قرآن کا اسلوبِ تکرار – ایک تحقیقی جائزہ

dd

قرآن میں تکرار کیوں ہے؟

قرآن کے ایک عام قاری کو اس کے مطالعہ کے دوران ایک الجھن یہ محسوس ہوتی ہے کہ اسے کتاب میں بظاہر کوئی منطقی ترتیب نظر نہیں آتی۔ قرآن کے صفحات میں وہ دیکھتا ہے کہ اعتقادی مسائل، اخلاقی ہدایات، شرعی احکام، دعوت و نصیحت، عبرت، تنقید و ملامت، تخویف و تبشیر، دلائل و شواہد، تاریخی قصے اور آثار کائنات وغیرہ کی طرف اشارے بارہا ایک دوسرے کے بعد آ رہے ہیں اور ایک ہی مضمون کو مختلف طریقوں سے مختلف الفاظ میں دوہرایا جا رہا ہے ۔۔۔!!
پہلے یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ قرآن کوئی فلسفیانہ کتاب نہیں ہے نہ وہ اس قسم کا تحقیقی مقالہ ہے جسے ایک ریسرچ اسکالر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے کے لیے تیار کرتا ہے بلکہ یہ ایک دعوت اور ایک تحریک ہے۔ جس کے مختلف مراحل اور تقاضوں کے مطابق اس کی آیات جستہ جستہ نازل ہوتی چلی گئی ہیں اور ہر مرحلے کی ضروری ہدایات اور احکامات نئے الفاظ، نئے اسلوب اور نئی آن بان سے نازل ہوتے رہے ہیں تاکہ ساری باتیں نہایت خوش گوار طریقے سے دلوں میں بیٹھ جائیں اور دعوت کی ایک ایک منزل اچھی طرح مستحکم ہوتی چلی جائے اور بنیادی عقائد اور اصول پہلے قدم سے آخری منزل تک کبھی نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائیں بلکہ ان کا اعادہ اور تکرار دعوت کے ہر مرحلے میں ہوتی رہے۔ ((مقدمہ تفہیم القرآن، سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ، یہی بات کسی قدر فرق کے ساتھ مصطفیٰ صادق رافعی نے بھی کہی ہے۔ دیکھیے تفصیل کے لیے: اعجاز القرآن و البلاغۃ النبویۃ 1969ء ص 200-219))
جو لوگ قرآن کے اس انداز سے ناواقف ہیں وہ اس کی ادبی نزاکتوں اور معنوی گہرائیوں تک نہیں پہنچ پاتے ، اسی لیے انہیں قرآن میں بس تکرار ہی تکرار نظر آتی ہے۔دی نیو انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا کا مصنف بھی اک قرآن کے اسلوب و معانی سے بے خبر مسلمان کی طرح یہ اعتراض پیش کرتا ہے :
“اس طرح قرآن اکثر یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ کسی قدر الل ٹپ انداز میں مرتب کیا گیا ہے (By a rather haphazard method of composition) اور اس احساس کو اس حقیقت سے مزید تقویت ملتی ہے کہ مختلف محبوب اور دل نشین جملے جیسے و لٰکن اللہ غفور رحیم، ان اللہ علیم حکیم، و لٰکن اکثر الناس لا یعلمون وغیرہ سیاق و سباق سے بہت کم تعلق رکھتے ہیں یا بالکل ہی متعلق نہیں ہوتے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھیں محض صوتی ہم آہنگی کے لیے مربوط کر دیا گیا ہے” (جلد 15 1977ء)

انسائیکلو پیڈیا اسلام سے متعلق اس طرح کی غلطیوں سے بھرا پڑا ہے ، انکے پیچھے جا بجا تعصب کارفرما تو ہے ہی یہ انکی اسلام اور قرآن سے جہالت کا بھی مظہر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن تکرارِ محض سے پاک ہے اور قرآن پر تدبر کرنے والے جانتے ہیں کہ مضامین کی یہ تکرار مختلف پیش و عقب اور لواحق و تضمنات کے ساتھ اس لیے ہوتی ہے تا کہ اس کی بات ہر طالب ہدایت کے ذہن نشین ہو جائے اور منکرین حق کے لیے قیل و قال کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ چند مثالیں پیش ہیں ۔

سورۃ رحمٰن :
اس سورت کو پڑھیے اور مندرجہ ذیل آیت کی ترجیع پر غور کیجیے۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ (13)
تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
یہاں آپ دیکھیں گے کہ اس سورۃ کی ایک ایک ترجیع اپنے محل میں اس طرح جڑی ہوئی ہے جس طرح انگشتری میں نگینہ ہوتا ہے۔ یہاں منکرینِ حق کو ایک نئے اور اچھوتے اسلوب میں یہ سمجھایا ہے کہ یہ اللہ کی رحمانیت ہے کہ اس نے تمہاری تعلیم کے لیے قرآن اتارا۔ تمہاری فطرت کا تقاضا یہ تھا کہ اس پر لبیک کہتے اور عذاب کے ڈنڈے کا انتظار کرنے کے بجائے اس اسے ہدایت حاصل کرتے لیکن یہ تمہاری بد بختی ہے کہ تم اس نعمت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے کوئی نئی نشانی دیکھنے کے لیے مچل رہے ہو۔ اگر کوئی نشانی ہی مطلوب ہے تو آسمان و زمین اور آفاق و انفس کی نشانیوں پر کیوں غور نہیں کرتے جو ہر روز تمہارے مشاہدے میں آتی ہیں اور تمہیں انہی حقائق کا درس دیتی ہیں جن کی دعوت قرآن دے رہا ہے۔ ان نشانیوں کی موجودگی میں کسی نئی نشانی کی کیا ضرورت ہے؟ اس کے بعد آسمان و زمین کی ایک ایک نشانی پر انگلی رکھ کر توجہ دلائی ہے کہ یہ نشانیاں نہیں ہیں تو کیا ہیں، آخر اپنے رب کی کن کن نشانیوں کو جھٹلاتے رہو گے؟
مثال کے طور پر اس سورہ کی پہلی ترجیع منعم کی شکر گزاری اور اس کے حقوق کی ادائیگی پر ابھارتی ہے اور جو لوگ تکذیب پر تلے ہوئے ہیں ان کی سرزنش کرتی ہے کہ ہر قدم پر تمہارے سامنے تمہارے رب کی وہ نعمتیں موجود ہیں جو تمہیں مسئولیت کا احساس دلا رہی ہیں لیکن تم انکار کیے جا رہے ہو تو اس کی کن کن عنایتوں کی تکذیب کرو گے؟
دوسری ترجیع میں (14-16) انسانی خلقت کے مختلف مراحل سے جزا و سزا پر استدلال کیا گیا ہے کہ جس طرح اس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا اسی طرح دوبارہ پیدا کرے گا۔ تم اپنی خلقت اول کی تردید اور انکار نہیں کر سکتے اسی طرح خلقت ثانی سے انکار کی بھی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔
تیسری ترجیع میں (17-18) خدا کی عظمت و شان کے حوالے سے دلیل فراہم کی گئی ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ جس خدا کی عظمت و شان کا حال یہ ہے کہ مشرق و مغرب سب اس کے زیرنگیں ہیں اگر اس کے انذار کو ہوائی سمجھتے ہو تو آخر اس کی کن کن نعمتوں کا انکار کرو گے؟
چوتھی ترجیع اضداد کے توافق کے پہلو سے توحید کی دلیل فراہم کر رہی ہے اور منکرین کو متنبہ کر رہی ہے کہ اگر ان روشن شواہد کے بعد بھی تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے دیوی دیوتا خدا کی پکڑ سے تم کو بچا لیں گے ؟ آخر اپنے رب کی کن کن نشانیوں کو جھٹلاؤ گے؟ اس طرح پوری سورۃ میں ہر ترجیع اپنے موقع و محل میں فٹ ہے اور ہر نئی دلیل کے بعد تذکیر و تنبیہ اور سرزنش کر رہی ہے۔

سورۃ مرسلات :
اس میں مندرجہ ذیل آیت دس بار وارد ہوئی ہے:
وَيۡلٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ (15) تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی۔
یہاں خطاب ان ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں سے ہے جو ایک واضح حقیقت کو محض انانیت اور مکابرت کی وجہ سے جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے کان اور آنکھیں کھولنے کے لیے ضروری تھا کہ صرف دلائل بیان کرنے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ہر دلیل کے بعد بطور تنبیہ ان کے جرم اور انجام سے ان کو آگاہ بھی کر دیا جائے۔ اگر مخاطب کے اس مزاج کی رعایت نہ رکھی جائے تو جس طرح مریض کے مزاج سے ناواقف معالج کی دوا بے اثر ہو جاتی ہے اسی طرح مخاطب کے مزاج سے ناواقف معالج کی دوا بے اثر ہو کر رہ جاتی ہے اسی طرح مخاطب کے مزاج سے ناآشنائی کی وجہ سے نعوذبالل کلامِ خداوندی بھی بے اثر ہو کر رہ جاتا۔ اس سورۃ میں ہر دلیل کے بعد اس مختصر ترین جملے کے ذریعہ منکرینِ آخرت کو زبردست دھمکی دی ہے۔ اس اختصار و ابہام کے اندر جو ہولناکی مضمر ہے وہ بڑی سے بڑی تفصیل کے اندر بھی نہیں سما سکتی۔ (دیکھیے تفسیر ابن کثیر 460/4 (عیسٰی الحلبی ایڈیشن) سید قطب، فی ظلال القرآن 234/29
اس سورۃ میں پہلی ترجیع فطرت کے عام احوال و معاملات سے استدلال کے لیے استعمال کی گئی ہے پہلے ہواؤں کے تصرفات سے استدلال کیا ہے کہ منکرینِ حق کو اپنی قوت و سطوت پر ناز نہ ہونا چاہیے اللہ عذاب لانا چاہے تو اسے کوئی بڑا اہتمام نہیں کرنا ہے۔ ہوا جو بارش لاتی ہے، اسی میں ذرا سے تصرف سے چشم زدن میں انسانی آبادی کا نام و نشان مٹ سکتا ہے۔ پھر قیامت کے ہلچل کی تصویر بیان کی ہے اور آخر میں ترجیع کے بند کے ذریعہ منکرین و مکذبین کو ان کے انجام سے بھی ڈرایا گیا ہے۔ اس کے بعد کلام نے اپنا رخ بدل دیا ہے اور آفاق سے استدلال کرتے ہوئے گزرے ہوئے واقعات، تاریخ کے آثار اور آزمائی ہوئی سنت اللہ سے شہادت پیش کی گئی ہے۔ اور پچھلی قوموں کی تباہی و ہولناکی بیان کر کے ترجیع کی آیت دوبارہ لا کر منکرینِ حق کو ان کے اپنے انجام سے ڈرا دیا گیا ہے۔
اس کے بعد انفسی دلیل دی گئی ہے۔ اور انسان کی خلقت کے مختلف مراحل بیان کر کے منکرین کو دعوتِ فکر دی گئی ہے اس کے بعد وہی آیت ترجیع ہے اور اس کا موقع یہ ہے کہ دوبارہ پیدا کیے جانے پر جو شبہات وارد کیے جا رہے ہیں ان کی تردید کے لیے تو خود ان کی خلقت ہی کافی ہے۔ ایک دن وہ اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور وہ جھٹلانے والوں کے لیے بڑی خرابی کا دن ہو گا۔
پھر کائنات سے استدلال کیا گیا ہے اور انسان کی پرورش و پرداخت کے اہتمام کے ذریعہ جزا و سزا پر دلیل فراہم کی گئی ہے اور پھر آیت ترجیع۔ اس طرح پوری سورہ میں ہر جگہ ترجیع کی یہ آیت خاص مفہوم رکھتی ہے۔

سورہ قمر :
سورۃ قمر میں مندرجہ ذیل دو آیات ٹیپ کے بند کے طور پر ہر سرگزشت کے بعد بار بار آئی ہیں:
فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِىۡ وَنُذُرِ O وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ O (16-17)
“پس میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا اور ہم نے قرآن کو تذکیر کے لیے آسان کر دیا ہے تو ہے کوئی یاد دہانی حاصل کرنے والا؟”
ان آیات کے بار بار وارد ہونے سے کس کے ذہن میں یہ بات آ سکتی ہے کہ یہ تکرارِ محض ہے حالانکہ موقع و محل پر غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آ سکتی ہے کہ ہر سرگزشت کے بعد ان آیات کا تذکرہ اس لیے کیا گیا ہے تا کہ مخاطب بیدار ہو جائے، سرگزشت سے نصیحت حاصل کرے اور قرآن کے مقصد نزول پر اس کی نگاہ جمی رہے۔
مثال کے طور پر اسی سورۃ میں قومِ نوح کے عبرتناک انجام کی تاریخ دوہرائی گئی ہے اور جہاں یہ داستان ختم ہوئی وہیں یہ آیت فٹ کر دی گئی۔ اسی طرح قومِ عاد کی تکذیب اور اس کے نتیجے میں ان کی تباہی پر تبصرہ کیا گیا اور آخر میں بطور ترجیع یہ آیت پھر دوہرا دی گئی (22،21)۔ اسی طرح قومِ ثمود، قومِ لوط وغیرہ کا تذکرہ ہوا ہے اور اس کے بعد ہی یہ آیت آ گئی ہے جو تنبیہ و تذکیر کے لیے نہایت موزوں ہے۔
اس آیت سے پہلے یہ بات ارشاد ہوئی ہے کہ پیغمبر جس عذاب سے تمہیں آگاہ کر رہے ہیں وہ ایک امر شدنی ہے۔ آفاق و انفس سب اس کے گواہ ہیں۔ سولوں اور ان کی قوموں کی تاریخ اس کی شاہد ہے لیکن تم مچل رہے ہو کہ جب اس عذاب کی نشانی دیکھ لو گے تب مانو گے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لیے قرآن اتارا ہے جو ہر پہلو سے اس مقصد کے لیے جملہ جوازم سے آراستہ ہے تو آخر اس عظیم نعمت سے کیوں فائدہ نہیں اٹھاتے، عذاب کے تازیانے ہی کے لیے کیوں بے قرار ہو؟(زمحشری، الکشاف جلد 4 ص349، سن طباعت 1953)

انبیاءؑکے قصوں کی تکرار:

قران پاک میں پچھلے انبیاء اور ان کی قوموں کی بھی اسی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں، ان میں بڑا سامان عبرت موجود ہے بشرطیکہ آدمی عقل سے کام لے اور ان سرگزشتوں کو محض دوسروں کی حکایت یا داستان نا سمجھے بلکہ ان سے خود اپنی زندگی درست کرنے کیلئے سبق حاصل کرے چنانچہ قران کا دعوی کے ان واقعات میں عقلمندوں کے لئے عبرت اور نصیحت ہے
– لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ۗ (یوسف 111) ترجمہ۔( ان انبیاء کے سرگزشتوں میں اہل عقل کیلئے بڑا سامان عبرت موجود ہے )
یہ واقعات قران پاک میں بار بار اور ایک سے زائد جگہوں پر بیان ہوئے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان واقعات کا مقصد محض تذکیر و یاد دہانی ہے یا اس کی کچھ اور حکمتیں بھی ہیں عملاء نے ان واقعات کے متعد فوائد گنائے ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں

1..اس تکرار سے قران کی اعلی درجے کی بلاغت اور انسانی طاقت سے ماروا فصاحت کا اظہار ہوتا ہے قران میں جس کسی قصے کی بھی تکرار ہوئی ہے ہر جگہ اسلوب بدلا ہوا ہے _ الفاظ مختلف ہیں سیاق و سباق جدا ہیں اور قصے کے صرف انہی پہلوؤں پر بحث سے گئی ہے جو اس مقام پر ضروری محسوس ہوتے ہیں بقیہ اجزء سے یا تو صرف نظر کیا گیا گیا ہے یا ان کی طرف اشارات کر دیے گئے ہیں اس سے قران پاک کا اعجاز کھل کر سامنے آجاتا ہے _ جو قرانی ادب کے مقاصد میں تو نہیں لیکن اس کے لوازم میں ضرور شامل ہیں _ !
2. ان تکرار سے جن معانی کو ذہن نشین کرنا مقصود ہوتا ہے وہ اچھی طرح ذہن و دماغ میں رچ بس جانے ہیں _ کیونکہ تکرار سے تاکید و توضیح کا فائدہ حاصل ہوتا ہے _ !
3.ایک ہی قصہ کو اس کے مختلف مقامات کے تقابل کے ساتھ دیکھا جائے تو اسکو اچھی طرح محسوس کیا جاسکتا ہے کہ اگر کسی مقام پر واقعہ کے ایک پہلو کو نمایاں کرکے بیان کیا گیا ہے تو دوسرے مقام پر اس کے کسی دوسرے پہلو کو .گویا سابقہ آیات کے سیاق وسباق میں واقعہ کے کسی خاص پہلو پر زور دینا مقصود ہوتا ہے کیونکہ جس طرح ایک دلیل مختلف دعوؤں کو ثابت کرتی ہے اسی طرح ایک قصے سے مختلف نتائج مستنبط ہوتے ہیں اور متعدد موقعوں پر ان سے استشہاد کیا جاتا ہے _ اسی لئےئان قصوں کے اعادہ سے مختلف نتائج پیدا ہوتے ہیں۔(مقالات سلیمان جلد سوم صفحہ 68)
سید قطب شہید قرآن کے واقعات کے تکرار پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں :” یہ بات قابل غور ہے کہ پورے واقعہ کو نہیں بلکہ اسکی بعض کڑیوں کو مکرر سہ کرر لایا جاتا ہے۔ خصوصا ان کڑیوں کو جن میں عبرت و موعظت پر مشتمل مواد مذکور ہوتا ہے۔ جہاں تک پورے واقعہ کو دوہرانے کا تعلق ہے تو ایسا قرآن میں شاذو ناذر ہی ہوا ہے اور وہ بھی خاص وجوہ و اسباب اور سیاق و سباق کی مناسبات کی بنا ء پر ۔ چنانچہ جب قاری واقعہ کی مکرر لائی گئی کڑیوں کا مطالعہ کرتا ہے اور ساتھ اس کے سیاق و سباق پر نگاہ ڈالتا ہے تو انکو مکمل طور پر اس واقعہ سے ہم آہنگ پاتا ہے وہ محسوس کرتا ہے جس کڑی کو جہاں کہیں بھی لایا گیا ہے اور اسکے جو اسلوب بیاں بھی اختیار کیا گیا ہے وہ بالکل درست ہے۔ اس بات کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بنیادی طور پر قرآن کتاب دعوت ہے اس لیے واقعہ کی جو کڑی ذکر کی گئی ان دونوں میں کامل یک رنگی اور ہم آہنگی کا ہونا قرآن کا اولین مقصد ہے اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے مگر واقعہ کا فنی پہلو اس سے متاثر نہیں ہوپاتا۔( قرآن کے فنی محاسن صفحہ 22)

سورہ شعراء
سورہ شعراء میں ہر نبی کے تذکرے کے بعد بطور ترجیع آٹھ بار یہ آیات وارد ہوئی ہیں:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ O وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ O (8-9)
یہاں ہر سرگزشت کے بعد ان آیات کے دوہرانے کا مقصد یہ ہے کہ منکرین نبوت کو تنبیہ کی جائے اور ہر واقعہ یاد دلا کر یہ حقیقت ان کے ذہنوں میں بٹھا دی جائے کہ رسولوں اور ان کے مکذبین کی تاریخ اور اس باب میں سنت الٰہی وہ ہے جو بیان ہوئی ہے اس لیے ان لوگوں کی تقلید کرنے سے بچیں جو خدا کے عذاب میں گرفتار ہوئے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان سرکشوں کو جب چاہے پکڑ سکتا ہے وہ عزیز ہے لیکن وہ ان کو توبہ و اصلاح کے لیے مہلت دیتا ہے اس لیے کہ وہ رحیم بھی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے، حمودہ عبدالوہاب، القرآن و علم النفس 1962ء ص 95-108

سورۃ یونس اور سورۃ زمر
اسی طرح انسان کی ناشکری اور کفران نعمت پر قرآن میں باربار تعجب اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے لیکن ہر جگہ ایک نیا مفہوم، جدید اسلوب اور اچھوتا طرز بیان ہے جو مقصد کی توضیح کے لیے نئے نئے گوشوں اور سمتوں کو اجاگر کرتا ہے، مثال کے طور پر سورۃ یونس اور سورۃ زمر کی دو آیات کا تقابل کیجیے اور دیکھیے کہ تکرار کے اس اسلوب نے کیا کیا جدتیں پیدا کی ہیں اور دونوں میں کس قدر فرق موجود ہے:
سورہ یونس میں فرمایا:
وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَنْ لَمْ يَدْعُنَا إِلَى ضُرٍّ مَسَّهُ كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (12)
“اور انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کو کوئی تکلیف پہونچتی ہے تب تو لیٹے بیٹھے یا کھڑے ہم کو پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف کو دور کر دیتے ہیں تو اس طرح چل دیتا ہے گویا کسی تکلیف کے لیے جو اس کی پہونچی، اس نے ہم کو پکارا ہی نہیں تھا۔ اسی طرح حدود سے تجاوز کرنے والوں کی نگاہوں میں ان کے اعمال کھبا دیے گئے ہیں”
یہ مضمون سورہ زمر میں اس طرح بیان ہوا ہے:
وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَنْدَادًا لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِهِ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ (8)
“اور جب انسان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے اس کی طرف متوجہ ہو کر، پھر جب وہ اپنی طرف سے اس کو فضل بخش دیتا ہے تو وہ اس چیز کو بھول جاتا ہے جس کے لیے پہلے پکارتا رہا تھا اور اللہ کے شریک ٹھہرانے لگتا ہے کہ اس کی راہ سے لوگوں کو گمراہ کے۔ کہدو اپنے کفر کے ساتھ کچھ دن بہرہ مند ہو لو، تم دوزخ والوں میں سے بننے والے ہو۔
یہ دونوں آیات ایک ہی مضمون کو بیان کرنے کے لیے وارد ہوئی ہیں اور بظاہر ان میں تکرار ہے لیکن مندرجہ ذیل نکات پر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ دونوں میں لفظی و معنوی اعتبار سے کتنا فرق ہے:
1۔ سورہ یونس کی مندرجہ بالا آیت اس آیت کے بعد واقع ہوئی ہے۔
وَلَوْ يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ
“اگر اللہ لوگوں کے لیے عذاب کے معاملے میں ویسی ہی سبقت کرنے والا ہوتا جس طرح وہ ان کے ساتھ رحمت میں سبقت کرتا ہے تو ان کی مدت تمام کر دی گئی ہوتی”۔
پھر گفتگو کا رخ اس جانب مڑ گیا ہے کہ عذاب کے لیے جلدی مچانے کا معاملہ تو دور کی بات ہے خود مطالبہء عذاب انسان کی طبیعت اور اس کے مزاج کے خلاف ہے کیونکہ جب اسے تکلیف لاحق ہوتی ہے اور وہ پریشانیوں میں گھر جاتا ہے تو اپنے خدا ہی کو پکارتا ہے۔ اس لیے جو لوگ عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں وہ اپنے مطالبے میں صادق نہیں ہیں کیونکہ یہ ان کی فطرتِ تخلیق کے خلاف ہے۔
اس کے بالمقابل آخر الذکر آیت کا موقع و محل الگ ہے۔ یہاں زیربحث آیت مندرجہ ذیل آیت کے بعد وارد ہوئی ہے:
إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ مَرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (7)
“اگر تم ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری کا رویہ پسند نہیں کرتا اور اگر اس کے شکر گزار رہو گے تو اس کو پسند کرے گا اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی پھر تمہارے رب ہی کی طرف تمہاری واپسی ہے تو وہ تمہیں ان کاموں سے آگاہ کرے گا جو تم کرتے رہے ہو۔ وہ سینوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے۔
یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے کفر و شرک سے بے نیاز ہے وہ تمہارا محتاج نہیں ہے بلکہ تمہی اس کے محتاج ہو اگر تم اس کے شکر گزار رہو گے تو وہ اس کو پسند فرمائے گا اور اگر ناشکری کرو گے تو اس کا نتیجہ بھی دیکھ لو گے لیکن جب تمہیں کوئی مصیبت پہونچتی ہے تب تو بڑے تضرع اور انابت کے ساتھ خدا سے فریاد کرتے ہو لیکن جب خدا اپنے فضل سے اس مصیبت کو دور کر دیتا ہے تو مصیبت کو بھول کر خدا کے بخشے ہوئے فضل میں دوسروں کو شامل کر لیتے ہو اس لیے کہ تم کو خدا پر یقین نہیں ہے آخرت کی جوابدہی کا احساس ختم ہو چکا ہے اگر تمہیں آخرت کا خوف ہوتا تو تم اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتے اور اس کی خدائی میں کسی کو شریک نہ ٹھہراتے۔
یعنی پہلی آیت میں انسانی فطرت کے مزاج اور اس کی خصوصیات کی طرف نشاندہی کر کے مطالبہء عذاب کی تردید کی گئی ہے اور سورہ زمر میں آخرت اور قیامت پر ایمان اور احساس کو اجاگر کیا گیا ہے۔
2۔ پہلی آیت میں دَعَانَا کے الفاظ ہیں جبکہ دوسری آیت میں دَعَا رَبَّهُ کے کلمات ہیں۔ یہاں رَبَّهُ کے ذریعہ یہ معنویت پیدا ہو گئی ہے کہ خود انسان کی فطرت میں اپنے رب کا شعور موجود ہے اور جب وہ غیر اللہ کو شریک کرتا ہے تو گویا اپنی فطرت سے بغاوت کرتا ہے۔
3۔ پہلی آیت میں انسان سے مراد اس کی جنس ہے یعنی یہ مزاج اور طبیعت ہر انسان کے اندر ودیعت ہے لیکن سورہ زمر میں انسان سے مراد اس جنس کی ایک خاص نوع ہے یعنی کافروں کو مراد لیا گیا ہے کیونکہ معًا بعد جَعَلَ لِلَّهِ أَنْدَادًا کا جملہ موجود ہے جو اس امر کی دلیل ہے کہ یہاں انسان سے مراد عام انسان نہیں ہیں۔
4۔ سورہ یونس والی آیت میں صرف “کشف ضر” یعنی تکلیف دور کرنے کا تذکرہ ہے لیکن سورہ زمر کی آیت میں اس سے آگے بڑھ کر “تخویل نعمت” یعنی مزید نعمت عطا کرنے کا بیان ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کفار و مشرکین کی ہٹ دھرمی اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اس کی مصیبت دور کر دیتا ہے اور انہیں مزید انعامات سے نوازتا بھی ہے تب بھی ان کو ہوش نہیں آتا اور شرک پر ان کا اصرار باقی رہتا ہے۔
5۔ پہلی آیت میں لَمَّا کا جواب اس بیان پر مشتمل ہے کہ وہ مصیبتوں سے نکالنے کے بعد پھر دنیوی چلت پھرت اور مادی دوڑ بھاگ میں مشغول ہو جاتا ہے اور اس سنت الٰہی سے غافل ہو جاتا ہے جو ہر خیر و شر کے پیچھے کارفرما ہوتی ہے لیکن دوسری آیت میں اذا کے جواب میں دو چیزیں بیان ہوئی ہیں ایک تو تکلیف کو بھول جانا اور دوسرے اپنے رب کو فراموش کر دینا اور اس کے ساتھ غیروں کو شریک ٹھہرانا۔
6۔ پہلی آیت میں صرف اس امر کا تذکرہ ہے کہ یہ شیطان کی تزئین اور ملمع کاری ہے لیکن دوسری آیت میں نہایت واشگاف انداز میں تہدید ہے۔ دھمکی دی جا رہی ہے کہ اپنے کفر سے چند روز اور متمتع ہو لو۔ آخر کار تمہیں جہنم کا ایندھن بننا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: العماری محمد حسن، القرآن و الطبائع النفسیۃ 1966ء ص 38)
اسی طرح سوہ اعراف اور سورہ نساء کی دو متشابہ المعنی آیات کا تقابلی مطالعہ ہے جس میں بنی اسرائیل کے تئیں رفع جبل کا تذکرہ ہے اور دکھایا ہے کہ کس طرح ذرا ذرا سی لغوی ترمیم اور تھوڑے سے اسلوب کے تغیر کے ساتھ مفہوم کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے۔
اس طرح جو چیز بھی تکرارِ محض معلوم ہو رہی تھی وہ بہت سے نئے معانی کی تاسیس و تفہیم کا ذریعہ بن گئی گر چہ دونوں آیات کا بنیادی مفہوم ایک ہی ہے۔ اسی طرح قرآن کی تمام آیات جن میں بظاہر تکرار ہے کا باہم تقابل کیا جا سکتا ہے۔

جاہلی شعراء اس اسلوب سے مانوس تھے :

نزول قرآن سے پہلے جاہلی ادب میں یہ تکرار کا اسلوب بکثرت استعمال ہوتا تھا۔ عرب شعرا اس اسلوب سے نہ صرف آشنا تھے بلکہ اپنے کلام میں حسب ضرورت اسے جگہ دیتے تھے۔ مثال کے طور پر عبید بن الابرص الاسدی (555ء) کہتا ہے:
نحمي حقيقتنا وبعضُ القومِ يسقط بينَ بينا
هلا سألت جموع كندة اذ تولوا این اینا
“ ہم اپنی حقیقت کی حفاظت کرتے ہیں جبکہ بعض قومیں کمزور اور بزدل ثابت ہوتی ہیں۔ تم نے کیوں نہیں کندہ کے فوجیوں سے پوچھا جبکہ وہ پیچھے ہٹ رہے تھے کہ بھگوڑو کہاں بھاگے جا رہے ہو؟”
(دیوان عبید بن الابرص، بیروت 1958ء ص: 2-141/ ابن الشجری، مختارات بتحقیق محمد حسن زناتی 1935ء ص:39، کتاب الضاعتین ص 144/ ابن قتیبہ، تاویل مشکل القرآن 1373ھ ص 143،183/ شرح دیوان امرئ القیس 1324ھ ہندوستانی ایڈیشن ص:4)
یہاں ان دونوں اشعار میں شاعر نے این این اور بَین بَین کی تکرار کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے استعمال کی ہے۔

اسی طرح عوف بن عطیہ بن خرع الربابی کہتا ہے
و کادت فزارۃ لصلیٰ بنا فاولی فزارۃ اولیٰ فزارۃ
“قریب تھا کہ فزارہ ہم سے سکون اور ہمدردی حاصل کرتی، افسوس ہے فزارہ پر افسوس ہے فزارہ پر”
(المفضل ابو العباس، المفضلیات بتشریح حسن السندوبی ص:196/ الصاحبی ص 194/ سیبویہ 1/231/ تاویل مشکل القرآن ص: 183/ الباقلانی، اعجاز القرآن بتحقیق السید احمد الصقر دار المعارف مصر ص:160)

اسی طرح مہلہل بن ربیعہ کا وہ مرثیہ پڑھیے جو اس نے اپنے بھائی کُلَیب کی موت پر کہا ہے۔ یہ پہلا قصیدہ ہے جس میں تیس اشعار ہیں اور ترجیع کا بند دس بار استعمال کیا گیا ہے:۔
1. عَلَى أَنْ لَيْسَ عَدْلاً مِنْ كُلَيْبٍ إِذَا خَافَ المُغَارُ مِنَ الْمُغِيرِ
2. عَلَى أَنْ لَيْسَ عَدْلاً مِنْ كُلَيْبٍ إِذَا طُرِدَ اليَتِيمُ عَنِ الْجَزُورِ
3. عَلَى أَنْ لَيْسَ عَدْلاً مِنْ كُلَيْبٍ إذا ما ضيمَ جارُ المستجيرِ
4. عَلَى أَنْ لَيْسَ عَدْلاً مِنْ كُلَيْبٍ إذا ضاقتْ رحيباتُ الصدورِ
5. عَلَى أَنْ لَيْسَ عَدْلاً مِنْ كُلَيْبٍ إِذَا خَافَ المَخُوفُ مِنَ الثُّغُورِ
6. عَلَى أَنْ لَيْسَ عَدْلاً مِنْ كُلَيْبٍ إِذا طَالَتْ مُقَاسَاة ُ الأُمُورِ
7. عَلَى أَنْ لَيْسَ عَدْلاً مِنْ كُلَيْبٍ إِذَا هَبَّتْ رِيَاحُ الزَّمْهَرِيرِ
8. عَلَى أَنْ لَيْسَ عَدْلاً مِنْ كُلَيْبٍ إِذَا وَثَبَ المُثَارُ عَلَى المُثِيرِ
9. عَلَى أَنْ لَيْسَ عَدْلاً مِنْ كُلَيْبٍ اذا برزت مخبۤاۃ الحذورِ
10. عَلَى أَنْ لَيْسَ عَدْلاً مِنْ كُلَيْبٍ إِذَا هَتَفَ المُثَوبُ بِالْعَشِيرِ
(القالی ابو علی، کتاب الامالی 129/2 / مہذب الاغانی 190/1 / فواد افرام البستانی، المہلہل 1939ء ص 706)
ترجمہ:
1. قاتل کا کلیب سے کیا مقابلہ ہو سکتا تھا جبکہ لوگ حملہ آور سے خوف کھانے لگتے تھے!
2. قاتل کلیب کا ہمسر ہی نہیں تھا جبکہ یتیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاتا تھا!
3. کلیب کی کوئی نظیر نہ تھی جبکہ سینوں کی کشادگیاں تنگیوں میں تبدیل ہو جاتی تھیں!
4. کلیب کا کوئی حریف نہ تھا جبکہ بزدل سرحدوں سے خوف کھانے لگتے تھے!
5. کلیب کا حریف بننا ممکن نہ تھا جبکہ سخت معاملات دراز ہو جاتے تھے۔
6. کلیب کا کوئی مثیل نہ تھا جبکہ سخت ٹھنڈک کی ہوائیں چلنے لگتی تھیں۔
7. کلیب کا کوئی مقابلہ نہ کر سکتا تھا جبکہ مخاطب ابھارنے والے پر حملہ کر بیٹھتا تھا۔
8. کلیب کا مقابلہ کرنا مشکل تھا جبکہ پردہ نشینوں کے پردے اٹھ جاتے تھے۔
9. کلیب سے کوئی بازی نہ لے جا سکتا تھا جبکہ فریاد رس احباب و اقارب سے فریاد طلب کرتا تھا۔

اسی طرح حارث بن عباد کا وہ قصیدہ بھی ملاحظہ فرمائیے جو اس نے اپنی قوم کو جنگ پر ابھارتے ہوئے کہا تھا۔ اس قصیدہ میں اس نے قَرِّبا مَربَطَ النَعامَةِ مِنّي کی تکرار چودہ بار کی ہے اور ابن بدران کے بقول پچاس سے زائد بار اس ٹکڑے کو اس نے استعمال کیا ہے:
1. قَرِّبا مَربَطَ النَعامَةِ مِنّي … لَقِحَت حَربُ وائِلٍ عَن حِيالِ
2. قَرِّبا مَربَطَ النَعامَةِ مِنّي … لَيـسَ قَولي يرادُ لَكِن فعالي
3. قَرِّبا مَربَطَ النَعامَةِ مِنّي … جَـدَّ نَوحُ النِساءِ بِالإِعوالِ
4. قَرِّبا مَربَطَ النَعامَةِ مِنّي … شابَ رَأسي وَأَنكَرَتني القَوالي
5. قَرِّبا مَربَطَ النَعامَةِ مِنّي … لِلسُرى وَالغُـدُوِّ وَالآصالِ
6. قَرِّبا مَربَطَ النَعامَةِ مِنّي … طالَ لَيلي عَلى اللَيالي الطِوالِ
7. قَرِّبا مَربَطَ النَعامَةِ مِنّي … لِاِعتِناقِ الأَبـطالِ بِالأَبطالِ
8. قَرِّبا مَربَطَ النَعامَةِ مِنّي … وَاِعـدِلا عَن مَقالَةِ الجُهّالِ
9. قَرِّبا مَربَطَ النَعامَةِ مِنّي … لَيسَ قَلبي عَنِ القِتالِ بِسالِ
10. قَرِّبا مَربَطَ النَعامَةِ مِنّي … كُلَّما هَبَّ ريحُ ذَيلِ الشَمالِ
11. قَرِّبا مَربَطَ النَعامَةِ مِنّي … لِبَجَيرٍ مُفَكِّكِ الأَغـلالِ
12. قَرِّبا مَربَطَ النَعامَةِ مِنّي … لِكَـريمٍ مُتَوَّجٍ بِالجَمـالِ
13. قَرِّبا مَربَطَ النَعامَةِ مِنّي … لا نَبيعُ الرِجالَ بَيعَ النِعالِ
14. قَرِّبا مَربَطَ النَعامَةِ مِنّي … لِبُجَيرٍ فـداهُ عَمّي وَخالي
(ایسوعی لولیس شیخو، شعراء النصرانیۃ 1890ء ص: 272، 273)
ترجمہ:
1. نعامہ (شاعر کے گھوڑے کا نام) کو مجھ سے قریب لاؤ کہ وائل کی جنگ طلب مبازرت سے بھڑک اٹھی ہے۔
2. نعامہ کو مجھ سے قریب لاؤ۔ میرے قول کو نہیں بلکہ میرے فعل کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔
3. نعامہ کو مجھ سے قریب لاؤ کہ عورتوں کا نوحہ و ماتم اور ان کی چیخ و پکار بہت ہو چکی۔
4. نعامہ کو مجھ سے قریب لاؤ۔ میرے سر پر بڑھاپا طاری ہو چکا ہے اور نفرت کرنے والی عورتیں مجھے اجنبی سمجھنے لگی ہیں۔
5. نعامہ کو مجھ سے قریب لاؤ کہ صبح و شام اور راتوں کو سفر کرنا ہے۔
6. نعامہ کو مجھ سے قریب لاؤ کہ لمبی راتوں سے بھی میری رات لمبی ہو چکی ہے۔
7. نعامہ کو مجھ سے قریب لاؤ کہ سورما ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوں۔
8. نعامہ کو مجھ سے قریب لاؤ اور جاہلوں کی باتوں سے صرفِ نظر کرو۔
9. نعامہ کو مجھ سے قریب لاؤ میرا دل جنگ کے بغیر تسلی نہیں پا سکے گا۔
10. نعامہ کو مجھ سے قریب لاؤ جب جب شمال کے اطراف کی ہوا چلے۔
11. نعامہ کو مجھ سے قریب لاؤ بُحَیر (مقتول کے بیٹے کا نام) کی خاطر جو بیڑیوں کو کھولنے والا تھا۔
12. نعامہ کو مجھ سے قریب لاؤ اس شریف کی خاطر جو حسن و جمال کے تاج سے آراستہ تھا۔
13. نعامہ کو مجھ سے قریب لاؤ ہم جوتوں کی طرح آدمیوں کو فروخت نہیں کرتے۔
14. نعامہ کو مجھ سے قریب لاؤ بُحَیر کی خاطر، اس پر میرے چچا اور میرے ماموں قربان ہوں۔

اس قصیدہ کی خبر جب مہلہل کو پہنچی جس نے شاعر کے بیٹے بحیر کو قتل کیا تھا تو اس نے بھی ترکی بہ ترکی جوابی قصیدہ کہا اور اس نے اپنے اشعار میں قربا مربطَ المشهرِ مني کو چودہ بار بطور ترجیع استعمال کیا۔ مشتے نمونہ از خروارے چند اشعار درج ہیں
1. قربا مربطَ المشهرِ مني لِكُلَيْب الَّذِي أَشَابَ قَذَالِي
2. قربا مربطَ المشهرِ مني وَاسْأَلاَنِي وَلاَ تُطِيلاَ سُؤَالِي
3. قربا مربطَ المشهرِ مني سَوْفَ تَبْدُو لَنَا ذَوَاتُ الْحِجَالِ
4. قربا مربطَ المشهرِ مني إنَّ قولي مطابقٌ لفعالي
5. قربا مربطَ المشهرِ مني لِكُلَيْبٍ فَدَاهُ عَمِّي وَخَالِي
ترجمہ:
1. مشہر (گھوڑے کا نام) کو مجھ سے قریب لاؤ کُلَیب (شاعر کا بھائی جو جنگ بسوس میں مارا گیا تھا) کی خاطر جس نے میرے سر پر بڑھاپا طاری کر دیا۔
2. مشہر کو مجھ سے قریب لاؤ اور مجھ سے پوچھو لیکن زیادہ سوال مت کرنا۔
3. مشہر کو مجھ سے قریب لاؤ عنقریب پردہ نشینان میرے سامنے آ جائیں گی۔
4. مشہر کو مجھ سے قریب لاؤ میرا قول میرے فعل سے ہم آہنگ ہے۔
5. مشہر کو مجھ سے قریب لاؤ کلیب کی خاطر جس پر میرے چچا اور میرے ماموں فدا ہوں۔

تکرار کے اسلوب کے چند اہم فوائد:

قرآن نے اس اسلوب کو مختلف مواقع پر مختلف فوائد کے پیش نظر استعمال کیا ہے۔ جن میں سے چند ایک کی نشاندہی یہاں کی جاتی ہے:
1. طولِ فصل کی وجہ سے جب کوئی لفظ یا مضمون ذہنوں سے اوجھل ہونے لگے تو اسے ذہن میں بٹھانے کے لیے دوبارہ ذکر کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل آیات کا مطالعہ کیجیے:
فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ(83) وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ(84) وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْكُمْ وَلَكِنْ لَا تُبْصِرُونَ(85) فَلَوْلَا إِنْ كُنْتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ (86) تَرْجِعُونَهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ( سورہ واقعہ 83-87)
“اب اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو اور اپنے اس خیال میں سچے ہو تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے اور تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مر رہا ہے اس وقت اس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے ہو۔ اس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے”۔
اس آیات میں اعتراض کے جملوں کی وجہ سے تسلسل ٹوٹتا نظر آ رہا تھا اس لیے اسے سلسلہ کلام سے مربوط رکھنے کے لیے لَو لَا کا تکرار ہو گیا ہے۔
لفظی تکرار کی دوسری مثال سورہ مائدۃ میں بھی ہے۔ سورہ نساء کی یہ آیت بطورِ خاص مطالعہ کیجیے:
فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِمْ بِآيَاتِ اللَّهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا (155)وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا (156)
“آخر کار ان کی عہد شکنی کی وجہ سے، اور اس وجہ سے کہ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، اور متعدد پیغمبروں کو ناحق قتل کیا، اور یہاں تک کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں حالانکہ درحقیقت ان کی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے اور اس وجہ سے یہ بہت کم ایمان لاتے ہیںپھر اپنے کفر میں یہ اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا…”

اسی طرح اللہ کا یہ قول بھی ملاحظہ فرمائیے:
ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ (النحل 119)
“البتہ جن لوگوں نے جہالت کی بنا پر برا عمل کیا اور پھر توبہ کر کے اپنے عمل کی اصلاح کر لی تو یقینًا توبہ و اصلاح کے بعد تیرا رب ان کے لیے غفور اور رحیم ہے”۔
اس آیت میں طول فصل کی وجہ سے مفہوم منتشر ہوتا نظر آ رہا تھا۔ چنانچہ پھر إِنَّ رَبَّكَ کے ذریعہ کلام کو مربوط کر دیا۔

سورہ یوسف کی یہ آیت بھی اس اسلوب کی عمدہ مثال ہے:
إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ (4)
“میں نے گیارہ ستاروں کو دیکھا اور چاند اور سورج کو میں نے دیکھا کہ وہ مجھ کو سجدہ کر رہے ہیں”
اس آیت میں بھی رَأَيْتُهُمْ کی تکرار کا یہ اسلوب مستعمل ہے تا کہ سامعین کے دلوں میں بات اچھی طرح بیٹھ جائے اور وہ اس کا خاطر خواہ اثر لے سکیں۔ قرآن کا یہ اندازِ انذار ملاحظہ کیجیے:
أَأَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ(16) أَمْ أَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ (ملک: 16-17)
“کیا تم اس سے بے خوف ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور یکایک یہ زمین جھکولے کھانے لگے؟ کیا تم اس سے بے خوف ہو جو آسمان میں ہے کہ تم پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیج دے پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میرے تنبیہ کیسی ہوتی ہے”
اسی سورہ میں آگے یوں دھمکی دیتا ہے:
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِيَ اللَّهُ وَمَنْ مَعِيَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَنْ يُجِيرُ الْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (28) قُلْ هُوَ الرَّحْمَنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (ملک:28)
“ان سے کہو کبھی انھوں نے سوچا کہ اللہ مجھے خواہ میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا؟”
ایک ہی آیت کے بعد پھر کہتا ہے:
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِمَاءٍ مَعِينٍ (ملک: 30)
“ ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنوؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لا دے گا؟”
قرآن کی مندرجہ ذیل آیات بھی پڑھیے اور تکرار کے اس اسلوب پر غور کیجیے:
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ (97)أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ(98) أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ (اعراف 97-99)
“پھر کیا بستیوں کے لوگ اب اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہماری گرفت کبھی اچانک ان پر رات کے وقت نہ آ جائے گی جبکہ وہ سوئے پڑے ہوں؟ یا انھیں اطمینان ہو گیا ہے کہ ہمارا مضبوط ہاتھ کبھی یکایک ان پر دن کے وقت نہ پڑے گا جبکہ و کھیل رہے ہوں؟ کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہیں؟ حالانکہ اللہ کی چال سے وہ قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو”
ان تمام آیات میں بالترتیب أَأَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ، قُلْ أَرَأَيْتُمْ، اور أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى کی تکرار انذار میں زور پیدا کرنے کے لیے ہے۔کیا ان آیات کو سن کر منکرینِ حق پر لرزہ نہ طاری ہو گیا ہو گا۔

2. تکرار کا یہ اسلوب تاکید کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلا کسی حماسی شاعر کا کہنا ہے:
إلَى معْدَنِ العزِّ المؤَثَّل و الندى …… هناك هناك الفضل و الخُلُقُ الجزل
(چلو عزت و اقتدار کے مرکز کی طرف جو بہت عظیم ہے، سراپا سخاوت ہے، اخلاقِ کریمہ اور فضیلیت کی مہک وہیں میسر آئے گی)
(علی حازم و مصطفیٰ امین، البلاغۃ الواضحۃ 1956ء ص:253)
قرآن کہتا ہے:۔
فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَنْ يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَهُمَا قَالَ يَا مُوسَى أَتُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ إِنْ تُرِيدُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ (القصص: 19)
“پھر جب موسیٰ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے تو وہ پکار اٹھا “اے موسیٰ، کیا آج تو مجھے اسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کر چکا ہے؟ تو اس ملک میں جبار بن کر رہنا چاہتا ہے اصلاح نہیں کرنا چاہتا”۔
ان جملوں میں تُرِيدُ کا بار بار استعمال تاکید پیدا کرنے کے لیے ہے۔ ایک دوسری جگہ قرآن کہتا ہے:
قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ (زمر: 11-12)
“اے نبی، ان سے کہو، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی بندگی کروں، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلم بنوں”
اس آیت میں بھی أُمِرْتُ کی تکرار زور اور تاکید پیدا کرنے کے لیے ہے۔

سورہ مدثر کا مطالعہ کیجیے ایک منکر خدا و رسول کی پینترے بازیوں کے جواب میں کس طرح اس کی ہلاکت و بربادی کا اعلان کیا جا رہا ہے:
فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ (مدثر: 19-20)
“خدا کی مار اس پر کیسی بات بنانے کی کوشش کی، خدا کی مار اس پر کیسی بات بنانے کی کوشش کی”

سورہ انشراح میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (5،6)
“بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے، بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے”
ایک ہی بات کو دوبارہ دوہرایا گیا تا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو پوری طرح تسلی ہو جائے کہ جن حالات سے اس وقت اسلام گزر رہا ہے وہ دیرپا نہیں ہیں بلکہ ان کے بالکل قریب ہی اچھے حالات آنے والے ہیں:۔

سورہ کافرون کو دیکھیے۔ پہلے فرمایا کہ “اے کافرو! نہ میں پوجتا ہوں جسے تم لوگ پوجتے ہو اور نہ تم پوجتے ہو جسے میں پوجتا ہوں” پھر اسی مضمون کا اعادہ اگلی چوتھی اور پانچویں آیت میں کیا گیا ہے:
وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَا عَبَدْتُمْ وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (کافرون: 4،5)
“اور نہ میں پوجنے کا جسے تم لوگ پوجنے آئے اور نہ تم لوگ پوجنے کے جسے میں پوجتا ہوں”
بلاغت کا تقاضا تھا کہ یہ اعلانِ براءت نہایت واضح اور مؤکد لفظوں میں کیا جاتا اور یہ بلاغت قرآن کی خصوصیت ہے کہ اس میں کہیں بے فائدہ تکرار نہیں پائی جاتی۔ وہ ہر تکرار کے ساتھ کسی جدید فائدہ کا اضافہ ضرور کر دیتا ہے۔ پس لفظ عَابِدُونَ مستقبل کی تمام امیدوں کا خاتمہ کر رہا ہے اور عَبَدْتُمْ میں ان کے دینِ آبائی سے بیزاری کا اعلان ہے۔ اور مقابلۃً اس میں زیادہ شدت اور نفرت کا اظہار ہے۔
(الفراہی حمید الدین، مجموعہ تفاسیر فراہی لاھو ص: 673)

اس کی مثال سورہ انبیاء میں بھی موجود ہے:
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (52 تا 54)
“جب انھوں (ابراھیم) نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ یہ مورتیں کیا ہیں جن کی پرستش پر تم جمے بیٹھے ہو۔ وہ بولے، ہم نے اپنے بڑوں کو ان ہی کی پرستش کرتے پایا ہے (ابراھیم نے) کہا بیشک تم اور تمہارے بڑے سب صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں”۔

3. تکرار کا یہ اسلوب عاجزی اور مسکنت کے اظہار اور کسی بڑے کے سامنے اپنی درخواست پیش کرنے کے موقع پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سورہ بقرۃ کا آخری حصہ ملاحظہ ہو:
رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا (بقرۃ: 286)
“اے ہمارے رب، ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہو جائیں ان پر گرفت نہ کر۔ مالک ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے۔ پروردگار جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے وہ ہم پر نہ رکھ”
اس آیت میں رَبَّنَا کی بار بار تکرار اپنی عاجزی کے اظہار اور درخواست کو عجز و مسکنت کا مجموعہ بنا کر پیش کرنے کے لیے ہے اور اس موقع کے لیے یہی اسلوب موزوں اور موثر ہے۔

سورہ ممتحنہ میں حضرت ابراھیمؑ کی دعا ملاحظہ ہو:
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (ممتحنہ: 4-5)
“اے ہمارے رب تیرے ہی اوپر ہم نے بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف ہم نے رجوع کر لیا اور تیرے ہی حضور ہمیں پلٹنا ہے اور اے ہمارے رب ہمیں کافروں کے لیے فتنہ نہ بنا دے۔ اے ہمارے رب ہمارے قصوروں سے درگزر فرما بیشک تو ہی زبردست اور دانا ہے”

4. تکرار کا ایک فائدہ حسرت و افسوس کا اظہار بھی ہوتا ہے مثلا حسین بن خطیر معن بن زائدۃ کا مرثیہ کہتا ہے:
فَيَا قَبْرَ مَعْنٍ أَنْتَ أَوَّلُ حُفْرَةٍ … مِنَ الأَرْضِ خُطَّتْ لِلسَّمَاحَةِ موضعا
وَيَا قَبْرَ مَعْنِ كَيْفَ وَارِيْتَ جُودَهُ … وقَدْ كَانَ مِنْهُ البّرُّ وَالبَحْرُ مُتْرَعِا
“اے معن کی قبر، تو اس روئے زمین کی اولین قبر ہے جس میں سخاوت و شرافت دفن کر دی گئی ہے۔ اے معن کی قبر، تو نے اس سخاوت کو کیسے چھپا لیا جبکہ بحر و بر اس سے بھرے پڑے ہیں!)
(البلاغۃ الواضحۃ ص 249)
ایک اعرابیہ اپنے بچے کا مرثیہ یوں کہتی ہے:
يا من أحسّ بنّييّ اللذين هما … كالدرّتين تشظّى عنهما الصّدف
يا من أحسّ بنّييّ اللذين هما … سمعي وطرفي فطرفي اليوم مختطف
“ہائے کس نے دیکھا میرے ان دونوں بیٹوں کو جو موتیوں کی مانند تھے جن سے صدف ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ ہائے کس نے دیکھا میرے ان دونوں بیٹوں کو جو میرے کان اور میری بینائی تھے، آج میری بینائی چھن گئی ہے!)
(البلاغۃ الواضحۃ ص: 253)
ان دونوں ٹکڑوں میں يَا قَبْرَ مَعْنٍ اور يا من أحسّ بنّييّ اللذين هما کی تکرار درد و غم میں زور پیدا کرنے کے لیے ہے۔ سورہ قیامہ میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے:
أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى(34) ثُمَّ أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى(35) أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى (قیامہ: 34-36)
“یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے۔ ہاں یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے۔ کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یوں ہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟

استفادہ تحریر: تکرار-قرآن کا ایک اہم اسلوب از عبید اللہ فہد فلاحی، سہ ماہی تحقیقات اسلامی ، علی گڑھ ، انڈیا

 

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *