کیا قرآن بیوی کو مارنے کا حکم دیتا ہے ؟

4

غیر مسلموں کا ایک طبقہ خصوصا عیسائی مشنریز یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام مرد کو عورت پر ہاتھ اٹھانے اور اسے مارنے کا حکم دیتا ہے ۔گزشتہ کچھ دنوں سے اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین مولانا شیرانی کے بیان کو لے کر لبرل طبقے نے بھی اسی انداز میں طوفان اٹھایا ہوا ہے ۔ عیسائی معترضین قران مجید سورۃ نساء کی آیت 34 کو بطور دلیل پیش کر تے ہوئے اسلام کو نشان بناتے ہیں اور لبرلوں نے فی الحال مولانا شیرانی کی آڑ لی ہوئی ہے۔
مسئلے کی حقیقت سمجھنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ قران کے کسی بھی ایک لفظ یا ایک آیت کو لے کر اس کی من مانی تشریح کرنا اور اپنا مقصد ثابت کرنے کے لیۓ استعمال کرنا کوئی درست اور منطقی علمی طریقہ نہیں ہے ۔ ہر آیت کو اس کے سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوۓ اسلامی اطوار و تعلیمات کے ساتھ ملا کر اس کا معنی سمجھنا ضروری ہوتا ہے ۔
اب چند باتوں پر غور کیجیے :
1۔ اسلام شادی کے بعد مرد و عورت دونوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ اپنی شریک حیات تک محدود رہیں ۔
2۔اپنے شریک حیات کے سوا کسی سے ازدواجی تعلقات قائم کرنے کو سختی سے روکتا اور منع کرتا ہے ۔
3۔ عورت کو ہلکی پھلکی سزا دینے کی اجازت بے قید اور غیر مشروط نہیں ہے نا ہر صورت میں جائز ہے ۔ آئیے آیت کے سیاق و سباق کو دیکھتے ہیں :
“۔۔۔چنانچہ نیک عورتیں فرمان بردار ہوتی ہیں ، مرد کی غیر موجودگی میں اللہ کی دی ہوئی حفاظت سے (اسکے حقوق کی) حفاظت کرتی ہیں ۔ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہوتو (پہلے) انہیں سمجھاؤ اور (اگر اس سے کام نہ چلے تو) انہیں خواب گاہوں میں تنہا چھوڑ دو۔(اور اس سے بھی اصلاح نہ ہو تو ) انہیں مار سکتے ہو ۔ پھر اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو انکے خلاف کاروائی کا کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کے اوپر ، سب سے بڑا ہے ۔(قرآن 4:34)
یہ آیت وضاحت کرتی ہے کہ یہ اجازت صرف ان حالات میں ہے جب عورت سرکشی کی اس حد تک پہنچ جاۓ کہ اسکو روکنے کا کوئی اور طریقہ نا رہے سوائے طلاق کے۔ ایک دفعہ دوبارہ پڑھنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس سرکشی کا یہ لیول ایسا ہے کہ اسے سے ایک شریف اور باوقار عورت کی اپنی عظمت بھی مجروع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
4۔ جب کوئی عورت ایسے کسی عمل میں مبتلا ہوتی ہے تو عورت کا رویہ نا صرف مرد کے لیۓ تکلیف کا باعث ہوتا ہے بلکہ اسے بددل کرنے اور کسی اور کی طرف راغب ہونے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ایسی سٹیج نا صرف ان دونوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے بلکہ پورے خاندان اور معاشرے پر بھی اثر چھوڑتی ہے ۔ چنانچہ یہاں فزیکل سزا کی اجازت اعتدال کے لیے اور اس برائی سے نجات کے لیے ہوتی ہے۔

اس سزا کی اجازت انتہائی حالات میں ہے۔۔!
1. اس انتہائی صورتحال میں بھی مارنا آخری آپشن رکھا گیا ہے۔ سب سے پہلے نصیحت کرے ، اگر اس کا مثبت نتیجہ نہ نکلے تو بستر سے علیحدہ ہوجائے اور اور اگر یہ طریقہ بھی ناکام ہو جاۓ تو تب آہستگی سے تادیبا مارنے کی اجازت ہے۔
2. اگر ایک دفعہ ایسا کرنا پڑ گیا تو اسکے بعد فورا بعد احتیاط کرنے کا حکم دیا گیا ہے “اگر وہ اپنی اصلاح کر لے توتم ان پر زیادتی کا کوئی راستہ مت تلاش کرو “

آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ہمیں حضور ﷺ کی احادیث کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے ۔ آیت میں مذکور لفظ نشوزھن کی وضاحت خطبہ حجۃ الوداع میں بھی کی گئی ۔ چند دفعات پیش ہیں
۱۔ وہ کوئی کام کھلی بے حیائی کا نہ کریں۔۲۔ وہ تمہارا بستر کسی ایسے شخص سے پامال نہ کرائیں جسے تم پسند نہیں کرتے۔۳۔ وہ تمہارے گھر میں کسی ایسے شخص کو داخل نہ ہونے دیں جسے تم ناپسندکرتے ہو،مگر یہ کہ تمہاری اجازت سے۔۴۔ اگروہ عورتیں (ان باتوں) کی خلاف ورزی کریں تو تمہارے لیے اجازت ہے کہ:
ا۔ تم انہیں بستر وں پر اکیلا ،تنہا چھوڑ دو۔2۔ (ان پر سختی کرو)مگر شدید تکلیف والی چوٹ نہ مارو(اگر مارنا ہی چاہو۔)
یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ عمل جسمانی کی بانسبت نفسیاتی ذیادہ ہے اور اس کا مقصد زوجین کے درمیان عفت ،باہمی محبت اور انسیت کو قائم رکھنا ہے .اگر عورت کے ایک غلط طرز عمل کی جانچ نہ کی جائے تو یہ بات یقینی ہے کہ تعلقات پر بہت منفی اثرات پڑتے ہیں ۔

خاوند کی سرکشی کی صورتحال میں بیوی کو ایسے عمل کی اجازت کیوں نہیں دی گئی ؟
یاد رکھیے شوہر قانونی “دوسری” بیوی رکھنے کا مجاز ہے جب کہ عورت ایک وقت میں دو شوہر نہیں رکھ سکتی جس کی وجوہات واضح ہیں . یعنی مرد کے پاس ایک ہی وقت میں آپشن موجود ہوتے ہیں ۔ اس کومد نظر رکھتے ہوۓ اور نفسیاتی اور جسمانی فرق اور حقیقی زندگی کے حقائق کو دیکھتے ہوۓ بیوی کی شوہر کو اس طریقے سے نصیحت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی .وہ شوہر کو درست کرنے کے لیے ایسے مسئلے کو عدالت یا خاندان کے بڑوں کے سامنے لے کر جا سکتی ہے۔ ایک شرعی ریاست ان مسائل کے حل کا باقائدہ انتظام کرتی ہے۔ شوہر کو ریاست کی طرف سے پابند کیا جاتا ہےا ور سزا دی جاتی ہے۔ مزید اگر عورت محسوس کرتی ہے کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ کسی وجہ سے نہیں رہ سکتی تو عورت کو اجازت ہے کہ وہ خلع لے کر علیحدگی اختیار کر لے ، مگر جب تک وہ عقد نکاح میں موجود ہے اس کی ذمہ داری ہے کہ خاوند کی موجودگی اور غیر موجودگی میں اسکے ساتھ وفا دار رہے۔ مرد و زن کے باہمی تعلق کی درستگی ہی ایک خوبصورت معاشرے کی بنیاد ہے۔

ایک غیر مستند روایت :
: کچھ لوگ ایک روایت سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ایسے ہے : عمر ابن الخطاب سے روایت ہے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :کسی شخص سے یہ نہیں پوچھا جاۓ گا کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا (سنن ابو داؤد ،حدیث نمبر ٢١٤٧ .علامہ البانی نے اس کو ضعیف اور غیر مستند قرار دیا ہے ) البانی کے علاوہ ، شیخ احمد شا کر اور شعیب ارنوط نے بھی اس کو اپنی مسند احمد کی درجہ بندی میں ضعیف قرار دیا ہے. ا بن کثیر نے بھی مسند الفاروق 1/182 میں اس کی روایت کو تنقید کا نشانہ بنایا .

خلاصہ :
اسلام میں اللہ کو امت کی اجتماعیت نہایت زیادہ عزیز ہے اور اس اجتماعیت کو توڑنے پر سخت وعیدیں ہیں. اس اجتماعیت کا سب سے پہلا پتھر میاں بیوی کا صحیح تعلق ہے جس کی بنیاد پر پھر آگے چل کر پوری امت کھڑی ہوتی ہے. اس مقصد کے لیے اللہ تعالی مرد کو قوامیت کا درجہ دیتا ہے اور تاریخ گواہ ہے جہاں قوامیت متاثر ہوئی ہے وہاں انارکی اور انتشار نے جنم لیا ہے. مغرب میں خاندان کے ادارے کے تباہ ہونے کا حال دیکھ لیجیے. اب جب یہ اجتماعیت امت کی بنیاد ہے تو فطری بات ہے کہ اس عظیم ترین مقصد کا حصول اگر کسی درجے میں سختی سے بھی ممکن ہو تو روا ہے. قرآن میں ایسا کرنے کی اجازت قوامیت کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کے بعد دی گئی ہے جس کے لیے نشوز کا لفظ لایا گیا ہے. نشوز عورت کی طرف سے وہ اعلا درجے کی سرکشی ہے جو خاندانی نظم تباہ ہونے پر منتج ہوتی ہے. اس میں عام روزمرہ کی چخ چخ داخل نہیں. اس پر ضرب کا حکم ہے لیکن اس کی جو حدود حدیث نے بتائی ہیں اس کی رو سے عرف عام والی مار کا اس پر اطلاق بھی نہیں ہوتا.

نوٹ :ہماری یہ تحریر صرف ان قارئین کے لیے ہے جن کے نزدیک خاندان کی کوئی قیمت ہے جو معاملات ، تعلقات میں کسی حد کے قائل ہیں ۔ جو دین و دنیا بیزار طبقہ ہے انکے لیے یہ توضیح بالکل نہیں ۔ بقول اک محقق ہمیں یقین ہے کہ ہم اس آیت کے حکم کو جتنا بھی لائیٹ کرلیں، یہ اس “جدید حلق” سے نیچے نہیں اترے گی  جو جدید ذہن یہ کہتا ہو کہ بیوی کو بیوی ہونے کے باوجود معاشقے کرنے کی شخصی آزادی ہے. وہ اس تحدید کو کبھی نہیں مانے گا۔
استفادہ تحریر : وقار اکبر چیمہ

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *