انکارِحدیث کے اسباب اور وجوہات

صاحبانِ فکر ونظر کے لئے اس امر کا مطالعہ بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اس جدید انکار حدیث کی وجوہات کیا تھیں، برصغیر میں اس فتنے کے اُٹھنے کے اسباب داخلی بھی تھے اور خارجی بھی۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے ۔

1۔ مستشرقین کی خوشہ چینی:
مستشرقین نے مسلمانوں کے بنیادی عقائد کو متزلزل کرنے کے لئے حدیث ِرسولؐ کے بارے میں مختلف شکوک و شبہات اور بے بنیاد اعتراضات پیش کرکے حدیث پرمسلمانوں کے اعتماد کو اٹھانے کی سر توڑ کوششیں کیں جس کے اثرات برصغیر کے منکرین حدیث پر بھی پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث کے بارے میں یہاں کے منکرین حدیث کے بڑے بڑے شبہات اور مستشرقین کے شبہات میں مماثلت پائی جاتی ہے، جس سے یہ واضح نتیجہ نکلتا ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں انکارِ حدیث کا ایک اہم سبب مستشرقین کی حدیث ِرسولؐ کے خلاف علمی فتنہ انگیزیاں ہیں۔ مستشرقین کے فتنۂ انکار حدیث کے محرک ہونے کی دلیل کے لئے پروفیسر عبدالغنی ‘منکرین حدیث کے اعتراضات’ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں:
”ان لوگوں کے اکثر اعتراضات مستشرقین یورپ ہی کے اسلام پر اعتراضات سے براہِ راست ماخوذ ہیں مثلاً حدیث کے متعلق اگر گولڈ زیہر (Gold Ziher)، سپرنگر(Sprenger) اور ڈوزی (Dozy) کے لٹریچر کا مطالعہ کیا جائے تو آپ فوراً اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ منکرین حدیث کی طرف سے کئے جانے والے بڑے بڑے اعتراضات من و عن وہی ہیں جو ان مستشرقین نے کئے ہیں۔”(قادری، عبدالغنی، پروفیسر، ریاض الحدیث، لاہور، ۱۹۶۹ئ، ص۱۵۹)
برصغیر کے فتنۂ انکار حدیث میں مستشرقین کے لٹریچر کے اثرات کو مولانا محمد فہیم عثمانی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
”افسوس تو زیادہ اس بات کا ہے کہ سب کچھ دشمنانِ اسلام کی پیروی میں ہورہا ہے۔مستشرقین یورپ کے سفیہانہ اعتراضات کی اندھا دھند تقلید سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ ڈھائی سو برس بعد احادیث کے قلمبند ہونے کی باتیں اور اس طرح حدیث کے ذخیرے کو ساقط الاعتبار ثابت کرنے کی سکیمیں، یہ رجالِ حدیث کی ثقاہت پر اعتراضات اور یہ عقلی حیثیت سے احادیث پر شکوک وشبہات کا اظہار، یہ سب کچھ مستشرقین یورپ کی اُتارن ہیں جن کو منکرین حدیث پہن پہن کر اِتراتے ہیں۔” (فہیم عثمانی، مولانا محمد محترم، حفاظت و حجیت حدیث، لاہور، دارالکتب، ۱۹۷۹ئ، ص۱۳)
اسی حقیقت کو مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی نے یوں بیان کیا ہے:
”اور عجیب بات ہے کہ موجودہ دور کے منکرین حدیث نے بھی اپنا ماخذ و مرجع انہی دشمنانِ اسلام، مستشرقین کو بنایا ہے اور یہ حضرات انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور جو اعتراضات وشبہات ان مستشرقین نے اسلام کے بارے میں پیش کئے ہیں، وہی اعتراضات و شبہات یہ منکرین حدیث بھی پیش کرتے ہیں۔” (ٹونکی، ولی حسن، مفتی ، عظیم فتنہ، کراچی، اقراء روضۃ الاطفال، ناظم آباد، ۱۹۸۴ء ص۲۶)

2۔برطانوی سامراج کی سازشیں:
ہندوستان پر انگریز حکومت کی مکمل عملداری اور ۱۸۵۷ء کی جنگ ِآزادی میں کامیابی کے بعد انگریز، مسلمانوں کو اپنی انتقامی کارروائیوں کانشانہ بنانے لگے کیونکہ انہوں نے مسلمان حکمرانوں سے حکومت چھینی تھی اور انہیں ہر وقت مسلمانوں کی طرف سے مزاحمت کا خطرہ رہتا تھا۔ مزید برآں جنگ ِآزادی میں مسلمانوں نے انگریزوں سے سخت مقابلہ کیا تھا، لہٰذا وہ مسلمانوں کو ہر میدان میں کچلنا چاہتے تھے۔ لیکن ان کے رستے کی سب سے بڑا رکاوٹ مسلمانوں کی اپنے بنیادی عقائد کے ساتھ مکمل وابستگی اور آپس کا اتحاد تھا۔ چنانچہ انگریزوں نے مسلمانوں کو دینی اعتبار سے کمزور کرنے کے لئے مختلف سازشیں شروع کردیں۔ مثلاً مسلمانوں میں فرقہ بندی کو ہوا دینے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں ہی میں ایسے رجال تیار کئے جنہوں نے مختلف دینی احکام سے انحراف کرکے دین میں نئے نئے فتنے پیدا کئے۔ ان فتنوں میں انکارِ ختم نبوت اور انکارِ حدیث کے فتنے نہایت نقصان دہ اور خطرناک ثابت ہوئے۔ انگریزوں نے ان فتنوں کی مکمل پشت پناہی کی۔اس سلسلے میں انگریزوں کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے مولانا مفتی محمد عاشق الٰہی بلند شہری لکھتے ہیں:
”انگریزوں نے جب غیر منقسم ہندوستان میں حکومت کی بنیاد ڈالی تو اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایسے افراد بنائے جو اسلام کے مدعی ہوتے ہوئے اسلام سے منحرف ہوں۔ اس طرح کے لوگوں نے تفسیر کے نام سے کتابیں لکھیں، معجزات کا انکار کیا، آیاتِ قرآنیہ کی تحریف کی۔ بہت سے لوگوں کو انگلینڈ ڈگریاں لینے کے لئے بھیجا گیا۔ وہاں سے وہ گمراہی، الحاد،زندیقیت لے کر آئے۔ مستشرقین نے ان کو اسلام سے منحرف کردیا۔ اسلام پر اعتراضات کئے جو ان کے نفوس میں اثر کرگئے اور علما سے تعلق نہ ہونے کی وجہ سے مستشرقین سے متاثر ہوکر ایمان کھو بیٹھے۔ انگریزوں نے سکول اور کالجوں میں الحاد اور زندقہ کی جو تخم ریزی کی تھی، اس کے درخت مضبوط اور بار آور ہوگئے اور ان درختوں کی قلم جہاں لگتی چلی گئی، وہیں ملحدین اور زندیق پیدا ہوتے چلے گئے۔” (محمد عاشق الٰہی، مفتی، فتنہ انکار حدیث اور اس کا پس منظر، لاہور ادارہ اسلامیات، ۱۹۸۶ء ص۷)
چنانچہ ہندوستان میں فتنۂ انکار حدیث کے اسباب اور اثرات کا نقشہ کھینچتے ہوئے مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں:
”تیرہویں صدی میں یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب کہ مسلمان ہر میدان میں پٹ چکے تھے۔ ان کے اقتدار کی اینٹ سے اینٹ بجائی جاچکی تھی۔ ان کے ملک پر دشمنوں کا قبضہ ہوچکا تھا اور ان کو معاشی حیثیت سے بُری طرح کچل ڈالا گیا تھا، ان کانظامِ تعلیم درہم برہم کردیا گیا تھا اور ان پر فاتح قوم نے اپنی تعلیم، اپنی تہذیب، اپنی زبان، اپنے قوانین، اور اپنے اجتماعی وسیاسی اور معاشی اداروں کو پوری طرح مسلط کردیا تھا۔
ان حالات میں جب مسلمانوں کو فاتحین کے فلسفہ و سائنس اور ان کے قوانین اور تہذیبی اُصولوں سے سابقہ پیش آیا تو قدیم زمانے کے معتزلہ کی بہ نسبت ہزار درجہ زیادہ سخت مرعوب ذہن رکھنے والے معتزلہ ان کے اندر پید ہونے لگے۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ مغرب سے جو نظریات، جو افکار و تخیلات، جو اُصولِ تہذیب و تمدن اور جو قوانین حیات آرہے ہیں، وہ سراسر معقول ہیں۔ ان پر اسلام کے نقطہ نظر سے تنقید کرکے حق و باطل کا فیصلہ کرنا محض تاریک خیالی ہے۔ زمانے کے ساتھ ساتھ چلنے کی صورت بس یہ ہے کہ اسلام کوکسی نہ کسی طرح ان کے مطابق ڈھال دیا جائے۔” (مودودی، ابوالاعلیٰ، مولانا، سنت کی آئینی حیثیت، لاہور، اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ، ۱۹۶۳ئ، ص۱۷)

3۔ دنیاوی اغراض و مقاصد کا حصول
:انکارِ حدیث کی ایک وجہ اغراض و مقاصد کا حصول بھی ہے جن کی خاطر جان بوجھ کر منکرین حدیث اس گمراہی کے مرتکب ہوئے چنانچہ مولانا محمد قطب الدین لکھتے ہیں:
”منکرین حدیث اور ان کے پیشوا علمائے یہود کی مانند محض دنیوی اغراض و مفادات کے لئے دیدہ و دانستہ ‘کتمانِ حق’ بھی کرتے ہیں اور ‘التباسِ حق و باطل’ بھی۔ ”(محمد قطب الدین، مولانا، مظاہر حق، ۱۹۶۶ئ، ج۱ ، دیباچہ کتاب)
پروفیسر محمد فرمان نے انکار حدیث کی مختلف وجوہات کا احاطہ درج ذیل الفاظ میں کیا ہے :
”ہمیں یہ تسلیم ہے کہ بعض لوگوں نے دنیاوی جاہ و منصب کے لئے حدیث کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ بعضوں نے کسی محبوب کا اشارہ پاکر یہ تحریک شروع کررکھی ہے بعضوں نے کم علمی اور اسلام کے سطحی مطالعہ کی بنیاد پر یہ روش پسند کرلی ہے۔”(محمد فرمان، پروفیسر، انکار حدیث ایک فتنہ ایک سازش، گجرات، مکتبہ مجددیہ نور پور شرقی، ۱۹۶۴ء ص۲۰۹)

4۔عقل کو معیار بنانا
برصغیر میں انکارِ حدیث کے دیگر اسباب میں ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ منکرین حدیث نے بعض ایسے اُمور میں عقل کا فیصلہ مانا جہاں عقل عاجز ہے۔ مثلاً جو حدیث انکی عقل میں نہ آئی، اس کو ماننے سے انکار کردیا۔ محمد ادریس فاروقی لکھتے ہیں:
”بعض حضرات نے تو حدیث کے ٹھکرانے اور ناقبول کرنے کا معیار اپنی عقل، مشاہدہ اور فکر کو قرار دے رکھا ہے۔ حدیث خواہ کس قدر بے غبار اور صحیح ہو، سند کتنی مضبوط ہو، رواۃ کتنے بے عیب ہوں۔ پوری اُمت نے قبول کیا ہو، ان کی بلا سے، انہیں ان باتوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ انہوں نے کامل نبیؐ کو اپنی ناقص عقل سے کم تر مقام دیا جو کہ افسوسناک بلکہ خطرناک ہے۔ عام طور پر ہمارے انگریزی خواں حضرات اور ماڈرن دوست اسی آسان اُصول کوقبول فرما لیتے ہیں کہ جو حدیث عقل میں نہ آئے، اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا حالانکہ عقل کو کیسے معیار قرار دیا جاسکتا ہے۔ عقل تو خام ہے۔ پھر عقل میں تفاوت ہے، سب کی عقل ایک جیسی نہیں۔ بہت سے لوگ ہیں کہ ان کی عقل پر مادّیت کا غلبہ ہے اور اس پر یورپ کی چھاپ ہے اور وہ اسلامی حدود و قیود سے سو فیصد نابلد اور یکسر ناآشنا ہے۔ خود فرمائیے مطلق عقل، اور پھر ایسی عقل حدیث کی جانچ کیسے کرسکتی ہے؟”(فاروقی، محمد ادریس، مقام رسالت، لاہور مسلم پبلی کیشنز، ۱۹۷۰ئ، ص۱۶)

5۔خواہشاتِ نفس کی پیروی :
احادیث ِنبویہ ﷺ جو قرآن مجید کے اُصول اور کلیات کی تفصیل ہیں، قدم قدم پر خواہشاتِ نفسانیہ کی پیروی میں رکاوٹ ہیں۔ نیز ان میں تاویل کی گنجائش بھی نہیں ہے۔ یہ پابندی طبیعت میں آزادی رکھنے والوں اور خواہشات کی پیروی کرنے والوں پر گراں گزرتی ہے۔
سابق منکرحدیث مولانا تمنا عمادی پھلواری لکھتے ہیں :
” قرآن مجید کو قبول کرلینے اور باقی سارے دینی لٹریچر کو ردی قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ قرآنی آیتوں کو توڑ مروڑ کر جو مفہوم جس آیت سے چاہیں گے نکال لیں گے ، جس لفظ کے چاہیں گے معنی حقیقی کی جگہ مجازی لے لیں گے، جس واقعے کو چاہیں گے خواب کا واقعہ کہہ دیں گے، جس عبارت میں ضمیر جدھر چاہیں گے پھیر دیں گے ، جس اسم اشارہ کا جس کو چاہیں گے مشار الیہ قرار دیں گے ، جس لفظ کے متعدد معانی لغت والوں نے لکھے ہیں ان میں سے جو معنیٰ چاہیں گے حسبِ دلخواہ مرادلے لیں گے، اس طرح قرآن مجید کی آیتوں کو اپنے منشا اور اپنی اغراض کے تابع رکھنے کی پوری آزادی حاصل رہے گی ۔ دوسروں نے کیا لکھا ہے اس کو دیکھنے کی ضرورت نہیں اس لیے کہ دوسرے تو سب کسی نہ کسی فرقے کے ہیں اور فرقہ وارانہ روایات کے پابند ہیں اور یہاں روایات کے اتباع کو گمراہی بلکہ شرک سمجھتے ہیں اس لیے ان ” مشرکین ” کی تفسیروں اور ترجموں کو دیکھنا بھی گناہ ہے ۔ ہاں ! ان میں سے اگر کسی کا کوئی قول ایسا مل جائے جس سے اپنے خیال کو تقویت ہو تو البتہ اس کو پیش کریں گے بلکہ ضعیف سے ضعیف روایت اور کسی منافق راوی کا قول بھی اپنے موافق مل جائے گا تو اس کو اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کریں گے اور کہیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ( وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰن ) ہم نے ضرور اس قرآن کو آسان کردیا ہے تو پھر انسان کے سمجھنے میں دشواری کیوں ہوگی ؟ ہم جو مطلب جس آیت کا سمجھے ہیں صحیح ہی سمجھے ہیں ۔ آسان بات کے سمجھنے میں غلطی نہیں ہوسکتی ۔ مگر قرآنی آیات کو سمجھنے کی کوشش کب کی جاتی ہے ؟ ساری کوششیں تو آیات سے اپنے موافق مفہوم پیدا کرنے کے لیے ہوتی ہیں ” (علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ])
مولانا محمد ادریس کاندھلوی ‘انکارِ حدیث کی اصل و جہ’ کے عنوان سے لکھتے ہیں :
”انکارِ حدیث کی یہ و جہ نہیں کہ حدیث ہم تک معتبر ذریعہ سے نہیں پہنچی بلکہ انکارِ حدیث کی اصل وجہ یہ ہے کہ طبیعت میں آزادی ہے، یہ آزاد رہنا چاہتی ہے۔ نفس یورپ کی تہذیب اور تمدن پر عاشق اور فریفتہ ہے اور انبیاء ومرسلین کے تمدن سے نفور اور بیزار ہے، کیونکہ شریعت ِغراء اور ملت بیضاء اور احادیث ِنبویہ ؐ اور سنن ِمصطفویہؐ قدم قدم پر شہواتِ نفس میں مزاحم ہیں ۔
حضرات انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا اوّلین مقصد نفسانی خواہشوں کا کچلنا اور پامال کرنا تھا۔ اس لئے کہ شہوتوں کو آزادی دینے سے دین اور دنیا دونوں ہی تباہ ہو جاتے ہیں۔ اس لیے منکرین حدیث نے ان دو متضاد راہوں میں تطبیق کی ایک نئی راہ نکالی، وہ یہ کہ حدیث کا تو انکار کر دیا جائے جو ہماری آزادی میں سد ِراہ ہے۔ اور مسلمان کہلانے کے لیے قرآنِ کریم کا اقرار کر لیا جائے کیونکہ قرآن کریم ایک اُصولی اور قانونی کتاب ہے۔ اس کی حیثیت ایک دستورِ اساسی کی ہے کہ جو زیادہ تر اُصول وکلیات پر مشتمل ہے ۔ جس میں ایجاز اور اجمال کی و جہ سے تاویل کی گنجائش ہے اور احادیث ِنبویہ ؐ اور اقوالِ صحابہ ؓ میں ان اصول اور کلیات کی شرح اور تفصیل ہے، اس میں تاویل کی گنجائش نہیں۔ اس لیے اس گروہ نے حدیث ِنبویؐ کا تو انکارکردیا اور مسلمان کہلانے کے لیے قرآنِ کریم کو مان لیا اور اس کے مجملات اور موجز کلمات میں ایسی من مانی تاویلیں کیں کہ جس سے ان کے اسلام اور یورپ کے کفر اور الحاد میں کوئی منافات ہی نہ رہی۔” «وذلك غاية طلبعهم ونهاية طربهم» (محمد ادریس کاندھلوی،’حجیت حدیث’ لاہور ، ۱۹۵۲ء صفحہ ۱۶)
مولانا سرفراز خان صفدر لکھتے ہیں :
”اور یہ ایک خالص حقیقت ہے کہ حدیث کی مخالفت آج وہ لوگ کررہے ہیں جو دراصل اسلامی تہذیب وتمدن کے عادلانہ نظام کویکسر توڑنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ اس کی تشریح ہے اور تعینات کی حدود میں، اپنی اَہوا اور خواہشات کی پیروی کے لیے وہ قطعا کوئی گنجائش نہیں پاتے۔ لہٰذا انہوں نے یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ اس چیز ہی کو اصل سے مٹا دیا جائے جو مکمل طور پر اسلام کے عادلانہ نظام کی تشریح اور حد بندی کرتی ہے۔ تا کہ وہ آزاد ہو جائیں اور اسلام کے ڈھانچے پر جس قدر اور جس طرح چاہیں، گوشت پوست چڑھائیں اور جس طرح چاہیں اپنے خود ساختہ اسلام کی شکل بنا لیں۔” (محمد صفدر سرفراز خان ، شوقِ حدیث، حصہ اول گوجرانوالہ گکھڑ، انجمن اسلامیہ ، ۱۹۸۲ء ، صفحہ۹)
ایسے لوگوں کے بارے میں مولانا محمد عاشق الٰہی رقم طراز ہیں:
”قرآن حکیم میں اوامر و نواہی ہیں جن میں بہت سے احکام ایسے ہیں جن کا اجمالی حکم قرآن میں دے دیا گیا اور ان پر عمل کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ ان احکام کی تفصیلات رسول اللہ ﷺ نے بتائیں۔ جو لوگ آزاد منش ہیں، اعمال کی بندش میں آنے کو تیار نہیں، ان کا نفس زندگی کے شعبوں میں اسلام کو اپنانے کے لئے تیار نہیں۔ لہٰذا یہ لوگ حدیث کے منکر ہوجاتے ہیں۔ چونکہ قرآن مجید میں احکام کی تفصیلات مذکور نہیں ہیں اس لئے آزادی کا راستہ نکالنے کے لئے بار بار یوں کہتے ہیں کہ فلاں بات قرآن میں دکھاؤ۔” (محمد عاشق الٰہی، مفتی، فتنہ انکار حدیث اور اس کا پس منظر، لاہور ادارہ اسلامیات، ۱۹۸۶ء ص ۹)
مفتی رشید احمد لکھتے ہیں:”
دشمنانِ رسول اللہ ﷺ کا مقصد صرف انکارِ حدیث تک محدود نہیں بلکہ یہ لوگ(عليهم ما علیهم) اسلام کے سارے نظام کو مخدوش کرکے ہر امر و نہی سے آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ نمازوں کے اوقاتِ خمسہ، تعدادِ رکعات، فرائض و واجبات کی تفاصیل، صوم و زکوٰۃ کے مفصل احکام، حج کے مناسک، قربانی، بیع و شرا، امورِ خانہ داری، ازدواجی معاملات اور معاشرت کے قوانین، ان سب اُمور کی تفصیل حدیث ہی سے ثابت ہے، قرآن میں ہر چیز کا بیان اجمالاً ہے جس کی تشریح اور تفصیل حدیث میں ہے۔”(رشیداحمد، مفتی، مولانا، فتنہ انکار حدیث، کراچی کتب خانہ مظہری، گلشن اقبال، ۱۴۰۳ھ، ص ۱۰)

6۔ کم علمی اور جہالت :
برصغیر کے منکرین حدیث کے لٹریچر کے مطالعہ اور حدیث کے بارے میں ان کے خود ساختہ اور من گھڑت شبہات اور اعتراضات کو دیکھ کر اس چیز کااندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ وہ نہ تو علم حدیث پر عبور رکھتے ہیں اور نہ ہی علومِ قرآنی کی گہرائیوں سے واقف ہیں۔ چونکہ قرآن وسنت اور ان کے مستند مآخذتک منکرین ِحدیث کی رسائی نہیں لہٰذا ان کی توجیہ بھی ان کے بس کاروگ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث ِرسول ؐپر اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ منکرین حدیث کا نامکمل مطالعہ اور جہالت کوبیان کرتے ہوئے محمد کرم شاہ ازہری لکھتے ہیں:
”جہاں تک میں نے معترضین حدیث کی مشکلات کا اندازہ لگایا ہے، میں ا س نتیجہ پرپہنچا ہوں کہ ان کا مطالعہ صرف چند نامکمل تراجم کتب ِحدیث تک محدود ہوتا ہے۔ وہ ان اُصولوں سے بے خبر ہوتے ہیں جن سے کسی حدیث کی فقہی اور قانونی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ اس سے قطعی ناواقف ہوتے ہیں کہ اس حدیث سے جو حکم ثابت ہے، وہ فرض ہے، سنت ہے، جائز ہے یا مباح ہے بلکہ انہوں نے تو احکام کے اس فرق کو جاننے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی اور پھر بے چارے وہم وگمان کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے لگتے ہیں اور اسی طرح اپنے خود ساختہ اوہام میں غلطاں و پیچاں رہتے ہیں۔ اس وجہ سے بعض تو اپنا دماغی توازن کھو بیٹھتے ہیں اور حدیث پربے جا اعتراض کرنے لگتے ہیں۔” (ازہری، محمد کرم شاہ، سنت خیرالانام، لاہور، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، ۱۹۵۳ء ص ۱۷۹)
مولانا محمد قطب الدین انکارِ حدیث کے اسباب کی تفصیل میں بیان کرتے ہیں کہ
”انکارِ حدیث کا سب سے پہلا اور بنیادی سبب یہ ہے کہ منکرین حدیث راسخ فی علم القرآن ہی نہیں، وہ علم حدیث پر بھی مکمل عبور نہیں رکھتے اور حدیث کی مختلف انواع و اقسام اور راویوں سے متعلق فن ِتنقید و تحقیق سے بے خبر واقع ہوئے ہیں۔ ان میں تطبیق ِآیات و احادیث کا فن بھی مفقود ہے جس کے لئے مسلسل اور عمیق مطالعہ کی ضرورت ہے اور جس کے بغیر احادیث ِنبویؐ کی صحیح عظمت وافادیت واضح نہیں ہوسکتی۔” ( محمد قطب الدین، مولانا، مظاہر حق اردو ترجمہ مشکوٰۃ شریف، لاہور، ۱۹۶۶ء ، ج، دیباچہ کتاب)
شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل لکھتے ہیں :
”انکارِ حدیث احساسِ کمتری کی پیداوار ہے جس نے گریز پائی کی صورت اختیار کرلی ہے۔ جب یہ حضرات کسی مخالف کا اعتراض سنتے ہیں تو چونکہ یہ قرآن و سنت اور اس کے مستند مآخذ سے واقف نہیں اور اس کی توجیہ سے ان کا ذہن قاصر ہوتا ہے، اس لئے بھاگنا شروع کردیتے ہیں جس کی صورت یہی ہوسکتی ہے کہ نصوص کا انکار کردیں اور احادیث کے متعلق تو وہ یہ ہتھیار استعمال کرتے ہیں کہ ہم اس حدیث کو نہیں مانتے۔”(سلفی ، محمد اسماعیل، مولانا، حجیت حدیث، لاہور، اسلامک پبلی کیشنز ہاؤس، ۱۹۸۱ء ص ۱۷۷)

استفادہ تحریر: برصغیر میں فتنۂ انکارِ حدیث کی تاریخ اور اسباب ، مولانا عبداللہ عابد ، ماہنامہ محدث

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *