امثالِ حدیث

آنحضرتﷺ نے الہٰی ہدایت کے مختلف پہلوؤں کو کبھی مثالوں سے بھی واضح فرمایا،مثال سے بات ذہن میں پوری طرح جم جاتی ہے اورآسان ہو جاتی ہے، مثال اور ممثل لہ میں ہر جہت سے مطابقت نہیں ہوتی، جس غرض سے مثال دی جائے صرف اس جہت سے مطابقت کافی سمجھی جاتی ہے،اللہ تعالی نے بھی بندوں کی رعایت کرتے ہوئے قرآن کریم میں بہت سے مضامین مثالوں سے واضح فرمائے ہیں۔
آنحضرتﷺ بھی اسی علمی اور ادبی راہ پر چلے، بہت سے مقامات پر آپﷺ نے اپنی بات مثالوں سے واضح فرمائی، سلیم بن عامرؒ تابعی کہتے ہیں، آنحضرتﷺ نے فرمایا:ترجمہ: میری (الہٰی)رعب سے مدد کی گئی،مجھے جامع کلمات دیئے گئے، میں حکمت دیا گیا اورجیسے قرآن میں مثالیں ہیں مجھے بھی مثال سے بیان کرنا عطا کیا گیا۔ (الأمثال للرامهرمزي:حدیث نمبر:۶، صفحہ نمبر:۱/۸، موقع جامع الحدیث)
حضرت عبداللہ بن عمروبن العاصؓ (۶۷ھ) وہ صحابی ہیں جنہوں نے حضورﷺ کی زندگی میں حدیث لکھنے کی اجازت حاصل کرلی تھی اورحدیث لکھنی شروع کردی تھی،آپ کہتے ہیں:ترجمہ: میں نے آپﷺ سے ایک ہزار مثالیں یاد کررکھی ہیں۔ (مسند احمد:۴/۲۰۳)
محدثین میں امثال حدیث ایک خاص موضوع سمجھا جاتا ہے، قاضی ابو محمد الحسن (۳۶۰ھ) جیسے بلند پایہ محدثین نے اسی دور میں اس موضوع کو اپنا یا اوراس پر کتابیں لکھیں، یہ وہ باب حدیث ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا علمی اور ادبی پیرایۂ بیان نکھر کر سامنے آتا ہے اورآپﷺ کے بیان اور مثالوں کے تحت مشبہ اور مشبہ بہ کے لطیف حسی اور معنوی فاصلے بات کے اندر کی سطح کو عملی طور پر سامنے لے آتے ہیں اور طلبہ اور علماء افصح العرب والعجم کے مثال والے بے مثال پیرایۂ بیان پر پھڑک اُٹھتے ہیں، ذیل ہم اس بات کے چند مباحث انہی ائمہ فن کے بیانات کی روشنی میں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں، فنی نقطہ نظر سے یہ ایک باب عظیم ہے جس نے علوم اسلامی میں علم معانی اور علم بیان کو ایک مستقل شعبہ کی جگہ دی ہے۔

پہلی مثال:
حدیث: میری اورمجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اوراس کو بہت آراستہ و پیراستہ کیا؛مگر اس کے گوشوں میں سے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی لوگ اسے دیکھنے آتے رہے اور خوش ہوتے رہے اور کہتے کہ یہ اینٹ کی جگہ کیوں خالی رہی، آپؐ نے فرمایا: وہ اینٹ میں ہوں (جس سے اس قصرنبوت کی تکمیل ہوئی) اورمیں ہوں نبیوں کو ختم کرنے والا (خاتم النبیین)۔ “۔(مسلم،باب ذکرکونہ صلی اللہ علیہ وسلم،حدیث نمبر:۴۲۳۹)
اس مثال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قصر نبوت کے دو مرحلے ذکر فرمائے ۔اس میں واضح ہے کہ قصر نبوت کی ہر پہلو سے تکمیل ہوئی ہے،تشریعی پہلو سے بھی اس کی تعمیر مکمل ہوئی اور غیر تشریعی نبوتوں کی تحسین و تجمیل ہوچکی، نبوت کا محل ما سوائے ایک اینٹ کے ہر پہلو سے مکمل تھا، خالی اینٹ کی جگہ آپ نے پرکی۔ آنحضرتﷺ نے اس مثال میں نبوت کے دونوں سلسلوں کو لپیٹ لیاکہ اب آپ کے بعد کوئی نیا تشریعی نبی یا غیر تشریعی نبی جو پچھلے فیضان کو آگے لے کر چلے ہرگز پیدا نہ ہوگا۔ آپ خاتم النبین ہیں اور آپ پرہر پہلو سے نبوت ختم ہوچکی،آپ یہاں بندوں پر خدا کی آخری حجت ہیں، آپﷺ کے بعد کوئی سلسلہ وحی نہیں۔آنحضرتﷺ نے اس مثال میں ختم نبوت کو کس وضاحت سے پیش کیا ہے۔

دوسری مثال:
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایااللہ تعالی نے صراط مستقیم کی مثال ایک راہ سے دی ہے جس کے دونوں طرف دودیواریں ہوں ان میں دروازے کھلتے ہوں اور دروازوں پر پردے لٹکے ہوں،راستے کے سرپر ایک پکارنے والا کہہ رہا ہے۔رستے پر سیدھے چلے آؤ،ادھر ادھر نہ ہونا اوراس کے اوپر ایک اورآواز دینے والا ہے،جب بھی کوئی انسان ان دروازوں میں سے کسی دروازے کو کھولنے کا ارادہ کرتا ہے،وہ کہتا ہے اے تیری بربادی اسے تو نہ کھول اگر تو اسے کھولے گا تو اس میں پھنس کر رہ جائے گا پھر آنحضرتﷺ نے اس کی تفسیر بیان فرمائی آپ نے کہا: راہ سے مراد اسلام ہے،کھلے دروازوں سے مراد اللہ کی حرمتیں ہیں،(جن امور کو اللہ تعالی نے ناقابل عبور ٹھہرایا ہے) لٹکے ہوئے پردوں سے مراد اللہ کی حدیں ہیں (جنہیں پھاندنے کی اجازت نہیں) راہ (صراط)کے سرپر پکارنے والا قرآن ہے اوراس کے اوپر آواز دینے والی اللہ تعالی کی طرف سے ایک ناصحانہ آواز ہے جو ہر قلب مومن پر دستک دے رہی ہے۔ (مسنداحمد،باب حدیث النواس بن سمعان الکلابی،حدیث نمبر:۱۶۹۷۶)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مثال میں صراط مستقیم پر چلنے کی ہدایت فرمائی ہے،آپ نے اس کے دونوں طرف دیواریں ذکر کیں جن کے ورے اللہ کی حدیث لوٹتی ہیں اور انسان حرام کا مرتکب ہوتا ہے،صراط مستقیم پر چلنا ان سے بچ کر ہی میسر آسکتا ہے، یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے سورہ فاتحہ میں صراط مستقیم طلب کرنے کی ہدایت کی ہے اوراس میں مغضوب علیہم اورضالین سے بچ کر نکلنے کی بھی ہم دعا مانگتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اس مضمون کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان الفاظ میں بھی نقل کیا ہے، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:ترجمہ: آنحضرتﷺ نے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا یہ اللہ کی طرف جانے والی سیدھی راہ ہے، پھر آپﷺ نے اس کے دائیں بائیں بہت سے خطوط کھینچے اور فرمایا :یہ وہ راہیں ہیں جن میں سے ہر ایک پرایک شیطان بیٹھا ہے اور وہ لوگوں کو اس کی طرف بلاتا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: “وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ” (الانعام:۱۵۳)ترجمہ:اوریہ راہ ہے میری سیدھی سو اس اس پر چلو اورنہ چلو اوررستوں پر وہ تمہیں جدا جدا کردیں گے۔ (سنن الدارمی،باب فی کراھیۃ اخذ الرای،حدیث نمبر:۲۰۸)
اس مثال میں انسان کے ضمیر کو بڑا وقیع مقام دیا گیا ہے،پہلا داعی قرآن ہے جس کی دعوت انسان کو خارج سے پہنچتی ہے، دوسرا داعی وہ آواز ہے جو انسان کے اندر سے اٹھتی ہے، یہ اس کے ضمیر کی آواز ہے،یہ مضراب اللہ رب العزت کی طرف سے ہر مرد مومن کے دل پر لگتا ہے،غور کیجئے آنحضرتؐ نے کس شانِ بلاغت سے اسلام کے دین فطرت ہونے کا اثبات فرمایا اوراسے دل کی آواز قرار دیا ۔

تیسری مثال:
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں، میں نے حضورﷺ سے عرض کیاکہ آپﷺ نرم بستر پر آرام فرمایا کریں، سخت چٹائی سے بدن مبارک پر نشان پڑجاتے ہیں، حضور اکرمﷺ نے فرمایا:ترجمہ: میں کیا اور یہ دنیا کیا،میری اوردنیا کی مثال اس سوار کی ہے جو کسی صحرا سے گزرا،ایک درخت دیکھا اور وہ اس کے سائے تلے جابیٹھا پھر چلتا بنا اوراس نے اسے چھوڑدیا۔ (مسند احمد،باب مسند عبداللہ بن مسعودؓ،حدیث نمبر:۳۹۹۱)
یہ مثال دنیا کو جلد چھوڑنے کی ہے، اس میں بتلایا گیا کہ یہاں کی لذتیں اوربہاریں سب عارضی ہیں جو پیدا ہوا مرنے کے لیے اورجو عمارت بنی گرنے کے لیے، ہر ایک کو فنا کی گھائی پر آنا ہے اوریہاں کی ہر لذت کو چھوڑجانا ہے،حضورﷺ نے دنیا کو ایک اورمثال سے واضح فرمایا:ترجمہ: آخرت کے مقابلہ میں دنیا اس طرح ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی دریا میں رکھے وہ دیکھے کہ انگلی پر کتنا پانی لگا۔ (مسلم۔مسند احمد:۴/۲۲۹)

چوتھی مثال:
ترجمہ: تمہاری عمر پہلی امتوں کی نسبت ایسے ہے جیسے عصر اورمغرب کے درمیان کی مدت، تمہاری اور یہود ونصاریٰ کی مثال یوں ہے کہ ایک شخص نے مزدور طلب کئے اورکہا کون کون دوپہر تک کام کرے گا اسے ایک ایک قیراط مزدوری ملے گی، یہود اس پر کام کرتے رہے،مالک نے پھر کہا:کون کون دوپہر سے عصر تک قیراط قیراط پر کام کرے گا، سو نصاریٰ دوپہرسے عصر تک کام کرتے رہے؛ پھر اس نے کہا کون کون عصر سے مغرب تک دو دو قیراط مزدوری پر کام کرے گا (اے مسلمانو: )خبردار ہو تمہاری اجرت دوگنی ہوگئی،اس پر یہود ونصاریٰ غصے میں آگئے اور کہا: ہم نے کام زیادہ وقت کیا اورمزدور ی ہمیں کم ملی، اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے کوئی تمہارا حق چھینا ہے؟انہوں نے کہا: نہیں، اس پر اللہ تعالی نے فرمایا: سویہ میرا فضل ہے جس کو چاہوں دوں۔
(سنن الترمذی،باب ماجاء فی مثل ابن ادم واجلہ،حدیث نمبر:۲۷۹۷)
اس سے پتہ چلا کہ امت محمدیہ اللہ رب العزت کے ہاں بہت عزت یافتہ اور محبوب امت ہے، یہ اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ اس کا ہر اول دستہ(صحابہ کرامؓ) خیر امت ہوں دوسرے لوگوں کے لیے نشان راہ ہوں “أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ” اور “لِتَکُوْنُوْا شُہَدَاءَ عَلَی النَّاسِ” کی شان سے ممتاز ہوں اوران سب امور کی تصدیق قرآن کریم میں موجودہے۔

پانچویں مثال
حضرت عبداللہ بن عمروبن العاصؓ (۶۷ھ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:
ترجمہ: پہلی امتوں میں ایک شخص تھا جوکسی قوم کا مہمان بنناچاہا،ان کی ایک کتیا تھی جو ہر آنے والے کوبھونکتی تھی،اس نے کہا میں آج رات اپنے گھر کے کسی مہمان کو نہ بھونکوں گی (آپ نے بتایا) پھر اس کے بچے جو اس کے پیٹ میں تھے (اندرہی) بھونکنے لگے، یہ بات اس دور کے نبی کو پہنچی،اس نے کہا یہ مثال ان لوگوں کی ہے جو تمہارے بعد آئیں گے ان کے بیوقوف اپنے برد بار لوگوں پر سختی کریں گے اوران کے جہلاء ان کے علماء پر چڑھ دوڑیں گے۔ (مسند احمد:۲/۱۷۰۔ فیض القدیر شرح جامع صغیر:۴/۲۵۲۔ مجمع الزوائد:۷/۱۸۳،۲۸۰)
اس مثال میں اس امت کی طرف اشارہ ہے جس کی ہلاکت ان کے نوجوانوں کے ہاتھوں سے ہوگی،دیکھئےنوجوان امیر المومنین حضرت عثمانؓ کے خلاف کس طرح اٹھ کھڑے ہوئے اورپھر انہوں نے کس طرح سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کے عہد خلافت میں دبائے رکھا، اب بھی اس امت میں کتنے اصاغر ہیں جو امت کے اکابر پردن رات بھونکتے ہیں،کوئی صحابہؓ کی غلطیاں نکال رہا ہے، کوئی اہل بیت کرام پر تنقید کررہا ہے، کوئی محدثین عظام کو عجمی سازش کے کارندے بتلارہا ہے،پچھلے پہلوں کو بیوقوف بناکر ترقی کے بھنور میں ڈوب رہے ہیں اوریہ نہیں جانتے کہ جب اس امت کے پہلے طبقے کو قرآن کریم میں خیرامت کہا گیا ہے تو کیا یہ شقاوت نہیں کہ پچھلے اپنی کامیابی پہلوں کو برا کہنے میں سمجھیں۔

چھٹی مثال:
حضرت نعمان بن بشیرؓ(۷۴ھ) کہتے ہیں کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا:
ترجمہ:اللہ کے دین میں مداہنت کرنے والے(بے دینی کو آرام سے برداشت کرنے والوں) کی مثال ان لوگوں کی سی ہے جو ایک کشتی میں سوار ہوئے اوراس کی مختلف منازل میں اترے، کچھ اوپر کے حصہ میں پہنچے اورکچھ نیچے کے حصہ میں،اوپر کے حصہ میں جو لوگ تھے ان میں سے کسی نے کسی نچلے والے کو کشتی میں سوراخ کرتے دیکھا،اس نے پوچھا کیا کررہے ہو؟ اس نے کہا مجھے پانی چاہئے اس لیے میں سوراخ کررہا ہوں، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر انہوں نے اس کو ایسا کرنے سے روک دیا تو وہ بھی بچ گیا اوریہ بھی بچ گئے اور اگر انہوں نے ایسا کرنے سے نہ روکا تو وہ بھی ڈوبا اوریہ بھی ڈوبے۔ (رواہ البخاری والترمذی واحمد:۴/۲۶۸،۲۷۰)
اس مثال میں بتایا گیا ہے کہ یہ امت ایک جسد واحد کی طرح ہے،اس کے جملہ افراد ایک کشتی میں سوار ہیں،کنارے پر پہنچنا یا ڈوبنا سب کے لیے یکساں رہے گا، جونہی کسی نادان نے کوئی نادانی کی اس کی افتاد ساری امت پر آئے گی، سو باقی افراد امت کا فرض ہے کہ جونہی کوئی اس کشتی میں سوراخ کرنے لگے وہ اپنی قومی ذمہ داری سے کام لیں اوراسے ہر ممکن طریق سے روکیں، یہ نہ کہیں کہ ہر شخص اپنے عملوں کاذمہ دار ہے، قومی زندگی میں انسان کبھی دوسرے انسانوں کے اعمال کے اعمال کا بھی ذمہ دار بنتا ہے، معاشرہ ایک اجتماعی زندگی کا نام ہے اوراسے افراد ہی بناتے ہیں؛ سو یہاں ہر فرد کے ذمہ ہے کہ وہ دوسرے افراد کے اعمال پر بھی ساتھ ساتھ نگاہ رکھے۔

ساتویں مثال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ترجمہ: وقت آنے والا ہے کہ اسلام ہر شہر سے سمٹتا ہوا مدینہ آرہے، جیسے سانپ ہر طرف سے بھاگ کر پھر اپنے بل کی طرف لپٹتا جاتا ہے۔ (کنزالعمال، باب فی قلۃ الاسلام وغربتہ:۱۲۰۱،۲۴۰۔ بخاری، باب الایمان یأرزالی المدینۃ، حدیث نمبر:۱۸۷۶۔ مسلم، باب بیان ان الاسلام بدأغریباً وسیعود غریباً، حدیث نمبر:۳۹۱، شاملہ، موقع الإسلام، میں ان الفاظ کے ساتھ ہے “ان الایمان لیأرز الی المدینۃ کماتأرز الی حجرھا”۔ مسند احمد،:۲۸۶،۲۲۲،۴۹۶)
اس حدیث میں سانپ کی اس حالت سے تشبیہ ہے جب وہ کسی کے درپے آزار نہیں۔اس حدیث میں بتلایا گیا کہ مدینہ منورہ قیامت تک مرکز اسلام رہے گا، جب اسلام کہیں نہ ہوگا مدینہ منورہ اس وقت بھی بقعہ اسلام ہوگا، علامات قیامت کے طورپر بھی حرمین شریفین کبھی مقبوضہ کفار نہ ہوں گے “جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ”(السباء:۴۹) کے اعلان سے اسلام وہاں بطور دوام آیا ہے، کفر وہاں سے بطورِ دوام نکلا ہے،نہ وہاں کوئی باطل نئے سرے سے آئے گا، نہ پہلا ہی عود کرے گا،۔

آٹھویں مثال:
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا:ترجمہ: جو شخص مسلمانوں کی جماعت سے نکلا سو اس نے اسلام کا پٹکا اپنےگلے سے اتار پھینکا۔ (مسند امام احمد:۵/۱۸۰، حدیث نمبر:۱۴۰۳۵، شاملہ، موقع الإسلام۔ ابوداؤد، حدیث نمبر:۴۱۳۱، شاملہ، موقع الإسلام)
حضورﷺ نے اس حدیث میں مسلمانوں کی جماعتی زندگی اوران کے اتفاق واجماع کی اہمیت واضح کی ہے اور بتایا ہے کہ مسلمان کو دوسرے مسلمان سے کٹ کر نہ رہنا چاہئے؛بلکہ دیکھنا چاہئے کہ جماعۃ مسلمین کدھر جارہی ہے، اسے اپنی راہ علیحدہ نہ بتانی چاہئے،سبیل مومنین کی پیروی کرنی چاہئے، مسلمان ہمہ تن آزاد نہیں ہے،اس کے گلے میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ رہنے کا پٹکا ضرور ہونا چاہئے، پٹکا یہ ہے کہ مؤمن مسلمانوں کے اجماع سے بغاوت نہ کرے،اپنی راہ علیحدہ نہ چلے،کیوں کہ حوزۂ اسلام سے خروج کرنے والا بالآخر اسلام سے ہی نکل جاتا ہے۔

نویں مثال:
حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ترجمہ: فکر مند انسان رات سے ہی سفر کے لیے اٹھتا ہے اورجو رات سے اٹھا منزل مراد پر پہنچ گیا، خبردار رہو خدا کی منڈی کا مال بہت قیمتی ہے، خبردار اس کا سودا سستے داموں ہاتھ لگنے کا نہیں۔ (ترمذی، حدیث نمبر:۲۳۷۴، شاملہ، موقع الإسلام۔ مسند احمد:۵/۱۳۶)
اس حدیث میں بتلایا گیا کہ آخرت کی فکر کے بغیر کبھی کوئی خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہوا، خدا کی بستی ایسی دکان نہیں کہ جب اٹھو وہاں سے سودا لے لو، اس کے لیے پہلے سے ارادوں کو درست کرنا پڑتا ہے اور جزاء اعمال نیتوں پر ہی مرتب ہوتی ہے، تم حسب مراد اپنی منزلوں کو پہنچو گے۔

دسویں مثال:

آنحضرتؐ نے صحابہؓ سے پوچھا تم جانتے ہو کہ تمہاری اورتمہارے اہل، مال اورعمل کی مثال کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:”انما مثل احدکم ومثل مالہ واھلہ وولدہ وعملہ کمثل رجل لہ ثلاثۃ اخوۃ فلما حضرتہ الوفاۃ دعا بعض اخوتہ فقال انہ قد نزل من الامر ماتریٰ فمالی عندک ومالی لدیک؟”۔
ترجمہ: تمہاری اورتمہارے مال، اہل و عیال اور عمل کی مثال اس شخص کی سے ہے جس کے تین بھائی تھے، جب اس کی وفات کا وقت آیا اس نے ایک بھائی کو بلایا اورکہا تم میری حالت دیکھ رہے ہو تم سے میں کیا امید رکھوں۔اس نے جواب دیا میں تمھیں غسل دوں گا، کفن پہناؤں گا اور دوسروں کے ساتھ مل کر تمہارا جنازہ اٹھاؤں گا،واپس ہونے پر جہاں تیرا ذکر کروں گا اچھائی سے تیراذکر کروں گا، یہ وہ بھائی ہے جسے اہل و عیال سے تعبیر کیا جاسکتا ہے، پھر اس نے دوسرے بھائی کو بلایا اوریہی کہا، اس دوسرے نے جواب دیا، میرے پاس دولت اس وقت تک ہے جب تک تم زندہ ہو تمہاری وفات پر دولت تم سے چلی جائے گی اور مجھ سے بھی، یہ وہ بھائی ہے جسے مال سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔پھر اس نے تیسرے بھائی کو آواز دی، اس تیسرے نے جواب دیا، میں قبر میں بھی تیرے ساتھ رہوں گااور تیری پریشانی میں تیرا ساتھی ہوں گا؛ جس دن اعمال تولے جائیں گے میں ترازو میں بیٹھوں گا؛ تاکہ تیرا پلڑا بھاری رہے، یہ وہ بھائی ہے جسے عمل سے تعبیر کیا جاسکتا ہے،صحابہؓ نے اس پر کہا: “خیراخ وخیر صاحب یا رسول اللہ” (یا رسول اللہ یہ بہترین بھائی ہے اوربہترین دوست ہے) اس پر حضورﷺ نے فرمایا: بات اسی طرح ہے جیسے تم کہہ رہے ہو، حضورﷺ نے فرمایا: میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں، دو لوٹ آتی ہیں اورایک ساتھ رہتی ہے، اہل وعیال، مال اوراس کا عمل، اس کے اہل و عیال اورمال تو واپس لوٹ آتے ہیں اوراس کے اعمال اس کے ساتھ رہتے ہیں۔(بخاری، كِتَاب الرِّقَاقِ،بَاب سَكَرَاتِ الْمَوْتِ،حدیث نمبر:۶۰۳۳۔ مسلم، كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ،حدیث نمبر:۵۲۶۰، شاملہ، موقع الإسلام۔ترمذی، حدیث نمبر:۲۳۰۱)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مثال میں عمل کے لازوال پہلو کو بیان کیا، اعمال انسان کے ساتھ رہتے ہیں اوریہ وہ رفیق ہے جوکسی وقت بھی انسان سے جدا نہیں ہوتا،انسان کا ان تینوں میں سب سے بڑا خیر خواہ یہی ہے۔

تلکہ عشرۃ کاملہ ۔امثالوں کی مزید تفصیل دیکھیے(اٰثارالحدیث:۴۴۵)

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *