فہم حدیث میں خرابی کیوجہ اوراسکاعلاج

آج کل جو متجددین احادیث صحیحہ کو بظاہر مانتے تو ہیں لیکن ان کے مطالب و مفاہیم کسی پر اعتماد کئے بغیر اپنی عقل نارسا سے طے کرتے ہیں، انہیں فہمِ حدیث میں جب دشواری پیش آتی ہے تو قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کا آپس میں تعارض و تضاد پیش کر دیتے ہیں اور پھر اپنی کم علمی اور اصول حدیث سے عدم واقفیت کی وجہ سے جب کسی صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچ پاتے تویا احادیث کا ہی انکار کر دیتے ہیں یا رواۃ حدیث پر برستے ہیں اور یا پھر صحیح مطالب بیان کرنے والے علماء کاتیا پانچہ کر دیتے ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں فہم حدیث میں خرابی کی جو وجہ مجھے سمجھ آئی ہے وہ احباب کی خدمت میں عرض ہے۔
ان لوگوں کو معلوم ہے کہ کلام اللہ کے نزول کو نبی کی ذات پر وحی کے ذریعے ثابت کرنے کیلئے حدیث کے بغیر کوئی اور راستہ نہیں ہے، اگر کسی کے پاس ہے تو ضرور بتائے، جب تک نبی نہیں کہے گا کہ یہ قرآن ہے تو قرآن کریم کا ایک لفظ بھی ثابت نہیں ہو سکتا، لہٰذا حدیث کو مانے بغیر چارہ کار ہی نہیں، اب یہ کیسے ممکن ہے کہ جس ذات اقدس پر قرآن نازل ہوا وہی خود اس کے خلاف بیان دینا شروع ہو جائے، یہ عقل سلیم میں آنے والی بات نہیں ہے، اسلئے جمہور محدثین کرامؒ کے ہاں اجمالی اور تفصیلی تمام احادیث کو مد نظر رکھ کے کسی نتیجہ تک پہنچا جاتا ہے جس سے یہ لوگ عاری ہوتے ہیں لہٰذا یہ خرابی کا پہلا درجہ ہے۔
پھر ان لوگوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ احادیث مبارکہ ہم تک پہنچنے کیلئے رواۃ حدیث کے بغیر اور کوئی راستہ نہیں ہے اگر کسی کے پاس ہے تو ضرور بتائے، اب یہ لوگ حدیث کو بھی مانتے ہیں، اس درمیانی واسطہ کو بھی مانتے ہیں لیکن صاحب حدیث اور درمیانی واسطوں نے جو اس حدیث کا مطلب و مفہوم خود بیان کیا اور صراحت کی اسے نہیں مانتے یہ خرابی کا دوسرا درجہ ہے۔
اور یہی وہ موقع ہے جب یہ تمام امت کے محدثین کرامؒ کے فہم حدیث کو پس پشت ڈال کر انانیت کی راہ اختیار کرتے ہوئے ”ہمچو ما دیگرے نیست“ کا دعویٰ کر دیتے ہیں، ان کی مثال تو اس نادان جیسی ہے جو اپنے کسی واقف کار اور قابل اعتماد پھل فروش کی دکان پر اپنا معتمد قاصد بھیجے کہ وہ اس سے چونسا آم خرید کر لائے، جب وہ چونسا آم خرید کر لائے تو یہ اسے کہہ دے کہ یہ تو چونسا آم نہیں یہ تو لنگڑا آم ہے یا یہ آم ہی نہیں بلکہ آڑو ہے، ایسے آدمی کو کون عقل مند کہے گا جسے پھل فروش اور اپنے قاصد پر اعتماد تو ہے جو صراحت کر رہے ہیں کہ یہ چونسا آم ہے لیکن اس کے باوجود بھی اس کی بات پر یقین نہیں کرتا اور زور سے چونسے آم کو لنگڑا آم یا آڑو بنانے پر تلا ہوا ہے، یہی حال ان لوگوں کا ہے، یہ صاحب حدیث اور راویوں کو تو بادل نخواستہ مانتے ہیں کیونکہ ان کے بغیر ان کے پاس صاحب حدیث اور حدیث رہتی ہی نہیں لیکن ان ہی لوگوں نے حدیث کا جو مفہوم اور مطلب بیان کیا اسے نہیں مانتے بلکہ اپنا خود ساختہ مطلب الٹا ان پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں، ظاہر بات ہے کہ ایسی باتوں کو انکے چند ہمنواؤں کے علاوہ اور کون تسلیم کر سکتا ہے، اس لئے یہ طیش میں آکر اس کا پورا پورا غصہ ان علماء امت پر نکالتے ہیں جو ان کی اس بد عقلی کو طشت ازبام کرتے ہیں۔
فرماتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں حدیث کو اس لئے نہیں مانتے اور رد کرتے ہیں کہ وہ حدیث قرآن کے خلاف ہے..حضورﷺ اور آپ کی ازواج کی شان کے خلاف ہے.حضورﷺ کے اخلاق عالی کے خلاف ہے….اس سے آپﷺ کے اخلاق پر حملہ ہورہا ہے..مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے..کہ یہ کون طے کریگا کہ یہ چیز قرآن کے خلاف ہے..حضورﷺ کے اخلاق پر اس سے حملہ ہورہا.؟اس کا معیار اور پیرامیٹر کون طے کریگا؟مثلاﹰ ایک چیز آپ کو قرآن کی مخالف نطر آرہی ہے..مجھے نہیں آتی…ایک شے آپ کو حضورﷺ کے اخلاق کے منافی نظر آتی ہے، مجھے نہین..تو اب فیصل کون بنے گا؟ اور کیا چیز معیار بنے گی..؟
اس کا درست اور آسان جواب یہ ہے کہ فیصل امت کے جمہور کا ضمیر بنے..امت کے کسی شے کے اخذ وترک کی تاریخ بنے..یعنی جس چیز کو امت کا جمہور قرآن کے مخالف کہے، ہم بھی اسے مخالف کہیں، جس چیز کو جمہورِ امت کا ضمیر حضورﷺ کے اخلاق کے منافی سمجھے، ہم بھی اسے منافی سمجھ لیں..
اب اس پیمانے پر رکھ کر احادیث کے مجموعے کو دیکھیں کہ امت نے کس چیز کو لیا اور کس چیز کو چھوڑ دیا..اب اگر اس مشاہدے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ امت تواس چیز کو ابتداء سے مانتی اور قبول کرتی آئی ہے.نہ اسے یہ قرآن کے خلاف لگی، نہ اسے یہ چیز حضورﷺ کے اخلاق ِ عالیشان کے خلاف نظر آئ، تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ چیز اصل میں ٹھیک ہے، مسئلہ آپ کے ہاں ہے..
ایک آدمی کہتا ہےصحاح ستہ کا نوے فی صد(نقل جھوٹ جھوٹ نہ باشد) شیعہ راویوں کے کندھوں پر ہے۔۔بخاری غیر معتبر ہے۔۔ حدیث کے راویوں نے دین کا بیڑا غرق کیا ۔۔وغیرہ وغیرہ اس کے بعد یہ بھی کہتا ہے کہ میں نماز کی تمام احادیث کو مانتا ہوں، روزہ حج زکوة میراث بیوع وغیرہ کے احکام پر مشتمل روایات پرمکمل یقین رکھتا ہوں۔حالانکہ یہ ساری احادیث بھی صحاح میں ہیں،انہی راویوں سے منقول ہیں، انہی محدثین کی جمع کردہ ہیں۔کیا اسے ایوارڈ نہیں دینا چاہیے؟۔
ایمان کے بعد سب سے اہم فریضہ نماز ہے۔اسے ایمان وکفر کے درمیان حد فاصل قرار دیا گیا ہے اور اس کے ترک کو شرک سے مشابہہ عمل کہا گیا۔قرآن نے سینکڑوں بار نماز قائم کرنےحکم دیا لیکن نمازیں کتنی ہیں؟ نام کیا ہیں؟ اوقات؟ طریقہ؟شرائط ،فرائض،واجبات،سنن،مفسدات؟ زکوةادا کرو۔مگر کس مال میں؟ کتنی؟ کب؟۔یہ سب جن احادیث سے سیکھا ہے وہ انہی لوگوں کے واسطے سے پہنچی ہیں جن کی عظمت کے برج گرانے کیلئے ساری کوششیں کی جارہی ہیں۔اب کتنی عجیب منطق ہے۔جو کتابیں غیرمعتبر ہیں ان سے منقول نماز کیسے معتبر ہے؟جب یہ پوچھا جائے تو مغالطے ڈالے جاتے ہیں کہ
1۔یہ اعمال سنت متواترہ سے ثابت ہیں۔
تو تواتر کن کا تھا؟ کیا وہ تواتر انہی غیرمعتبر لوگوں کا نہ تھا؟۔ کیسا تواتر ہے جس میں الگ الگ طریقے منقول ہیں؟ اجماعی اور متواتر نماز کونسی ہے؟۔اور اس بڑھ کر امت کا اجماع تو اس بات پر ہے کہ امت ان راویوں کی روایات لیتی آئی ہے اور ان محدثین پر اعتبار کرتی آئی ہے۔اگر تعامل وہاں معتبر ہے تو یہاں کس لئے نہیں؟۔اس اجماع کے منکر تو کسی زمانے میں بھی ایک گاوں کے چھپڑ میں پائے جانے والے مینڈکوں سے زیادہ نہیں ہوئے۔
2۔جو حدیث قرآن کےخلاف ہو اسے ترک کیا جائے گا۔
قرآن کے خلاف ہونے کا معیار کیا ہے؟کوئی شخص کئی باتوں کو سطحی نظر سے دیکھ کر قرآن کے خلاف قرار دیتا ہے اور انہی پر غور کرنے والا انہیں بالکل قرآن کے عین مطابق قرار دے کر قبول کرتا ہے اس میں قصور کس کا ہے؟ ویسے بھی جمہوری بیانیے کے علمبرداروں کوتو جمہور سے اختلاف کرتے ہوئے ڈوب کےمرجانا چاہیے کس منہ سے ایسا کرتے ہیں؟ سیدھا سا حل ہے امت کے سامنے اپنا مسئلہ رکھ دیں دوسرا فریق بھی اپنی رائے پیش کردے پھر گنتی کروائیں کتنے لوگ اس بات کو قرآن کے خلاف سمجھتے ہیں کتنے مطابق؟ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔
3۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف جو روایت ہوگی وہ رد کی جائے گی۔
کئی مثالیں پہلے عرض کرچکا کہ شان کیا ہے سمجھنے کا فرق ہے۔ویسے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بھی کہاں سےمعلوم ہوئی؟ بیچ میں انہی کتابوں یا راویوں کا واسطہ تو نہیں؟۔
پھر یہ اصول ہر محدث کے ہیں آپ نے کوئی نیا اجتہاد نہیں لایا ۔ قرآن کے خلاف ہر روایت رد ہے، شان نبوت کے خلاف ہر روایت رد ہے، قرآن وحدیث سے کسی مسئلہ میں جو مسلمہ اصول منقول ہو اسکے خلاف روایت متروک ہے اس اصول کو سامنے رکھ کر ہر ایک نے استخراج کیا۔اب کچھ کوتاہ عقلوں کو ان میں یہ مخالفتیں نظر آنے لگی ہیں تو قصور چاند کا نہیں انگلی پر لگی ہوئی نجاست کا ہے حضور ،چاند سڑا ہوا نہیں نکلا ۔
اور اگر یہ سب تسلیم بھی کرلیا جائے تو جن کتب کو اور محدثین کو غیر معتبر ثابت کرنے پر حواس خمسہ مع متعلقات کا زور صرف ہورہا ہے ان میں یہ تمیز کس اصول کی بناء پر پیدا کی جائے گی کہ (نماز کے مسئلے میں )اسی شخص کی یہ بات درست ہے اور یہ غلط؟؟ محدثین کا اصول تو ناقابل اعتراض ہے۔وہ جس شخصیت کو مجروح کرتے ہیں پھر اسکی کوئی بات نہیں لیتےخواہ کتنی ہی اعلی پائے کی کیوں نہ ہو البتہ جس شخصیت کو قابل قبول گردانیں اسکی بات کو کتاب اللہ اور سنت پر پیش کرکے ردواخذ کا فیصلہ کرتے ہیں۔آپ تو ان تمام شخصیات کی ذات پر اتنے سوقیانہ انداز میں اتر آئے اب انہی سے کچھ لینا اور کچھ ترک کرنا کس اصول سے؟۔اس طرز عمل سے اسلام کی بنیاد کھود ڈالی۔روایت کا سارا ذخیرہ ناقابل اعتبار قرار دےدیا اب ثابت کردکھائیے نماز اور زکوة۔غالبا مقصد بھی یہی تھا کہ اسلام کو ہی مشکوک کردیا جائے۔ٹرین اسی طرف تیزی سے رواں دواں ہے۔جو لوگ اس طرز عمل کو اسلام کی خدمت قرار دے رہے ہیں ان سے یہی سوال ہے کہ اگر کوئی ملحد یہ اعتراض کرے تو جواب کیا ہوگا؟اس بات کا جواب صرف اسی سے ممکن ہے جسکی جرح وتعدیل کسی اصول کے مطابق ہو۔اندھی لاٹھی چلانے والا اسی طرح ہنومان کا نائب بن کر اپنی لنکا ہی جلا سکتا ہے اور کچھ نہیں۔
طلحہ سیف

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *