علماء و مدارس اورانجنئیرمحمدعلی مرزاکےاعتراضات

aaaa

ایک دوست نے انجینیئر محمد علی مرزا صاحب کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے اور پوچھا ہے کہ اس ویڈیو میں کی گئی باتیں کس حد تک درست ہیں؟
انجینیئر محمد علی مرزا، بنیادی طور مکینیکل انجینیئر ہیں۔ انتالیس سال کے قریب عمر ہو گی، جہلم شہر کے رہائشی ہیں۔ ڈیفنس منسٹری میں انیسویں گریڈ میں سرکاری ملازم ہیں۔ جہلم میں ہی قرآن وسنت ریسرچ اکیڈمی کے نام سے ایک ادارہ چلاتے ہیں۔ انہوں نے ایک سو سے زائد اختلافی موضوعات پر ویڈیو لیکچرز دیے ہیں۔ اپنے آپ کو کسی مکتب فکر سے وابستہ نہیں سمجھتے۔ دین کا باقاعدہ علم کسی مدرسہ سے حاصل نہیں کیا ہے اور وہ اسے ضروری بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ مولویوں کو رگڑا لگانا ان کے پسندیدہ موضوعات میں سے ہے۔ وہ ایک داعی ہیں، عالم دین نہیں ہیں۔
دیکھیں، آپ کا تعلق کسی مسلک، جماعت، گروہ یا تنظیم سے ہو یا نہ ہو، جب بھی آپ پر نقد کی جاتی ہے، وہ سو فی صد غلط نہیں ہوتی، اور نہ ہی سو فی صد درست ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ بات دس فی صد ہو اور نقاد نے اسے سو فی صد بنا دیا ہو۔ پس انجینئر محمد علی مرزا صاحب کی ویڈیو کے بارے ایک عمومی تبصرہ تو یہی ہے کہ اس میں مرزا صاحب نے نہ صرف مبالغہ کیا ہے بلکہ لوز ٹاکنگ کی ہے کہ ایک خرابی اگر پانچ فی صد میں تھی تو سو فی صد کو خراب بتلایا ہے اور اس طرح سے بتلایا کہ اس پر حد قذف بھی واجب ہو جاتی ہے، اگر مرزا صاحب چار عینی شاہدین نہ لا سکیں تو۔
اگر آپ عالم دین ہیں یا علماء سے نسبت رکھتے ہیں تو آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ مرزا صاحب کی باتوں پر غور کریں اور ان میں جو نقد درست ہے، اس کی بنیاد پر اپنی اصلاح کریں اور جو غلط ہے، اس کا رد کر دیں۔ مرزا صاحب کی یہ بات درست ہے کہ ایدھی پر نقد میں علماء افراط وتفریط کا شکار ہوئے ہیں۔ مرزا صاحب کی یہ بات بھی درست ہے کہ علماء کے طبقے میں علمائے سوء بھی موجود ہیں کہ ہر طبقے میں کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں۔
لیکن مرزا صاحب کی جو نقد غلط ہے، وہ یہ ہے کہ وہ علماء پر نقد میں متوازن نہیں ہیں۔ وہ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں۔ وہ یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ علمائے حق بھی ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ مجھ سے نہ پوچھنا کہ وہ کون ہیں، میں نہیں جانتا لیکن دوسری طرف غیر علماء میں سے وہ کئی ایک ایسے نام گنوا دیتے ہیں کہ جوان کے نزدیک دین کی خدمت کا بہت کام کر رہے ہیں یا انہوں نے کیا ہے۔
دوست نے کہا کہ کیا آپ مرزا صاحب کی لوز ٹاکنگ کی مثالیں دے سکتے ہیں۔ میں کہا کہ جیسے یہ بات کہ “مولویوں کا علاج میرے پاس ہی ہے۔۔۔۔ ان کو جواب وہ دے گا جو دنیاوی طور پر بھی میرے جیسا پڑھا لکھا شخص ہو گا اور مولوی چوں وڑ کے نکلیا ہووے گا۔۔۔۔ کس مدرسے میں یہ کام [لواطت] نہیں ہوتا۔۔۔۔ ایک مدرسے کو کلین چٹ دیں۔۔۔ اس سے سکول ہزاروں درجہ بہتر ہیں۔۔۔۔ کیونکہ سکولز میں ہاسٹلز نہیں ہوتے۔۔۔۔ ان میں یہاں بچوں کے ساتھ ٹیچرز یہ کام نہیں کر سکتے۔۔۔۔ لیکن مولویوں کے پاس رات کے وقت بھی بچے ایوے لیبل ہوتے ہیں اور دن کے وقت بھی، پردے میں بھی، اور یہ بچوں کے ساتھ منہ کالا کرتے ہیں۔۔۔۔ جو آپ غلط الزام لگائیں گے تو لا کے تہاڈے ہتھ وچ پھڑا دیں گے۔۔۔۔ پانچ چھ سال میری عمر تھی، اس وقت سے میں نے مدرسوں میں جانا شروع کیا۔۔۔ تمام مکاتب فکر کے مدرسے بچیوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں، بچوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں، سب مجھے پتا ہے۔۔۔۔ جس فارغ التحصیل بچے نے مدرسہ سے پڑھا تو اسے کہیں کہ جو باتیں میں کر رہا ہوں، قرآن پر ہاتھ رکھ کر میری بات کا انکار کر دے۔۔۔۔”
مرزا صاحب کی ان ساری باتوں پر تبصرہ کیا جائے تو بات بہت لمبی ہو جائے گی۔ اگر صرف آخری بات کو ہی لے لیں کہ مرزا صاحب، اگر عالم دین آپ سے یہ سوال پوچھ لے کہ آپ قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر بتلائیں کہ پانچ چھ سال کی عمر سے آپ کے بقول آپ مدرسہ جا رہے ہیں تو آپ کو کتنے استاذوں نے چھیڑا ہے؟ اور کتنے مدرسوں میں چھیڑا گیا ہے؟ کیا آپ کو اس طرح کا انداز گفتگو پسند آئے گا؟ ہر گز نہیں۔ تو آپ دوسروں کی بھی اصلاح اس طرح کے سلطان راہی کے انداز میں کرنا چاہیں گے کہ “لا کے ہتھ وچ پھڑا دیواں گا” تو آپ انہیں اور بگاڑ دیں گے۔
کیا آپ غور نہیں کرتے کہ اس طرح کی اصلاح سے دراصل آپ اصلاح نہیں فساد کا کام کر رہے ہیں؟ ٹھیک ہے، آپ کی اس ویڈیو کو ڈیڑھ ہزار لوگوں نے شیئر کیا ہے لیکن نیچے کمنٹس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ شیئر کرنے والے لوگ کون ہیں، یہ وہ ہیں جو آپ کے بھی دوست نہیں ہیں۔ آپ نے اس ویڈیو کے ذریعے دراصل لبرلز کے ہاتھ میں، مولویوں نہیں بلکہ اسلام کے خلاف، ایک اور دلیل پکڑا دی ہے۔ ہم نے بھی مدرسہ میں پڑھا پڑھایا ہے لیکن آپ کے اس مبالغہ آمیز دعوی کے جواب میں “کہ ایک مدرسہ کو کلین چٹ دیں” یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ محض جھوٹ نہیں، بلکہ بہتان ہے۔
تحریر حافظ محمد زبیر

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *