افسانہ شیطانی آیات/قصہ غرانیق-تحقیقی جائزہ

1

عیسائی  مشنریز اور ملحدین  کے  قصہ غرانیق  کی آڑ میں قائم کیے گئے مفروضوں سے بہت سے مسلمان کنفیوز ہوتے ہیں ۔ ذیل میں اس قصے کا تحقیقی جائزہ پیش ہے۔

اعتراض :

 ایک ملحد لکھتا ہے  تاریخ طبری میں ہے :

 رسول اللہ قریش کی اسلام سے بے رغبتی پر انتہائی افسردہ وغمگین تھے، اور قریش کے جانب سے دعوت اسلام کو پزیرائی حاصل نہ ہونے پر سخت مایوس تھے، ان کے دل میں شدت میں سے یہ تمنا تھی کہ اللہ کی جانب سے کوئی ایسا کلام نازل ہو جو موحدین اور مشرکین  کے درمیان دوری کو قربت میں تبدیل کردے۔ ایک مرتبہ پیغمبر اسلام بیت اللہ میں قریش کی ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ پر اللہ کی جانب سے وحی کا نزول شروع ہو اور آپ نے سورة النجم کی قراءت شروع کی اور جب ان آیات تک پہنچے (“کیا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا، اور تیسری اس دیوی منات کو”) تو شیطان نے آپ صلعم کی زبان سے یہ الفاظ جاری کرا دئیےتلک الغرانیق العلیٰ و ان شفاعتھن لترتجی﴿یعنی یہ لات اور منات بہت بلند پایہ کے بت ہیں اور یقیناً ان کی شفاعت بھی اللہ کے ہاں قبول کی جائے گی(طبری صفحہ 108)

 مشرکین آپ کی زبان سے اپنے معبودین کے لئے یہ الفاظ سن کر انتہائی مسرور ہوئے۔ پیغمبر اسلام نے اپنی تلاوت مکمل کرنے کے بعد سجدہ تلاوت کیا تو اس مجلس میں موجود تمام مشرکین بھی سجدہ ریز ہو گئے اور بیت اللہ میں موجود کوئی بھی مومن اور مشرک ایسا نہ بچا جو سجدہ ریز نہ ہوا ہو۔(صفحہ 109)

محمد ﷺ کے بت پرستوں کے ساتھ  یہ دوستانہ تعلقات   تھوڑی دیر ہی رہے ، جلد ہی انہیں  بتادیا گیا کہ  بتوں کی تعریف میں   آیات اللہ کی طرف سے نازل نہیں ہوئیں بلکہ یہ شیطان کی طرف سے تھیں ۔  پھر شام کو جبرائیل پیغمبر محمد کے پاس آئے اور کہا کہ اے محمد آج تم نے کیا کیا؟ آج تم نے قریش کے سامنے وہ کلام تلاوت کیا جوتم پر اللہ کی طرف سے نازل نہیں ہوا تھا، یہ سن کر تو محمد بے حد غمگین ہوگئے اور ان پر خشیت الہٰی کی کیفیت طاری ہو گئی۔ تو اللہ کو محمد پر رحم آیا اور محمد کی تسلی کیلئے یہ آیت نازل کی۔

وَمَا أَرْ‌سَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّ‌سُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّـهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّـهُ آيَاتِهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

ترجمہ: اور ہم نے آپ سے قبل بھی جتنے رسول اور پیغمبر بھیجے ان میں سے ہر ایک ﴿کے ساتھ یہ واقعہ ضرور پیش آیا کہ﴾ جب انہوں نے ﴿اللہ کے کلام کو﴾ پڑھا تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں اپنی جانب سے  الفاظ شامل کر دیئے، پھر اللہ شیطان کےشامل کئے ہوئے الفاظ کوتو ختم کر دیتا ہے اور آپنی آیات کوبرقرار رکھتا ہے اور اللہ تو بہت ہی خبر رکھنے والا اور سیانا ہے۔(سورۃ الحج 52)

(تاریخ طبری صفحہ  108-111)( تفسیر البغوی، تفسیر سورۃ الحج آیت 52 )

جواب :

1- کتاب تاریخ الرسول والملوک کے متعلق، جوکہ عموماً تاریخ الطبری کے نام سے بھی جانی جاتی ہے:

سب سے پہلے تو یہ جان لینا لازم ہے تاریخ الطبری حدیث کی کتاب نہیں ہے،  اسکی صداقت کا معیار کسی بھی حدیث کی کتاب سے کہیں نیچے ہے۔ درحقیقت یہ ان اوائل کتب میں سے ایک ہے جو رسولِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے متعلق خام معلومات فراہم کرتی ہے۔ اس میں  موجود سب کا سب لازم نہیں سچ ہی ہو۔ امام طبری نے خود اسکے مقدمہ میں اس بات کو قلم بند کیا ہے۔

“میں نے اس کتاب میں جو کچھ ذکر کیا ہے ا س میں میرا اعتماد اپنی اطلاعات اور راویوں کے بیان پر رہا ہے نہ کہ عقل و فکر کے نتائج پر ، کسی پڑھنے والے کو اگر میری جمع کردوں خبروں اور روایتوں میں کوئی چیز اس وجہ سے ناقابل فہم اور ناقابل قبول نظر آئے کہ نہ کوئی اسکی تک بیٹھتی ہے اور نہ کوئی معنی  بنتے ہیں تو اسے جاننا چاہیے کہ میں  نے  یہ  سب اپنی  طرف سے نہیں لکھا ہے بلکہ اگلوں سے جو بات مجھے  جس طرح پہنچی ہے  میں نے  اسی طرح آگے نقل کردی ہے”۔

(تاریخ الطبری، جلد اول، صفحہ ١٧)

طبری  نے جو سنا ہم تک پہنچا دیا اب اسکی اندرونی ، بیرونی اور عقلی جانچ پڑتال قارئین کے ذمہ ہے۔

2- اندرونی جانچ پڑتال:

اب ان الفاظ کو پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں جنکو کہانی کے مطابق اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مبینہ طور پر انکے تناظر کیساتھ پڑھےسورت النجم کی آیات ہیں  .

بھلا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا (۱۹) اور تیسرے منات کو (۲۰) (مشرکو!) کیا تمہارے لئے تو بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں (۲۱) یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے (۲۲) وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں۔ خدا نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ یہ لوگ محض ظن (فاسد) اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے (۲۳)

 (القران ٥٣:١٩-٢٣)

آیت  انیس اور بیس   کے بعد ان جملوں کو  مبینہ طور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ منسوب کیا گیا ہے؛.

 ” تلك الغرانيق العُلى ، وإن شفاعتهن لَتُرتَجَى “

‘یہ بہت عالی مقام غرانیق ہیں(اونچی اڑان اور گردن والے پرندے) جن کی شفاعت کو قبول کیا جائے گا’

کوئی بھی باسانی مشاہدہ کر سکتا ہے کہ یہ الفاظ کہیں بھی اس تناظر میں آیت میں  نہیں جڑتے بشرطیکہ انسان بددین نہ ہو۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پہلے مشرکین کی دیویوں کی تعریف کی جائے ، انکی اہمیت جتلائی جائے  اور پھر بالکل اگلی آیت میں انکی مذمت بھی کردی  جائے کہ تم عورتوں کو خدا سے منسوب کرتے ہو؟ پھر  اگرکہانی کو سچ مان بھی لیا جائے تو کیا مشرکینِ قریش اپنے ہوش میں نہیں تھے کہ وہ محمد کیساتھ محض اسلئے سجدہ ریز ہوئے کیونکہ محمد نے انکی دیویوں کی تعریف کی تھی؟ اس سے بڑھ کر فضول بات کیا ہو سکتی ہے؟ یہ حوالہ اگر ان مبینہ آیات کے ساتھ پڑھا جائے تو بےمعنی ہو جانا ہے۔

3- بیرونی جانچ پڑتال:

یہ واقعہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت کے پانچوں سال ہجرتِ حبشہ کے فوراً بعد پیش آیا۔ اور یہ  سورہ نجم  کی یہ آیات نازل ہوئیں۔ (تفہیم القران سورہ نمبر٥٣ ، ابو الاعلی مودودی)

اور سورہ اسراء  آیات ٧٣-٧٥، جن میں کہانی کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کونصیحت کی گئی، واضح طور پر واقع معراج کے بعد نازل ہوئی ہیں جو کہ اعلانِ نبوت کے بارہویں سال پیش آیا۔ (تفہیم القران سورہ نمبر ١٧، ابو الاعلی مودودی)

اور سورہ حج (٢٢-٥٢) جنکو کہانی میں بیان کیا گیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بعد میں تسلی دی گئی، ہجرت کے پہلے سال میں نازل ہوئیں۔ (تفہیم القران سورہ٢٢، ابو الاعلی مودودی)

اب اگر ہم اس تمام کہانی پر یقین کریں تو اسکا مطلب ہوگا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ نے اعلانِ نبوت کے بانچوں سال میں (معاز اللہ) بتوں کی عبادت کی اور چھ سال بعد اعلانِ نبوت کے بارہویں سال میں تسلی دی گئی اور جب اللہ کے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سب پر افسوس محسوس کیا تو انکو دوبارہ کوئی دواڑھائی سال بعد ہجرت کے پہلے سال میں پھر سے تسلی دی گئی۔!!

 کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی مضحکہ خیز بات ہو سکتی ہے؟ کیا یہ کسی بھی طرح ممکن ہے؟

دوبارہ یاد کرواتا چلوں کے امام طبری نے کتاب کے مقدمے میں  کیا لکھا ؛

“میں نے اس کتاب میں جو کچھ ذکر کیا ہے ا س میں میرا اعتماد اپنی اطلاعات اور راویوں کے بیان پر رہا ہے نہ کہ عقل و فکر کے نتائج پر ، کسی پڑھنے والے کو اگر میری جمع کردوں خبروں اور روایتوں میں کوئی چیز اس وجہ سے ناقابل فہم اور ناقابل قبول نظر آئے کہ نہ کوئی اسکی تک بیٹھتی ہے اور نہ کوئی معنی  بنتے ہیں تو اسے جاننا چاہیے کہ میں  نے  یہ  سب اپنی  طرف سے نہیں لکھا ہے بلکہ اگلوں سے جو بات مجھے  جس طرح پہنچی ہے  میں نے  اسی طرح آگے نقل کردی ہے”۔

(تاریخ الطبری، جلد اول، صفحہ ١٧)

4- درحقیقت ہوا کیا اور اس کہانی کو بیان کسطرح کیا گیا؟

دراصل ہوا وہی تھا جو مستند احادیث کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے جیسے کہ بخاری جہاں اسکو کچھ یوں بیان کیا گیا ہے؛

” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم میں سجدہ کیا تو مسلمانوں ، مشرکوں اور جن و انس سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا۔“

(صحیح البخاری ١٠٧١)

دراصل یہ قران کی وہ بلاغت اور خوبصورتی تھی جو اپنے کتاب الحق ہونے کی گواہی دے رہی تھی جس نے مشرکینِ مکہ کو خودبخود سورہ نجم کی آخری آیت (سجدہ) سننے پر زمین پر گرنے اور سجدہ کرنے پر مجبور کردیا۔

” تو خدا کے آگے سجدہ کرو اور (اسی کی) عبادت کرو“” (سورۃ النجم)

اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے اصحاب نے سجدہ کیا جیسا کہ انکو اس آیت میں حکم دیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد قریش کو احساس ہوا کہ وہ باعظمت قران سن کر سجدہ کر چکے تھے۔ اب اس شرمندگی کو چھپانے کیلئے انہوں نے یہ کہانی گھڑ لی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دراصل انکی دیویوں کے حق میں بولا تھا اس لیے وہ (سجدہ کیلئے) راضی ہوگئے۔ درحقیقت یہ وہ منافقت اور مکاری ہے جو اس من گھڑت کہانی کی اندرونی اور بیرونی جانچ پڑتال کے بعد واضح ہوجاتی ہے۔

5- مزید تنقید:

اٹھائے گئے یہ تمام نقاط اتنے قوی ہیں اور اتنے واضح ہیں  کہ انکی صداقت کیلئے  ہمیں روایات کے راویوں کی معتبریت کو دیکھنے کی ضرورت  ہی محسوس نہیں ہوتی  کیونکہ  بیان کی گئی کہانی کسی بھی  صورت حقیقت نہیں ہو سکتی بھلے کتنے ہی مضبوط راویوں کا سلسلہ کیوں نہ ہو۔ لیکن عیسائی مشنریز اور ملحدین کے ان ناقص حوالاجات کو ایک جھٹکا دینے کیلئے  جید علمائے  امت  کی ان روایات کے متعلق  رائے  بھی پیش کردیتے ہیں ۔

ابنِ کثیر کا کہنا ہے کہ؛ ’اس روایت کے تمام روابط غیرمستند ہیں اور میں نے کوئی بھی ایسی روایت متواصل روابط کیساتھ نہیں ڈھونڈ سکا۔‘(تفسیر ابنِ کثیر٥\٤٤٢-٤٤١)

الشوكاني لکھتے ہیں کہ؛ ’اس میں کچھ بھی حقیقت نہیں ہے اور کوئی بھی اسکے روابط ثابت نہیں ہوتے۔‘(فتح القدیر ٥\١٢٨)

ابنِ جوزی لکھتے ہیں؛ ’یہ درست نہیں ہے۔‘( ذاد المیسر ٤\٣٩١)

جب خزیمه سے اسکے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، ”یہ کہانی زنداقہ نے گھڑی ہے۔“(تفسیرالرازی ١١\١٣٤)

البيهقي کہتے ہیں؛ ”یہ کہانی قواعد التقارير سے ثابت نہیں ہے۔“(تفسیر الرازی ١١\١٣٥)

قاضي عياض کہتے ہیں؛ ”یہی حقیقت کہ یہ روایت نہ ہی مستند احادیث میں جمع کی گئی اور نہ ہی کسی مستند طریقے سے مستند راوی رکھتی ہے، اسکے ضعیف ہونے کیلئے کافی ہے۔“(الشفا ٢\١٢٥)

انکے علاوہ، امام راضی (انکی تفسیر ١١/١٣٥)، قاضی ابوبکر ابن العربی (الشفاء ٢/١٢٦)، الوسی (اپنی تفسیر ١٣/٩٩) میں سرے سے ہی اس کہانی کی تردید کرچکے ہیں۔

6- اس کہانی کی باقی دو آیات کا جائزہ:

کسی کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوسکتا ہے کہ باقی دو آیات  (سورۃ الاسراء  ، سورۃ الحج) پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں تنبیہہ کی گئی ۔آئیے اگلی دو آیات کا بھی جائزہ لیتے ہیں اور اشکالات کی جڑ ختم کرتے ہیں ۔

کہانی کے مطابق سورۃ 17 آیت نمبر 73 -75 میں نبی کریم کی مذمت  کی گئی ہے .

” اور یہ (کافر) لوگ آپ کو اس چیز سے بچلانے ہی لگے تھے جو ہم نے آپ پر وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہے تاکہ آپ اس کے سوا ہماری طرف غلط بات کی نسبت کریں اور ایسی حالت میں آپ کو گاڑھا دوست بنا لیتے۔ (۷۳) اور اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ بنایا ہوتا تو آپ ان کی طرف کچھ کچھ جھکنے کے قریب جا پہنچتے۔ (۷۴) (اور) اگرایسا ہوتا تو ہم آپ کوحالت حیات میں اور بعد موت کے دہرا عذاب چکھاتے پھر آپ ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار بھی نہ پاتے۔ (۷۵)”

یہ بات اس حقیقت کی نشاندہی کر تی کہ قریش نے آپ کو لالچ دینا چاہی تا کہ آپ انکے عقائد کے بابت کچھ نرمی برتیں ۔اسی طرح کی کوشش وہ پہلے بھی حضور کے پاس وفد بھیج کر کر چکے تھے جس پر انکو دو ٹوک جواب ملا تھا کہ” اگر وہ میرے داہنے ہاتھ پر سورج اور باہنے ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں تو بھی میں اپنے موقف سے رستبردار نہیں ہوں گا” .

اگر آپ انکی چال میں آ جاتے تو  آپ کو  دہرا عذاب چکھاتے اور ایک اور اہم بات فرمائی گئی کہ” اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ بنایا ہوتا تو آپ ان کی طرف کچھ کچھ جھکنے کے قریب جا پہنچتے “یہ آیت اس بات کی نفی کرتی ہے کہ آپ کا جھکاو انکی طرف ہوا یہاں سمجھنے کے لئے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آپ  اللہ  کی مدد سےکبھی  کسی کے  بہلاوے میں نہیں آئے اور اپنے موقف پر قائم رہے.

مزید برآں اس من گھڑت کہانی کے مطابق جب اللہ تعالیٰ نے نے آپکی مزمت کی تو آپ مغموم ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے سورہ الحج میں آپکی دلجوئی کی.

“اور اے محمدؐ، تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے نہ نبی (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ) جب اُس نے تمنّا کی، شیطان اس کی تمنّا میں خلل انداز ہو گیا اِس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں کرتا ہے اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کر دیتا ہے، اللہ علیم ہے اور حکیم”( سورۃ الحج آیت 52)

یہاں عربی کا  حاص لفظ  “تمنا ” ﺍستعمال ہوا ہے جس کے بارے میں مولانا مودودی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے ” تمنّٰی کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک معنی تو وہی ہیں جو اُردو میں لفظ تمنّا کے ہیں، یعنی کسی چیز کی خواہش اور آرزو۔ دوسرے معنی تلاوت کے ہیں، یعنی کسی چیز کو پڑھنا۔

”تمنّا“   کا لفظ اگر  پہلےمعنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ شیطان نے اس کی آرزو پوری ہونے میں رخنے ڈالے اور رکاوٹیں پیدا کیں۔ دوسرے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ جب بھی اُس نے کلامِ الہٰی لوگوں کو سنایا ، شیطان نے اس کے بارے میں طرح طرح کے شبہے اور اعتراضات پیدا کیے، عجیب عجیب معنی اس کو پہنائے ، اور ایک صحیح مطلب کے سوا ہر طرح کے اُلٹے سیدھے مطلب لوگوں کو سمجھائے۔

پہلے معنی کے لحاظ سے  اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شیطان کی خلل اندازیوں کے باوجود آخر کار نبی کی تمنا کو(آخری نبی کی تمنا اس کےسوا کیا ہو سکتی ہے کہ اس کی مساعی بار آور ہوں اور اس کا مشن فروغ پائے) پورا کرتا ہے اور اپنی آیات کو (یعنی ان وعدوں کو جو اس نے نبی سے کیے تھے) پختہ اور اٹل وعدے ثابت کر دیتا ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ نکلتا ہے کہ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات و اعتراضات کو اللہ رفع کر دیتا ہے اورایک آیت کے بارے میں جو الجھنیں وہ لوگوں کے ذہنوں میں ڈالتا ہے انہیں بعد کی کسی واضح تر آیت سے صاف کر دیا جاتا ہے۔

 ان سےبھی   یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان آیات کا اس کہانی سے کوئی تعلق نہیں۔

خلاصہ :

مندرجہ بالا تمام نکات یہ ثابت کر تے ہیں یہ کہانی قطعی طور پر بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ پہلے بھی کئی لوگوں نے اسے تحریر کیا لیکن انہوں نے اسکی قبولیت کو اس کے اندرونی اور بیرونی  ، عقلی   جانچ پڑتال اور تنقیدی جائزے سے مشروط رکھا  ۔ اوپر ہم نے اسی انداز میں  اس قصے کا جائزہ پیش کیا ہے جس سے یہ واضح طورپر ثابت ہورہا ہے کہ یہ واقعہ من گھڑت اور بے بنیاد ہے۔

تحریر وقار اکبر چیمہ

قصہ غرانیق اور حافظ ابن حجر ؒ کی رائے کا جائزہ:

ملحدین و مستشرقین  غرانیق  کے واقعہ کے ضمن میں حافظ ابن حجرؒ کے قول کو پیش کرتے ہیں کہ  کثرت طرق سے واقعہ کا وجود اصل ثابت ہوتا ہے  اور حافظ ابن حجر نے  باقی روایات کی تضعیف کرتے ہوئے اثبات میں مرسل روایات کو پیش کیاہے”

 آئندہ آنے والی سطور میں صر ف اس بات کا جائزہ لیاجائے گا کہ ملحدین غرانیق  کے واقعہ کے ضمن میں حافظ ابن حجرؒ کے قول سے استدلال کرتے ہیں

 اس قصہ کی اسناد پر کئی علماء نے رد کیا اور اس واقعہ کی اسناد کو ضعیف قراردیا جبکہ  حافظ ابن حجرؒ نے ان پر رد کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ کثرت طرق سے واقعہ کا وجود واصل ثابت ہوتی ہے، اور باقی روایات کی تضعیف کرتے ہوئے اثبات میں مرسل روایات کو پیش کیا، یہی وہ مقام ہے جو ملحدین کے لئے قابل استدلا ل بن گیا لیکن یہ قاعدہ اتنا عام نہیں ہے کہ کثرت طرق سے کسی بھی  چیز کی کم از کم اصل ثابت ہو جاتی  ہو ۔ چنانچہ حافظ ا بن صلاح ؒ مقدمہ علوم حدیث ص 36/37 پر لکھتے ہیں ، جسکا خلاصہ پیش ہے:

” حدیث میں وارد ہر ضعف کثرت طرق سے دور نہیں ہوتا ۔ جو ضعف راوی کے حافظہ کی وجہ سے آیا ہو یا کسی مرسل روایت کا ضعف دوسری ایسی مرسل روایت سے آیا ہوجن کو کسی امام حافظ نے ذکر کیا ہو، یہ ضعف ایسے ہیں جو قلیل ہیں اوردوسرے طرق سے ذکر کرنے سے ختم ہوجاتےہیں۔اور کچھ ضعف ایسے ہیں جو کثرت طرق سے بھی ختم نہیں ہوتے جیسے کہ ایسا ضعف جو راوی پر تہمت کذب کی وجہ سے آیا ہو یا حدیث کے شاذ ہونے کی وجہ سے آیا ہو۔( مقدمہ علوم حدیث ص 36/37)

لہذا یہ معلوم ہو اکہ ہر ضعف کثرت طرق سے دور نہیں ہوتا ، توسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک مرسل روایت سے دوسری مرسل روایت کو تقویت مل سکتی ہے ؟ جیسا کہ حافظ ؒ نے دو مراسیل کو جمع کیا ہے: اس کے لئے دو باتوں کا جاننا ضروری ہے :

  1. ابن صلاح ؒ علوم حدیث میں لکھتے ہیں : مرسل روایت کا حکم حدیث ضعیف کا ہے ، الا یہ کسی دوسری صحیح وجہ سے وہ روایت آجائے۔۔۔۔۔۔۔اور ہم نے جو مذہب ذکر کیا ہے کہ مرسل روایت سے استدلال نہیں کیا جائے گا اوریہ ضعیف ہے، یہی مذہب جماہیر محدثین کا ہے اورانہوں نے اپنی تصانیف میں اسی کورائج کیا ہے۔( ص (58))
  2. دوسری یہ بات جاننا ضروری ہے کہ مرسل روایت سے محدثین کیوں استدلال کو صحیح نہیں سمجھے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں واسطہ(یعنی راوی جو ذکر نہیں ہوتا اس ) میں جہالت ہوتی ہے ،چنانچہ خطیب بغدادی (الکفایہ فی علم الروایہ: ص:287) پر لکھتے ہیں :

” مرسل غیر مقبول ہیں اور اس پر دلیل یہ ہے کہ اس میں راوی میں جہالت ہے ، اس جہالت کی وجہ سے اس کی عدالت کا علم نہیں ہوسکتا ، اور یہ بات پہلے بیان کردی کہ روایت کو صرف اسی سے قبول کیا جائے گا جس کی عدالت کا علم ہو، اس سے معلوم ہواکہ وہ (مرسل) مقبول نہیں ہے،اور یہ بھی کو جو راوی اس کو مرسل بیان کر رہا ہے ، اس کی تعدیل سے عدالت ثابت نہیں ہوگی ، اس کی بات تسلیم کرنا ضروری نہیں کیونکہ کسی غیر کے بتلانے سے عدالت ثابت نہیں ہوتی ۔

خود حافظ ابن حجر ؒ شرح نخبۃ الفکر (ص 17) میں حدیث مرسل کو مردود احادیث کی اقسام میں شمار کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

” اس کو مردود کی قسم میں محذوف (راوی) کے حال کی جہالت کی وجہ سے ذکر کیا ہے، کیونکہ اس میں بہت زیادہ احتمالات ہیں ہوسکتا ہےکہ محذوف صحابی ہو، ہو سکتا ہے تابعی ہو، پھر یہ بھی ہو سکتا ہے ضعیف ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے ثقہ ہو، پھر یہ بھی ممکن ہے کہ محذوف نے اس کو آگے کسی اور صحابی سے لیا ہو اوریہ بھی ہو سکتا ہے کسی اور تابعی سے لیا ہوا، بہرحال اس میں بہت زیادہ احتمالات ہیں۔۔۔۔اگر کسی تابعی کی یہ عادت معروف ہو کہ وہ کسی ثقہ کے علاوہ سے روایت نہیں کرتے تب بھی جمہور کا موقف یہ ہے کہ احتمال کی وجہ سے اس میں توقف کیا جائے گا۔(خلاصہ)

جب یہ بات مسلم ہوئی کہ حدیث مرسل مطلق مقبول نہیں ہوتی اور سبب اس کا محذوف راوی کی حالت کی جہالت ہے، لہذا یہ کہنا کہ ایک مرسل روایت کو دوسری مرسل روایت پہ تقویت ملتی ہے یہ مضبوط نہیں ، کیونکہ اس میں یہ احتمال موجود ہوتا ہے کہ ایک مرسل روایت کا راوی جس سے محذوف راوی سے روایت کرتا ہے دوسری مرسل روایت میں بھی اسی محذوف راوی سے روایت لی جار ہی ہو، اسی وجہ سے امام شافعیؒ نے دوسری مرسل روایت میں یہ شرط لگائی ہے کہ اس کے راوی پہلی مرسل روایت کی تابعی کے راویوں کے علاوہ ہوں،یہ شرط امام شافعیؒ کے علاوہ امام ابن تیمیہ ؒ نے بھی لگائی ہے ۔

اس بحث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مرسل احادیث کے بارے میں راجح بات یہ ہے کہ ان میں سے بعض مقبول ، بعض مردود اور بعض موقوف ہیں، لہذا جس کے بارے میں یہ معلوم ہو جائے کہ یہ صرف ثقہ سے مرسل کرتے ہیں تو اس راوی کی مراسیل مقبول ہونگی، اور جس کے بارے میں یہ بات معلوم ہو کہ یہ ثقہ اورغیر ثقہ دونوں طرح کے راویوں سے روایت کرتے ہیں اور ارسال ایسا ہو جس کا حال معلوم نہ ہوسکتا ہو، تو وہ مرسل موقوف ہونگی، ان دونوں قسموں کی مراسیل اگر ثقات کے مخالف ہوں تو وہ مردود ہوتی ہیں۔

 لہذا یہاں تک مرسل( جس کے طرق زیادہ ہوں )کے بارے میں خلاصہ یہ ہوا کہ ان سے استدلال سے دو باتیں مانع ہوتی ہیں

 : 1) ممکن ہے مراسیل میں ایک ہی محذوف راوی سے روایات مروی ہوں ۔

 2) راوی (محذوف)کثیر ہوں لیکن وہ سارے (سخت ) ضعیف ہوں ۔

 اب ان اصولوں کے بعد اگر اس قصہ کی تمام روایات کو دیکھا جائے تو یہ ساری کی ساری مرسل ہیں، سوائے حدیث ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیکن اس کے تما م طریق میں شدید قسم کاضعف ہے، ایسا ضعف ہے جو ان مراسیل سے بھی دورنہیں ہوسکتا۔

 لہذا اس وجہ سے ان روایات پر اعتماد اور ان سے استدلال بالکل باطل ہے حتی کے اس قصے کی تردید امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں کی ہے۔امام ابو بکر احمد بن الحسین البیھقی ؒ نے فرمایا کہ یہ قصہ نقل کے اعتبار سے ثابت نہیں ہے۔

 اس قصہ پر ابن العربی ؒاور قاضی عیاضؒ نے سخت رد کیا لیکن حافظ ابن حجر ؒ نے ان دو حضرات کی تردید میں جو بات پیش کی وہ قوی نہیں کیونکہ یہ مطلق ہے ہاں یہ ان لوگوں پر رد ہوسکتا ہے جو مطلق مراسیل کے مقبول ہونے کے منکر ہیں، جو لوگ مطلق مراسیل کے مقبول ہونے کے منکر نہیں ان پر یہ رد بھی نہیں، یہی وجہ ہے کہ امام ابن کثیرؒ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے :

“مفسرین نے یہاں پر غرانیق کا قصہ ذکر کیا ہے اور یہ کہ مہاجرینِ حبشہ کا قریش مکہ کو مسلمان سمجھ کر لوٹے کا ذکر کیاہے، لیکن اس کے طرق سارے مرسل ہیں میں نے اس کو کسی صحیح طریقہ سے مسند نہیں دیکھا”۔(تفسیر ابن کثیر ج :3، ص :229)

 اس عبارت سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ امام ابن کثیر ؒ کے سامنے اس واقعہ کی مراسیل موجود تھیں، اور وہ ایسی تھیں جو ایک دوسرے کے ضعف کو دور کر کے درست نہیں کرتی تھیں، اسی وجہ سے انہوں نے اس کی صحت کا انکار کیا ۔

 اگر ایک لمحے کے لئے یہ بات مان بھی لی جائے کہ حافظ ابن حجرؒ کی ذکر کردہ مراسیل درست ہیں اوراس واقعہ کی اصل ہے تو پھر حافظ ابن حجرؒ کی پیروی صرف یہاں تک ہی کیوں کی جاتی ہے ؟ اس کے بعد جو کچھ انہوں نے فرمایااس سے نظریں چرانا قطعا دیانت نہیں ، حافظ ابن حجرؒ خود فرماتے ہیں کہ جب یہ ثابت ہوگئیں تو اس کی تاویل واجب ہے۔ تو پھر اس واقعہ میں مختلف علماء کی مختلف توجیھات ذکر کرنے کے بعد ایک تاویل پر وہ اعتماد فرماتے ہیں اوراس کو بہترین تاویل فرماتے ہوئے اسے ہی راجح قرار دیتے ہیں، وہ تاویل یہ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے “تمنی” کی تفسیر”تلا” سے منقول ہے، لہذا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حافظ ابن حجر ؒ کے نزدیک شیطان نے نبی ﷺ کی زبان سے یہ کلمے نہیں پڑھائے تھے بلکہ آنحضرتﷺ کے سکتہ کے دوران اپنی زبان سے پڑھے تھے۔

اس سے یہ معلوم ہوا کہ اس واقعہ میں بنیادی اختلا فی جو بات ہے کہ شیطان نے نبی ﷺ(العیاذ باللہ) کی زبان سے یہ کلمات پڑھوائے تھے ، اس کو حافظ ابن حجرؒ بھی تسلیم نہیں کرتے ، اس لئے کہ حافظ ابن حجرؒ نے اس کا صراحتاً رد کیا ہے اور آنحضرت ﷺ کو اس سے منزہ قرار دیا ہے۔ اب جو حضرات حافظ ابن حجرؒ کی بات سے استدلال کرتے ہیں اگر ہم حافظ ابن حجرؒ کے اختیارکردو موقف کو علمی پیراہے میں نہ بھی ڈالیں اور علی سبیل التنزل ان کی بات کو تسلیم کرلیں تو جس بات کے ثبوت کے لئے وہ حافظ ابن حجرؒ کی پناہ گاہ میں آنا چاہتے ہیں حافظ ابن حجرؒ خود اس کا رد کرتے ہیں ۔لہذا منصفین کے لئے اس میں سمجھنے کے لئے کافی مواد ہے اور متعصبین سے معذرت ۔

گزشتہ تحریر میں اٹھائے گئے نقاط   ہی  اتنے قوی اور اتنے واضح ہیں  کہ انکی صداقت کیلئے  ہمیں روایات کے راویوں کی معتبریت کو دیکھنے کی ضرورت  ہی محسوس نہیں ہوتی  کیونکہ  بیان کی گئی کہانی کسی بھی  صورت حقیقت نہیں ہو سکتی بھلے کتنے ہی مضبوط راویوں کا سلسلہ کیوں نہ ہو۔ لیکن پھر بھی عیسائی مشنریز اور ملحدین کے  پیش کردہ  وساوس کے لیے  لیے گئے اس   آخری تنکے کے سہارے کو  ختم   کرنے کے لیے ہم نے  ابن حجر رحمہ اللہ کے موقف کا بھی تحقیقی جائزہ پیش  کیا ہے ۔

اس قصے کی استنادی حالت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کی تمام روایات میں یا تو ضعیف راوی ہیں ، یا راوی ثقہ ہیں ، لیکن سلسلہ سند متصل نہیں .. گویا محدثین نے کسی روایت کے صحیح ہونے کے لیے جو پانچ شروط مقرر کی ہیں ، وہ یہاں مفقود ہیں .  یہی وجہ ہے کہ  تمام جید علماء و مفسرین نے اس  قصہ اس قصے کا علمی محاکمہ  اور رد کیا ہے۔مثلا  أبو بكر محمد بن عبد الله بن محمد المعروف بابن العربي توفي سنة “542”، في تفسيره “أحكام القرآن”. 2- القاضي عياض بن موسى بن عياض “544” في كتابه “الشفا في حقوق المصطفى”. 3- فخر الدين محمد بن عمر بن الحسن الرازي “606” في تفسيره “مفاتيح الغيب: 6/193-197” وقد مضى بعض كلامه في ذلك. 4- محمد بن أحمد الأنصاري أبو عبد الله القرطبي في “أحكام القرآن: 12/80-84”. 5- محمد بن يوسف بن علي الكرماني من شرّاح “البخاري: 786″، وقد نقل كلامه في ذلك الحافظ في “الفتح: 8/498”. 6- محمود بن أحمد بدر الدين العيني “855” في “عمدة القاري: 9/47”. 7- محمد بن علي بن محمد اليمني الشوكاني “1250” في “فتح القدير: 3/247-248”. 8- السيد محمود أبو الفضل شهاب الدين الآلوسي “1270” في “روح المعاني: 17/160-169”. – صديق حسن خان أبو الطيب “1307” في تفسيره “فتح البيان”. 10- محمد عبده المصري الأستاذ الإمام “1323” في رسالة خاصة له في هذه القصة.

استفادہ کتاب: ” نصب المجانیق لنسف قصۃ الغرانیق ” از علامہ ناصر الدین البانیؒ ,تحقیقی ، جائزہ : محمد ابراھیم،

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *