رسولؐ اور اسوہ رسولؐ کی ضرورت

۔

غور کرنے کی بات ہے کہ  آخر كيا وجہ ہے كہ اللہ تعالىٰ نے ہميشہ اپنى كتاب كے ساتھ رسول بهيجا ہے اور كبهى ايسا نہيں ہوا كہ تنہا كتاب بغير كسى رسول كے آئى ہو،حالانكہ اس كے برعكس يہ نہ صرف يہ كہ ممكن ہى ہے بلكہ عملى واقعہ بهى ہے كہ كوئى رسول، اپنى پیغمبرانہ زندگى ميں ، رسول ہونے كے باوجود، ايك مدت تك محرومِ كتاب ہى رہا ہو اور منصب ِنبوت پالينے كے ايك مدت بعد اسے كتاب ملى ہو- كيوں اس نے يہ ضرورى جانا كہ كتاب كے ساتھ ايك رسول بهى بهيجا جائے؟ اور پهر رسول جب بهى بهيجا گيا تو كوئى فرشتہ نہيں ، بلكہ انسانوں ہى ميں سے بهيجا گيا- آخر يہ كيوں ؟ __

 اس  کی وجہ یہ ہے  كہ تنہا كتاب خواہ وہ كتنى ہى عظيم الشان ہوتى، بہرحال وہ الفاظ ہى پر مشتمل ہوتى جبكہ عملاً جو كچھ مطلوب ہوتا ہے، وہ الفاظِ كتاب نہيں بلكہ معانى كتاب ہوتے ہيں ، جن كے تعين ميں لامحالہ (اگر كتاب كے ساتھ رسول نہ ہو تو) لوگوں ميں سے ہر فرد دوسرے سے مختلف ہوگا اور يہ اختلافِ معانى ٴكتاب لوگوں كو نہ تو بنيانِ مرصوص ہى بنا سكے گا نہ ہى انہيں اقامت ِكتاب (يا غلبہ دين) كى منزل تك پہنچا سكے گا- مگر رسول كى موجودگى ميں كتاب كا وہى مفہوم ‘سركارى فرمان’ قرار پائے گا جو خود رسول كا پيش كردہ ہو،كيونكہ وہ نہ صرف يہ كہ خدا كا مامور من اللہ نمائندہ ہے بلكہ اس كتاب كا شارح مجاز بهى ہے- ليكن كتاب كى ايسى توضيح و تشريح جو صرف بيان و كلام كى حد تك ہو، وہ تو خير ايك فرشتہ بهى كرسكتا ہے ليكن جو تشريح و وضاحت عملى مظاہرہ (Practical Demonstration) كى محتاج ہو وہ كوئى فرشتہ اس لئے انجام نہيں دے سكتا كہ اس كى دنيا انسانى دنيا سے یكسر مختلف ہے اور انسان سے قطعى الگ اور جداگانہ مخلوق ہونے كى بنا پر وہ انسان كے لئے نمونہٴ پيروى نہيں بن سكتا- انسانوں كى دنيا ميں تو كوئى انسان ہى اُن كے لئے اُسوہٴ حسنہ بن سكتا ہے- اس لئے اللہ تعالىٰ نے انسانوں كى راہنمائى كے لئے كتاب كے ساتھ كسى فرشتہ كى بجائے انسان ہى كو رسول اور راہنما بنا كر بهيجا ہے-

اس سلسلے میں دوسرا سوال   یہ ہے  کہ  ‘اُسوئہ حسنہ’كا محل و مہبط  کیا  ہوگا؟ کتاب یا رسول؟  ہم دیکھتے ہیں کہ قرآنِ كريم نے صرف دو ہى رسولوں كو اہل ايمان كے لئے بالصراحت اُسوہ حسنہ قرار ديا ہے: ايك حضرت محمد ﷺ اور دوسرے حضرت ابراہیم عليہ السلام ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام كو جو كتاب (جسے قرآن نے ‘صحف ِابراہیم’ كہا ہے) دى گئى تهى، وہ آج مسلمان تو كيا كسى بهى قوم كے پاس نہيں ہے- سو اگراُسوہ كا مقصد (يا منكرين حديث كى زبان ميں اطاعت رسول كا مقصد) كتاب ہى كى پيروى ہوتا تو پهر آج اُسوہٴ ابراہیمى كہاں سے ليا جاتا؟!!خود قرآن مجید نے بهى صحف ِابراہیم كے الفاظ و متن كو اپنے دامن ميں محفوظ نہيں ركها، بلكہ اس كى بجائے حضرت ابراہیم عليہ السلام كے اعمالِ حيات كا تفصيلاً ذكركيا ہے اور انہى اعمال كى بنياد پر وہ آج بهى اُمت ِمسلمہ كے امام اور ملت ِابراہیمى كے بلند پايہ قائد قرار ديئے گئے ہيں – اس سے يہ ظاہر ہے كہ كسى كتاب كے نقوش و الفاظ اُسوہ نہيں بن سكتے- بلكہ اسکے حامل رسول كے اعمالِ حيات ، نقوشِ قدم ہى اُسوہ بن سكتے ہيں ۔

 یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محض نظریاتی تعلیم کسی قوم کی اصلاح کے لئے کافی نہیں ہوا کرتی۔ اصلاح کا فطری طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے ایک عملی مثال قائم کی جائے جس کی وہ اتباع کر سکیں۔ اسی طرح محض نظریاتی تعلیم کسی شخص  کو کسی علم جن کا ماہر نہیں بنا سکتی تاوقتیکہ اس کے ساتھ ساتھ اس علم یا فن کے کچھ اچھے ماہر کے زیر تربیت نہ رہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص میڈیکل سائنس کی تعلیم حاصل کر رہا ہو لیکن وہ کسی تجربہ کار ڈاکٹر کی نگرانی  میں کام نہیں کرتا تو کتابوں کے بھرپور مطالعے کے باوجود وہ ڈاکٹری کی خدمات انجام نہیں دے سکتا اور نہ ایسے شخص کو مریضوں کی جانوں سے کھیلنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔اگر کوئی صاحب قانون کے طالب علم ہوں تو جب تک وہ کسی ماہر اور سینئر قانون دان سے اس کام کی عملی تربیت حاصل نہیں کر لیتے اور وہ ایک معتدبہ  وقت اس کی ماتحتی میں نہیں گزار لیتے وہ ایک قانون دان ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکے۔
علوم اور فنون کی بات تو الگ رہی ایک عام شخص جسے اچھا کھانا پکانے کا شوق چرائے تو وہ محض اس موضوع پر کتابوں کو پڑھ کر اچھا کھانا نہیں بنا سکتا حالانکہ کھانا پکانے کے اجزائے ترکیبی، اس کا طریقہ اور معمولی سے معمولی بات بھی کتاب میں وضاحت سے بیان کی گئی ہوتی ہے۔ لیکن وہ شخص جس نے کبھی کھانا بنایا ہی نہیں عمدہ اور لذیذ کھانا محض کتاب پڑھ کر نہیں بنا سکتا جب تک وہ کسی ماہر سے تربیت حاصل نہ کرے۔ وہ ماہر اس کو وہ کام عملی طور پر کر کے دکھاتا ہے اور یہ شخص اس کو دھراتے دھراتے آہستہ آہستہ اچھا کھانا بنانا سیکھ لیتا ہے۔اس سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ انسانی فطرت کسی اہم بات کو سیکھنے کے لئے ہمیشہ ایک عملی مثال کی ضرورت مند ہوتی ہے اور دوسرے موضوعات کی طرح مذہبی تعلیم و تربیت کے لئے بھی یہ بات اتنی ہی صحیح ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے آسمانی کتابیں نازل کرنے پر اکتفا پسند نہیں فرمایا بلکہ ہمیشہ آسمانی کتاب کے ساتھ کوئی پیغمبر ضرور بھیجا گیا۔ کفار مکہ نے بھی کئی بات یہ مطالبہ کیا کہ کتاب کو نبی کریم صللی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے واسطے کے بغیر ان پر براہ راست نازل کر دیا جائے لیکن یہ مطالبہ مسترد کر دیا گیا اور کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے ہی بھیجی گئی۔اس کا سبب بالکل واضح ہے۔ انسانیت کو صرف ایک آسمانی کتاب کی ضرورت نہ تھی بلکہ اسے ایک معلم کی بھی ضرورت تھی جو کتاب کے مندرجات  کی تعلیم بھی دے سکے۔ اسے ایک مربی کی بھی حاجت تھی جو انسانوں کو تربیت دے سکے اور جو ان کے لئے ایک ایسا عملی اسوۂ حسنہ قائم کر سکے۔ جس کے بغیر وہ اپنی عملی زندگی میں کتاب سے فائدہ حاصل نہیں کر سکتے تھے۔
حضوراکرمﷺ اسی لیے نبی بناکر امت کے درمیان بھیجے گئے تاکہ آپﷺ عملی زندگی کی ایک مثال قائم کریں اور اپنے شب وروز کی زندگی خواہ وہ خلوت ہویاجلوت، داخلی امورہوں یاخارجی، شخصی مسائل ہوں یاملی حالات ، اب سب امور میں اپنا ایک اسوۂ حسنہ رہتی دنیا تک کے لیے چھوڑیں؛ تاکہ ساری انسانیت کے لیے آپﷺ کا طرزِزندگی حجت بنارہے؛ اسی حقیقت کو قرآن نے ایک جگہ یوں بیان فرمایا:

“لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ”۔(الأحزاب:۲۱) ترجمہ :تمہارے لیے اللہ کے رسول (کی زندگی) میں بہترین عملی نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب ہر کار خیر میں نمونہ ٹھہرے تو اب مومن کا ہر کام رسول مقبولﷺ   کی تابعداری سے مشروط ہوگیا، نماز و زکوٰۃ کی ہر ادا عمل رسول اورحکم رسول کے تحت آگئی، نماز کا طریقہ اورزکوۃ کا نصاب کسےمعلوم تھا؟ ان احکام پر عمل کی راہیں کس مسلمانوں کو معلوم تھیں؟ ظاہرہے کسی کو معلوم نہ تھیں، یہ عمل رسول اورحکم رسول ہی تھا جسے نماز اورزکوٰۃ کو لائق عمل بنایا، اطاعت رسول کے بغیر یہ دونوں حکم ناقابل عمل تھے،اس لیے نماز اورزکوٰۃ کے ساتھ اطاعت رسول کی ہدایت کی گئی۔”وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ”۔ (النور:۵۶)ترجمہ :اور نماز قائم کرو اورزکوٰۃ ادا کرو اور رسول کی فرمانبرداری کر؛ تاکہ تم پر مہربانی ہو۔

یہاں اطیعواللہ کا ذکر نہیں، اللہ کے دو حکم نماز اورزکوٰۃ کے مذکور تھے، ان پر عمل کی راہ بجز اطاعت رسول کے کوئی نہ تھی،اس لیے اس آیت میں صرف اطیعوالرسول کہا؛ تاکہ نماز اورزکوٰۃ کی راہ تمھیں معلوم ہوجائے معلوم ہوا جس طرح نماز وزکوٰۃ خدا کے حکم ہیں، اطاعت رسول بھی اسی طرح بالاستقلال ایک حکم ہے۔

اسوہ رسول اور صحابہ کرامؓ:

آیت “لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ” اپنے عموم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر عمل کو شامل ہے اورآپﷺ  اپنے تمام اقوال و اعمال میں ہمارے لیے عمدہ نمونہ ہیں،اس پر صحابہ کرامؓ اوراکابر تابعین کی نہایت عمدہ شہادتیں ہمارے پاس موجود ہیں۔

حضرت قتادہؓ (۱۱۸ھ) کہتے ہیں حضرت عمررضی اللہ عنہ نے،یمنی چادر کے استعمال سے منع کرنا چاہا،ایک شخص نے کہا: کیا اللہ تعالی نے نہیں فرمایا “لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَة” فرمایا: کیوں نہیں؟ (آپ اس کپڑے کو کسی اورمصلحت سے منع کرنا چاہتے تھے یہ نہیں کہ اسے ناجائز سمجھتے تھے) اس پر آپ نے اس ارادے کو ترک فرمادیا۔(المصنف لعبدالرزاق:۱/۳۸۲،حدیث نمبر:۱۴۹۳)

یعلی بن امیہ حنظلی صحابی کہتے ہیں : میں عمرؓ کے ساتھ طواف کررہا تھا،آپ نے حجر اسود کو بوسہ دیا، میں بیت اللہ کی جانب تھا اورحضرت عمرؓ میرے ساتھ ساتھ تھے جب ہم رکن غربی کے پاس پہنچے تومیں نے آپ کا ہاتھ کھینچا کہ آپ رکن غربی کا استلام کریں، آپ نے پوچھا تجھے کیا ہوا، میں نے کہا: کیا آپ استلام نہیں کریں گے؟ آپ ؓ نے فرمایا: کیا تم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طواف نہیں کیا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا کہ تونے آپ کو ان غربی رکنوں کا استلام کرتے دیکھا؟ میں نے کہا نہیں آپ ؓنے فرمایا:”اليس لك في رسول اللهﷺ  حسنة ؟ قلت : بلى،  قال : فابعد عنك”۔ ترجمہ: کیا تمہارے لیے حضورﷺ   کی ذات گرامی میں اسوۂ حسنہ نہیں؟ میں نے کہا کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: پھر اس سے دوررہو۔(مصنف عبدالرزاق:۸/۴۶۰۔ مسنداحمد، حدیث یعلی بن امیۃ، حدیث نمبر:۱۷۹۸۰، صفحہ نمبر:۴/۲۲۲، شاملہ)

۳۔ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے زیادہ قرآن سمجھنے والا کون ہوگا، آپ سے زیادہ قرآن کریم کے سیاق و سباق پر کس کی نظر تھی،آپ نے جب یہ مسئلہ بیان فرمایا کہ اگر کوئی شخص قسم کے ساتھ اپنے اوپر وہ چیز حرام کرے جو اللہ نے اس کے لیے حرام نہیں فرمائی تو اسے قسم کا کفارہ ادا کرنا ہوگا، یہ کفارۂ یمین ہے، وہ چیز اس پرحرام نہ ہوسکے گی، اس پر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: “لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ”۔ (بخاری:۲/۷۲۹)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سفر میں تھے، آپ نے بعض لوگوں کو سفر میں سنتیں پڑھتے دیکھا،آپ نے پوچھا یہ کیا پڑھ رہے ہیں؟ عرض کیا گیا سنتیں پڑھ رہے ہیں،آپ نے کہا: اگر تم کوسنتیں پڑھنی ہوتیں تو فرض نماز میں قصر کا حکم کیوں ہوتا؟۔ فرمایاترجمہ: میں نے حضورﷺ   کے ساتھ سفر حج کیا ہے، آپ دن کو سنتیں نہ پڑہتے تھے، میں نے حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ بھی حج کیا ہے، آپ بھی دن کو سنتیں نہ پڑہتے، میں نے حضرت عمرؓ کے ساتھ حج کیا، وہ بھی دن کو سنتیں نہ پڑہتے تھے، میں نے حضرت عثمانؓ کے ساتھ بھی حج کیا، وہ بھی دن کو سنتیں نہ پڑہتے تھے،پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: “لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ”۔(مصنف عبدالرزاق:۵۵۷/۲)

عمرو بن دینار کہتے ہیں ہم نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی شخص نے عمرہ میں بیت اللہ شریف کا طواف توکرلیا ؛لیکن صفا مروہ کی سعی نہ کی، کیا وہ حلال ہوسکتا ہے؟آپ نے فرمایانہیں حضورﷺ   نے طواف کے بعد دورکعت پڑھیں اورساتھ ہی صفا ومروہ کی سعی کی؛ پھرآیت باری: “لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ” کی تلاوت فرمائی۔(بخاری،باب قول اللہ تعالی واتخذوا من مقام،حدیث نمبر:۳۸۱)

ایک شخص نے حجراسود کے بوسہ کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے پوچھا، آپ نے فرمایا: میں نے آنحضرتﷺ   کو استلام کرتے اور بوسہ دیتے دیکھا ہے،اس نے پوچھا اگر ہجوم زیادہ ہو بھیڑ ہو اوراستلام مشکل ہوتو؟ آپ نے فرمایا:ترجمہ: اگر کو تو یمن میں پھینک، میں نے تو حضور اکرمﷺ   کوحجر اسود کا استلام کرتے اوربوسہ دیتے دیکھا ہے۔ (بخاری،باب تقبیل الحضر،حدیث نمبر:۱۵۰۷)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے پوچھا گیا، ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ ہمیشہ روزہ رکھے گا، اتفاق سے اس کےبعد فورا عید آگئی کیا وہ عید کے دنوں میں روزہ رکھے،آپ نے فرمایا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عید کا روزہ نہ رکھتے تھے، نہ اسے پسند فرماتے تھے،حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اس موقعہ پر پھر یہ آیت تلاوت فرمائی “لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ”۔(بخاری:۱/۲۹۲)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کو دیکھا: حجر اسود کو بوسہ دے رہے ہیں اورفرماتے ہیں، میں نے اگر حضورﷺ   کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے ہر گز بوسہ نہ دیتا۔ (صحیح بخاری:۱/۲۱۸)

اس قسم کی متعدد مثالیں کتب حدیث میں موجود ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ و تابعین نے اس آیت کو کسی ایک واقعہ یاصورت حال سے خاص نہیں کیا؛ بلکہ اسے آنحضرتﷺ   کی جملہ تعلیمات وہدایات کے لیے ایک کلیدی آیت سمجھا ہے، آپﷺ   کی ساری شریعت اورجملہ اوامر ونواہی اس آیت کے تحت امت کے لیے ایک عمدہ نمونہ عمل ہیں، صحابہ کرامؓ نے آنحضرتﷺ   کے ایک ایک عمل کواپنے لیے  دلیل قرار دیا ہے کیونکہ پیغمبر کی ذات ہر قانونی باب Legal Position میں امت کے لیے سند ہے ؛ پیغمبر خدا کی ہربات مانے بغیر صرف اسلامی نظام کی تکمیل نہ ہوگی،بلکہ پیغمبر خدا کی ہر بات اصولا تسلیم کئے بغیر ایمان بھی قائم نہیں رہتا،پیغمبر خدا کی ہر بات کو حجت اور سند تسلیم کرنا  صرف ایک نظام کی تکمیل ہی نہیں، تقاضائے ایمان بھی ہے اور اس کا اصولاً اقرار نہ کرنا کفر ہے، آپ حضورﷺ   کی تعلیمات کو حجت اور سند نہیں مانتے تو آپ مسلمان نہیں رہ سکتے،آنحضرتﷺ   کی ذات گرامی کو حجت اور سند ماننا اساس ایمان ہے اوراس کے بغیر آخرت میں کسی کی نجات نہیں، پس آپ کی  Obedienceمحض ایک حاکم کی پیروی اور اطاعت نہیں،اس سے مختلف ہوگی،ایک حاکم کی تعمیل احکام محض ایک انتظامی مسئلہ ہے؛ مگر پیغمبر خدا ﷺ   کی تعمیل ارشاد ایک ایمانی مسئلہ بھی ہے۔جس سے اصولا منہ پھیرنا کفرہوگا۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *