پرویزصاحب کے فہم قرآن کے اصول-ایک جائزہ

پرویز صاحب اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ وہ قرآن ہی سے سب کچھ لیتے ہیں اور جو کچھ کہتے ہیں قرآن ہی کی بنیاد پر کہتے ہیں۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ قرآن مجید کے فہم کے لیے یا قرآن مجید تک رسائی کے لیے انھوں نے جو اصول قائم کیے ہیں وہ اصول کتنے معقول اور صحیح ہیں؟
قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے پرویز صاحب نے جو اصول اپنائے ہیں ان میں سب سے اہم اور بنیادی چیز، زبان کے بارے میں ان کا تصور ہے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ قرآن مجید زبان کے لبادے میں ہے۔ قرآن مجید کے فہم کے لیے اس کی زبان سے اعلیٰ سطح کی واقفیت ضروری ہے۔
اب ظاہر ہے کہ زبان میں مسلسل ارتقا سے یہ چیز پیدا ہوگئی ہے کہ آج جو لفظ بھی ہم بولتے ہیں اس کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ یعنی اگر آپ کسی لفظ کی تاریخ کا تتبع کریں، اس کے پیچھے پیچھے چلیں اور یہ جانیں کہ یہ کیسے بنا ہے تو ممکن ہے کہ آپ اس لفظ کی اصل تک پہنچ جائیں کہ یہ لفظ حقیقت میں کیا تھا؟ ارتقا کے کن مراحل سے گزرا؟ ابتداء میں کس مفہوم کا حامل تھا؟ بعد میں اس کے معنی میں کیا تبدیلی آئی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو زبان کے ماہرین زیر بحث لاتے ہیں اور اس طرح لغوی تحقیق کا علم وجود میں آتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ بعض اوقات ایسی تحقیق کسی نتیجے تک نہ پہنچے لیکن بالعموم اس طریقہ تحقیق سے ہم اس لفظ کی حقیقت تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جو دنیا کی ہر زبان میں ہوتی ہے۔ عربی زبان کا معاملہ یہ ہے کہ دوسری زبانوں کے اختلاط سے نہیں بنی۔ اس لیے اس میں یہ تحقیق اور بھی آسان ہوجاتی ہے۔ اور اس میں ہم بہت آسانی کے ساتھ یہ بتا دیتے ہیں کہ یہ ایک مادہ ہے جس سے مختلف الفاظ مختلف مراحل میں بنتے چلے گئے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے آدمی یہ جان لیتا ہے کہ ہم جس لفظ کو آج بول رہے ہیں یہ لفظ اپنا کیا پس منظر رکھتا ہے، اس میں یہ معانی کیسے پیدا ہوئے ہیں؟

علم لسانیات اور متکلم کا کلام:

لیکن اس ساری بحث میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ اس کا تعلق علم لسانیات سے ہے، زبان کے فہم یا کسی کے کلام پر تدبر سے نہیں، یہ بالکل دوسری چیز ہے۔ کسی کلام کا متکلم جب اپنا مدعا بیان کرتا ہے تو اس میں کوئی چیز یہ اہمیت نہیں رکھتی کہ جو لفظ اس نے استعمال کیا ہے، اس لفظ کی تاریخ کیا ہے؟
اس میں جو چیز بہت اہمیت رکھتی ہے وہ یہ کہ اس نے یہ لفظ جب استعمال کیا اس وقت یہ کس معنی میں بولا جاتا تھا؟ جو محاورہ استعمال کیا گیا اس زمانے میں اس کا کیا مفہوم تھا؟ یہ چیز بالکل بدیہی ہے۔ تفہیم کلام کے لیے ہم اردو زبان سے چند آسان مثالیں پیش کر رہے ہیں جو اصول یہاں پیش نظر ہے، ظاہر ہے، ان کا اطلاق دیگر زبانوں پر بھی ہوگا۔

1۔شوربے کی لغوی تاریخ اور آجکل مفہوم:
۱۔ ہم اردو زبان میں ایک لفظ کثرت سے بولتے ہیں ’’شوربا‘‘۔ آج بھی ہم یہ لفظ بولتے ہیں اور آج سے پہلے بھی یہ لفظ بولا جاتا رہا ہے۔ آج اگر کوئی یہ کہے کہ میں نے شوربے کے ساتھ روٹی کھائی ہے تو اس کا ایک مفہوم جو اس زمانے میں جب ہم یہ لفظ بول رہے ہیں، ہر ایک بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ ہم یہ جملہ زبان سے ادا کرتے ہیں تو ہمارا مخاطب فوراً اس کا مفہوم سمجھ لیتا ہے۔ اس مفہوم کو سمجھ لینے کے بعد وہ ہمارے مدعا کو پالیتا ہے۔ اس میں اس کو کوئی دقت نہیں ہوتی۔ یعنی وہ ’’میں نے شوربے سے روٹی کھائی ہے‘‘۔ کا جملہ سن کر نہ تو ’’میں‘‘ کی لسانی تاریخ سے بحث کرتا ہے نہ ’’نے‘‘ کی تحقیق کرتا ہے نہ تو اسے ’’روٹی‘‘ کا لسانی پس منظر جاننے کی ضرورت پڑتی ہے اور ہی اسے ’’کھائی ہے‘‘ کی لغوی تاریخ سے کوئی دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ اگر اردو زبان سے واقف ہے تو ہم جیسے ہی یہ جملہ بولتے ہیں وہ اپنے متعارف علم کی بنیاد پر ہمارا مفہوم سمجھ لیتا ہے۔ یہی بات زبان میں اصل اہمیت رکھتی ہے۔
اب فرض کیجیے کہ علم و دانش کی کسی مجلس میں کوئی لسانیات کا ماہر ہے۔ اس سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ یہ لفظ ’’شوربا‘‘ کیسے بنا۔ تو وہ مثال کے طور پر کہتا ہے کہ اصل میں یہ لفظ قدیم دری زبان سے ہوتا ہوا آیا ہے۔ ’’شور‘‘ نمک کو کہتے ہیں۔ اب بھی فارسی میں یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوتا ہے، اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ سمندر کو اسی وجہ سے دریائے شور کہا جاتا ہے اور ’’با‘‘ پانی کو کہتے ہیں۔ تو یہ لفظ نمکین پانی کے لیے مستعمل تھا۔ رفتہ رفتہ ایک خاص طرح کے سالن کے لیے استعمال ہونے لگا۔ ایک ماہر لسانیات کی اس تحقیق سے ہمیں روشنی ملی کہ یہ لفظ کیسے بنا، اس کا پس منظر کیا ہے، لیکن وہ مفہوم جو متکلم نے یہ جملہ بول کر ’’میں نے شوربے سے روٹی کھائی ہے‘‘ ادا کرنا چاہا تھا، اس نے نہ اس تحقیق میں اضافہ کیا اور نہ رد و بدل کیا۔ وہ مفہوم اپنی جگہ ہے۔ اب دیکھیے کہ یہ بحث اگر لسانیات کے دائرے میں رہے تو اس میں ایک حسن بھی ہے، اس کی داد بھی دی جاسکتی ہے، اس سے لطف بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔
لیکن یہ جملہ اگر ایک مصنف نے اپنی کتاب میں لکھ دیا کہ میں نے شوربے سے روٹی کھائی۔ یعنی کوئی مضمون بیان کرتے ہوئے یا کوئی روداد لکھتے ہوئے یہ جملہ لکھ دیا۔ اب کتاب پر دو چار پانچ دس صدیاں گزر گئیں۔ اب اس کے بعد ایک آدمی نے اس کتاب کی شرح لکھنے کا ارادہ کیا۔ شرح لکھتے وقت فطری اصول یہ ہوگا کہ شارح یہ دیکھے کہ جب یہ کتاب لکھی گئی اس وقت شوربا کسی مفہوم میں استعمال ہوتا تھا۔ وہ اگر اس زمانے کی تحقیق کرے گا اور اس کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ خاص طرح کے سالن کا شوربا کہا جاتا تھا تو وہ مصنف کا مفہوم صحیح سمجھ لے گا۔ لیکن اس کے برخلاف اگر اس نے کہیں سے لسانیات کی کوئی کتاب اٹھالی اور شوربے کی تاریخ پر تحقیق کرنا شروع کر دی اور تحقیق کرنے کے بعد اس نے یہ معلومات حاصل کرلیں کہ ’’شور‘‘ اصل میں نمک کو کہتے ہیں اور ’’با‘‘ اصل میں پانی کو کہتے ہیں اور پھر اس جملے کا یہ مطلب بیان کر دیا کہ مصنف نے نمکین پانی سے روٹی کھائی ہے تو اصل میں اس نے نہ صرف علم پر ظلم کیا، نہ صرف زبان پر ظلم کیا بلکہ مصنف پر بھی ظلم کیا۔ وہ یہ بات نہیں کہنا چاہتا تھا۔ یہ اس کا مدعا ہی نہیں تھا۔ اس نے نمکین پانی سے ہرگز روٹی نہیں کھائی بلکہ ایک خاص طرح کے سالن سے روٹی کھائی۔ شارح نے چونکہ لفظ کے استعمال اور رائج مفہوم کو نظر انداز کیا، اس لیے وہ مصنف کی بات کو صحی طور پر بیان کرنے میں ناکام ثابت ہوا۔
جن قارئین نے ہماری گزشتہ تحاریر پڑھی ہیں یا وہ پرویز صاحب کے قرآن کے معانی لغت سے اخذ کرنے کے اصول سے واقف ہیں انکے لیے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہوگا کہ پرویز صاحب کی لفظی تحقیق اصل میں شوربے کی تحقیق ہے ۔

2۔ٹیلی ویژن:
ایک لفظ ہے ’’ٹیلی ویژن‘‘۔ فرض کرلیجیے کہ ایک شخص کہتا ہے ’’میں نے ایک ٹیلی ویژن خریدا‘‘ اس زمانے کا ہر آدمی جانتا ہے کہ ’’ٹیلی ویژن‘‘ کیا ہے۔ ایک خاص آلہ ہے، زبان سے یہ لفظ ادا کرتے ہی اس کا ایک تصور ذہن میں آتا ہے لیکن اگر کوئی اس جملے ’’میں نے ایک ٹیلی ویژن خریدا‘‘ کی لسانی تحقیق شروع کر دے اور یہ کہے کہ لغت کے مطابق ٹیلی کا مطلب ہے انتقال اور ویژن کے معنی ہیں منظر، اس لیے اس شخص نے ایک ’’انتقالِ منظر‘‘ خریدا، تو لسانیات کی یہ تحقیق صحیح ہونے کے باوجود ایک لغو بات ہے اور کلام کی غلط تفہیم ہے۔
متکلم کی بات لغت کی تحقیق سے واضح نہیں ہوگی:
اب ٹیلی ویژن کو ٹیلی ویژن کا نام کیوں دیا گیا؟ اس کے لیے لسانیات کی تحقیق کیجیے۔ ’’شوربا‘‘ کا لفظ کیسے وجود میں آیا ہے اور اس سالن کو شوربا کیوں کہتے ہیں؟ اس لیے لسانیات کی تحقیق کیجیے، لیکن کسی متکلم کی بات کا مفہوم جاننے کے لیے اس تحقیق کی پرکاہ کے برابر اہمیت نہیں۔ جو آدمی اس طرح کی حرکت کرے گا، اس کے بارے میں دو ہی باتیں کہی جاسکتی ہیں یا تو یہ کہ اس بے چارے کو زبان سے، ادب سے، اسالیب کلام سے کوئی واقفیت نہیں ہے، وہ اس معاملے میں قطعاً لاعلم ہے اور یا یہ ہے کہ وہ جان بوجھ کر اپنی بات متکلم کے منہ میں ڈالنا چاہ رہا ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی ایک بات لازماً کہنی پڑے گی۔

زبان میں تشبیہہ و استعارہ کی اہمیت:
زبان ہی سے متعلق ایک اور بات جان لیجیے کہ ہر زبان میں تشبیہ بھی ہوتی ہے، استعارہ بھی ہوتا ہے، تمثیل بھی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کہتا ہے ’’جب سے میں نے دوپہر کا کھانا کھایا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ سینے میں آگ لگی ہوئی ہے‘‘۔
اس جملے کو سننے کے بعد اردو زبان سے واقف کوئی عامی بھی یہ نہیں کہے گا کہ متکلم کے سینے میں کسی نے دو چار لکڑیاں گھسا دی ہیں اور ان کو آگ لگی ہوئی ہے۔ ہر آدمی یہ جانتا ہے کہ آگ کا لفظ یہاں مجازاً بولا گیا ہے۔ یعنی اس سے مراد وہ آگ نہیں ہے جو چولہے میں جلتی ہے۔ اب اس جملے پر غور کیجیے ’’خاتون نے چولہے میں آگ جلائی، غلطی سے ساتھ رکھے ہوئے کپڑے نے آگ پکڑلی اور تھوڑی دیر میں پورا گھر آگ کی لپیٹ میں تھا‘‘۔ ان جملوں میں جو لفظ ’’آگ‘‘ استعمال ہوا ہے اگر کوئی آدمی یہ کہے کہ اس سے مراد سینے کی آگ ہے، تو ظاہری بات ہے کہ اس کے بارے میں کیا رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ یعنی ہم یہ تو مانتے ہیں کہ آگ کا ایک حقیقی مفہوم ہے اور آگ کا ایک مجازی مفہوم بھی ہے۔ لیکن یہ بات کہ یہ لفظ ایک جملے میں حقیقی معنوں میں استعمال ہوا ہے یا مجازی، اس کا تعین جملے کا اسلوب کرے گا۔
یعنی ہر آدمی جانتا ہے کہ کہاں سینے کی آگ لگی ہوئی ہے اور کہاں چولہے کی آگ لگی ہوئی ہے۔ جب ہم یہ مصرع پڑھتے ہیں ’’دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی‘‘ تو ہم جانتے ہیں کہ یہاں کون سی آگ مراد ہے جو برابر دونوں طرف لگی ہوئی ہے۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ صاحب تو غالباً اپنی موم بتی کو دونوں طرف سے جلا کر بیٹھ گئے ہیں۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ یہاں دونوں طرف کون سی آگ برابر لگی ہوئی ہے۔ لیکن اگر کوئی آدمی اس طرح کے سیاق میں آگ کا لفظ استعمال کرتا ہے جس میں سینے کی آگ کے معنی میں لینے کے لیے کوئی قرینہ ہی موجود نہیں ہے تو دو ہی باتیں ہوں گی۔ یا تو وہ اس زبان کے اسالیب سے جاہلِ محض ہے یا وہ کوئی خاص مقصد ہے جس کے تحت وہ سینے کی آگ کو چولہے کی آگ بنانا چاہتا ہے، اور چولہے کی آگ کو سینے کی آگ بنانا چاہتا ہے۔
ایک اور مثال لیجیے۔ ایک شخص ایک استاد سے کہتا ہے ’’آپ کے فلاں شاگرد نے تو کمال کر دیا۔ ایسے حسن و خوبی سے بات کی، ایسی شان و وقار سے بات کی کہ بس مخاطب کے چھکے چھڑا دیے۔ ہم نے کہا کہ تم تو شیر آدمی ہو‘‘۔ ان جملوں سے کسی مخاطب کو بھی یہ شبہ نہیں ہوگا کہ اس شیر سے مراد وہ شیر ہے جس کو اس کے بچے چڑیا گھر میں دیکھ کر آئے ہیں اور ہم بھی جانتے ہیں کہ یہاں شیر کا کیا مفہوم ہے۔ لیکن فرض کیجیے اگر کوئی یہ کہے صبح سے بچے ضد کر رہے تھے کہ ہم تو چڑیا گھر جا کر شیر دیکھیں گے اور آپ یہ کہیں ’’وہ چڑیا گھر ایک بہادر آدمی کو دیکھنے لگے تھے‘‘۔ ظاہر ہے زبان سے واجبی سا تعلق رکھنے والا شخص اس سخن فہمی کا ماتم کرے گا۔

تمثیل کا استعمال اور محل:
تمثیل کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ہم کسی چیز کو جب مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں تو اس میں ایسے ایسے جملے لے آتے ہیں جس سے ہمارا مخاطب یہ جان لیتا ہے کہ یہ بات ہم مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام ایک بہت اعلیٰ درجے کے خطیب ہیں۔ وہ بالعموم تمثیل کے اسلوب میں کلام کرتے ہیں۔ انجیل ان کے ایسے خطبوں سے بھری پڑی ہے، جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک موقع پر انھوں نے ارشاد فرمایا:
تم کو میں کیا کہوں، تم جس کے انتظار میں ہو، تمہارا حال تو یہ ہے کہ تم گیارہ کنواریاں ہو۔ تیل کی کپیاں بھر کے بیٹھی ہو۔ تمہیں نہیں معلوم کہ دولہے نے کس وقت آنا ہے۔ تم انتظار کر رہی ہو کہ دیا جلاتی رہو گی۔ لیکن جب دولہے کے آنے کا وقت ہوا تو تم سوگئیں۔
یہ تمثیل ہے۔ اس کلام میں ہر آدمی جانتا ہے کہ ایسے قرائن موجود ہیں جو واضح کر رہے ہیں کہ یہ نہیں کہ واقعی حضرت مسیح علیہ السلام کی قوم میں گیارہ دلہنیں تھیں اور وہ تیل کی کپیاں لیے بیٹھی تھیں۔
اسی طرح ایک موقع پر حضرت مسیح علیہ السلام اپنی قوم کو خطاب کر کے کہتے ہیں:
تم زمین کا نمک ہو۔ اگر یہ نمک ہی اپنی نمکینی سے محروم ہوگیا تو پھر کیا باقی رہ جائے گا۔
یہ معلوم ہے کہ یہاں زمین کا نمک کس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد کوہستان نمک کا نمک نہیں ہے۔ اس تمثیل کو سنتے ہی آدمی جان لیتا ہے کہ مدعا کیا ہے۔
حضرت مسیح علیہ السلام فریسیوں اور فقیہوں سے خطاب کر کے کہتے ہیں:
بدبختو! تم نے میرے شاگردوں پر اعتراض کیا کہ انھوں نے ہاتھ دھو کر کھانا نہیں کیا۔ تم تو وہ ہو کہ مچھروں کو چھانتے ہو اور اونٹوں کو نگلتے ہو۔
یہ ہر شخص جانتا ہے کہ یہاں اونٹ کو نگلنے سے کیا مراد ہے۔ یعنی وہ اونٹ جو صحرائے عرب میں پایا جاتا ہے، اس کو سموچا نگل لینا مراد نہیں۔ یہاں مجاز کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ ایک بڑی عمدہ تمثیل میں انھوں نے اپنا مدعا بیان کیا ہے۔ یہاں الفاظ اور اسالیب اپنا مفہوم خود بتا رہے ہیں۔ اس کے لیے تشریح کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حج کے موقع پر اپنی امت کی طرف سے دو اونٹ ذبح کیے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل میں بعض بڑی بڑی حقیقتیں ذبح کر دیں اور ذبح کرنے سے مراد یہ تھا کہ انھوں نے اس سب حقیقتوں کو لیا جو اس وقت عرب کی جاہلیت میں پائی جاتی تھیں اور اپنے پاؤں کے نیچے رکھ دیا تو ظاہر ہے کہ اس سیاق میں اس سباق میں اس مفہوم کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ الفاظ کسی کلام میں حقیقی یا مجازی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں تو یہ جملوں کا دور و بست ہے، جو یہ تعین کرتا ہے کہ کہاں کون سا لفظ حقیقی مفہوم میں ہے اور کہاں مجازی۔

قرآن کے الفاظ کی تحقیق:
قرآن مجید بھی ظاہر ہے کہ ایک زبان میں نازل ہوا ہے پھر وہ ایک مربوط کلام ہے۔ اس کی تفہیم میں بھی یہ تمام امور پیش نظر رہیں گے۔ یعنی اس میں جتنے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ہم ان کے مادوں کی تحقیق بھی کرسکتے ہیں کہ وہ مختلف ادوار میں ترقی کرتے ہوئے اس مفہوم تک کیسے پہنچے ہیں۔ لیکن یہ تحقیق اگر اس مقصد کے لیے کی جائے کہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ لفظ میں معنی کیسے پیدا ہوئے؟ یہ تو لسانیات کی بڑی اعلیٰ بحث ہوئی اور اگر یہ تحقیق اس مقصد کے لیے کی جائے کہ لفظ کا وہ مفہوم جس میں وہ آج استعمال ہوتا ہے یا اس وقت استعمال ہوتا تھا، اس کو تبدیل کر کے ایک نیا مفہوم اس میں شامل کر دیا جائے تو اس کا وہی نتیجہ نکلے گا جو ہم مثالوں سے واضح کرچکے ہیں۔ یعنی قرآن کی آیات کا صحیح مفہوم ہماری نظروں سے اوجھل ہوجائے گا۔
مثال :
ہم اس بحث کو عربی کی ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ ’’لفظ‘‘ عربی زبان کا مصدر ہے۔ مصدر عربی قاعدے کے مطابق اسم فاعل اور اسم مفعول دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے یہ لفظ کے معنی میں عربی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ دونوں زبانوں میں اس کے معنی ایک ہیں۔ لیکن اس کے مادے کی تحقیق کی جائے تو اس کا مطلب ہے پھینکی ہوئی چیز‘‘۔ کسی چیز کو اگر پھینک دیں تو کہیں گے ’’لفظ‘‘۔ اب فرض کیجیے کہ اگر کوئی آدمی یہ کہے ’’میں نے ایک لفظ بولا‘‘ اور آپ یہ کہیں کہ اس نے ایک پھینکی ہوئی چیز بولی، تو اس تحقیق کی کوئی کیا داد دے گا؟ وہ یہی کہے گا کہ آپ زبان سے بالکل واقف نہیں ہیں، آپ کو کسی طرح یہ بات معلوم ہوگئی کہ لفظ کا کوئی مادہ بھی ہوتا ہے اور اس ادھورے علم کے ساتھ آپ نے اسالیب کلام پر اس کا اطلاق شروع کر دیا اور پھر وہ مضحکہ خیز صورت حال پیدا ہوگئی جس کا ذکر ’’لفظ‘‘ کے استعمال کے ضمن میں ہوا ہے۔ عربی زبان میں ایک دو حضرات نے لغت اس اصول پر ترتیب دی ہے۔ ان میں ایک تو امام راغب ہیں، جن کی مشہور لغت قرآن مجید کے مفردات پر ہے اور دوسرے ایک اور صاحب ہیں جنھوں نے ’’مقاییس اللغۃ‘‘ لکھی ہے۔ ان دونوں نے لسانیات کے پہلو سے اپنے لغات میں بتایا ہے کہ کوئی لفظ حقیقت میں کیا تھا۔ اب فرض کیجیے کہ یہ چیز کسی آدمی کے سامنے آگئی اس نے سوچا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ اب ایک راز میرے ہاتھ لگ گیا ہے، تو اب میں اس کے ذریعے تشبیہوں کو، استعاروں کو، مطالب کو، مفاہیم کو ہر چیز کو بدل ڈالوں گا۔ یہ حرکت جیسا کہ ہم نے عرض کیا ایسا شخص کرسکتا ہے جو زبان سے اور اس کے قواعد اور اسالیب سے بالکل ناواقف ہو اور یا اس صورت میں کرسکتا ہے کہ وہ جانتے بوجھتے ایک بات کو نہیں ماننا چاہتا اور ایک دوسری بات متکلم کے منہ میں ڈالنا چاہتا ہے، اور اب اس نے زبان کو اس پہلو کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

پرویز صاحب کی اصل غلطی-لفظوں کی لغوی تحقیق:

قرآن مجید کے ساتھ پرویز صاحب نے دراصل وہی سلوک کیا ہے جس کو ہم نے اوپر بعض مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے قرآن کی زبان کو اس کے استعمال، عرف، ہر چیز سے جدا کر کے لغت سے سمجھنے کی کوشش کی۔ یعنی قرآن مجید کے اس عرف کو جو معاشرے نے پیدا کیا، وہ عرف جو سیاق و سباق نے پیدا کیا، وہ عرف جو متکلم نے پیدا کیا اسے ملحوظ رکھے بغیر اس کے الفاظ کو وہ معانی پہنائے جیسے کوئی علامہ اقبال کے کلام میں خودی کا وہ مفہوم داخل کر دے جو لغت میں لکھا ہوا تھا۔ اسی طرح سے ایک مقام پر کوئی قرینہ موجود نہیں کہ لفظ کو مجازی مفہوم میں لیا جائے لیکن وہ اس کا مجازی مفہوم ہی لینے پر مصر ہیں۔
مثلاً جملہ یہ کہ میری بیوی چولہے میں آگ جلا کر چائے بنا رہی ہے اور وہ اس بات پر مصر ہیں کہ یہاں آگ سے مراد حسد کی آگ ہے ایک مقام پر تشبیہ اور استعارے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ زبان ابا کرتی ہے کہ وہاں حقیقی مطلب کے علاوہ کوئی اور مفہوم مانا جائے لیکن وہ اس کو تشبیہ اور استعارے کے مفہوم میں لے رہے ہیں۔ اب اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو بات متکلم کہنا چاہتا ہے وہ کہیں سے کہیں چلی جاتی ہے۔

لغوی تحقیق کا خمیرہ:
ہمارے پیش نظر ان کی تصانیف ’’مفہوم القرآن‘‘ اور ’’لغات القرآن‘‘ ہیں۔ ’’مفہوم القرآن‘‘ میں انھوں نے اپنی تحقیق کے مطابق قرآن مجید کا مفہوم بیان کیا ہے اور ’’لغات القرآن‘‘ میں انھوں نے اپنے بیان کردہ مفہوم کا پس منظر اور اس کا علمی استدلال واضح کیا ہے۔ ان دونوں کتابوں میں پرویز صاحب نے الفاظ کی لغوی تحقیق کا خمیرہ داخل کر کے نقش مضمون کو لغو بنا دیا ہے اور ایسی فاش اور فاحش غلطیاں کیں جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ہم اپنے اس تاثر کی تائید میں ان دونوں کتابوں سے چند مثالیں پیش کر رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوجائے گا کہ وہ قرآن کی آیات سے کس طرح نئے معنی دریافت کرتے ہیں۔

مثال 1: سورہ نمل-‘جن’ و’طیر’ کی پرویزی لغوی تحقیق :۔
مفہوم القرآن میں ایک جگہ جناب غلام احمد پرویز نے سورہ نمل کے ان مقامات کی تشریح کی ہے جن میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کے واقعات زیر بحث ہیں۔
قرآن اس کو اس طرح بیان کرتا ہے:
وحشر لسلیمٰن جنودہ من الجن والانس والطیر فھم یوزعون O (النمل: ۱۷)
یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے سارا لشکر اکٹھا کیا گیا جس میں جن بھی تھے، انسان بھی تھے اور پرندے بھی تھے۔
اب اس آیت میں استعمال ہونے والا لفظ ’’جن‘‘ عربی زبان کا معروف لفظ ہے۔ یہ اردو زبان کا بھی معروف لفظ ہے۔ اسی طرح لفظ ’’انس‘‘ عربی کا معروف لفظ ہے جو اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ انس و جان کے علاوہ ’’طیر‘‘ بھی اردو میں استعمال ہوتا ہے اور عربی میں بھی۔ پرویز صاحب کے لیے یہ تسلیم کرنا تو آسان تھا کہ ’’انس‘‘ کا مطلب آدمی ہے اس لیے کہ اس دنیا میں آدمی تو بہرحال پائے جاتے ہیں لیکن یہ بات کہ جن اور پرندے بھی حضرت سلیمان علیہ والسلام کے لشکر میں شامل تھے، ان کے لیے ماننا آسان نہیں تھا۔ اس مسئلے کا حل انھوں نے یہ دریافت کیا کہ ’’جن‘‘ اور ’’طیر‘‘ دونوں کو اس طرح تختہ مشق بنایا جیسے ہم نے گزشتہ تحریر میں شوربے کی مثال پیش کی ہے۔
جن کے معنی:
’’جن‘‘ عربی کا معروف لفظ ہے۔ اگر کوئی آدمی اس پر تحقیق کرے تو یہ کہے گا کہ جنوں کو جن اس لیے کہتے ہیں کہ عربی میں جن، جنا، جنون کے معنی ہیں چھپا ہوا۔ یہ چونکہ نظر نہیں آتے اس وجہ سے ان کو جن کہا جاتا ہے ایک دوسرا محقق داد تحقیق دیتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ جنہ کے معنی ہوتے ہیں ’’چھپا ہوا‘‘ لہٰذا چھپی ہوئی مخلوق سے مراد صحرا کے باشندے بھی ہوسکتے ہیں۔ (لغات القرآن جلد اول ص ۴۴۷)
پرویز صاحب چونکہ ’’جن‘‘ کو ’’انس‘‘ کی طرح الگ سے کوئی مخلوق ماننے پر آمادہ نہیں، اس لیے انھوں نے لغت کو سامنے رکھتے ہوئے جنوں کو صحرا کے باشندے بنایا۔ اسی اصول کا اطلاق انھوں نے ’’طیر‘‘ پر بھی کیا، لیکن وہاں معاملہ کچھ الجھ گیا۔
طیر عربی لغت میں گھوڑوں کے لیے نہیں:
’’طیر‘‘ عربی زبان میں اتنا معروف اور عام استعمال ہونے والا لفظ ہے کہ کوئی دوسرا لفظ تلاش کرنا شاید مشکل ہوجائے۔ چونکہ وہ یہ مان کر دینے کے لیے تیار نہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر میں پرندے بھی ہوسکتے ہیں، اس لیے انھوں نے اس معروف معنی سے انحراف کی جو کوشش کی وہ علم کی دنیا میں ایک عجوبہ ہے۔ لفظ ’’طیر‘‘ کی تحقیق کے ضمن میں اس کے مختلف مفاہیم بیان کرتے ہوئے وہ ’’لغات القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:
فرس، مطار، طیّار ہوشیار اور تیر رفتار گھوڑے کو کہتے ہیں۔ سورہ نمل میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر جن، انس، طیر پر مشتمل تھے۔ ’’جن‘‘ سے مراد وحشی قبائل ہیں ’’انس‘‘ مہذب آبادیاں اور طیر تیز رفتارگھوڑے۔ (لغات القرآن ج ۳ ص ۱۱۰۵)
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ مفہوم کہاں سے برآمد ہوا۔ عربی زبان کی تمام لغتوں میں اگر اس کے تمام استعمال کو دیکھا جائے تو ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کی جاسکتی کہ طیر گھوڑے کے لیے استعمال ہوتا ہو۔ ہم یہ جملہ کہہ سکتے ہیں ’’یہ گھوڑا کیا ہے؟ یہ تو اڑتا ہوا پرندہ ہے‘‘ یہاں جملہ خود بتا رہا ہے کہ گھوڑے کے لیے مجازا پرندے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ زبان و بیان کا ایک عام اسلوب ہے، لیکن اگر قرینہ موجود ہی نہیں ہے تو پھر ’’طیر‘‘ کے معنی پرندے ہی کے ہوں گے۔ پرویز صاحب نے مثال دی ’’فرس‘‘، ’’طیار‘‘ یعنی تیز رفتار گھوڑا۔ اس مقام پر یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ جب فرس کا لفظ بولا جائے گا اور ساتھ طیار بولا جائے گا تو یہ معنی اس میں پیدا ہوجائیں گے لیکن یہ معنی مجازاً پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم مجازی مفہوم میں جہاز کو طیارہ کہہ دیتے ہیں۔ لیکن جب لفظ ’’طیر‘‘ ان سارے قرینوں سے بالاتر ہو کر آئے گا یعنی اس کے ساتھ فرس نہیں لکھا گیا تو اس کے معنی گھوڑے کے کیسے ہو جائیں گے؟ وہ تو پرندہ ہی رہے گا۔
معلوم ہوتا ہے کہ پرویز صاحب کو بعد میں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ دوراز کار تاویل ہے تو انھوں نے ’’مفہوم القرآن‘‘ میں اس کو مختلف انداز سے بیان کیا۔ یہاں انھوں نے لکھا:
سلیمان علیہ السلام کے لشکروں میں شہروں کے مہذب باشندے، جنگوں اور پہاڑوں کے دیوہیکل وحشی اور قبیلہ طیر کے شاہ سوار سب شامل تھے۔ (مفہوم القرآن ج ۲، ص ۸۶۴)
گویا ’’لغات القرآن‘‘ سے ’’مفہوم القرآن‘‘ تک آتے آتے تیز رفتار گھوڑے قبیلہ طیر کے شاہسواروں میں تبدیل ہوگئے۔ اگر پہلا مفہوم لیا جائے تو غرابت محسوس ہوتی ہے اس لیے یہاں انھوں نے یہ ترجمہ کر دیا۔ اب اس تاویل پر بھی ایک نظر ڈالیے۔
کیا قواعد عربی کے تحت الطیر قبیلہ ہوسکتا ہے؟
یہ ’’قبیلہ الطیر‘‘ کیا چیز ہے؟ کسی قبیلے کا نام قرآن کو لینا ہو تو کیا اس کا یہی طریقہ ہے؟ یعنی ’’الطیر‘‘ کہہ دیا جائے کہ ساری دنیا اس مصیبت میں پڑی رہے کہ ’’پرندے‘‘ ہیں اور اس سے اصلاً مراد ہو قبیلہ۔ اگر کسی قبیلے کا نام ’’الطیر‘‘ ہو تو اس کے لیے بھی زبان اور بیان کا ایک قرینہ ہوگا شواہد ہوں گے، زبان اور بیان کے قواعد میں وہ چیز موجود ہوگی کہ اس کو جان لیا جائے۔ قرآن مجید میں صحرا کے باشندوں، جنگل میں رہنے والوں کے لیے معروف لفظ’’اعراب‘‘ استعمال ہوا ہے۔ فرض کریں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ساتھ لشکر میں یہ لوگ تھے تو قرآن نے جہاں صحرا کے باشندوں کا ذکر کیا ہے تو کہا ہے ’’وقالت الاعراب امنا‘‘ اعراب ایک معروف لفظ ہے۔ اب ایک معروف لفظ کو چھوڑ کر قرآن نے ایک نیا لفظ استعمال کیا جن، جس سے نہ عربی زبان واقف تھی نہ عرب واقف تھے۔ گویا کسی طرح بھی یہ تاویل اختیار کرنا ممکن نہیں ہے۔
آگے ذکر ہوا کہ علمنا منطق الطیر یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے اوپر اللہ کا یہ احسان بیان کیا ہے کہ ہم کو پرندوں کی زبان سکھائی گئی۔ منطق معروف لفظ ہے۔ طیر بھی معروف لفظ ہے۔ پرویز صاحب کے لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ سلیمان علیہ السلام کو پرندوں کی زبان سکھائی گئی ان کے نزدیک طیر سے مراد ہے گھوڑوں کا لشکر اور علمنا منطق الطیر سے مراد ہے گھوڑوں کے لشکر کو سدھانے اور استعمال میں لانے کے قواعد اور ضوابط اللہ تعالیٰ نے ہم کو سکھائے (مفہوم القرآن ج ۲، ص۸۶۳) سوال یہ ہے کہ عربی زبان کا کوئی جاننے والا لفظ منطق کو اس معنی میں بولے گا، طیر کو اس معنی میں بولے گا۔ اس کا کوئی امکان نہ اردو میں ہے نہ عربی میں۔

اس کے بعد پرویز صاحب فرماتے ہیں ’’جب یہ سب لشکر تیار ہوگئے آیت : حتی اذا اتوا علی و ادا النمل ۔ ترجمہ یہاں تک کہ وہ وادی نمل میں آئے۔
نمل عربی زبان کا معروف لفظ ہے جو چونیٹوں کے لیے بولتے ہیں۔ یعنی مطلب ہوگا کہ چیونٹیوں کی وادی میں آئے۔ یہ قرآن مجید کا مشہور مقام ہے لوگ اسے جانتے بھی ہیں لیکن پرویز صاحب کے لیے یہ بڑا مشکل مقام ہے جو آگے بات بیان ہوئی ہے وہ یہ کہ وہاں چیونٹی نے گفتگو کی اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے سن لی۔ ان کے لیے یہ ماننا بہت مشکل کام ہے۔ وہ اپنے ذوق کے تحت اس کو نہیں ماننا چاہتے۔ اس لیے انھوں نے جو راستہ اختیار کیا، وہ بہت دلچسپ ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت سلیمان علیہ والسلام کو معلوم ہوا کہ سبا کی مملکت ان کے خلاف سرکشی کا ارادہ رکھتی ہے۔ چنانچہ وہ بطور حفظ ماتقدم اس کی طرف لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ راستے میں وادی نمل پڑتی تھی۔ ملکہ سبا کی طرح اس مملکت کی سربراہ بھی ایک عورت تھی۔ جب اس نے اس لشکر کی آمد کی خبر سنی تو اپنی رعایا کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں جا کر پناہ گزیں ہوجائیں۔ (مفہوم القرآن ج۲، ص ۸۶۴)
یہاں ان کے نزدیک نملہ ایک عورت کا نام ہے جو وادی نمل کی تھی۔ اب دیکھیے یہ تسلیم کرنے سے کیا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے کہا ‘قالت نملۃ’ نمل اسم جنس ہے۔ نملہ چیونٹی کو کہتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر یہ عورت اس قبیلے کی سربراہ تھی تو عربی کے کس قاعدے کی رو سے یہ نکرہ استعمال ہوسکتا ہے۔ اسے ایک نملہ (A Namla) تو نہیں کہہ سکتے “The Namla” ہی کہیں گے۔ لیکن قرآن میں تو یہاں قالت نملۃ ہے یعنی نکرہ استعمال ہوا ہے۔ دوسری بات یہ ہوسکتی ہے کہ نملہ اس کا نام تھا یہ بات تو نمل سے معلوم ہوتی ہے جو صحیح نہیں کیونکہ یہ عربی زبان کے معروف استعمال کے خلاف ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی عورت قبیلہ اوس کی ہو تو اس کو عربی میں کیا کہیں گے؟ اوسہ یا اوسیہ اگر کوئی قبیلہ بنی عبدالشمس کی ہو تو کیا کہیں گے؟ عبدالشمسیہ کہیں گے کہ عبدالشمسہ؟ یعنی اگر فرض کیجیے کہ قرآن مجید کو یہاں کہنا ہوتا کہ ’’قبیلہ نمل کی عورت‘‘ تو قرآن کہتا قالت نملیۃ جب آپ پاکستانی بولیں گے تو نسبت کے لیے ’’ی‘‘ لگائیں گے، اس کے بعد لفظ میں یہ مفہوم پیدا ہوگا۔
پرویز صاحب نے ان سب چیزوں کو نظر انداز کر دیا ہے جو زبان کے مسلمہ اصول ہیں۔ ان سب کو نظر انداز کر کے فرمایا ’’ان کی سربراہ بھی ایک عورت تھی‘‘ اور اس کا نام اس لیے نملہ آیا کہ وہ قبیلہ نمل سے تعلق رکھتی تھی۔ یعنی یہاں اگر فرض کرلیجیے کہ اس کو قبیلہ نمل کی عورت کے معنی میں لینا چاہیں تو عربی زبان کی رو سے یہ ضروری ہوگاکہ قالت نملیۃ کہا جائے گویا علاقے سے نسبت کریں یا قبیلے سے بہرحال اسی طرح بولیں گے۔

مثال 2:ملکہ سباء کا تخت پایہ تخت بن گیا:۔
اس کے بعد دیکھیے کہ جہاں پر ملکہ سبا کا تخت لانے کا ذکر ہے حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا ‘قال یایھا الملوا ایکم یاتنی بعر شھا ‘یعنی مجھے کون اس کا تخت لا کر دے گا سادہ ترجمہ ہے۔ اس کے سوا لفظوں کا مفہوم وہ بھی کوئی اور نہیں کرسکے۔ پرویز صاحب کہتے ہیں کہ اصل میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ کہا تھا کہ مجھے اس کے پایہ تخت کو کون فتح کر کے دے گا؟ اگر یہ جملے کا سیاق و سباق، زبان کے قواعد اور استعمالات کو پیش نظر رکھا جائے تو یہاں بھی اس مفہوم کو اختیار کرنا ممکن نہیں۔
پرویز صاحب منطق عقل لغت سے قرآن کی تفسیر کرتے ہیں وہ بھی غلط:
اب اگر بعد کے واقعات کو بھی دیکھا جائے جن میں ملکہ بلقیس کے تخت کو لانے، اس کے مفتوح ہونے اور ایک کتاب کا علم رکھنے والے صاحب کا ذکر ہے جنھوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا، وہ پلک جھپکنے تک ملکہ کے تخت کو ان کے حضور میں پیش کر دیں گے، تو عجیب و غریب صورت حال پیش آتی ہے۔ چونکہ پرویز صاحب اس طرح کی کسی بات کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہیں اس لیے وہ ان مقامات پر بھی عربی زبان اور قرآن مجید کے الفاظ کو تختہِ مشق بناتے ہیں اور وہ مفہوم برآمد کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو متکلم کے پیش نظر نہیں تھا۔
قرآن مجید کے ایک سچے طالب علم کا رویہ تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ قرآن مجید کو خالی الذہن ہو کر پڑھے اور اس پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جو کچھ وہ کہتا ہے، اسے قبول کرتا جائے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن نے غور و فکر کی دعوت دی ہے لیکن یہ غور و فکر کسی قاعدے اور ضابطے کا پابند ہونا چاہیے۔ اگر ہم قرآن کے الفاظ اس کے اسالیب اور ہر چیز کو نظر انداز کر کے، اس سے وہ خیالات برآمد کرنا چاہیں جو ہمیں پسند ہیں تو منطق اور عقل کے ہر پیمانے سے یہ تحریف کہلائے گی۔
سورہ نمل کے ساتھ جو سلوک پرویز صاحب نے کیا وہ دراصل ان کی قرآن فہمی کی ایک مثال ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ قرآن کو کیا سمجھتے ہیں اور انھیں کتاب اللہ کا کتنا احترام ہے اور اپنے خیالات کے سامنے قرآن کو کس مقام پر رکھتے ہیں؟ اگرچہ یہی مثال پرویز صاحب کے فہم قرآن کے اصول سمجھنے کے لیے کافی ہے لیکن اپنے نقطۂ نظر کی مزید وضاحت کے لیے ہم قرآن کا ایک اور مقام دیکھتے ہیں۔

 مثال 3: سورۃ تکویرکا ترجمہ:۔
سورہ تکویر قرآن مجید کی معروف سورہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ انسان کو خبر کے انداز میں اس طرح مخاطب کرتے ہیں:
اذا الشمس کورت o و اذا النجوم انکدرت o واذا الجبال سیرت o و اذا العشار عطلت o واذا الوحوش حشرت o واذا البحار سبحرتo واذا النفوس زوجت o و اذا المودۃ سئلت o بای ذنب قتلتo واذا الصحف نشرت o واذا السماء کشطت o واذا الجحیم سیرتo واذا الجنۃ ازلفت o علمت نفس مءآ احضرتo
ترجمہ:جب کہ سورج کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور تارے بے نور ہوجائیں گے پہاڑ چلا دیئے جائیں گے اور دس ماہہ گا بھن اونٹنیاں آوارہ پھریں گی۔ وحشی جانور اکھٹے ہوجائیں گے اور سمندر ابل پڑیں گے جب کہ نفوس کی جوڑیں ملائی جائیں گی اور زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی! جب کہ اعمال نامے کھولے جائیں گے اورآسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔ جب کہ دوزخ بھڑکا دی جائے گی اور جنت قریب لائی جائے گی۔ تب ہر جان کو پتہ چلے گا کہ وہ کیا لے کر آئی ہے۔
اس سورہ میں قیامت کے اس زلزلے کا ذکر ہے جس میں پہاڑ اپنی جگہ سے چل پڑیں گے۔ ستارے اپنے مقام سے گر پڑیں گے۔ سورج پر تیرگی چھا جائے گی۔ اس میں وہ آیت بھی آتی ہے جو قرآن مجید کے اسلوب کا شاہکار ہے کہ زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ تجھے کس گناہ میں قتل کیا گیا۔ کیونکہ عرب لڑکیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے۔ اس کے لیے ’’مودۃ‘‘ کا لفظ کلام عرب میں اتنا عام لفظ ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔

اب ذرا دیکھیے کہ پرویز صاحب ان آیات کا مفہوم کس طرح بیان کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
“کسی آنے والے دور میں جب انسانوں کے خود ساختہ نظامِ تمدن و معاشرت کی جگہ قرآنی نظام لے لے گا تو اس وقت کی انقلابی کیفیات سے متعلق یوں سمجھو کہ ملوکیت کا نظام لپیٹ دیا جائے گا اور ان کے اہالی موالی (چھوٹی چھوٹی ریاستیں) سب جھڑ کر نیچے گر جائیں گی۔ ان کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ ان کی قوت ماند پڑ جائے گی اور پہاڑوں جیسے محکم امرا و رؤسا اپنی اپنی جگہ سے ہل جائیں گے اور جن ذرائع رسل و رسائل (مثلاً اونٹوں) کو اس وقت اتنی اہمیت دی جا رہی ہے، وہ سب بے کار ہوجائیں گے اور وحشی اور نامانوس قومیں بھی اجتماعی زندگی کی طرف آتی جائیں گی اور سمندروں میں آمد و رفت کا سلسلہ اتنا وسیع ہوجائے گا کہ ہر وقت بھرے بھرے دکھائی دیں گے اور ان کے کناروں کی بستیاں بھی بڑی آباد ہوجائیں گی اور اطراف و اکناف کی آبادیاں ایک دوسرے کے ساتھ ملتی جائیں گی۔ جب ان لڑکیوں کے متعلق جنھیں معاشرہ زندہ درگور کر دیتا ہے اور ان بے چاریوں کا پرسانِ حال کوئی نہیں ہوتا، پوچھا جائے گا کہ انھیں بالآخر کس جرم کی پاداش میں ذبح کیا جاتا رہا (یعنی عورتوں کو ان کے حقوق دلائے جائیں گے) اور اخبارات و رسائل جگہ جگہ پھیل جائیں گے اور اجرامِ فلکی پر پڑے ہوئے پردے ایک ایک کر کے اٹھے چلے جائیں گے (ان کے حالات دریافت کیے جائیں گے۔) تو اس وقت خدا کے قانونِ مکافات کا عمل تیز تر ہو جائے گا۔ کیونکہ اس وقت آخر الامر وہ نظام متشکل ہوجائے گا جس میں ہر معاملہ انصاف اور قانون کے مطابق طے پائے گا لہٰذا اس کی رو سے) مجرمین کے لیے جہنم کے شعلے زیادہ تیزی سے بھڑک اٹھیں گے اور اس نظام کی پابندی کرنے والوں کے لیے جنتی معاشرہ قریب تر لایا جائے گا یعنی اس وقت ہر شخص اپنے اپنے عمل کے نتائج اپنے سامنے بے نقاب دیکھے گا”۔ (مفہوم القرآن ج۳، ص ۱۴۱۸، ۱۴۱۹)
جدیدیت سے مرعوبیت کا عالم دیکھیے کہ ایام عرب میں زندہ درگور لڑکی کے ذریعے تحریک آزادی نسواں کا ذکر آگیا۔ سمندری تجارت کے ضمن میں مغربی اقوام کی قزاقی کی سند آگئی۔ ذرائع ابلاغ کے مغربی انقلاب کے نتائج عہد رسالت میں نازل ہونے والی آیتوں میں داخل کر دیے گئے۔ ] اس مفہوم میں زبان کے عرف، سیاق، الفاظ کے واضح مدلولات، تشبیہہ و تمثیل کے طریقوں کو جن میں دوسری رائے ممکن نہیں تلپٹ کر کے عہد جدید میں پہنچا دیا گیا ہے۔
یہ وہ بنیادی اور اصولی چیز ہے جس کی وجہ سے ہم پرویز صاحب کے سارے نقطہ نظر ہی کو گمراہی سمجھتے ہیں۔ قرآن فہمی کے باب میں یہ اتنی بنیادی اور بڑی غلطی ہے کہ اس کے بعد کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہتی۔ اس لیے پرویز صاحب کی فکر کا معاملہ یہ نہیں ہے کہ وہ دین کو سمجھنے کا ایک زاویہ ہے، جیسے اس سے قبل امت میں مختلف نقطۂ ہائے نظر رہے ہیں۔ پرویز صاحب کی تعبیر نہ تو علمی ہے اور نہ ہی امت کے اجتماعی تعامل کے مطابق ہے، اس لیے اسے اس روایت سے الگ کر کے دیکھنا پڑے گا، جسے ہم امت کی علمی روایت کہتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں پرویز صاحب کا طرز علمی روایت کے بجائے جہالت کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ اسی کا نام جدیدیت ماڈرن ازم ہے جو صرف عقلیت کو حجت سمجھتی ہے۔ عقل کو اساسِ دین، ماخذ دین اور منبع دین قرار دیتی ہے اور قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتی ہے۔
استفادہ تحریر ‘پرویز صاحب کے اصول فہم قرآن ، ماہنامہ ساحل، کراچی

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *