حضرت ابراھیم ؑ تورات اور قرآن

d

اک  تحریر میں مُلحد  نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ محمد الرسول اللہ (ﷺ) چونکہ عبرانی وسریانی سے ناواقف تھے، لہٰذا آپ (ﷺ) نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق یہ سارا واقعہ یہودِ مدینہ کی زُبانوں سے سُن کر اُس کو منظم عربی متن میں ڈھالا اور الہامی قرآن کا حصہ بنا ڈالا۔ موصوف کے بقول یہ بات ہی نبوتِ محمدیہ (ﷺ) پر سب سے بڑا سوالیہ نشان قائم کرنے کے لیے کافی ہے کہ محمد (ﷺ) یہودیوں سے قصے سُن سُن کر قرآن بناتے رہے۔ میں بجائے اِس کے کہ مزید تبصرہ کے لیے گہرائی میں جاؤں، مناسب رہے گا کہ مُلحد مصنف کی تحریر کا ہی کچھ حصہ یہاں درج کر دیا جائے تاکہ قارئین معترض کی اصل تحریر کے متن اور اِس کے مندرجات سے براہِ راست واقف ہو سکیں اور اُس تحریر کا ردّ پڑھتے ہوئے اُن کے اذہان میں کوئی ابہامات باقی نہ رہیں۔مُلحد معترض لکھتا ہے کہ:

اعتراض :حضرت ابراہیم کے آگ سے بچ جانے کا قصہ :

”یہ قصہ قرآن میں مکمل طور پر ایک جگہ نہیں ملتا بلکہ تھوڑا تھوڑا متفرق مقاموں پر جا بجا آیا ہے۔ سورہ بقرہ ، سورہ انعام، سورہ انبیا، سورہ مریم، سورہ شعرا، سورہ عنکبوت، سورہ صافات، سورہ زخرف اور سورہ ممتحنہ میں ٹکڑوں کی شکل میں یہ قصہ موجود ہے۔ لیکن انبیا کے حالات میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں، مثلاً قصص الانبیا اور عرائس المجالس وغیرہ، ان میں ایک ترتیب و سلسلہ کے ساتھ اس کا بیان ہوا ہے۔ اس کے مطالعے کے بعد اس میں شک کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی کہ یہ قصہ خواہ قرآن میں ہو یا حدیث میں دوسری کتابوں میں، سب کا سب یہودیوں کی ایک پرانی کتاب سے ماخوذ ہے جس کا نام ‘‘مدراش رباہ’’ (Midrash Rabba) ہے۔اس قصے کا موازنہ بھی کلیئر ٹسڈل نے اپنی کتاب میں کافی تفصیلی کیا ہے، لیکن اس سے قطع نظر ہم براہ راست نتیجے تک پہنچتے ہیں ۔ جب ہم اس قصے کویہودیوں کی کتابوں اور قرآن سے ملا کردیکھتے ہیں تو برائے نام فرق پاتے ہیں جس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ محمد نے اسے ان کتابوں سے نقل نہیں کیا بلکہ یہودیوں کی زبانی سن سنا کر اسے تسلیم کرلیا اور قرآن میں شامل کردیا ۔۔۔ اب سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ یہ افسانہ کہاں سے پیدا ہوگیا؟ واضح ہو کہ توریت، کتاب پیدائش، باب 15، آیت 7، میں جہاں خلیل اللہ کی ہجرت کا ذکر لکھا ہے، وہاں خدا نے ان سے فرمایا، ‘‘ میں خداوند ہوں جو تجھ کو کلدانیوں کے اور سے نکال لایا’’۔ بابلی زبان میں ‘‘اور’’ کے معنی ہیں شہر۔ اس بابلی لفظ ‘‘اور’’ کا ہم شکل ایک اور کلدانی لفظ ‘‘اُر’’ ہے جس کے لغوی معنی شعلہ و آتش کے ہیں۔ مدتوں بعد ایک عبرانی مفسر جوناتھن بن عزئیل (Jonathan Ben Uzziel) نے توریت کا ترجمہ کلدانی زبان میں کیا۔ یہ شخص زبان بابلی زبان سے بالکل ناواقف تھا۔ اس کو ان دونوں لفظوں کے درمیان التباس واقع ہوا اور اس نے بابلی ‘‘اور’’ کو کلدانی ‘‘اُر’’ سمجھ لیا اور آیت کا ترجمہ یوں کردیا، ‘‘ میں خداوند ہوں جو تجھ کو کلدانیوں کے آگ کے تنور سے نکال لایا۔’’ اب یہ صاحب جب اس آیت کی شرح کرنے بیٹھے تو مطلب حل نہ ہوا ، چنانچہ ہمارے جمعہ کے خطیبوں کی طرح انھوں نے اپنی واعظانہ شرح میں یہ تمام قصہ بیان کرڈالا۔ اب یہ غور طلب بات ہے کہ کسی ناواقف شخص کا اس قسم کی غلطی سے متاثر ہوجانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن حیف کہ اس فرضی افسانے کو خاتم الانبیا حق سمجھ لے جس کا یہ دعویٰ ہو کہ اللہ نے وحی کے ذریعہ انھیں یہ ‘‘فرضی افسانہ’’ سنایا اور اس پر یہ اضافی دعویٰ کہ یہ قصہ لوح محفوظ میں مندرج ہے۔ افسوس، اس غلطی سے اہل یہود کے معمولی محققین تک محفوظ ہیں لیکن لوح محفوظ نہیں۔”

آپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ساری تحریر ہی “چونکہ ۔ چنانچہ” کی قیاس آرائیوں پر کھڑی ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اِس تحریر کا مصنف زمین و آسمان کے قلابے ملانے کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے۔ تاہم اُس کا المیہ یہ ہے کہ اُس کا اپنا علم محدود ہے اور اُس کی ساری تحقیق انٹرنیٹ پر موجود اِسلام مخالف چند ویب سائٹس پر انحصار کر رہی ہے۔ اِن میں ایک اہم ترین (اور بدنام ترین) ویب سائٹ Answering Islam کے نام سے موجود ہے۔ اِسلام مخالف اکثر مواد یہیں سے اُٹھا کر ترجمہ کے بعد بدنامِ زمانہ الحادی گروپوں میں “گراؤنڈ بریکنگ ریسرچ” کے دعویٰ کے ساتھ پیش کر دیا جاتا ہے اور سادہ لوح قارئین اِس کو من و عن تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اپنا ایمان گنوا بیٹھتے ہیں۔اِن مُلحدوں کا ایک اور المیہ یہ ہے کہ جب یہ قرآنِ کریم کا موازنہ یہودی و مسیحی کُتب سے کرتے ہیں تو یہ دُوسروں کی تحقیق پر ہی انحصار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ یہ خود نہ تو یہودی صحآئف کی زُبانوں مثلاً عبرانی(Hebrew)، سریانی (Syriac/Yeddish)، آرامی (Aramaic) وغیرہ سے واقفیت رکھتے ہیں اور نہ ہی مسیحی صحیفے کی زُبان ریختہ یُونانی (Koine Greek) سے کسی قسم کی آشنائی کے حامل ہوتے ہیں۔ لہٰذا اِن کی نام نہاد تحقیق کو منہدم کرنے کے لیے محض اِن زُبانوں کا ہلکا سا علم ہی “ڈائنامائیٹ” کا کام سرانجام دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں اور مذکورہ بالا اعتراض کا حوالہ جاتی ابطال مکمل ثبوتوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہ بحث تھوڑی خشک اور علمی طور پر گہری ثابت ہو گی، لہٰذا اِس کے نتائج تک پہنچنے کے لیے آپ کی توجہ اور تحمّل دونوں درکار ہوں گے۔جس اصل لفظ پر یہ بحث قائم کر کے موصوف نے قرآنِ کریم پر اعتراض گھڑا ہے وہ کُلدانی (Chaldean) زُبان کا لفظ “אוּר” (اُور – Uwr) ہے۔ اِس لفظ کا لغوی معنی ہے “شعلہ” (Flame)۔ بائبل کے “عہدنامہ قدیم” (Old Testament) کی معروف ترین لغت Brown-Driver-Briggs Lexicon کے مطابق “شعلہ” کے معنی کا حامل یہ لفظ “مذکر” ہے۔ مزید برآں، ولیم ہالیڈے کے شہرہ آفاق A Concise Hebrew and Aramaic Lexicon of the Old Testament کے صفحہ 7 پر موجود اندراج کے مطابق “اُور” جمع کا صیغہ ہے اور اِس کا معنی “آگ کی روشنیاں اور تپش” ہے۔ یہ لفظ انہی معانی کے ساتھ عہدنامہ قدیم کی کتاب “یسعیاہ” (Isaiah) کے باب 50، فقرہ 11 میں واقع ہوا ہے۔ لہٰذا جو صاحب اِس لفظ کا ترجمہ “شہر” کر رہے ہیں، اُن کے علم کی حقیقت کی قلعی یہیں کھل جاتی ہے۔ اِسی طرح اِسی لفظ کی ایک دوسری شکل “אוֹר” (اور – Owr) بھی ہے، جس کا معنی “روشن ہونا” ہے اور یہی لفظ اِس بابِ لغت کا مصدر بھی ہے (جس کو عبرانی میں “قال کامل” – Qal Perfect – کہتے ہیں)۔ اب عبرانی و کُلدانی زُبان کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جانا کہ “اُر” اور “اور” دو علیحدہ ابواب کے باہم مختلف معنی کے حامل الفاظ ہیں، جن کے انفرادی معانی “آگ” اور “شہر” کے ہیں، سوائے ٹامک ٹوئی کے کچھ بھی نہیں۔ شہر کے لیے عہدنامہ قدیم (Old Testament) میں استعمال کیا گیا لفظ اصل میں “עִיר” (عیر – Eer) ہے (“ع” اور “الف” کا فرق ملحوظِ خاطر رہے)، جس کو موصوف “اور” کے ساتھ ‘خلط’ کر رہے ہیں۔ اِسی طرح “آگ/آتش” کے لیے یہودی صحائف کے طول و عرض میں استعمال ہونے والا لفظ “אֵשׁ” (ایش – Aysh) ہے، جس کو اپنی دائمی جہالت کے باعث مُلحد مصنف نے پچھلے لفظ کی طرح “اُر” کے ساتھ خلط ملط کر کے پیش کر دیا ہے۔

چونکہ یہ بحث کثیل لغوی، لسانی اور انشاءپردازی کے تصورات پر مبنی ہے، اِس لیے ہم اِس کو محض لسانی حدود تک ہی محدود رکھیں گے اور اِس واقعے کے حوالے سے کسی دیگر پہلو کی طرف موجودہ گفتگو میں جانے سے گریز کریں گے، کیونکہ مذکورہ بالا حوالہ جات ہی سبھی اعتراضات کی دُھلائی کے لیے کافی ہوں گے۔جہاں تک عہدنامہ قدیم کی کتابِ پیدائش کے باب 15، فقرہ 7 کا تعلق ہے تو وہاں وارِد ہونے والا لفظ “اُر” درحقیقت “اِسمِ معرفہ” (Proper Noun) ہے (بحوالہ مذکورہ بالا لغاتِ عہد نامہ قدیم)۔ اِس نام سے ملتے جُلتے نام کی ایک اور اہم شہری ریاست “اُروک” بھی قدیم عراق میں موجود تھی۔ واضح رہے کہ قدیم عراق کو آثارِ قدیمہ اور تاریخ میں “میسو پوٹیمیا” کے نام سے پکارا جاتا ہے اور یہ ابتداً “سومیری” لوگوں کی تہذیب کا گہوارہ اور پانچ شہری ریاستوں پر مشتمل مصر (Egypt) کے ہم پلّہ ایک مکمل تہذیبی سلطنت تھا۔اِس وضاحت کے بعد اب مصنف کی اِس جہالت پر کیا کہا جائے کہ اُس نے “اسمِ معرفہ” کو “اِسمِ نکرہ” بنا ڈالا اور اِس پر ایک ایسا قیاس قائم کر دیا جس کی نہ تو کوئی تاریخی حقیقت ہے اور نہ ہی لسانی ولغوی حیثیت۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی اسمِ معرفہ آلِ اسرائیل کے کئی لوگوں کا نام بھی تھا، جس کا حوالہ خود بائبل میں موجود ہے (دیکھیے 1 تواریخ، باب 11، فقرہ 35)۔

اب آخر میں اِس بحث کو حتمی اختتام تک پہنچانے کے لیے ہیگل (Hegel) کے فلسفہءِ تاریخ پر مبنی قیاس کی ہلکی سی ضرورت ہے۔ ہیگل کا فلسفہءِ تاریخ ماضی کے استخراج کے حوالے سے “ممکن اور ناممکن” (Possibility and Impossibility) کے تصور پر قائم ہے، جبکہ ذرائع تاریخ (Historical Sources) اور فلسفہءِ غالب امکان (Probability) کی قبولیت کا معیار بھی یہ اوّلین اصول ہی ہے۔ ملحدین کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اُن کا کلیۃً جھکاؤ “Possibility” کی بجائے “Probability” کی طرف ہوتا ہے، جس سے فلسفہءِ تاریخ کا بنیادی اصول ہی پامال ہو جاتا ہے، اور نتائج بھی پھر “لولے لنگڑے” ہی نکلتے ہیں، جو الحادی افکار کی مکمل ترجمانی کر رہے ہوتے ہیں، اور درحقیقت یہی ملحدین کی منشاء ہوتا ہے۔اگر اِسمِ معرفہ یعنی حضرت ابراہیم کے شہر کے نام “اُر” کے متعلق بھی تحقیق کی جائے تو تمہید کےطور پر دیکھنا ہو گا کہ یہ امر بھی “ممکنات” کے اصول پر کھڑا ہے یا نہیں؟ فی الحقیقت دورِ قدیم سے ماضی قریب تک عموماً شہروں اور دیہاتوں کے نام یا تو کسی واقعہ کی طرف نسبت سے رکھے جاتے تھے یا پھر اہم شخصیات سے منسوب کیے جاتے تھے۔ درحقیقت یہ اصول آج بھی پامال نہیں ہوا اور پوری طرح سے آج کے معاشرہ پر بھی لاگو ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ لہٰذا بائبل کے مصنفین کی جانب سے حضرت ابراہیم کے شہر کو “آگ کے شعلوں اور روشنیوں” کا شہر کہہ کر مخاطب کیا جانا اور اِس کا ذکر بائبل کی تحریر کے دور میں، جو کہ 1000 ق م کے بعد کا واقعہ ہے، بطور اِسمِ معرفہ کر کے اِسی نام متعیّن سے کر دیا جانا ہر گز اچنبھے کی بات نہیں، بلکہ عین قرینِ حقیقت ہے۔ اِس کا بہترین قیاس بائبل کے اندر موجود معروف ناموں سے کیا جا سکتا ہے، کیونکہ بائبل قدیم انبیاء کے نام اُن کے اوصاف، پیشہ یا بعثت کے پہلوؤں کو سامنے رکھ کر رقم کرتی ہے۔ مثال کے طور پر پہلے انسان کو “آدم” (אָדָם) محض اِس لیے کہا گیا کیونکہ عبرانی میں “آدمہ” (אדמת) مٹی اور دُھول کو کہتے ہیں، جبکہ انسان مٹی سے بنایا گیا تھا، لہٰذا پہلے انسان کو “آدم” یعنی “مٹی کا بنا ہوا” کہا گیا اور یہی اُس کا نام ٹھہرا۔ اِسی طرح کی ایک اور مثال لفظ “اُردن” (יַרְדֵּן – یردین) سے دی جا سکتی ہے جس کا لغوی معنی ہے “پست جگہ، نیچے جانے والا”۔ بنی اسرائیل دریائے اُردن کے نیچے کی طرف تیز بہاؤ اور اِس کے مضافات کی سطح زمین پاقی علاقوں کی نسبت گہری ہونے کی وجہ سے اِس خطہ کو “یردین” کے نام سے ہی پکارا کرتے تھے۔ لہذا اِس جگہ کا مستقل نام ہی “یردین/اُردن” قرار پا گیا اور آج اِسی نام سے وہاں ایک ملک قائم ہے۔ اِن قیاسات پر نارِ نمرود کے قرآنی بیان کی صداقت کا معیار اِس لیے بھی قائم کیا جا سکتا ہے کیونکہ حضرت ابراہیم والے واقعہ کی تفصیل یہودی “مِدراش” میں موجود ہے، اور یہ بالکل اُسی آیت کی تفسیر ہے جس کے حوالے سے اِس ساری بحث کا غیرحقیقی نتیجہ نکالنے کی کوشش ملحد مصنف نے کی ہے۔

اُوپر پیش کردہ تحقیق کی روشنی میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیّاں ہو جاتی ہے کہ معترض نے اپنی تحریر میں نہ صرف علمی “ڈنڈی” ماری ہے، بلکہ اُس کا “جوناتھن بن عُزیل” نامی یہودی مفسّر کے متعلق دعویٰ بھی جہالت و غفلت کا نتیجہ ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اہلِ زُبان علماء خود اپنی زُبان کے متعلق اِس قدر بڑے مغالطوں کا شکار رہیں، جبکہ دو ہزار سال بعد ایک ایسا شخص اُٹھ کر اُس کی تصحیح کر دے جو خود سِرے سے وہ زُبان جانتا ہی نہیں؟

کتاب پیدائش کے باب 15، فقرہ 7 کی تفسیر یہودی عُلماء کی اکثریت زمانہ قدیم سے بالکل وہی کرتی آ رہی ہے، جو قرآنِ کریم میں مذکور ہے۔ “مدراش” درحقیقت یہودی صحائف کے متعلق ترتیب دئیے گئے “اصولِ تفسیر” اور “تفسیرِ تناخ و مِشناء” (Tanakh and Mishna – تحریری و زُبانی شریعت) کا ہی نام ہے اور دونوں کو ”الہامی“ سمجھا جاتا ہے۔ “مدراش” یعنی یہودی صحائف کی تفسیر کے عمل کو ترتیب اور تشکیل دینے کا علمی نام “تالمود” (Talmud) ہے جبکہ اِسی عمل کی تکمیل کو “گیمارہ” (Gemara) کہتے ہیں۔ دُوسرے لفظوں میں یہودی تالمود بھی مذکورہ بالا بائبلی حوالہ کی تفسیر بالکل یہی کرتی ہے، جس کا ذکر قرآنِ کریم میں حضرت ابراہیم کے “نارِ نمرود” والے واقعہ کی صورت میں موجود ہے۔ مزید عرض کرتا چلوں کہ حضرت ابراہیم کو آگ میں پھینکے جانے والی تفسیر صرف “مِدراش ربّاح” (מדרש רבה) نامی مِدراش میں ہی موجود نہیں، بلکہ یہودی تالمود کی دیگر کئی کُتب (مدراشیم) کا حصہ بھی ہے، لہٰذا مدراش رباح کے نام سے مخصوص کر کے کیا گیا یہ دعویٰ بھی مُلحد مصنف کے محدود علم کی طرف ہی اشارہ کرتا ہے، جس کا مرتکب محض یہ ملحد معترض ہی نہیں ہوا، بلکہ Clair Tisdall نامی متعصب عیسائی مصنف، جس کی طرف مُلحد معترض نے اپنی تحقیق کا حوالہ لوٹایا ہے، بھی اپنی اِسلام مخالف تحریروں میں اِسی گمراہی کا مجرم قرار پاتا ہے۔

دوسرا اعتراض:حضرت ابراھیم ؑ کے باپ/چچا کا نام آزر /آثر/تارح:

اب اِس مضمون کے دوسرے حصے کی طرف چلتے ہیں۔ دوسرا اہم اعتراض جو محولہ بالا اعتراض پر مشتمل گفتگو کا ہی حصہ ہے وہ درجِ ذیل ہے:

” محمد نے قرآن میں ابراہیم کے باپ کا نام ‘‘آزر’’ لکھا ہے۔ حالاں کہ مدراش رباہ میں توریت کے اعتبار سے اس کا نام ‘‘تارح’’ آیا ہے لیکن یونانی مورخ یوسی بیوس (Eusebius: 263-339 AD) جس کی تاریخ کا ترجمہ سریانی یعنی شامی زبان میں بھی ہوا تھا، ابرہیم کے باپ کا نام ‘‘آثر’’ لکھتا ہے۔ اب یہ بات تو خیر بتانے کی ضرورت نہیں کہ محمد کو تجارت کے سلسلے میں اکثر شام کے سفر کا اتفا ق ہوا تھا، چنانچہ انھوں نے وہیں یہ نام سنا ہوگا اور کمزور یادداشت کے سبب ‘‘آثر’’ کا ‘‘آزر’’ لکھ دیا ۔ ایرانیوں نے اکثر اسی آزر کو اپنی زبان کی مناسبت سے ‘‘آذر’’ بھی لکھا ہے جس کے معنی ‘‘آتش’’ کے ہیں۔  مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ محمد نے اس قصہ کو نہ یہود سے لیا اور نصاریٰ سے بلکہ جبرائیل نے بلاواسطہ انھیں وحی کے ذریعہ دیا اور اب یہودیوں نے بھی اسے قبول کرلیا ہے، چونکہ وہ بھی ابراہیم کی اولاد ہیں۔ لیکن شاید انھیں یہ معلوم نہیں کہ اس افسانہ کو ماننے والے یہودیوں میں صرف عوام الناس شامل ہیں (جیسے کئی غلط روایتوں پر آمنا صدقنا کہنے والے مسلمان مل جاتے ہیں)، لیکن جو یہودی علما ہیں، ان کے نزدیک یہ افسانہ بے بنیاد ہے۔

اِس بچگانہ اعتراض اور اِس کو قلمبند کرنے کے انداز پر طنزومزاح کے نشتر چلانے کو جی چاہتا ہے۔ تاہم، چونکہ اسلام کا دفاع ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور تاریخِ مذہب اور کُتبِ سماوی کی سچائی تاریخی نقد کے ذریعے پرکھے جانے سے تعلق رکھتا ہے، لہٰذا لازم ہے کہ سنجیدگی سے اعتراض کا ردّ کیا جائے۔

جواب کا آغاز معترض کے جملے ”چنانچہ انھوں نے وہیں یہ نام سنا ہو گا اور کمزور یادداشت کے سبب ”آثر“ کا ”آزر“ لکھ دیا“ سے کرتے ہیں۔ جیساکہ ایک اور مضمون میں بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ ملحدین ”قیاس آرائی“ کرنے اور ”ذاتی مفروضے“ کو تاریخی استدلال کی بنیاد بنانے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے، لہٰذا اُن سے بعید نہیں کہ رائی کا پہاڑ بنا دیں۔ ذرا اِسی جملے سے دیکھ لیجیئے کہ ایک ایسے شخص کو ”کمزور یادداشت“ کا حامل قرار دیا جا رہا ہے جس نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب بپا کیا، جس نے قرآن جیسے کتاب کی آیات محض ایک دفعہ اپنی زُبان سے ادا کر دینے کے بعد ہر بار اُسی انداز میں تلاوت کیں اور کبھی نہ چُوکا، اور جس کی ذہانت وفطانت کے معترف اُس کے دشمن بھی تھے۔ کس قدر ڈھٹائی سے یہ بات کر دی ملحد نے بنا سوچے سمجھے اور ساتھ ہی اپنا گھڑا ہوا ”اصولِ تاریخ“ بھی بیان کر دیا، جو نہ معلوم کون سی یونیورسٹی میں پڑھایا جاتا ہے۔

جارج سیل (George Sale) انگریزی زُبان میں قرآنِ کریم کا سب سے پہلا مترجم ہے اور اُس کے ترجمہ وحوالہ جات سے آج بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔ جارج سیل کا کہنا ہے کہ یہ نام درحقیقت ”آذر“ ہی تھا اور یہ کُلدانی، اسیری اور فارسی (پہلوی) زُبانوں میں اِسی طرح لکھا اور پُکارا جاتا تھا۔ آذر درحقیقت فارسیوں کے لیے ”مارچ“ کا مہینہ تھا، جس کی نسبت قدیم عراق (میسوپوٹیمیا) کے مشرقی حصے میں ”سیارہ مریخ“ سے تھی، اور لوگ اِس کو ”دیوتا“ سمجھتے تھے۔ لہٰذا آذر نام کا حامل ہونا درحقیقت قابلِ فخر بات تھی اور اشرافیہ کے لوگ طاقتور دیوتا کے ساتھ اِس گہرے تعلق پر اتراتے ہوتے تھے۔ قدیم پہلوی زُبان میں بھی آذر کو آذر ہی بولا جاتا تھا اور آذر آگ کا دیوتا تھا، جس کو مریخ ہی سے منسوب کیا جاتا تھا۔ لہٰذا یہ نام قدیم فارس میں بھی مذہبی رنگ میں پایا جاتا تھا۔ لیکن خطہءِ فارس آذر نام کا اصل وطن نہیں، بلکہ یہ نام قدیم عراقی ستارہ پرستی پر مشتمل بُت پرستی کی مذہبی زُبان سے تعلق رکھتا تھا۔ جارج سیل کے مطابق ”تارح“ یا ”آذر“ دونوں ایک ہی شخصیت کے نام ہو سکتے ہیں، جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ تارح نام کے شخص کو اُس کے اشرافیائی مقام کی بدولت شاہی دربار یا اعلیٰ مذہبی طبقہ کی جانب سے یہ نام انعام کی صورت میں عطاء کیا گیا ہو، کیونکہ یہ نام دیوتا سے نسبت کے باعث مقدس سمجھا جاتا تھا۔

 یہودی تالمود حضرت ابراہیم کے والد کا نام ”ذارہ“ یا ”ذرّہ“ لکھتی ہے جو کہ اُسی مصدر سے مشتق ہے جس سے ”آذر“ نکلا ہے۔ یہاں جو امر قابلِ غور ہے، وہ یہ ہے کہ یہودی تالمود اِس معاملے میں موسیٰؑ سے منسوب کُتبِ توریت سے متضاد مؤقف کیوں اختیار کر رہی ہے۔ قرآن کو آپ ایک لمحے کے لیے ایک طرف رکھ دیں، کیونکہ قرآن بعد میں نازل ہوا اور اِس کا تعلق بھی غیر یہودی لوگوں سے ہے، لہٰذا اِس کا حوالہ شاید تاقدین قبول کرنا پسند نہ کریں۔ تاہم یہودی تالمود جو کہ توریت کی تفسیر قرار دی جاتی ہے، اُس نے ہی توریتِ مقدس کی بہم فراہم کردہ معلومات پر اعتماد کا اظہار کرنے سے انکار کرتے ہوئے ”تارح“ یا ”تارخ“ (תָּרַח) نام کو قبول نہیں کیا، بلکہ ایک دُوسرا نام متعارف کروایا ہے، جو وہی نام ہے جسے قرآنِ کریم نے بھی اپنے اندر جگہ دی ہے۔ اِس صورتحال سے جو منطقی نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں وہ یہ ہیں کہ یا تو (الف) دونوں نام ایک ہی شخصیت کے تھے جو کہ حضرت ابراہیمؑ کے والد تھے، یا پھر (ب) آذر ہی اُن کا حقیقی نام تھا کیونکہ یہودی محققین، مفسرین، اور مؤرخین نے اِسی نام پر اعتماد کا اظہار کیا، اور مسیحی مؤرخ ”یوسی بیوس“ نے بھی اِسی روایت کو قبول کیا۔ تاہم (ج) اگر تارح نام درُست ہے اور آذر غلط ہے تو پوری کی پوری یہودی تاریخ کو درُست کرنا پڑے گا اور بڑے بڑے بُرج اُلٹ کر ہی یہ نام حضرت ابراہیمؑ کے والد کے نام کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔ اب یہ مُلحدین پر ہے کہ وہ مذکورہ بالا میں سے کون سی ”آپشن“ اختیار کرتے ہیں۔

ملحدین کا یہ دعویٰ کہ حضرت ابراہیم کے والد کا نام ”تارح“ یا ”تارخ“ تھا، محض اِس بنیاد پر کھڑا ہے کہ بائبل مقدس حضرت ابراہیمؑ کے والد کا نام تارح بتاتی ہے۔ کتابِ پیدائش کے باب 11 میں تارح کی نسل کا ذکر ہے۔ اِس شجرے کو عہد نامہ جدید میں ”متی“ (Matthew) اور ”لوقا“ (Luke) کی انجیلوں کے مصنفین نے دُہرایا ہے۔ (نوٹ: متی کی اِنجیل حضرت ابراہیمؑ تک ہی شجرہ محدود رکھتی ہے اور آپؑ کے والد کا ذکر نہیں کرتی)۔ تاہم، بائبل کے مصنفین کے پاس کوئی سند یا تاریخی ریکارڈ موجود نہیں تھا جس سے وہ اِس بات کی مکمل تصدیق کر پاتے کہ حضرت ابراہیمؑ کے والد کا نام تارح ہی تھا۔ بات کو اِس ضمن میں آگے بڑھانے سے پہلے ملحدین سے سوال ہے کہ یہ کیسے محلدین ہیں جو خدا کو تو نہیں مانتے لیکن بائبل کی کہی ہوئی بات کو مِن وعن تسلیم کر کے ”الہام“ کا درجہ دے رہے ہیں اور قرآن سے نفرت کی آگ میں وہ اِس بات پر بضد ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ کے والد کا نام بائبل کے عین مطابق تارح ہی تھا؟ کس درجہ کا تضاد ہے اِن کے قول وفعل میں۔ اگر آج آپ کسی ملحد سے صرف اتنا پوچھیں کہ کیا حضرت ابراہیمؑ نامی کوئی ہستی تاریخ میں واقعتاً گزری ہے تو جھٹ سے جواب دیا جائے گا، ”نہیں!“ اِس کے ساتھ یہ اضافہ بھی ہو گا کہ یہ لوک داستان یا کسی دیومالا کا قصہ ہے۔ لیکن دوسری طرف جب قرآن ایک مؤقف اختیار کرتا ہے تو یہ لوگ جھٹ سے اُس کو جھٹلانے کی ضد میں کچھ بھی ایسا قبول کر لیتے ہیں جس کا عام حالات میں سرے سے انکار کرتے ہیں۔

”اور جو لوگ حق کا انکار کرتے ہیں اور ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ تُم ہمارے طریق کی پیروی کرو، تمہارا جُرم ہمارے ذمہ ہو گا۔ حالانکہ وہ اُن کی خطاؤں کا بوجھ اُٹھانے والے نہیں۔ بلکہ وہ تو بلاشبہ جھوٹے ہیں۔“ (سورہ عنکبوت، آیت 12)

بائبل پر اندھا اعتماد رکھ کر قرآن کو جھٹلانے کی کوشش کرنے والے شاید نہیں جانتے کہ بائبل خود حضرت ابراہیمؑ سے کم وبیش ایک ہزار سال بعد تحریر کی جانی شروع کی گئی، جبکہ اِس کی یہودی قانون کے مطابق حتمی شکل 90ء میں منعقدہ یہودیوں کی ”جامنیہ کونسل“ میں تشکیل پائی۔ Documentary Hypothesis کے مطابق موجودہ یہودی توریت، جو حضرت موسیٰؑ کی طرف منسوب ہے اور بائبل کی ابتدائی پانچ کُتب پر مشتمل ہے، کو کم ازکم چار مخلتف مکاتبِ فکر (J, E, P, D) کے کاتبین نے تحریر کیا اور اِس کا متن لگ بھگ پانچ سو سال ارتقاء بذیر رہا، یہاں تک کہ چھٹی صدی قبل مسیح میں حضرت عزیرؑ کے زمانہ میں کتابِ استثناء (Deuteronomy) کی حتمی شکل بندی کے بعد توریت مکمل ہوئی۔ اگرچہ کاتبین کی جانب سے اضافے پھر بھی جاری رہے اور توریت وکُتبِ انبیاء کا متن یہودی جلاوطنی اور مرکزی یہودی معبد کی تباہی کے بعد یہودی عبادت گاہ ”سیناگوگ  کی پیدائش“ (Second Temple Judaism) کے عرصہ کے دوران بھی تبدیل ہوتا رہا، لیکن ہمارا مقدمہ اِس سے پہلے کے حالات میں بھی بڑی آسانی سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ درحقیقت بائبل کے متن پر کسی طور اعتماد نہیں کیا جا سکتا، اور اِس کو جب مسیحی عہد نامہ جدید کی روشنی میں دیکھا جائے تو تضاد اِس قدر واضح ہو جاتا ہے کہ کسی اور ثبوت کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ مثلاً انجیلِ متی اور انجیلِ لوقا میں جو شجرے حضرت عیسیٰؑ کو حضرت داؤدؑ کی نسل سے ثابت کرنے کے لیے پیش کیے گئے ہیں، اُن دونوں میں باہم ایک دو یا چار نہیں بلکہ پوری 15 پُشتوں کا فرق ہے۔ انجیلِ متی کا مصنف حضرت ابراہیمؑ سے حضرت عیسٰیؑ تک 41 پشتیں بتاتا ہے، جبکہ انجیلِ لوقا کا مصنف یہی تعداد 56 بتاتا ہے۔ اِس کے علاوہ، متی کا مصنف اپنے شجرے میں حضرت عیسیٰ کے نام نہاد والد یوسف کو ”ایلی“ کا بیٹا بتاتا ہے، جبکہ لوقا کی انجیل کا مصنف یوسف کو ”یعقوب“ کا بیٹا قرار دیتا ہے۔ یہاں آپ خود اندازہ کر لیجیئے کہ بائبل کی تاریخ کے متعلق سچائی کا معیار تو ادنیٰ سے ادنیٰ محقیق بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہو گا۔

”یوسی بیوس“ (Eusebius) مسیحی کلیسیاء کا سرکاری مؤرخ تھا، جس کی شہرہ آفاق تصنیف ”تاریخِ کلیسیاء“ (Ecclesiastical History) ہے۔ قدیم کُلدانی لفظ ”آذر“ کو کلیسیاء کے اِس مؤرخ نے ”آثر“ محض اِس لیے لکھا کیونکہ وہ کُلدانی، عبرانی اور آرامی الفاظ کا لاطینی میں ترجمہ کر رہا تھا اور لاطینی بھاری ”ذ“ کے ہجے کی آواز سے محروم تھی۔ لاطینی چونکہ کلیسیاء کی سرکاری زُبان تھی، لہٰذا سبھی عُلوم کا لاطینی میں منتقل کیا جانا مسیحیت کی بقاء کے لیے ازحد ضروری تھا۔ چونکہ یہاں مُلحد معترض نے یوسی بیوس کے لیے خود ”مؤرخ“ کا لفظ استعمال کر دیا ہے، لہٰذا اُس کو اِتنا یاد کروا دیا جانا ضروری ہے کہ مؤرخ کے اُوپر تحقیق کی ذمہ داری لاگو ہوتی ہے اور اُس کا مقصد محض لفاظی یا غلو کو پیش کرنا نہیں ہوتا، بلکہ وہ مختلف ذرائع تاریخ اور مآخذوں کی مدد سے ماضی کی تعمیرِ نو کرتا ہے اور اُس کی بنیاد پر تاریخ کے متعلق اپنا مقدمہ پیش کرتا ہے۔ اب یہاں ایک اور منطقی سوال پیدا ہوتا ہے، جو کہ ہماری اِس گفتگو کے لیے انتہائی اہم ہے اور یہ سوال مُلحدین سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ”تارح“ یا ”تارخ“ ہی حضرت ابراہیمؑ کے والد کا اصل نام تھا، تو مسیحی مؤرخِ کیلیسیاء یوسی بیوس نے مسیحی صحائف کی گواہی قبول کیوں نہیں کی؟ یہ گواہی نہ صرف عہدنامہ قدیم سے دستیاب ہے (حوالہ: کتابِ پیدائش، باب 11، آیت 27)، بلکہ عہدنامہ جدید کی انجیل لوقا میں بھی حضرت ابراہیم کی ولدیت ”تارح/تارہ“ ہی لکھی ہوئی ہے (حوالہ:  انجیلِ لوقا، باب 3، آیت 34)۔ لہٰذا مسیحی مؤرخ کے لیے لازم تھا کہ وہ دوسرا کوئی حوالہ قبول کرنے کا خیال بھی دِل میں نہ لاتا اور اِس بات کو مِن وعن تحریر کر کے بائبل پر اپنے ایمان اور اعتماد کا اظہار کرتا۔ تاہم بوجوہ ایسا نہ ہو سکا۔ شاید اُن وجوہات کا علم مُلحدین کو ہو جن کی بِنا پر مسیحی مؤرخ نے بائبل کی نسبت تالمودی روایت پر اعتماد کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔

    اِس سلسلے میں آخری نقطہ قرآنِ کریم کے متعلق ہے۔ عموماً یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ جو چیز پہلے آتی ہے وہ نہ صرف ”درُست“ ہوتی ہے، بلکہ اُس کے بعد میں آنے والی کوئی بھی دُوسری چیز جو وہی بات دوہرا رہی ہوتی ہے لازماً پہلی کی نقل یا چربہ ہوا کرتی ہے۔ اصولِ منطق (Informal Logic) میں اِس امر کو Fallacy قرار دیا جاتا ہے اور اِس خاص صورتحال کے لیے جو اصطلاح استعمال کی جاتی ہے وہ ”Argument of Straw“ ہے۔ اہلِ علم جانتے ہیں کہ سچ محض ایک ہی ہوتا ہے اور اُس کا بیان بار بار بھی کیا جائے تو وہ سچ وہی رہے گا جو وہ اپنی اصل ماہیت میں تھا۔ اگر دس لوگ ایک ہی سچائی بیان کریں تو لازم نہیں کہ پہلے شخص کے بعد باقی نو لوگوں کو ہم نقّال کہہ کر اُن کی بات کو ردّ کر دیں۔ یہ عقل ودانش سے عاری روّیہ ہو گا۔ لہٰذا اِس ضمن میں یہ بات قابلِ فکر ہے کہ حضرت ابراہیمؑ تاریخ میں ایک ہی بار پیدا ہوئے اور اُن کے والد بھی ایک شخصیت تھے جو ایک زمانے میں ایک ملک کے اندر موجود تھے۔ اُن کا نام جو بھی تھا وہ اُن کے وجود کا تاریخی حادثہ ہونے کا وقت گزرنے کے بعد کبھی تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اگر اُن کا اصل نام تالمود پیش کرے، کوئی مسیحی مؤرخ پیش کرے، یا پھر قرآنِ کریم پیش کرے، وہ سچائی ایک ہی رہے گی اور اُس کی قبولیت کے لیے ہم کسی ایک ذریعے کو قبول کر کے باقی کو مسترد نہیں کر سکتے، کیونکہ اگر مسترد کرنا ہو گا تو سبھی کو کرنا ہو گا اور سچائی کا قابلِ اعتماد متبادل ذریعہ پیش کرنا ہو گا، ورنہ مُلحدین کے لیے خاموشی کے ساتھ قبولیت ہی بہترین حل ہے۔

تحریر سید وقاص حیدر

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *