ہماری خلافت اور قاری حنیف ڈارصاحب کی ملوکیت : قسط دوم

قسط اول
پھر قاری صاحب موصوف اس بات پر انتہائی دکھ اور تکلف میں مبتلا ہیں کہ شہداء جمل و صفین کو شہید کیوں قرار دیا جاتا ہے موصوف فرماتے ہیں .
” یک عام سا سوال ھے کہ اگر نبئ کریم ﷺ سے براہ راست اپنے کانوں سے حکم کو سن کر بھی ایک دوسرے کو قتل کرنے والے گنہگار تک نہیں ھیں بلکہ رضی اللہ عنھم ھیں ، تو آج چودہ سو سال بعد ایک غریب کا بچہ ان کے اس قتال کو سمجھنے میں اجتہادی غلطی نہیں کر سکتا ؟ وہ قتل کر کے بھی رضی اللہ عنھم ھیں ،یہ صرف سوال اٹھا کر مسلمان بھی نہیں رھا ؟ یہ کس دین کی تعلیم ھے ؟ قرآن میں یہی سبق پڑھایا گیا ھے ؟ قرآن میں اصحاب کی غلطیوں پر کہیں پردہ ڈالا گیا ھے ؟ رضی اللہ عنھم ھونے کے باوجود کوئی سزا ان سے معطل کی گئ ھے ؟ کیا سورہ نور کے تین مجرموں کو 80 ،80 کوڑے مارے گئے ھیں یا نہیں ؟.
ناجانے وہ کون سی خواہش ہے کہ جو قاری صاحب کو مجبور کرتی ہے کہ کہ ان نفوس قدسی کو گناہ گار ثابت کیا جا سکے ورنہ قاری صاحب کی غیر جانب داری پر آنچ آ جاوے گی اور عجیب ترین بات یہ ہے کہ اگر کوئی علمی انداز میں قاری صاحب کو انکی غلطی کی جانب متوجہ فرماۓ تو اسے وہ تکفیری کا خطاب اور خارجی کا تمغہ مرحمت فرماتے ہیں .
اب بات ہو جاۓ کچھ حقائق کی ایک حوالہ سنی مصدر سے اور دوسرا شیعہ مرجع سے ملاحظہ کیجیے .
یزید بن اصم کہتے ہیں کہ جب علی اور معاویہ کے درمیان صلح ہو گئی تو علی اپنے مقتولین کی جانب نکلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ جنت میں ہوں گے۔‘‘ پھر معاویہ کے مقتولین کی طرف چلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ بھی جنت میں ہوں گے۔ (روز قیامت) یہ معاملہ میرے اور معاویہ کے درمیان ہو گا۔ فیصلہ میرے حق میں دیا جائے گا اور معاویہ کو معاف کر دیا جائے گا۔ مجھے میرے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بتایا تھا۔‘‘
ابن عساکر۔ ٥٩ /١٣٩
اہل تشیع کی مشہور کتاب نہج البلاغہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک مراسلہ (Circular) نقل کیا گیا ہے جو آپ نے جنگ صفین کے بارے میں شہروں میں بھیجا۔ اس میں لکھا ہے:
حضرت علی علیہ السلام کا خط، جو آپ نے شہروں کی جانب لکھا، اس میں آپ نے اپنے اور اہل صفین کے درمیان ہونے والے واقعے کو بیان فرمایا۔
ہمارے معاملہ کی ابتدا یوں ہوئی کہ ہم اہل شام کے ساتھ ایک میدان میں اکٹھے ہوئے۔ ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا رب ایک، ہمارا اور ان کا نبی ایک، ہماری اور ان کی اسلام کے متعلق دعوت ایک۔ اللہ پر ایمان اور اس کے رسول کی تصدیق کے معاملے میں نہ ہم ان سے بڑھ کر تھے اور نہ وہ ہم سے بڑھ کر۔ صرف ایک معاملے میں ہم میں اختلاف ہوا اور وہ تھا خون عثمان کا جبکہ ہم اس سے بری تھے۔ ہم نے اس کا حل یہ پیش کیا کہ جو مقصد آج نہیں حاصل ہو سکتا ہے، اس کا وقتی علاج یہ کیا جائے کہ آتش جنگ کو خاموش کر دیا جائے اور لوگوں کو جذبات کو پرسکون ہو لینے دیا جائے۔ اس کے بعد جب حکومت کو استحکام حاصل ہو جائے گا اور حالات سازگار ہو جائیں گے تو ہم اتنے طاقتور ہو جائیں گے کہ حق (یعنی قصاص) کو اس کے مقام پر رکھ لیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اس کا علاج صرف جنگ ہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنگ نے اپنے پاؤں پھیلا دیے اور جم کر کھڑی ہو گئی۔ شعلے بھڑک اٹھے اور مستقل ہو گئے۔ سب نے دیکھا کہ جنگ نے دونوں فریقوں کو دانت سے کاٹنا شروع کر دیا ہے اور فریقین میں اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں تو وہ میری بات ماننے پر آمادہ ہو گئے اور میں نے بھی ان کی بات کو مان لیا اور تیزی سے بڑھ کر ان کے مطالبہ صلح کو قبول کر لیا۔ یہاں تک کہ ان پر حجت واضح ہو گئی اور ہر طرح کا عذر ختم ہو گیا۔ اب اس کے بعد کوئی اس حق پر قائم رہ گیا تو گویا اپنے آپ کو ہلاکت سے نکال لے گا ورنہ اسی گمراہی میں پڑا رہ گیا تو ایسا عہد شکن ہو گا جس کے دل پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔ گردش ایام اسی کے سر پر منڈلا رہی ہو گی۔
سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خط نمبر ٥
الفاظ ملاحظہ کیجئے
” ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا رب ایک، ہمارا اور ان کا نبی ایک، ہماری اور ان کی اسلام کے متعلق دعوت ایک۔ اللہ پر ایمان اور اس کے رسول کی تصدیق کے معاملے میں نہ ہم ان سے بڑھ کر تھے اور نہ وہ ہم سے بڑھ کر۔ صرف ایک معاملے میں ہم میں اختلاف ہوا اور وہ تھا خون عثمان کا جبکہ ہم اس سے بری تھے “.
کچھ مزید روایات
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہےکہ وہ جنگ صفین کی رات نکلےتواہل شام کی طرف نظر اٹھا کر فرمایا:
((اللھم اغفرلی ولھم))’’اے اللہ مجھے اور انھیں معاف فرمادے‘‘
(مصنف ابن ابی شیبہ:297/15)
صحیح سند سے یزید بن الاصم سے منقول ہےکہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سےصفین کے مقتولین کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا
((قتلانا وقتلاھم فی الجنۃ))
’’ہمارے اور ان کے مقتولین جنتی ہیں‘‘
(مصنف ابن شیبہ:303/15،سنن سعید بن منصور:398/2،مجمع الزوائد:357/9)
ماخوذ :مقام صحابہ،ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ،ص:166،167
پھر موصوف ایک اور مسلہ اٹھاتے ہیں اور اس کو لیکر یہ بیان فرمانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ اصحاب رسول رض بھی جہنمی ہو سکتے جبکہ اس معاملہ پر قرآن کریم کی صریح دلالت ہے .
سورۃ التوبہ میں فرمایا :
’’ وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(100)
وہ مہاجر اور انصار جنہوں نے سب سے پہلے ایمان لانے میں سبقت کی اور وہ لوگ جنہوں نے احسن طریق پران کی اتباع کی، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ اللہ نے ان کے لئے ایسی جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن میں نہریں جاری ہیں ۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے ‘‘
حیران کن طور پر مختلف روایات کو لیکر موصوف نے یہ ثابت فرمانے کی کوشش کی ہے کہ اصحاب رسول رض بھی معاذاللہ ثم معاذاللہ جہنمی ہو سکتے ہیں ایک جانب تو موصوف انکار حدیث کی روش پر گامزن ہیں اور صرف قرآن کو تھام لینے کی دعوت دیتے ہیں تو دوسری جانب قرآن کریم کی واضح آیات کے مقابلے میں روایات کی جانب پلٹتے ہیں .
خرد کا نام جنوں پڑ گیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
حسرت موہانی
اس سے پہلے کی قاری حنیف ڈار صاحب کی اصحاب رسول رض کے حوالے سے زبان درازی اور دریدہ دھنی مزید ملاحظہ کی جاوے فقیہ امت حضرت عبدللہ ابن مسعود رض کا فتویٰ ملاحظہ فرما لیجئے ،
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایاکرتے تھے:
’’من كان مُستنًّا فليَستنَّ بِمَن ْقد مَاتَ ؛ فإنَّ الحَيَّ لاتُؤمَنُ عليها الفتنة، أولئك أصحابُ محمَّدٍ صَلَّى الله عليه وسلمَ كانوا أفضلَ هذه الأمَّة، أبرَّهَا قلوبًا وأعمقَها علمًا وأقلَّها تكلّفًا، اختارهُمُ اللهُ لصحبةِ نبيهٖ ولإقامةِ دينهٖ فاعرِفُوا لهم فضْلَهمْ و اتبعوهم على آثارهِم وتمَسَّكوا بمااستطعتُم من أخْلاقِهم و ِسيَرِهِم فإنَّهم كانواعلى الهدى المستقيمِ‘‘.
(جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبدالبر،رقم : ۱۸۱۰، ۲/۱۳۴)
(مشکاۃ المصابیح، باب : الاعتصام بالکتاب والسنّۃ، رقم: ۱۹۳، ۱/۱۱۱)
ترجمہ :حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جسے دین کی راہ اختیا ر کرنی ہے تو اُن کی راہ اختیار کرے جو اس دنیا سے گزرچکے ہیں اور وہ حضرت محمدﷺکے صحابہ ہیں،جو اس امت کا افضل ترین طبقہ ہے، اُن كے قلوب پاک تھے، ان كا علم گہر اتھا، ان ميں تکلف اور تصنع نه تھا،اللہ جلّ شانہ نے انھيں اپنے نبی ﷺکی صحبت اور دین کی اشاعت کے ليے چنا تھا؛اس ليے ان کی فضیلت اور بر گذیدگی کو پہچانو،ا ن کے نقشِ قدم پر چلو اور طاقت بھر ان کے اخلاق اور ان کی سیرتوں کو مضبوط پکڑو؛اس ليے کہ وہی ہدایت کے راستے پر تھے۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام بندوں کے دلوں پر پہلی دفعہ نگاہ ڈالی تو ان میں سے محمدﷺکو پسند فرمایااور انھيں اپنارسول بناکر بھیجااور ان کو اپنا خاص علم عطافرمایا،پھر دوبارہ لوگوں کے دلوں پر نگاہ ڈالی اور آپ کے ليے صحابۂ کرام کو چنا اور ان کو اپنے دین کامددگا ر اور اپنے نبیﷺکی ذمہ داری کا اٹھانے والابنایا،لہٰذا جس چیز کو مؤمن (یعنی صحابۂ کرام )اچھاسمجھیں گے وہ چیز اللہ کے يہاں بھی اچھی ہوگی اور جس چیزکو بُر اسمجھیں گے، وہ چیزاللہ کے يہاں بھی بُری ہوگی
(حلیۃ الاولیاء ، رقم الترجمہ :۸۴، الطفاوی الدوسی، ۱/ ۳۷۶)۔
اب ہم ایک نظر وہ روایت دیکھتے ہیں کہ جسپر صاحب نے مقدمہ قائم فرمانے کی سعی کی ہے ملاحظہ کیجئے روایت اور قاری صاحب کی شطحیات.
حدثنا أبو بكر ابن أبي شيبة وأبو كريب وابن نمير قالوا حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم انا فرطكم على الحوض ولأنازعن أقواما ثم لأغلبن عليهم فأقول يا رب أصحابي أصحابي فيقال انك لا تدرى ما أحدثوا بعدك
وحدثناه عثمان بن أبي شيبة وإسحاق ابن إبراهيم عن جرير عن الأعمش بهذا الإسناد ولم يذكر أصحابي أصحابي حدثنا عثمان بن أبي شيبة وإسحاق بن إبراهيم كلاهما عن جرير ح وحدثنا ابن المثنى حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة جميعا عن مغيرة عن أبي وائل عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحو حديث الأعمش وفى حديث شعبة عن مغيرة سمعت أبا وائل ( وحدثناه ) سعيد بن عمرو الأشعثي أخبرنا عبثر ح وحدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا ابن فضيل كلاهما عن حصين عن أبي وائل عن حذيفة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث الأعمش ومغيرة
___
صحيح مسلم (261 هـ) الجزء7 صفحة70
اس روایت کو لیکر قاری صاحب کی دجل بیانی …
” ان تمام احادیث کا لب لباب یہی ھے کہ کچھ لوگ جو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں موجود تھے ، جن کو رسول اللہ ﷺ پہچانتے تھے اور جو رسول اللہ ﷺ کو پہچانتے تھے ، جن کو چہروں سے پہچان کر رسول اللہ ﷺ استقبال کرنا چاہتے ھوں گے کہ فرشتے ان کو پکڑ کر حوض سے الگ لے جائیں گے جس پر رسول اللہ ﷺ فرشتوں سے کہیں گے کہ یہ میرے اصحاب ھیں اور میری امت میں سے ھیں اور یہ حوض میری امت کے لئے ھے پھر ان کو مجھ سے الگ کرنے کی وجہ کیا ھے ؟
جس پر فرشتے جواب دیں گے کہ آپ ﷺ نہیں جانتے کہ انہوں نے ” آپﷺ کے بعد” کیا کچھ کیا تھا ، انہوں نے نئے کام کیئے تھے ، ایڑھیوں کے بل پھر کر مرتد ھو گئے تھے ،،
اب الله ہی بہتر جانتا ہے کہ حدیث میں ” اصحاب ” کا لفظ دیکھ کر قاری صاحب نے کن کن اصحاب رض کو ارتداد کا مرتکب قرار دیا ہے یا پھر کھلا میدان چھوڑ دیا ہے کہ جو چاہے جب چاہے اور جس صحابی رسول رض کو چاہے مرد و کافر قرار دے ڈالے اور سند کے طور پر مذکورہ بالا حدیث اور قاری صاحب کی معتبر راۓ پیش کر دے سبحان الله .
غور فرمائیے یہ کوئی ایسا معاملہ نہ تھا کہ جس کے حوالے سے الله کے رسول صل الله علیہ وسلم کے دور میں ہی وضاحت نہ ہو گئی ہو ایک جانب تو قرآن کریم کی واضح آیات .
قَالَتِ الأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ
دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، آپ فرما دیجئے: تم ایمان نہیں لائے، ہاں یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں
( الحُجُرات:49 – آيت:14 )
پہلی بات تو یہ معلوم ہوئی کہ یہ لوگ دیہاتی و اعرابی تھے معروف اصحاب رسول رض نہ تھے اور دوسری وضاحت حدیث میں .
بخاری کی ایک حدیث میں رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول کی گردن مار دینے کی اجازت جب حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے طلب کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ :
دعه لا يتحدث الناس ان محمدا يقتل اصحابه
کہیں یوں نہ کہا جانے لگے کہ محمد اپنے صحابه کو قتل کرتا ہے۔
صحیح بخاری ، کتاب التفسیر
اب یہاں انتہائی وضاحت کے ساتھ معلوم ہو گیا کہ یہ وہ ” اصحاب ” لغوی اعتبار سے پہچان والے .. تھے کہ جنکی نفاق کی وضاحت خود قرآن و سنّه نے فرما دی تھی ناکہ معروف معنی میں اصحاب رسول رضوان الله اجمعین .
پھر مسلم کی ایک حدیث ملاحظہ کیجئے کہ جو اس دلیل کو اور مظبوط کرتی ہے
في أصحابي اثنا عشر منافقاً لا يدخلون الجنة، ولا يجدون ريحها
میرے ساتھیوں میں 12 منافق ہیں جو نہ جنت میں جائیں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے
صحيح مسلم ، كتاب صفات المنافقين وأحكامهم
یہاں مزید وضاحت ہوتی ہے کہ اصحاب سے کیا مراد لی جا رہی ہے .
جاری ہے …..

آخری قسط

فیس بک تبصرے

ہماری خلافت اور قاری حنیف ڈارصاحب کی ملوکیت : قسط دوم“ پر 2 تبصرے

  1. پنگ بیک ہماری خلافت اور قاری حنیف ڈارصاحب کی ملوکیت : قسط اول | الحاد جدید کا علمی محاکمہ

  2. پنگ بیک ہماری خلافت اور قاری حنیف ڈار صاحب کی ملوکیت : آخری قسط | الحاد جدید کا علمی محاکمہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *