روایت حضرت حفصہ نےحضورؐکوڈانٹ پلائی-منکرین حدیث کی علمی خیانت

ڈاکٹر شبیر لکھتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ کے سامنے قسم کھائی کہ اپنی کنیز سے مقاربت نہ کریں گے حضرت حفصہ اپنے گھر میں گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماریہ کے ساتھ ہمبستر دیکھا اس پر انھوں نے حضور(ص) کو بہت ڈانٹ پلائی” سیرت النبی(ص) ، شبلی۔ جلد اوّل۔ صفحہ 146۔
(اسلام کے مجرم،صفحہ51,52)
تبصرہ
منکرین حدیث کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ عوام کی جہالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محض حدیث دشمنی میں بدترین علمی خیانتیں کرتے ہیں ۔ گزشتہ کئی تحاریر میں اسکا ذکر آیا کہ علماء نے موضوع/ گھڑی ہوئی روایات کو چھانٹ کے علیحدہ کتابوں میں جمع کیا ہے، منکرین حدیث انہی کتابوں میں سے گھڑی ہوئی روایات اٹھا کے حدیث پر اعتراض اٹھاتے ہیں ۔ اکثر علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ کی کتاب “الموضوعات” سے روایت نقل کرتے ہیں اور حوالہ دینا ‘بھول’ جاتے ہیں ۔چند دن پہلے فیس بکی متجدد المعروف قاری صاحب نے ایسی ہی علمی دیانت دار کا مظاہرہ کرتے ہوئے حدیث پر اعتراضات اٹھائے۔ اس طرح طلوع اسلام کے ایک مقالہ نگار صاحب موضوعات پر مشتمل کتابوں سے چند ایسی روایات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ حدیث کے مجموعوں میں ایسی روایات بکثرت ملتی ہیں جو ‘الزام تراشی’، ‘دروغ بافی’ اور ‘فحش نگاری’ کامرقع ہیں۔۔۔۔! ملاحظہ کیجیے ان لوگوں کے نزدیک گھر کے مالک اور محافظ ہی چور اور پولیس ڈاکو ہے ۔ان روایات کو جنہیں ‘الزام تراشی’ اور ‘فحش نگاری’ کا مرقع قرار دیا ان کے جھوٹ ہونے کی قلعی خود محدثین نے پہلے ہی کھول دی ہے لیکن یہ کمال ڈھٹائی سے ان چوری پکڑنے والوں ہی کو چور کہہ رہے ہیں ۔
اس طرح بہت سے منکرین حدیث اس مکروفریب کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ محدثین نے اپنی کتابوں میں روایات پر تحقیق کرتے ہوئے انکی کمزوری کو واضح کیا ، ان پر اعتراضات اٹھائے اور انکے جھوٹا ہونے کو ثابت کیا ہے ، منکرین حدیث ان کتابوں میں سے وہ روایات بمعہ اعتراضات و مطاعن تو بعینہ نقل کر دیتے ہیں مگر علماء نے ان پر جو جرح یا تبصرہ کیا ہے اسے مطلقاً نظر انداز کر جاتے ہیں ۔اسی انداز میں امام ابن قتیبہ کی کتاب ‘ مختلف الحدیث” سے جناب غلام احمد پرویز صاحب نے بہت استفادہ کیا ۔
اوپر پیش کردہ اعتراض بھی اسی کی ایک مثال ہے یہ منکرین حدیث کی بائبل ڈاکٹر شبیر کی کتاب ‘ اسلام سے مجرم ‘ سے نقل کیا گیا ہے۔ اس میں ڈاکٹر صاحب نے بھی اسی طرح کی علمی خیانت کی ۔ انہوں نے علامہ شبلی نعمانی صاحب کی سیرت النبی سے روایت تو نقل کردی مگر اس روایت پر علامہ شبلی نعمانی کا طویل علمی تبصرہ شیر مادر سمجھ کر ہضم کرگئے۔
ہم زیر بحث روایت پر کی گئی علامہ شبلی نعمانی کی بھرپور علمی تنقید کو من وعن نقل کررہے ہیں اس سے قارئین کو ڈاکٹر شبیر کی تلبیسات وعلمی خیانت کا بغور اندازہ ہوجائے گا ۔
علامہ شبلی نعمانی نے اس بحث پر ”روایات کاذبة” کے نام سے باب باندھا ہے ۔
یہ بات اس قدر مسلّم ہے اور خود قرآن مجید میں مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کی خاطر اپنے اوپر کوئی چیز حرام کرلی تھی ۔ اختلاف اس میں ہے کہ وہ کیا چیز تھی ؟ بہت سی روایتوں میں ہے کہ وہ ماریہ قبطیہ ایک کنیز تھیں جن کو عزیز مصر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفہ بھیجا تھا ۔ماریہ قبطیہ کی روایت تفصیل کے ساتھ مختلف طریقوں سے بیان کی گئی ہے جس میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو راز سیدہ حفصہ نے فاش کردیا تھا وہ انہی ماریہ قبطیہ کے متعلق تھا اگر چہ یہ روایتیں بالکل موضوع اور ناقابل ذکر ہیں ۔ لیکن چونکہ یورپ کے اکثر مؤرخوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معیار اخلاق پر جو حرف گیری کی ہے ان کا گل سرسر ی ہی ہے اس لئے ان سے تعرض کرنا ضروری ہے ۔ ان روایتوں میں واقع کی تفصیل سے متعلق اگرچہ نہایت اختلاف ہے لیکن اس قدر سب کا قدر مشترک ہے کہ ماریہ قبطیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موطورة کنیزوں میں تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ کی ناراضگی کی وجہ سے ان کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا ۔
حافظ ابن حجر شرح صحیح بخاری تفسیر سورہ تحریم میں لکھتے ہیں ۔
” ووقع عند سعید بن منصور باسناد صحیح الی مسروق قال حلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لحفصة لایقرب امة ”(فتح الباری جلد 8صفحہ 837)
”اور سعید بن منصور نے صحیح سند کے ساتھ جوامام مسروق تک منتہیٰ ہوتی ہے یہ روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ کے سامنے قسم کھائی کہ اپنی کنیز سے مقاربت نہ کریں گے ”
اس کے بعد موصوف نے مسند (ہیثم بن کلیب )اور طبرانی سے متعدد روایتیں نقل کی ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے ۔
”وللطبرانی من طریق ضحاک عن ابن عباس قال دخلت حفصة بیتھا فوجدہ یطاء ماریة فعاتبة ”(فتح الباری جلد 8صفحہ 837)
”اور طبرانی نے ضحاک کے سلسلے میں سیدنا ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ سیدہ حفصہ اپنے گھر گئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوسیدہ ماریہ کے ساتھ ہمبستر دیکھا اس پر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معاتب کیا ۔”
ابن سعد اور واقدی نے اس روایت کو مزید بدنما پیرایوں میں نقل کیا ہے ہم ان کو نظر انداز کرتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ تمام روایتیں محض افتراء اور بہتان ہیں ۔
علامہ عینی شرح صحیح بخاری باب النکاح جلد 5صفحہ 548میں لکھتے ہیں کہ :
” والصحیح فی سبب نزول الآیة فی قصة العسل لا فی قصة ماریة المروی فی غیر الصحیحین وقال النووی ولم تات قصة ماریة من طریق صحیح ”
”اور آیت کے شان نزول کے باب میں صحیح روایت یہ ہے کہ جو شہد کے واقعہ میں ہے ماریہ کے قصے کے بارے میں نہیں ہے جو کہ صحیحین کے سوا اور کتابوں میں مذکور ہے نووی نے کہا کہ ماریہ کا یہ واقعہ کسی صحیح طریق سے مروی نہیں ہے ۔”
یہ حدیث تفسیر ابن جریر ، طبرانی ومسندہیثم میں مختلف طریقوں سے مروی ہے ان کتابوں میں عموماً جس قسم کی رطب یا بس(صحیح ضعیف)روایتیں مذکور ہیں اس کے لحاظ سے جب تک ان کی صحت کے متعلق کوئی خاص تصریح نہ ہو لائق التفات نہیں ۔ حافظ ابن حجر نے ایک طریقے کی توثیق کی ہے یعنی وہ روایت جس کے اخیر میں مسروق ہے لیکن اولاً تو اس روایت میں ماریہ قبطیہ کا نام مطلق نہیں ۔ صرف اس قدر ہے کہ آپ نے سیدہ حفصہ کے سامنے قسم کھائی تھی کہ میں اپنی
کنیز کے پاس نہ جاؤں گا اور وہ مجھ پر حرام ہے اس کے علاوہ مسروق تابعی ہیں یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا تھا اس لئے یہ روایت اصول حدیث کی رو سے منقطع ہے ۔ یعنی اس کا سلسلہ سند صحابی تک نہیں پہنچتا اس حدیث کے ایک اور طریقہ(سند) کو حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں صحیح کہا ہے لیکن اس طریقے(سند) کے ایک اور راوی عبدالملک رقاشی ہیں جن کی نسبت دارقطنی نے لکھا ہے ۔ ” کثیر الخطاء فی الاسناد والمتون یحدث عن حفظہ ” یعنی ”سندوں میں اور اصل الفاظ حدیث میں بہت خطا کرتے ہیں ۔”
علامہ شبلی نعمانی مزید رقمطراز ہیں کہ:
امام نووی نے جو ائمہ محدثین میں سے ہیں صاف تصریح کی ہے کہ ماریہ کے باب میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں ۔ حافظ ابن حجر اور ابن کثیر نے جن طریقوں (سند)کو صحیح کہا ہے ان میں سے ایک منقطع اور دوسرا کثیرالخطا ء ہے۔ ان واقعات کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ یہ روایت استناد کے قابل ہے ۔
یہ بحث اصول روایت کی بناء پر تھی درایت کا لحاظ کیا جائے تو مطلق کدوکاوش کی حاجت نہیں جو دقیق واقعہ ان روایتوں میں بیان کیا گیا ہے خصوصاً طبری وغیرہ میں جو جزئیات مذکور ہیں وہ ایک معمولی آدمی کی طرف (بھی )منسوب نہیں کئے جاسکتے نہ کہ اس ذات پاک کی طرف جو تقدس ونزاہت کا پیکر تھا صلی اللہ علیہ وسلم (سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم جلد 1صفحہ 322.321)

یہ وہ تبصرہ اور نقد تھا جو علامہ شبلی نعمانی نے اس روایت پر کیا تھا جس کو ڈاکٹر شبیر نے حذف کرتے ہوئے یہ من گھڑت روایت تحریر کرکے عوام الناس کو دھوکہ دینے کی سعی نا تمام کی ہے ۔ اللہ عوام کو ان مکاروں کے شر سے محفوظ رکھے ۔آمین

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *