حضرت ابو بکرؓ کے بعد حضرت عمر کا مسلک اس معاملے میں جو کچھ تھا، اسے وہ خود قاضی شریح کے نام اپنے خط میں اس طرح بیان فرماتے ہیں:
“اگر تم کوئی حکم کتاب اللہ میں پاؤ تو اس کے مطابق فیصلہ کر دو اور اس کی موجودگی میں کسی دوسری چیز کی طرف توجہ نہ کرو اور اگر کوئی ایسا معاملہ آئے جس کا حکم کتاب اللہ میں نہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت میں جو حکم ملے اس پر فیصلہ کرو اور اگر معاملہ ایسا ہو جس کا حکم نہ کتاب اللہ میں ہو اور نہ سنت رسول اللہ میں تو اس کا فیصلہ اس قانون کے مطابق کرو جس پر اجماع ہو چکا ہو لیکن اگر کسی معاملہ میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ دونوں خاموش ہوں اور تم سے پہلے اس کے متعلق کوئی اجماعی فیصلہ بھی نہ ہوا ہو تو تمہیں اختیار ہے کہ یا تو پیش قدمی کر کے اپنی اجتہادی رائے سے فیصلہ کر دو، یا پھر ٹھہر کر انتظار کرو اور میرے نزدیک تمہارا انتظار کرنا زیادہ بہتر ہے”۔ (اعلام المعوقین، جلد۱، ص ۶۱۔ ۶۲)
یہ حضرت عمرؓ کا اپنا لکھا ہوا سرکاری ہدایت نامہ ہے، جو انہوں نے خلیفۂ وقت کی حیثیت سے ضابطۂ عدالت کے متعلق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجا تھا۔ اس کے بعد کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ ان کے مسلک کی کوئی دوسری ترجمانی کرے۔

حضرت عمرؓ کے بعد تیسرے خلیفہ حضرت عثمانؓ ہیں۔ بیعت کے بعد اولین خطبہ جو انہوں نے دیا، اس میں علی الاعلان تمام مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
“خبردار رہو، میں پیروی کرنے والا ہوں، نئی راہ نکالنے والا نہیں ہوں۔ میرے اوپر کتاب اللہ اور سنت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی پابندی کے بعد تمہارے تین حق ہیں جن کی میں ذمہ داری لیتا ہوں۔ ایک یہ کہ میرے پیش رو خلیفہ کے زمانے میں تمہارے اتفاق و اجتماع سے جو فیصلے اور طریقے طے ہو چکے ہیں، ان کی پیروی کروں گا۔ دوسرے یہ کہ جو امور اب اہل خیر کے اجتماع و اتفاق سے طے ہوں گے ان پر عمل درآمد کروں گا۔ تیسرے یہ کہ تمہارے اوپر دست درازی کرنے سے باز رہوں گا۔ جب تک تم از روئے قانون مواخذہ کے مستوجب نہ ہو جاؤ”۔ (تاریخ طبری، جلد ۳، ص ۴۴۶)

چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ ہیں۔ انہوں نے خلیفہ ہونے کے بعد اہل مصر سے بیعت لینے کے لیے اپنے گورنر حضرت قیس بن سعدہ بن عبادہ کے ہاتھ جو سرکاری فرمان بھیجا تھا اس میں وہ فرماتے ہیں:
“خبردار رہو، ہمارے اوپر تمہارا یہ حق ہے کہ ہم اللہ عز و جل کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق عمل کریں اور تم پر وہ حق قائم کریں جو کتاب و سنت کی رو سے حق ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کو جاری کریں اور تمہاری بے خبری میں بھی تمہارے ساتھ خیر خواہی کرتے رہیں”۔ (تاریخ طبری، جلد۳، ص ۵۵۰)

منکرین حدیث کہتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی اللہ اور رسول کے الفاظ آئے ہیں ان سے مراد “مرکز ملت” ہے۔ لیکن یہ نقطہ خلفائے راشدین کی سمجھ میں نہ آیا۔ وہ بیچارے یہی سمجھتے رہے کہ ہم ” مرکز ملت ” ہونے کی حیثیت سے اللہ اور اس کے رسول کا تابع فرمان ہیں۔ اگر کہیں ان لوگوں کے دور میں “طلوع اسلام” رونما ہو چکا ہوتا تو وہ ان سے کہتا کہ اے مرکز ملت “اللہ اور رسول تو تم خود ہو” تم کس اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے چلے ہو۔
آپ کا یہ خیال بھی محض ایک دعویِ بلا ثبوت ہے کہ خلفائے راشدین قرآن مجید کے احکام کو تو قطعی واجب الاطاعت فرماتے تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے فیصلوں میں جن کو وہ باقی رکھنا مناسب سمجھتے تھے، انہیں باقی رکھتے تھے اور جنہیں بدلنے کی ضرورت سمجھتے تھے انہیں بدل کر باہمی مشاورت سے نئے فیصلے کر لیتے تھے۔ آپ اس کی کوئی نظیر پیش فرمائیں کہ خلافت راشدہ کے پورے دور میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا کوئی فیصلہ بدلا گیا ہو، یا کسی خلیفہ یا صحابی نے یہ خیال ظاہر کیا ہو کہ ہم حضورؐ کے فیصلے حسب ضرورت بدل لینے کے مجاز ہیں۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *