ہماری خلافت اور قاری حنیف ڈارصاحب کی ملوکیت : قسط اول

تحریر حسیب خان۔
کسی بھی قوم کا رابطہ اگر اپنے ماضی سے ٹوٹ جاۓ تو اس قوم کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی گناہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ کہ کوئی کچرے کے ڈھیر پر پھینک جاۓ اور وہ اپنے حقیقی نام و نسب کی تلاش میں ہمیشہ سر گرداں رہے …..جن لوگوں کا اپنے ماضی سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے انکے اندر نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں یہ نفسیاتی مسائل مختلف انداز سے شخصیات افراد اور اقوام پر اثر انداز ہوتے ہیں
ایسے لوگ جھوٹے سہاروں کو تلاش کرتے ہیں جیسے جدید استعماری دنیا کا بے تاج بادشاہ امریکہ یہ لوگ کبھی مصر کے اہراموں میں تو کبھی روم و یونان کے مقابر میں اور کبھی دفن شدہ مایا تہذیب میں اپنی اصل کھوجتے پھرتے ہیں اور صرف کھوجتے ہی نہیں بلکہ اسکو پوری دنیا پر رائج کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں یہ جدید استعماری پھندے پوری کی پوری تہذیبوں کو کسی بھوکے عفریت کی طرح نگل رہے ہیں …
دوسرا اثر ایسی اقوام پر یہ پڑتا ہے کہ انکی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی تاریخی برتری کو ثابت کرنے کیلئے دوسروں کی تاریخ کو بھی مسخ کر دیا جائے اسکو استشراق کہتے ہیں۔مستشرقین کی اسلام کے خلاف نیشہ زنی اتنی ڈھکی چھپی ہوتی ہے کہ ایک صاحب بصیرت اور صاحب علم شخص ہی کو اس کا احساس ہو سکتا ہے، ان میں حق و باطل ، علم اور جہل مکس ہے۔ طریقہ واردات یہ ہے کہ پہلے تعریف کرکے قاری کو خوش کرتے اور خود کو غیر جانبدار اور حقائق کو تسلیم کرنے والا شو کرتے ہیں، ”تحقیق“ (Research)کے نام سے جہاں کہیں بھی ان کی مقصدبراری ہوتی ہو، روایت خواہ علمی اصول کی رُوسے یا صحت واستناد کے اعتبار سے کتنی ہی واہیات ، مشکوک یا بے تکی کیوں نہ ہو اس کو نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اور پوری جسارت سے ”سائنٹفک“ بتاکر بڑی آب وتاب کے ساتھ پیش کرتے ہیں اگلے ہی لمحے کسی متعلقہ پہلو پر ایسے ہٹ کرجاتے ہیں کہ قاری کے وہم گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ کیسا زہر انجیکٹ کرگئے ہیں اور وہ انکا ہم خیال بن جاتا ہے، گویا شربت کے جام میں زہر گھول کر پیش کرتے ہیں۔ یہاں ایک ذہین اور حساس تعلیم یافتہ انسان کے ذہن میں بھی (اگر ان موضوعات پر وسیع اور گہری نظر نہ رکھتا ہو) شکوک وشبہات پیدا ہوتے جاتے ہیں اور سلف صالحین وعلماء راسخین کی شخصیتوں سے اعتماد ختم ہوتا جاتا ہے۔
اس استشراقی غلاظت نے اپنی فکر و تہذیب اور تاریخ پر لاکھوں مسلمانوں کو شرمندہ کیا۔ عالم عرب میں طہٰ حسین اور بر صغیر میں سر سید اس فکر کے شدید متاثرین میں شمار کیے جا سکتے ہیں ۔انکے فکری مغالطوں سے دین کا جو شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ ” تاریخ اسلامی ” ہے ۔
ایسے ہی ایک نابغے جناب قاری حنیف ڈار صاحب بھی ہیں گزشتہ دنوں موصوف کی ایک تحریر نگاہ سے گزری تحریر کیا تھی علمی انداز کا تبرا تھا ایسا محسوس ہوا کہ اہل سنت کے پردے میں کوئی رافضیت نواز اپنے اندر کی غلاظت باہر انڈیل رہا ہو .
ایک طرف تو موصوف اس بات سے قطعی ناواقف ہیں کہ خلافت کہاں پہ ختم ہوتی ہے اور ملوکیت کہاں سے شروع ہوتی ہے تو دوسری جانب خلافت کی محبت میں جناب جمہوریت کے گن گاتے دکھائی دیتی ہیں لیکن انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ جناب نہ تو خلافت شرعی سے واقف ہیں نہ ہی اقسام ملوکیت کا ادراک رکھتے ہیں اور جدید تعلیم سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے جدید جمہوریت کے معاملے میں بھی یکسر کورے ہی ہیں .
ہمیشہ کی طرح موصوف اپنی پوری تحریر میں تذبذب کا شکار دکھائی دیتے ہیں اور چند سو الفاظ میں ہی اتنے تضادات ہیں کہ تحریر جامع الاضداد یا مُعْجَم الاضداد دکھائی دیتی ہے .
حسب معمول موصوف نے صحیح ترین اور بے موقع احادیث جمع فرما کر اپنا بھرم قائم رکھنے کی کوشش فرمائی ہے لیکن انکی اس تحریر میں اہل علم کیلئے ہنسنے کا اور اہل دل کیلئے رونے کا جو مقام ہے وہ جناب کا ہی خاصہ ہے .
عجیب بات ہے کہ موصوف کو خلافت راشدہ پر بھی خلافت کا اطلاق کرتے ہوۓ شرم محسوس ہوتی ہے اور وہ یہاں احادیث مبارکہ کو بھی روندتے ہوۓ نکل جاتے ہیں اور انہیں احساس تک نہیں ہوتا اور پھر موصوف کو ٣٠ ہجری کے بعد کسی پر خلیفہ کا اطلاق کرنا سخت گراں گزرتا ہے .
اب ایک صحیح حدیث پیش کرتا ہوں الفاظ ملاحظہ کیجئے
امام داؤد سجستانی نے كتاب السنن (ج2ص290: كتاب السنة باب في الخلفاء) میں، امام ابو عیسی ترمذی نے كتاب السنن (ج2ص46: ابواب الفتن باب ما جاء في الخلافة) میں، امام عبدالرحمن نشائی نے كتاب السنن الكبريٰ (ج5ص47 ح8155: كتاب المناقب باب5 ابوبكر رضي الله عنه و عمر رضي الله عنه و عثمان رضي الله عنه و علي رضي الله عنه میں، اور امام ابو حاتم بن حبان بستی نے الصحیح (الاحسان 6623،6904 موارد الطمان 1534،1535) میں اور دیگر محدثین نے بہت سی سندوں کے ساتھ سعید بن جمہان سے، بواسطہ سفینہ ابو عبدالرحمٰن مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روایت کیا کہ:
قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: خلافة النبوة ثلاثون سنة ثم يوتي الله الملك من يشاء أو ملكه من يشاء قال سعيد قال لي سفينة أمسك عليك أبابكر سنتين و عمر عشر او عثمان اثني عشر و عليا كذا
“نبوت والی خلافت تیس سال رہے گی پھر جسے اللہ چاہے گا (اپنی) حکومت دے گا۔ سعید رحمة اللہ علیہ نے کہا: سفینہ رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: شمار کرو، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دو سال اور عمر رضی اللہ عنہ کے دس سال اور عثمان رضی اللہ عنہ کے بارہ سال اور علی رضی اللہ عنہ کے اتنے (یعنی چھ سال)”
تحقیق : از حافظ زبیر علی زئی
لیے موصوف نے حضرت عمر فاروق رض سے یہ کہلوانے کی کوشش کی کہ خلافت نبوت صرف حضرت ابوبکر صدیق رض کی ہی تھی مگر یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور ہے یعنی خلافت نبوت تو حضرت علی رض تک چلتی دکھائی دیتی ہے ..
اب ایک اور حدیث ملاحظہ کیجئے ..
رسول ﷺ نے فرمایا:
”دین (اسلام) ساعت (قیامت) تک جاری رہے گا، تمہارے لیے بارہ خلفاء کے ساتھ، وہ سب قریش سے ہوں گے۔ “
]صحیح مسلم (انگریزی) ، باب754، جلد3، صفحہ1010، حدیث نمبر[4483
]صحیح مسلم (عربی) ، کتاب الامارۃ (طبع سعودی عرب1980 )، جلد 3، صفحہ 1453، حدیث نمبر[10
لیجئے خلافت تو کافی دیر تک قائم رہتی دکھائی دیتی ہے ہاں موصوف ایک حدیث کا حوالہ دے سکتے ہیں لیکن اسکی حیثیت بھی ملاحظہ فرما لیجئے .
” دوسری روایت کہ جس کے بارے سوال کیا گیا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مسند احمد میں منقول ہے کہ تم میں جب تک اللہ عزوجل چاہیں، نبوت باقی رہے گی۔ اس کے بعد خلافت علی منہاج النبوۃ ہو گی، وہ بھی جب تک اللہ عزوجل چاہیں، باقی رہے گی۔ پھر کاٹ کھانے والی ملوکیت آئے گی، وہ بھی جب تک اللہ عزوجل چاہیں، باقی رہے گی۔ پھر ظالمانہ ملوکیت آئے گی، وہ بھی جب تک اللہ عزوجل چاہیں، باقی رہے گی۔ پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہو گی۔
اس روایت کی صحت وضعف کے بارے اگرچہ اختلاف ہے لیکن صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ جہاں تک سند کی بات ہے تو اس روایت کی سند کا مدار داود بن ابراہیم الواسطی پر ہے، کہ اسی کا نام داود بن ابراہیم العقیلی بھی ہے جیسا کہ امام ابن جوزی اور امام سخاوی رحمہما اللہ سے منقول اقوال میں ہے۔ اور اس داود بن ابراہیم کے بارے ابن ابی حاتم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ بولتا ہے اور “متروک الحدیث” ہے۔ اور اگر داود بن ابراہیم الواسطی کو داود بن ابراہیم العقیلی سے علیحدہ شخصیت مان بھی لیا جائے تو پھر بھی روایت کا اصل حکم “توقف” کا ہو گا کہ اس بارے شبہ آ گیا ہے۔ واللہ اعلم
” خلافت کے بارے مروی چند روایات کی تحقیق”
از حافظ محمد زبیر صاحب .
——————————————
اب غور فرمائیں قاری صاحب موصوف نے حضرت عثمان رض کا آخری دور حضرت علی رض کا مکمل دور اور حضرت حسن رض کا دور بلکل صاف فرما دیا دوسری جانب موصوف کی حضرت امیر معاویہ رض سے دشمنی تو بام عروج پر ہے اس حوالے سے بھی ایک حوالہ ملاحظہ فرما لیجئے .
” خلافتِ نبوت (خلفائےراشدین کے طریقہ) پر قائم رہنا، اگرچہ فرائض میں سے ایک فرض ہے۔ تاہم اس فرض کا چھوٹ جانا ابن تیمیہ رح کے نزدیک دو صورتوں میں ہو سکتا ہے:
1) قدرت رکھتے ہوئے ایسا کرنا، جوکہ ظلم اور گناہ ہو گا۔
2) البتہ کسی وقت معاملہ بس سے باہر ہونا اور چار و ناچار اس کی صورت پیش آ جانا۔ امت کے بہت سے صلحاء کے حق میں ابن تیمیہ اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ متعدد سماجی فیکٹر ایسے ہو سکتے ہیں جو ان کےلیے گنجائش نہیں چھوڑتے (جبکہ معاملات کو معطل کرنا ممکن نہیں ہوتا)۔ (کچھ دوسرے مقامات پر) ابن تیمیہ حضرت معاویہؓ کی بادشاہت کو بھی اس زمرے میں رکھتے دکھائی دیتے ہیں۔ بلکہ ابن تیمیہ بعض ایسی احادیث کا بھی ذکر کرتے ہیں جس میں ’’خلافتِ نبوت‘‘ کے بعد ’’ملکٌ و رحمۃٌ‘‘ کی پیش گوئی کا ذکر ہے (مثلاً البانی کے سلسلۂ احادیثِ صحیحہ میں ابن عباس کی یہ روایت رقم 3270:
أولُ ھذا الامرِ نبوۃٌ ورحمۃٌ، ثمَّ يكونُ خلافۃٌ و رحمۃٌ، ثمّ يكون مُلكاً ورحمۃٌ، ثمّ يتكادمون عليہ تكادُم الحُمُرِ
’’اس معاملہ کا آغاز ہے نبوت اور رحمت۔ پھر یہ ہو جائے گا خلافت اور رحمت۔ پھر یہ ہو جائے گا بادشاہت اور رحمت۔ پھر وہ اس پر یوں منہ مارنے لگیں جیسے گدھے منہ مارتے ہیں‘‘)۔ ابن تیمیہؒ کے نزدیک ’’ملکٌ ورحمۃٌ‘‘ کے یہ الفاظ حضرت معاویہؓ کی بادشاہت پر لازماً لاگو ہوتے ہیں۔
از محترم جناب حامد کمال الدین صاحب.

ابن تیمیہؒ کی تقریر: ملوکیت ہماری امت میں جائز نہیں – حامد کمال الدین


لیکن کیا کیجئے موصوف کو ابن تیمیہ رح بھی دہشت گردوں کے امام دکھائی دیتے ہیں محترم کی راۓ ملاحظہ کیجئے
” سعودی اونٹ پہاڑ کے نیچے- قاری حنیف ڈار
سلفی تکفیری گروہ داعش کی موجودہ دھشت گردی کی پشت پر سید مودودی کی کتابیں نہیں بلکہ امام ابن تیمیہ • کے اجتہادات ھیں ،، اسلامی تاریخ کے مختلف پسِ منظر رکھنے والے واقعات سے امام ابن تیمیہ نے جس طرح استنباط کر کے ان کو دوسرے پسِ منظر رکھنے والے احوال پر جس بے دردی کے ساتھ چسپاں کیا ، اور جس کو ان کی علمی ھیبت سے دھشت زدہ عقول حرف آخر سمجھ کر صدیوں سے پوجتے چلے آئے تھے ، اس نے آخر انڈے بچے دینے شروع کر دیئے ھیں ،،
امام ابن تیمیہ کے فرمودات لٹریچر میں رُل رھے تھے ان کو کوئی گھاس ڈالنے کو تیار نہیں تھا ،، سید مودویؒ کے بارے میں علمائے دیوبند کہا کرتے تھے کہ ھم مودودی کے امام ابن تیمیہ کو گھاس نہیں ڈالتے ،یہ مودودی کیا بیچتا ھے ،، ابن تیمیہ اسلامی تاریخ میں پہلی دفعہ سعودی نجدی انقلاب نے گود لیا اور چار فقہوں کے مقابلے میں پانچویں فقہ کے طور پر پالا پوسا اور پروان چڑھایا ،، اس سے پہلے کبھی بھی فقہ تیمیہ اقتدار میں نہیں آئی تھی ،، اب یہی فقہ سعودیوں کے گلے کا پھندہ بن گئ ھے ،
گزرے کل میں یہی نجدی داعش ھی کی طرح کا ایک گروہ تھے جن کو لارنس آف عریبیا نے عرب نیشنلزم کی بنیاد پر اسلامی خلافت کو ٹکڑے کرنے کا ٹاسک دیا تھا ، مشرک واجب القتل کا فتوی بھی ابن تیمیہ کا تھا اور حرمین میں ھزاروں ترک تہہ تیغ کیئے گئے جو حرمین کے تقدس میں شھید اور پسپا تو ھوتے گئے مگر پلٹ کر فائر نہ کیا کہ مقدس شہروں کی حرمت پامال نہ ھو ، داعش کی طرح بس مزاروں کو مسمار کرنا ھی ان کا بھی منتہائے مقصود تھا جیسا کہ داعش نے اپنے مفتوحہ علاقوں میں کیا ،آج داعش انہی کی ٹرو کاپی بن کر ان کے سامنے کھڑی ھے ، وھی متشدد نظریات ، وھی مسلمانوں کے واجب القتل ھونے کے فتوے ، اور وھی دولے شاہ کے چوہوں جیسی محدود سوچ اور اپروچ ،، سعودیوں میں ٹھہراؤ اور اعتدال باقی امت کے ساتھ تعامل کی وجہ سے آیا ھے ورنہ امام ابن تیمیہ کے فتوؤں نے ان کو راکٹ بنایا ھوا تھا ،، آج کئ جید سعودی علماء یہ کہتے ھوئے قطعاً نہیں شرماتے کہ نظریاتی طور پر داعش ھمارے ھی ایجنڈے کو کاپی کر رھی ھے اور ھم علمی طور پر ان کا رد نہیں کر سکتے ،یہی بات اس عربی مضمون میں بھی کہی گئ ھے کہ جب تک آپ ابن تیمیہ کی پوری میتھالوجی کو ری وزٹ نہیں کرتے آپ کبھی بھی داعش کے نظریات کا رد علمی بنیاد پر نہیں کر سکیں گے ، ایک آدھ فتوے کی بات نہیں ابن تیمیہ کا پورا بیانیہ ھی محلِ نظر ھے ” .

سعودی اونٹ پہاڑ کے نیچے- قاری حنیف ڈار


جاری ہے …….

قسط دوئم 

قسط سوئم (آخری )

فیس بک تبصرے

ہماری خلافت اور قاری حنیف ڈارصاحب کی ملوکیت : قسط اول“ ایک تبصرہ

  1. پنگ بیک ہماری خلافت اور قاری حنیف ڈار صاحب کی ملوکیت : آخری قسط | الحاد جدید کا علمی محاکمہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *