ترتیبِ حدیث کا تدریجی ارتقاء

ملحدین و منکرین حدیث کا طبقہ جب حدیث پر طعن و تشنیع کے تیر برسا رہا ہوتا ہے تو عموما یہ بات اسکے حاشیہء خیال میں نہیں رہتی کہ ہر پیٹرن کی طرح فن حدیث کے بھی اکیڈمک پیرامیٹرز ( علمی معیارات ) ہیں، جو خطیبانہ، عامیانہ بلکہ سوقیانہ استدلال کے بھینٹ نہیں چڑھائے جا سکتے، کسی حدیث یا کتاب حدیث کی حیثیت جانے بغیر اسکی بنیاد پر لمبی چوڑی تقریر لکھ دینا اک بے فائدہ مشق کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ اگلی چند تحاریر میں فن حدیث کے ان علمی معیارت ، صحت و قوت کے اعتبار سے کتب حدیث کے طبقات ، صحت و قوت کے اعتبار سے حدیث کی اقسام ، حدیث کی جانچ پڑتال ، علم جرح و تعدیل وغیرہ پر ضروری تفصیل پیش کی جائے گی ۔

ترتیبِ حدیث کا تدریجی ارتقاء
کتابتِ حدیث بلکہ مستقل کتاب کی تالیف کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ کے عہدِ مبارک ہی میں شروع ہوچکاتھا، صحابہٴ کرام کی ایک بڑی جماعت کے متعلق منقول ہے کہ انھوں نے مختلف تعداد اور متعدد صورتوں میں احادیثِ طیبہ کو تحریری طور پر جمع کررکھا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کا مرتب کردہ مجموعہٴ حدیث ”صادقہ“ اہلِ نظر کی نظر سے مخفی نہیں ہے، جو کم و بیش ایک ہزار حدیثوں پرمشتمل ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ، حضرت عبداللہ بن ابی اوفی، حضرت سمرة بن جندب اور حضرت جابر بن عبداللہ کے تحریری مجموعوں اور صحائف کا تذکرہ معتمد کتابوں میں موجود ہے ۔ حضرت ابوہریرہ نے بہت سے صحائف لکھے۔ جن میں سے ایک صحیفہ ان کے ممتاز شاگرد ہمام بن منبّہ نے ”صحیفہ ہمام بن منبہ“ مرتب کیا، جس کا مستقل نسخہ آج بھی دستیاب ہے۔ نیز حضورﷺ نے خود تحریری صورت میں جو کچھ بھی لکھوایا وہ بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ خاص طورپر وہ نوشتے جن میں کسی قسم کے احکام آپؐ نے لکھوائے۔مثلاً عمرو بن حزم کے نام آپؐ کا گرامی نامہ ، بادشاہوں کے نام خطوط وغیرہ۔حاصل یہ کہ کتبِ حدیث کی ترتیب و تدوین کا سلسلہ آپؐ کی زندگی ہی میں شروع ہوچکا تھا۔
ہاں اتنا ضرور تھا کہ ترتیب و تدوین کا یہ سلسلہ صرف انفرادی طورپر ہوتا رہا۔ اس کے لئے کوئی باقاعدہ منظم شکل نہیں تھی۔ حتی کہ پہلی صدی ہجری کے آخر میں فتنوں کی کثرت کے پیش نظر ضیاعِ حدیث کا خطرہ شدید وقوی ہوگیا تو ۹۹ھ میں خلیفہٴ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے حدیثِ رسولﷺ باضابطہ مرتب کرنے کے لئے سرکاری احکام نافذ کئے، چنانچہ والیِ مدینہ ابوبکر بن حزم کے علاوہ دیگر علماءِ دین نے بھی خلیفہٴ مذکور کے تعمیل و امتثالِ حکم میں ترتیبِ حدیث کا کام شروع کردیا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے امت مسلمہ کے ہاتھوں جو کتاب آئی وہ امام ابن شہاب زہری متوفی۱۲۳ھ کی کتاب ہے، جس کو انھوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں تصنیف کی تھی۔ پھر ان کی اتباع میں مختلف شہروں کے بڑے بڑے جلیل القدر محدثین بھی تدوینِ حدیث کے مقدس کام میں مشغول ہوگئے۔ چنانچہ مکہ معظمہ میں ابن جریج متوفی ۱۵۰ھ، مدینہ منورہ میں امام دارالہجرت امام مالک بن انس متوفی۱۷۹ھ اور محمد بن اسحاق متوفی ۱۵۱ھ صاحب المغازی، بصرہ میں ربیع بن صبیح متوفی ۱۶۰ھ، سعد بن ابی عروبة متوفی ۱۵۶ھ اور حماد بن سلمہ متوفی ۱۶۷ھ، کوفہ میں سفیان ثوری متوفی ۱۶۱ھ، شام میں امام اوزاعی متوفی ۱۵۸ھ۔ یمن میں معمر متوفی ۱۵۳ھ۔ مصر میں لیث بن سعد متوفی ۱۷۵ھ۔ واسط میں ہشیم متوفی ۱۸۳ھ۔ رَی میں جریر بن عبدالحمید متوفی ۱۸۸ھ۔ خراسان میں عبداللہ بن مبارک متوفی ۱۸۱ھ جیسے جہاندیدہ وقت نے تدوین و ترتیب حدیث کے باب میں جو کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں وہ سنہرے حرفوں سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ اس سرسری تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کی باقاعدہ تصنیف و تدوین پہلی صدی کے آخر اور دوسری صدی کی ابتداء میں ہوئی۔ اور یہ سلسلہ دوسری صدی کے اواخر تک جاری رہا۔
تدوین و ترتیب حدیث کایہ پہلا دور تھا، اس دور کے مدوّنات میں سے ہم تک صرف ”موطا مام مالک رحمہ اللہ “ پہنچی ہے۔ اس دور میں دو قسم کی تصنیفیں عمل میں آ ئیں۔ ایک قسم وہ ہے جس میں صحیح اسناد کا التزام نہیں کیاگیا، بلکہ جو حدیث پہنچی وہ درج کردی گئی۔ دوسری قسم وہ ہے جس میں صحت کا التزام تو کیاگیا،مگر مرفوع ﴿وہ حدیث جس میں کوئی صحابی رسول اللہ ؐکے قول یا فعل کی خبر دے﴾ حدیث کے اندراج کا التزام نہیں رہا۔ بلکہ منقطع ﴿ وہ حدیث جس کی سند میں سے متعدد راوی مختلف مقامات سے حذف ہوں﴾، مرسل ﴿ وہ حدیث جس میں تابعی پہلے صحابی راوی کا ذکر نہ کرے﴾،آثارِ صحابہ حتی کہ مقطوع ﴿اقوالِ تابعین﴾ کو بھی مرفوع کے ساتھ مخلوط و ممزوج کردیاگیا۔ چنانچہ ابن جریج متوفی ۱۵۰ھ، ابن اسحاق متوفی۱۵۱ھ، ربیع بن صبیح متوفی ۱۶۱ھ، سفیان ثوری متوفی ۱۶۱ھ، امام اوزاعی متوفی ۱۵۶ھ، ابن مبارک متوفی ۱۸۱ھ وغیرہم تدوین حدیث کے سلسلہ میں جو بیش بہا خدمات انجام دئیے ہیں وہ سب اسی انداز کے تھے۔ اس دور میں چونکہ علماء وفقہاء کے نزدیک مرسل حدیث مستقل حجت تھی۔ اس لیے مرسل کو مرفوع سے علیحدہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ بعد میں سب سے پہلے جب حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے مرسل کی حجیت سے انکار کیا اور پھر ان کے دیکھا دیکھی عام محدثین میں بھی یہ خیال زور پکڑا تو اب اس کی ضرورت محسوس کی جانے لگی کہ اب ایسی تصانیف عمل میں لائی جائیں جن میں یہ نقص نہ ہو، بلکہ حدیثِ مرفوع کو مراسیل و آثار سے بالکل ممیز کردیاجائے۔ اس زمانہ کے علماء نے اس ضرورت کے پیش نظر جدید طرز اور انتہائی نئے انداز پر تصانیف مرتب کرنا شروع کردی، اور تیسری صدی کی ابتداء سے تدوینِ حدیث کا یہ دوسرادور شروع ہوا۔
اس دور کی تصانیف میں احادیثِ مرفوعہ کو دوسری تمام چیزوں سے ممیز و ممحَص کردیاگیا،اور احادیث کو صحابہ کی ترتیب پر جمع کیا گیا، جس کی وجہ سے ”مسانید“ کی تالیف کی نوبت آئی۔ مسانید کی تالیف کے اس دور میں بھی بڑے بڑے علماء نے اپنا جوہرِ فن دکھایا۔ چنانچہ کوفہ میں عبداللہ بن موسی۔ بصرہ میں مسدّد بن مسرہداور مصر میں یعقوب بن شیبہ مالکی نے تو اتنا ضخیم مسند تیار کیاکہ اگر وہ پایہٴ تکمیل کو پہنچ جاتا تو تقریباً دوسو جلدوں کاذخیرہ تیار ہوجاتا۔ اسی طرح سمرقند میں حافظ حسن بن احمد بن محمد نے کئی مسانید لکھیں۔ امام ذہبی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ انھوں نے اتنی بڑی کتاب لکھی تھی کہ جس میں ایک لاکھ بیس ہزار احادیث کا ذخیرہ تھا۔ اسی قبیل سے مسند الامام احمد بن حنبل بھی ہے۔ جس میں انھوں نے اپنی یادداشت سے سترہ لاکھ پچاس ہزار حدیثوں میں سے ایک لاکھ چالیس ہزار احادیث منتخب کرکے جمع کردیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کی جانب بھی بعض مسانید منسوب ہیں، لیکن یہ ان کا تصنیف کردہ مجموعہ نہیں ہے، بلکہ ان سے مروی احادیث کا مجموعہ ہے۔ ترتیب مسانید کے دور میں اتنی بلیغ کوششیں ہوئیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اُس دور کی تصانیف میں اس وقت صرف مسندِ احمد بن حنبل شائع اور دستیاب ہے۔ میری ناقص معلومات کی حد تک دوسرے مسانید کا صرف کتب تاریخ میں تذکرہ ملتا ہے۔
بہرحال اس دور کی تصانیف مرفوع اور غیر مرفوع حدیث سے علیحدہ اور ممتاز تو ہوگئیں لیکن محدثین کی نظر میں ایک نقص اب بھی باقی رہ گیاتھا کہ ان کتابوں میں صحیح اور سقیم سب حدیثیں مخلوط تھیں، جس کی واضح نظیر مسند احمد ہے۔ یعنی اس دور کی تصانیف بھی ایسی نہیں تھی کہ آنکھ موند کے پورے اعتماد و وثوق کے ساتھ ان پر عمل کرلیاجائے اس لیے امت کیلئے ایک ایسی تصنیف کی ضرورت بہرحال باقی تھی کہ جس میں فقط احادیث مرفوع جمع کی جائیں اوراحادیث مرفوع کے ساتھ احادیث غیرمرفوعہ مخلوط نہ کئے جائیں جیساکہ دور اوّل کی تصانیف میں ہوا۔ نیز احادیث مرفوعہ کی تخریج میں صحت کاپورا التزام کیاجائے۔ اور صرف وہی حدیث مرفوع جمع کی جائیں جو اسنادی حیثیت سے بالکل بے غبار ہو۔ صحیح کے ساتھ غیر صحیح کو مخلوط نہ کیاجائے جیساکہ دور ثانی میں ہوا۔ تیسری صدی کے نصف میں تصنیف و تالیفِ حدیث کے اس طرز کا آغاز ہوا اور اس سے تالیف کتب حدیث کا تیسرا دور شروع ہوتا ہے۔ اس دور میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے امام بخاری کو اس خدمت کیلئے قبول کیا۔ وہ اس جہد وسعی میں مصروف ہوئے، رحمتِ خداوندی ساتھ تھی۔ وہ پوری طرح کامیاب رہے۔ ان کے گہربار نوکِ قلم سے ایسی بیش بہا کتاب امتِ مسلمہ کو ملی جو قیامت تک کیلئے بے نظیر رہے گی۔ ان کے بعد ان کی اتباع میں پھر امام مسلم رحمہ اللہ نے ایک انوکھے طرز کی کتاب لکھی۔ ان دونوں کتابوں کو علماء نے ”صحیحین“ کے لقب سے یاد کیا۔ اور ساری امت ان دونوں کتابوں کے قبول و استناد پر متفق ہوگئیں۔ پھر ان ہی کے قریب قریب صحاح ستہ میں سے سنن ابوداؤد، ترمذی شریف، نسائی شریف، ابن ماجہ وغیرہ مفید کتابیں بھی مدون ہوئیں۔

کتب حدیث کی تالیف کے مختلف انداز

مختلف ادوار میں حدیث پاک کی جو کتابیں لکھی گئیں تو ان کی ترتیب و تالیف کے طریقے بھی الگ اور جداگانہ تھے اور پھر ہر ایک قسم کی کتاب کا ایک مخصوص اصطلاحی نام ہے۔ تعمیم فائدہ کیلئے ہم تمام اقسام کی کتابوں کا مختصر تعارف پیش کردیتے ہیں۔
۱- صحیح:
فن اصولِ حدیث کا ایک خاص اصطلاحی نام ہے۔ یہ اس کتاب کو کہتے ہیں جس کا مصنف اس کا التزام کر رکھا ہواکہ وہ صرف اپنی کتاب میں صحیح، مرفوع اورمتصل السند حدیثیں ہی نقل کریں گے۔
۲- جامع:
یہ اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں آ ٹھ ابواب کی حدیثیں درج کی گئی ہوں۔ ﴿سیرت نبوی، آدابِ اسلامی، تفسیر، عقائد، احادیث فتن، علامات قیامت، احکام اور مناقب﴾
۳- سنن:
یہ وہ کتابیں ہیں جن میں احادیث رسول کو ابواب فقہیہ کی ترتیب پر جمع کیاگیا ہو جیسے سنن ثلاثہ، اور سنن دارقطنی وغیرہ۔
۴- مسند:
یہ وہ کتاب ہے جس میں ایک صحابی کی تمام مرویات ایک جگہ جمع کردی گئی ہوں چاہے وہ کسی بھی باب سے متعلق ہوں۔جیسے مسند احمد، مسند حمیدی وغیرہ۔
۵- معجم:
اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں محدث اپنے ایک شیخ کی تمام مرویات بیان کرکے دوسرے شیخ کی مرویات بیان کرے۔جیسے طبرانی کی معجم کبیر، معجم اوسط،معجم صغیر۔
۶- مستدرک:
یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی کتاب کی ایسی چھوٹی ہوئی حدیثوں کو ذکر کیاگیاہو جو اس کتاب کی شرط پر پوری اترتی ہوں ۔ جیسے مستدرک حاکم علی الصحیحین۔
۷- مستخرج:
وہ کتاب ہے جس میں کسی دوسری کتاب کی حدیثوں کو اپنی ایسی سند سے روایت کی جائے جس میں مصنف کا واسطہ نہ آئے۔جیسے مستخرج اسماعیلی علی البخاری۔
۸- جزء:
اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں ایک ہی مسئلہ کی تمام روایتیں جمع کردی گئی ہوں جیسے امام بخاری کی جزء القراء ة خلف الامام وغیرہ۔
۹- افراد وغرائب:
وہ کتاب ہے جس میں کسی ایک محدث کے تمام تفردات کو یکجا کردیاگیاہو، جیسے دارقطنی رحمہ اللہ نے ایک کتاب میں امام مالک کے غرائب جمع کئے ہیں۔
۱۰- تجرید:
وہ کتاب ہے جس میں کسی کتاب کی سند یا مکررات کو حذف کرکے صرف صحابی کا نام لے کر احادیث لکھے گئے ہوں۔ جیسے زبیدی کی تجرید بخاری، اور قرطبی کی تجرید مسلم۔
۱۱- تخریج:
وہ کتاب ہے جس میں کسی دوسری کتاب کی بے حوالہ حدیثوں کی سند اور حوالہ جات درج کئے گئے ہوں۔جیسے زیلعی رحمہ اللہ کی نصب الرایہ لتخریج احادیث الہدایہ۔
۱۲- جمع:
وہ کتاب ہے جس میں مختلف کتابوں کی احادیث بحذفِ السند جمع کردئیے گئے ہوں۔ جیسے ابن الاثیر کی جامع الاصول۔
۱۳- اطراف:
وہ کتاب ہے جس میں احادیث کے صرف اول حصہ ذکر کرکے اس کی تمام سندوں کو جمع کردیاگیا ہو۔ یا کتابوں کی تقیید کے ساتھ اسانید جمع کی گئی ہوں۔ جیسے امام مزّی کی تحفة الاشراف۔
۱۴- فہارس:
وہ کتاب کہلاتی ہیں جن میں کسی ایک یا متعدد کتابوں کی احادیث کی فہرست بنادی گئی ہو تاکہ حدیث کی تلاش آسان ہوسکے۔ جیسے مفتاح کنوزالسنة، اور المعجم المفہرس لالفاظ الحدیث۔
۱۵- اربعین:
وہ کتاب ہے جس میں ایک موضوع یا مختلف موضوعات کی کم وبیش چالیس حدیثیں بیان کی گئی ہوں۔جیسے امام نووی کی مشہور کتاب ”الاربعین“۔
۱۶- موضوعات:
وہ کتابیں ہیں جن میں صرف موضوع احادیث یکجا کی گئی ہوں تاکہ لوگ دھوکہ میںآ نے سے بچیں۔ جیسے ملاعلی قاری کی الموضوعات الکبری، اور ”المصنوع فی الاحادیث الموضوع۔
۱۷- کتب احادیث مشہورہ:
وہ کتابیں ہیں جن میں عام طورپر مشہور اور زبان زد حدیثوں کی تحقیق کی جاتی ہے۔ جیسے علامہ سخاوی رحمہ اللہ کی ”المقاصد الحسنة فی الاحادیث المشتہرة وغیرہ۔
۱۸- غریب الحدیث:
وہ کتابیں ہیں جن میں کلمات حدیث کے لغوی اور اصطلاحی معنی بیان کئے جاتے ہیں، جیسے جزری رحمہ اللہ کی ”النہایة فی غریب الحدیث“ اور طاہر پٹنی کی ”جمع بحارالانوار“
۱۹- علل:
وہ کتابیں ہیں جن میں متکلم فی السند روایتیں ذکر کی جاتی ہیں جیسے امام ترمذی رحمہ اللہ کی ”کتاب العلل الکبیر“ اورابن ابی حاتم رازی کی ”الجرح والتعدیل“ وغیرہ۔
۲۰- اذکار:
وہ کتابیں ہیں جن میں آنحضور … سے منقول دعائیں اور اذکار جمع کئے گئے ہوں جیسے ابن الجزری کی ”الحصن الحصین“ اور نووی رحمہ اللہ کی ”الاذکار“۔
۲۱- زوائد:
وہ کتابیں ہیں جن میں کسی کتاب کی صرف وہ حدیثیں لی جاتی ہیں جو کسی دوسری کتاب سے زائد ہیں۔ جیسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی ”المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمانیہ“ اورجیسے علامہ نورالدین ہیثمی رحمہ اللہ کی ”مجمع الزوائد و منبع الفوائد“ جس میں مسند احمد، مسند بزار، مسند ابی یعلی، معاجم ثلاثہ طبرانی کی وہ زائد حدیثیں یکجا ہیں جو صحاح ستہ میں نہیں ہیں۔
ترتیب و تالیف کتب حدیث کے یہ مشہور طریقے تھے۔ اس کے علاوہ اور دوسرے طریقوں سے بھی کتابیں لکھی جاتی ہیں، لیکن وہ طریقے مشہور نہیں ہیں۔

از: مفتی شکیل منصور القاسمی‏، استاذِ حدیث و ادب عربی، مجمع عین المعارف للدّراسات الاسلامیہ، کنوّر، کیرالہ

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *