ہماری خلافت اور قاری حنیف ڈار صاحب کی ملوکیت : آخری قسط

قسط اول

قسط دوئم

جسطرح ساون کے اندھے کو ہر طرف سیاہ دکھائی دیتا ہے اسی طرح عذاب گریہ تیرہ شبی کے مارے کبھی مشرق سے نکلتے ہوۓ سورج کو نہیں دیکھ سکتے اپنا آپ پر رونا اور اپنی خوبیوں سے بھی دوسروں سے مرعوب ہوکر انکار کر بیٹھنا انتہائی کمزور کردار کی علامت ہوا کرتی ہے .
آپ کسی بھی قوم کی تاریخ ملاحظہ کر لیجئے اس میں ایسے ادوار ضرور آتے ہیں کہ وہ شدید ترین پستی اور کبھی عظیم ترین بلندی پر کھڑی دکھائی دیتی ہے غور کیجئے کہ جو گل مغرب نے کھلے ہیں شاید وہ انسانی خون سے سینچے گۓ تھے ..
امریکہ کی تخلیق میں ریڈ انڈینز کا خون نا حق شامل ہے تو
جنگ عظیم و اول و دوم میں لاکھوں انسانی جانوں کا قتل عام اور وہ بھی صرف اور صرف اپنی سیاسی بر تری کیلئے دوسری جانب ویت نام ہیرو شیما اور ناگاساکی سے آج بھی ایٹمی دھواں اٹھتا دکھائی دیتا ہے .
آج ملوکیت کو کوسنے والے کس انداز میں استعمار کی چکری کے راستے نکلتے ہیں انتہائی حیران کن امر ہے .
اور موجودہ جمہوریت کی جسکی تعریف میں زمین و آسمان ایک کر دیا جاتا ہے کیا یہ اسی مغربی استعمار کی دین نہیں کہ جو معاشروں کو نگل جایا کرتا تھا .
اسلامی ترقی کا معیار اسلامی معاشرت میں مضمر تھا
سید قطب شہید رح ایک جگہ لکھتے ہیں ” اسلامی حکومت اسلامی معاشرت کا عطر ”
“اسلامی معاشرت جن امور کی بنیاد پر تشکیل دی جا سکتی ہے وہ ہیں
١ تزکیہ
٢ تعلم
٣ دعوت
٤ جہاد
ان کے علاوہ جو بھی راستہ اختیار کیا گیا وہ ایک ایسی بدعت بنا جس کا تریاق سنت کی طرف مکمل طور پر پلٹنے کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہم سے غلطی یہ ہوئی کہ ہم نے وہ ہتھیار جو مغرب کا تھا خود استعمال کیا مگر ہم اس سے ناواقف تھے کہ کہ ہم اپنی ہی گردن کاٹنے جا رہے ہیں یہ ہتھیار تھا ” مغربی جمہوریت ” اسی لیے اقبال نے اس جدید استعماری نظام پر بھرپور چوٹ کی ہے ۔
دور جدید کے ایک محقق اسکالر اپنے تحقیقی مقالے میں اس کی تفصیل کچھ یوں بیان فرماتے ہیں
” مسلمانوں کی عصری تاریخ میں اقبال جمہوریت پر گفتگو کرنے والی سب سے اہم شخصیت ہیں۔ اگرچہ اقبال کی اردو کلیات میں جمہوریت پر نو دس شعر ہی موجود ہیں، مگر ان نو دس شعروں میں بھی اقبال نے جمہوریت کی مبادیات کو سمیٹ لیا ہے۔ اقبال نے اپنے شعروں میں جمہوریت پر چار بڑے اعتراضات کیے ہیں۔
ان کا پہلا اعتراض مغربی دانش ور اسٹینڈل کے حوالے سے یہ ہے:
جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
اقبال کے اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ جمہوریت ایک معیاری یا Qualitative نظام نہیں ہے بلکہ ایک مقداری Quantitative نظام ہے۔ اس طرح گویا جمہوریت نے انسان کی پوری فکری تاریخ کی نفی کر دی ہے۔ انسان کی پوری فکری تاریخ معیاری نظام بندی کی تاریخ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کی معنویت، اس کا حسن و جمال، اس کی پائیداری، اس کی افادیت معیار سے ہے مقدار سے نہیں۔ چنانچہ جمہوریت نے گاڑی کے آگے گھوڑا باندھنے کے بجائے گھوڑے کے آگے گاڑی باندھ دی ہے۔ جمہوریت کے مقداری پہلو کے اطلاق سے امام غزالیؒ اور ایک جاہل برابر ہو جاتا ہے۔ جمہوریت کا مزید غضب یہ ہے کہ وہ ’’کمتر‘‘ سے ’’برتر‘‘ کا انتخاب کراتی ہے۔ حالانکہ اصولی، اخلاقی اور علمی اعتبار سے کمتر، برتر کے انتخاب کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اقبال نے جمہوریت پر دوسرا بنیادی اعتراض یہ کیا ہے ؎
ہے وہی سازِ کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردے میں غیر از نوائے قیصری
اقبال کے اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت کا ’’نیا نظام‘‘ ہونے کا دعویٰ فریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’بادشاہت‘‘ جمہوریت کا لباس پہن کر آ گئی ہے۔ فی زمانہ اس کی سب سے بڑی مثال امریکہ ہے۔ کہنے کو امریکہ دنیا کی سب سے مضبوط جمہوریت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے اکثر فیصلے امریکہ کے عوام نہیں امریکی سی آئی اے، پینٹاگون، امریکہ کے ایوانِ صنعت و تجارت، ملٹی نیشنلز اور امریکہ کے ذرائع ابلاغ کرتے ہیں۔ یہ ادارے ’’خواص الخواص‘‘ کی علامت ہیں۔ یہ الگ بات کہ ان کی آراء کو عوام کی آراء اور ان کے فیصلوں کو کسی نہ کسی حوالے سے عوام کے فیصلے قرار دے دیا جاتا ہے۔ بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے، لیکن بھارت کے حکمرانوں کی تاریخ کا نصف حصہ نہرو خاندان کی ’’میراث‘‘ ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کہنے کو عوامی جماعت ہے لیکن اس پر اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کا قبضہ ہے۔ باقی ماندہ بھارتی سیاست پر جرائم پیشہ عناصر کا قبضہ ہے۔ اقبال نے جمہوریت پر
تیسرا بنیادی اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے ؎
تُو نے کیا دیکھا نہیں یورپ کا جمہوری نظام
چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر
چنگیز خان جارحیت اور خون آشامی کی بڑی علامت ہے۔ لیکن چنگیز خان نے کبھی نہیں کہا کہ وہ انسانی آزادی کا عَلم بردار ہے۔ اس نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ وہ انسانی حقوق کا چیمپئن ہے۔ اس نے کبھی نہیں کہا کہ وہ مساوات اور بھائی چارے کے تصورات پر ایمان رکھتا ہے۔ لیکن مغربی جمہوریت نے آزادی کا نعرہ لگا کر درجنوں اقوام کی آزادی سلب کی۔ اس نے انسانی حقوق کا نعرہ بلند کر کے انسانی حقوق کی پامالی کی تاریخ رقم کی۔ اس نے مساوات کا پرچم اٹھا کر عدم مساوات، اور بھائی چارے کی مالا جپتے ہوئے انسانی تعلقات کو روندا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو چنگیز خان کی پوزیشن جمہوریت اور اس کے عَلم برداروں سے بہتر ہے۔ اس لیے کہ کم از کم چنگیز خان کے قول اور فعل میں ہولناک تضاد تو موجود نہیں۔ اقبال کا جمہوریت پر چوتھا بنیادی اعتراض یہ ہے ؎
دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تُو سمجھتا ہے کہ آزادی کی ہے نیلم پری
مغربی جمہوریت عہدِ حاضر میں انسانی آزادی کی سب سے بڑی علامت ہے، لیکن ایک سطح پر وہ عوام کی پست خواہشات کی خدائی کا اعلان ہے۔ دوسری سطح پر وہ اکثریت کے جبر کا مظہر ہے۔ اور یہ دونوں استبداد کی دو مختلف صورتیں ہیں
اسلامی اصطلاحوں میں گفتگو کی جائے تو مغربی جمہوریت ’’نفسِ امارہ‘‘ کی علامت ہے اور اسلامی نظام ’’نفسِ مطمئنہ‘‘ کی علامت۔ جمہوریت نفسِ امارہ سے آغاز کرتی ہے، اسی میں سفر کرتی ہے اور اسی کے دائرے میں اس کا سفر تمام ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب اسلامی نظام کے دائرے میں حکمران خود بھی نفسِ مطمئنہ کی علامت ہیں اور وہ مسلم عوام کو بھی نفسِ امارہ کے چنگل سے نجات دلا کر انہیں نفسِ لوامہ اور نفس مطمئنہ، اور پھر نفسِ مطمئنہ کی مزید برتر صورتوں کی طرف لانا چاہتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلامی نظام فرد کو ’’بندگی‘‘ کی سطح پر پہنچاتا ہے اور وہ اس کی بندگی کو کامل تر بنا کر اسے اس کے خالق و مالک اور تمام انسانوں کے قریب تر کرتا ہے۔
اس کے برعکس جمہوریت فرد کو اس کی پست خواہشات اور ادنیٰ مطالبات کی سطح پر پہنچاتی ہے، اور وہ پست خواہشات اور ادنیٰ مطالبات کی نفسیات کو ایک نظام بنا دیتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اسلامی نظام کا بنیادی تصور لاالہٰ الا اللہ ہے، اور جمہوریت کا بنیادی تصور لاالہٰ الا انسان ہے۔ جمہوریت کی تعریف ’’عوام کا نظام، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے‘‘ کا اصل پیغام یہی ہے۔ عصر جدید میں علماء کی عظیم اکثریت نے جمہوریت کی اس فلسفیانہ بنیاد کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ مسلم معاشرے میں حاکمیت صرف اللہ کی ہو گی اور قرآن و سنت کے خلاف کسی قانون کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اس پوزیشن کا سب سے بڑا مظہر پاکستان اور اس کا ’’اسلامی آئین‘‘ ہے، لیکن گزشتہ چالیس سال کا تلخ تجربہ یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے اسلام کو کبھی آئین کی قید سے نکلنے نہیں دیا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان کا آئین اسلام کا سب سے بڑا زنداں ہے، اور یہ صورت جمہوریت کے مجموعی کلچر اور مزاج کے عین مطابق ہے”
(جمہوریت اور انسانی تاریخ —- شاہنواز فاروقی)
پروفیسر عبدالجبار شاکر مرحوم اپنے مقالے میں لکھتے ہیں
مغربی تہذیب نے اپنی سیاسی ہیئت کے لیے جمہوریت کو اختیار کیا جو بلاشبہ اسلام کے عطا کردہ شورائی نظام سے ماخوذ اور مستفیض دکھائی دیتی ہے مگر وہ اپنے عملی قالب میں وہ نتائج پیدا نہیں کر سکی جو ایک اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات سے ہم آہنگ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ محمد اقبال نے مغربی جمہوریت کے تصور پر شدید تنقید کی ہے:
ہے وہی سازِ کہن، مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری
دیوِ استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری
(خضرِ راہ۔ بانگ درا)
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے، تو رہ جاتی ہے چنگیزی!
(بالِ جبریل)
متاعِ معنی بیگانہ ازدوں فطرتاں جوئی؟
زموراں شوخی طبع سلیمانے نمی آید
گریز از طرزِ جمہوری، غلامِ پختہ کارے شو
کہ از مغزِ دو صد خر فکر انسانے نمی آید
(جمہوریت، پیامِ مشرق)
مغربی تہذیب اور جمہوریت لازم و ملزوم ہیں مگر اسلامی ریاستوں کے لیے اقبال ایک ایسی روحانی جمہوریت کے قالب کے تمنائی ہیں جو اسلامی معاشرت کی اقدارِ خیر کی ضمانت فراہم کر سکے۔ مغربی حکومتیں جمہوری مزاج رکھنے کے باوجود دنیا کو متحد کرنے کے بجائے منقسم کر رہی ہیں۔ معاشی سطح پر بھی مغربی تہذیب ایک استحصالی رویہ رکھتی ہے، جس کا مشاہدہ گزشتہ صدیوں سے جاری و ساری ہے۔ یہ کیسی انصاف دشمن اور غیر عادلانہ تہذیب ہے کہ اقوامِ عالم کے پلیٹ فارم پر چند قوتوں کو ویٹو کا حق دیتی ہے جس کے نتیجے میں ظلم اور شقاوت پنپتی دکھائی دیتی ہے۔ اپنی اسی صورتحال کے پیش نظر مغربی تہذیب تیزی کے ساتھ رو بہ زوال ہے اور مغرب کے پیرانِ خرابات اس تباہی اور بربادی کے منظر سے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ تہذیب کو ان دنوں جس زوال اور شکست کا سامنا ہے، اس کا علاج کسی دانشور کو سجھائی نہیں دیتا۔ امنِ عالم تار تار ہو رہا ہے اور چاروں جانب برق و بارود کا دھواں چھایا ہوا ہے۔ مشہور مغربی ادیب جارج برنارڈ شا نے کیا خوب کہا تھا:
’’جو ایک آدمی کو قتل کرے، اسے قاتل کہتے ہیں لیکن جو ہزاروں بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگ لے، وہ فاتح کہلاتا ہے۔‘‘
عالمی تہذیبی کشمکش اور علامہ اقبال
بحوالہ: ماہنامہ ’’دعوۃ‘‘ اسلام آباد۔ اپریل ۲۰۰۹ء
مولانا یوسف لدھیانوی شہید رح اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں
بعض غلط نظریات قبولیتِ عامہ کی ایسی سند حاصل کر لیتے ہیں کہ بڑے بڑے عقلاء اس قبولیتِ عامہ کے آگے سر ڈال دیتے ہیں، وہ یا تو ان غلطیوں کا ادراک ہی نہیں کر پاتے یا اگر ان کو غلطی کا احساس ہو بھی جائے تو اس کے خلاف لب کشائی کی جرأت نہیں کرسکتے۔ دُنیا میں جو بڑی بڑی غلطیاں رائج ہیں ان کے بارے میں اہلِ عقل اسی المیے کا شکار ہیں۔ مثلاً ’’بت پرستی‘‘ کو لیجئے! خدائے وحدہٗ لا شریک کو چھوڑ کر خود تراشیدہ پتھروں اور مورتیوں کے آگے سر بسجود ہونا کس قدر غلط اور باطل ہے، انسانیت کی اس سے بڑھ کر توہین و تذلیل کیا ہو گی کہ انسان کو – جو اَشرف المخلوقات ہے- بے جان مورتیوں کے سامنے سرنگوں کر دیا جائے اور اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہو گا کہ حق تعالیٰ شانہ کے ساتھ مخلوق کو شریکِ عبادت کیا جائے۔ لیکن مشرک برادری کے عقلاء کو دیکھو کہ وہ خود تراشیدہ پتھروں، درختوں، جانوروں وغیرہ کے آگے سجدہ کرتے ہیں۔ تمام تر عقل و دانش کے باوجود ان کا ضمیر اس کے خلاف احتجاج نہیں کرتا اور نہ وہ اس میں کوئی قباحت محسوس کرتے ہیں۔
اسی غلط قبولیتِ عامہ کا سکہ آج “جمہوریت” میں چل رہا ہے، جمہوریت دورِ جدید کا وہ “صنمِ اکبر” ہے جس کی پرستش اوّل اوّل دانایانِ مغرب نے شروع کی، چونکہ وہ آسمانی ہدایت سے محروم تھے اس لئے ان کی عقلِ نارسا نے دیگر نظام ہائے حکومت کے مقابلے میں جمہوریت کا بت تراش لیا اور پھر اس کو مثالی طرزِ حکومت قرار دے کر اس کا صور اس بلند آہنگی سے پھونکا کہ پوری دُنیا میں اس کا غلغلہ بلند ہوا یہاں تک کہ مسلمانوں نے بھی تقلیدِ مغرب میں جمہوریت کی مالا جپنی شروع کر دی۔ کبھی یہ نعرہ بلند کیا گیا کہ “اسلام جمہوریت کا عَلم بردار ہے” اور کبھی “اسلامی جمہوریت” کی اصطلاح وضع کی گئی، حالانکہ مغرب “جمہوریت” کے جس بت کا پجاری ہے اس کا نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظریہ کی ضد ہے۔ جمہوریت” اس دور کا صنمِ اکبر ”
سید مودودی رح نے ایک مرتبہ کہا تھا
” غلطیاں بانجھ نہیں ہوتیں یہ بچے جنتی ہیں ”
ہم کہتے ہیں کہ
” غلطیوں کے یہ بچے شیر مادر پر نہیں خون ملت پر پروان چڑھتے ہیں ”
دوسری جانب اس استعماری نظام نے ضرب مسلمانوں کے معاشروں پر لگائی ایک جانب تو انکی تعلیم و تہذیب پر ہاتھ ڈالا تو دوسری جانب انکے عقائد خراب کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا .
یہ وہ بنیادی عوامل و عناصر تھے کہ جن کو برطانوی استعمار نے متاثر کیا اور اسی غلامی کا تسلسل آج بھی بر صغیر کی تقسیم شدہ مسلم قوم کو اپنے آہنی شکنجے میں کسے ہوے ہے اور اس سے آزادی کی کوئی سبیل دکھائی نہیں دیتی کیا خوب کہا ہے شاعر نے
مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغِ اسیر
کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لئے
اور انتہائی افسوس کہ اس انحطاط سے عام آدمی کو ہی نہیں دینی قیادت کو بھی پوری شدت سے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ہر اس شعبے میں کہ جس میں احیاء دین کی مکمل گنجائش موجود تھی اسے جدید فتنوں میں مبتلا ہوکر اسلامی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
کیا خوب کہا تھا اقبال مرحوم نے
ہندی اسلام
ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازو
آتی نہیں کچھ کام یہاں عقل خدا داد
اے مرد خدا! تجھ کو وہ قوت نہیں حاصل
جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد
مسکینی و محکومی و نومیدی جاوید
جس کا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد!
اب چند امور کا سمجھ لینا ضروری ہے لیکن یہ ہم پر لازم ہے کہ اس موضوع پر سلف کے سیدھے اور سچے راستے کو تھام کر رکھیں۔
١۔احکام شریعت یا حدود الله کا نفاذ تمام مسلمانوں پر فرض ہے اور اگر کہیں مسلمان اکثریت میں موجود ہیں اور نظام شریعت موجود نہیں تو ان پر لازم ہے کہ نظام شریعت کو نافذ کریں ورنہ وہ تمام معاملات شریعت جو حکومت سے منسلک ہیں ہمیشہ معطل ہی رہیں گے۔
یہاں شاہ ولی اللہ دھلوی رح کی ایک عبارت نقل کرتا ہوں
مسئلہ در تعریف خلافت: ‘هی الرياسة العامة فی التصدی لإقامة الدين بإحياء العلوم الدينية وإقامة أرکان الإسلام والقيام بالجهاد وما يتعلق به من ترتيب الجيوش والفرض للمقاتلة و اعطائهم من الغيئ والقيام بالقضاء وإقامه الحدود ورفع المظالم والأمر بالمعروف والنهی عن المنکر نيابة عن النبی صلی اللّٰه عليه وسلم۔’تفصیل ایں تعریف آنکہ معلوم بالقطع ست از ملت محمدیہ علی صاحبہا الصلوات والتسلیمات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم چوں مبعوث شدند برایئ کافہ خلق اللہ باایشاں معاملہ ہاکردند و تصرفہا نمو دند برائے ہر معاملہ نُوّاب تعیین فرمودند و اہتمام عظیم در ہر معاملہ مبذول داشتند، چوں آں معاملات را استقراء نمائیم واز جزئیات بکلیات واز کلیات بہ کلی واحد کہ شامل ہمہ باشد انتقال کنیم جنس اعلیٰ آں اقامت دین باشد کہ متضمن جمیع کلیات ست و تحت وے اجناس دیگر باشد یکے ازاں احیائے علوم دین ست از تعلیم قرآن و سنت و تذکیر و موعظت۔
(١/١٣-١٤)
”یہ مسئلہ خلافت کی تعریف میں ہے: ‘خلافت سے مراد وہ ریاست ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں علوم دینیہ کے احیا، ارکان اسلام کی پابندی، جہاد اور اس کے لیے افواج اور ساز و سامان کی تیاری کے اہتمام، مال فے کی تقسیم، نظام قضا کے اہتمام، حدود کے نفاذ، رفع مظالم اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے سے دین کی اقامت کے درپے ہو۔ اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات جب پوری قطعیت سے معلوم ہے کہ وہ تمام مخلوق کی ہدایت کے لیے مبعوث تھے تو ان کے ساتھ آپ نے طرح طرح کے معاملات اور مختلف تدابیر اختیار فرمائیں۔ ہر معاملے کے لیے ذمہ داروں کی تعیین فرمائی اور ہر معاملے کو انجام دینے کے لیے بڑا اہتمام فرمایا۔ جب ہم ان تمام معاملات کا استقرا کرتے ہیں اور جزئیات سے کلیات اور پھر ان کلیات سے ایسا واحد کلیہ معلوم کرتے ہیں جو تمام کلیات کا جامع ہو تو وہ جنس اعلیٰ، دراصل ‘اقامت دین’ ہی ہے، جو تمام کلیات پر مشتمل ہے اور ا س کے تحت بہت سے دوسرے شعبے بھی آتے ہیں۔ ان میں سے ایک قرآن و سنت کی تعلیم، تذکیر اور وعظ و نصیحت کے ذریعے سے دینی علوم کا احیا ہے۔”
دوسری طرف ایک شدید ترین مغالطہ یہ لگتا ہے کہ ہم بزور قوت خلافت کو نافذ کر دیں گے یہاں ایک بات واضح طور پر جان لیجئے کہ پہلی اسلامی ریاست” مدینہ ” کے قیام میں کسی بھی قسم کی کوئی قوت صرف نہیں ہوئی۔
خلافت ارضی کی اقسام ہیں ایک وہ خلافت ہے جو انسان کو تمام مخلوقات پر حاصل ہے یعنی انسان دوسری تمام مخلوقات سے افضل و اشرف ہے جیساکہ قرآن کریم نے بیان فرمایا کہ زمین و آسمان کو انسان کے واسطے مسخر کر دیا گیا۔
پھر ایک خلافت وہ ہے جو انبیاء علیھم السلام کو حاصل ہے بطور نائب جس کا اعلان حضرت آدم علیہ سلام کی تخلیق کے ساتھ کیا گیا۔
پھر ایک خلافت بمعنی حکومت یا اسلامی ریاست کے ہے۔
ریاست اسلامی چاہے کتنی بھی قوت کیوں موجود نہ ہو اسلامی معاشرے کے بغیر قائم نہیں ہو سکتی اسلامی ریاست زمین کے کسی ٹکڑے یا چند قوانین کا نام نہیں بلکہ اسلامی ریاست کا مطلب ہے اسلامی معاشرت کا قیام۔
اب پورے قرآن کا مطالعہ کیجئے ہر جگہ الله نے خلافت کی نسبت اپنی جانب کی ہے یعنی ہم نے تمہیں خلیفہ بنایا ہم نے تمہیں ریاست عطا فرمائی کہیں بھی کوئی ایک ایسی آیت موجود نہیں جہاں یہ مضمون ہو کہ تم نے خلافت حاصل کر لی۔
اگر معاشرے کا کثیر طبقہ دیندار ہے اور دین سے محبت رکھتا ہے اور چند قلیل شر پسند معاشرے میں موجود ہیں تو حدود الله کے نفاذ سے یعنی شرعی سزاؤں سے انھیں اعتدال میں رکھا جا سکتا ہے۔
لیکن اگر معاشرے کا کثیر طبقہ سرکشی پر آمادہ ہو تو حکومت اور قوت کے باوجود بھی آپ حدود الله کو قائم نہیں رکھ سکتے۔
حضرت عمر بن عبد العزیز جنھیں پانچواں خلیفہ رشید بھی کہا جاتا ہے حکومتی قوت کے باوجود دو سال میں ایسی معاشرت تشکیل نہ کر سکے جو خلافت کی حقدار ہوتی اور جیسے ہی ان کی کی اس دنیا سے رخصت ہوئی خلافت نے پھر ملوکیت کی شکل اختیار کر لی۔
الله کے رسول نے پہلے یکسوئی کے ساتھ امت تشکیل دی پھر ریاست کے حصول کے ساتھ بدر سے پہلے اسلام کا نظام عبادات قائم فرما دیا اب چونکہ پشت پر ریاست تھی اور احکام شریعت اور اسلامی معاشرت قائم تھے اسلئے الله کی جانب سے فتوحات کا نزول ہونا شروع ہوا۔
یہاں پھر چند امور پر غور کیجئے احد اور خاص کر حنین میں جب نو مسلموں کی جانب سے ذرا سی کوتاہی ہوئی تو نبی کریم صل الله علیہ وسلم کی ذات با برکات کی موجودگی میں بھی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ مسلمانوں کے پاس زبردست قوت موجود تھی۔
دوسری طرف غزوہ احزاب جس میں قرآن خود کہتا ہے کہ کلیجے حلق میں آ رہے تھے پیچھے یہود اور سامنے پورے عرب کی قوت الله نے تلوار ہلاۓ بغیر فتح مبین سے نواز دیا۔
سمجھنے کی چیز یہ ہے کہ آپ کے پاس کتنی ہی جہادی قوت کیوں موجود نہ ہو الله کی صریح نصرت کے بغیر فتح ممکن نہیں اور یہ اسوقت کا معاملہ ہے جب اسلامی ریاست موجود تھی۔
دوسری طرف تلوار کی قوت سے اسلامی ریاست کا قیام ممکن نہیں۔
یہ سمجھ لیجئے کہ تلوار کی قوت سے ریاست کا قیام تو ضرور ممکن ہے لیکن اس ریاست میں مکمل اسلامی معاشرت موجود ہو اس کیلئے نبوی طریق پر محنت کی شدید ضرورت ہے۔
قیام ریاست اور اقامت دین کے صاف اور واضح مدارج ہیں جن کے بغیر اسلامی حکومت تو قائم ہو سکتی ہے خلافت نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اسلامی حکومت اور خلافت میں کیا فرق ہے۔
بنو امیہ یا بنو عباس کے متعدد حکمرانوں یا خلافت عثمانیہ یا پھر ہندوستان کے دیندار مغل حکمرانوں اورنگزیب وغیرہ کی حکومت کو اسلامی حکومت کہ سکتے ہیں جب کہ احکام شریعت ریاستی سطح پر قوت کی بنیاد پر نافذ تھے اسلامی سزائیں دی جاتی تھیں۔
لیکن انہیں خلافت راشدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
خلافت راشدہ وہ اسلامی حکومت ہے جہاں تمام معاشرہ چند ایک شر پسندوں کو چھوڑ اسلام کے مکمل رنگ میں رنگا دکھائی دے۔
پھر خلافت راشدہ کا مطالعہ کیجئے پہلے دو ادوار یعنی حضرت ابو بکر صدیق رض اور حضرت عمر فاروق رض کے ادوار کے استحکام میں اور حضرت عثمان رض اور حضرت علی رض کے ادوار کے استحکام میں فرق تھا۔
اگر غور کیجئے تو واضح دکھائی دیتا ہے کہ اصحاب رسول رض کے انتقال اسلامی ریاست کی سرحدوں کی تیزی سے وسعت اور کثیر تعداد میں نو مسلموں کی اسلام میں شمولیت نے خوارج اور روافض جیسے شدید تر فتنوں کو پیدا کیا۔
یعنی جیسے ہی اسلامی معاشرت کی گرفت ڈھیلی ہونا شروع ہوئی خلافت کا رنگ تبدیل ہونا شروع ہو گیا آخر کیوں۔
غور کیجئے حکومت موجود تھی قوت موجود تھی ریاست میں اسلامی قوانین نافذ تھے لیکن پھر دنیا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ مروان اور یزید جیسے حکمرانوں نے حکومت کی۔
اب کچھ خلافت کے قیام کے مختلف مدارج کی جانب اشارہ کر دوں۔
قرآن کریم سے ہدایت حاصل کیجئے
سورہ شوریٰ میں ارشاد ہے:
شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰی بِه نُوْحًا وَّالَّذِی اَوْحَيْْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْْنَا بِه اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰی وَعِيْسٰی اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ۔(٤٢: ١٣)
”اس نے تمھارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی ہدایت اس نے نوح کو فرمائی اور جس کی وحی ہم نے تمھاری طرف کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا، اس تاکید کے ساتھ کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ پیدا کرنا۔”
اب غور کیجئے ان تمام انبیاء کو دین میں ” اولو العزم پیغمبر ” کا خطاب دیا گیا ہے اب کچھ اس کی تفصیل
“عزم” کے معنی مستحکم اور مضبوط ارادہ کے ہیں، راغب اصفہانی اپنی مشہورو معروف کتاب ”مفردات” میں کہتے ہیں: عزم کے معنی کسی کام کے لئے مصمم ارادہ کرنا ہے، ”عقد القلب علی امضاء الامر”
قرآن مجید میں کبھی ”عزم” کے معنی صبر کے لئے گئے ہیں، جیسا کہ ارشاد خداوند ہے:
( وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ ِنَّ ذَٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الُْمُورِ )(١)
”اور یقیناً جو صبر کرے اور معاف کر دے تو اس کا یہ عمل بڑے صبر کا کام ہے”۔
اب ان انبیاء علیہ سلام کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیجئے
نوح علیہ سلام
ابراہیم علیہ موسیٰ علیہ سلام
عیسی علیہ سلام
اور حضرت محمد مصطفیٰ صل الله علیہ وسلم خاتم النبین
١۔پہلے شدید ترین مشکلات میں انتہائی صبر کے ساتھ دعوت
٢۔ صالح ترین لیکن مختصر انسانی گروہ کی تعلیم، تزکیہ و تربیت
٣۔ پھر اتمام حجت کے بعد ہجرت
خلافت ہمیشہ اتمام حجت اور ہجرت کے بعد ہی قائم ہوئی ہے اس گروہ انبیاء میں صرف حضرت مسیح علیہ سلام کا معاملہ بظاہر مختلف دکھائی دیتا ہے۔
لیکن غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ
آپ نے شدید مشکلات میں صبر کے ساتھ دعوت دی قوم پر اتمام حجت کیا آپ کی ہجرت آسمان پر ہوئی اور اب آپ زمین پر نازل ہو کر خلافت قائم فرمائیں گے۔
یہاں محمد قطب رح کا جملہ نقل کر دوں۔
حکومت الہیہ اسلامی معاشرت کا عطر ہے
جب تک تشکیل معاشرت نہیں ہو جاتی اور معاشرہ رجوع الی الله نہیں کر لیتا اسلامی حکومت کا ظہور نا ممکنات میں سے ہے۔
” بر صغیر کے مسلمانوں پر برطانوی استعمار کے اثرات”.
( ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ)
تحقیق و تدوین : حسیب احمد حسیب

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *